مقالات

 

حضرت فاطمہ زہراعلیھا السلام بطور نمونۀ عمل

سید عابد رضا نوشاد رضوی

حضرت صدیقۀ کبریعلیھا السلام کی قدر و عظمت کے بیان سے انسان کی زبان قاصر ہے۔ آپ کی شان و منزلت ہر شخص کی آنکھوں کو خیرہ کردینے والی ہے۔ اگر آیات و روایات نہ ہوتیں تو آپ کے مرتبہ کے کمترین ادراک سے بھی ذہن بشر ابد آباد تک عاجز و ناتواں رہتا۔ صدیقۀ کونین علیھا السلام کی ذات ستودہ صفات کے سلسلہ میں بہت سی آیات و روایات نازل و وارد ہوئی ہیں جن کی موجوں سے ساحل معرفت کو آج بھی طراوت مل رہی ہے۔
ہر انسان آپ کے فضائل و کمالات سے بقدر ظرف مستفید ہو سکتا ہے۔ اور یہ استفادہ اس وقت تک ممکن نہ ہوگا جب تک ایک نمونۀ عمل کے طور پر آپ کی عملی سیرت کا دقیق مطالعہ نہ کیا جائے۔
سیدۀ دوعالم کی زندگی خیر و برکت اور نور و رحمت کا مکمل نمونہ ہے۔ یوں تو آپ کی عظمت اور آپ کے نورانی کردار کا بیان بطور اتم و اکمل بشر کے بس میں نہیں مگر یہ مقولہ بھی بڑا کار آمد ہے کہ
آب دریا را اگر نتوان کشید
ہم بقدر تشنگی باید چشید
اس مختصر بیان میں آپ کی سیرت کے چند عملی نمونوں کی تبیین مقصود ہے۔ ملاحظہ ہو:

۱۔ حضرت فاطمہ زہرا علیھا السلام کی معنویت و روحانیت
• حضرت فاطمہ زہرا علیھا السلام اللہ کی عبادت میں پیش پیش نظر آتی تھیں۔ آپ کی زندگی کا لمحہ لمحہ عبادت و روحانیت میں بسر ہوتا تھا۔ امام حسن علیہ السلام فرماتے ہیں: "دنیا میں حضرت فاطمہ زہرا علیھا السلام سے زیادہ عبادت گذار کوئی نہ تھا، آپ اتنی عبادت کرتی تھیں کہ آپ کے پیروں میں ورم آجاتا تھا۔" (۱)
• آپ کا بیت الشرف عبادت و بندگی میں ایسا معروف ہوا کہ جس کا شہرہ عرش تک پہنچا۔ لہذا خداوند عالم نے آپ کے گھر کی شان میں آیت بھی نازل فرمائی۔ علامہ مجلسی لکھتے ہیں: جب رسول خداؐ نے اس آیۀ کریمہ کی تلاوت فرمائی:{فِي بُيُوتٍ أَذِنَ اللَّهُ أَنْ تُرْفَعَ وَ يُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ يُسَبِّحُ لَهُ فِيها بِالْغُدُوِّ وَ الْآصال‏}(۲) ، ایک شخص نے اٹھ کر سوال کیا:یا رسول اللہ! وہ گھر کون سے ہیں؟ آپ نے فرمایا:انبیاء کے گھر ہیں۔ پھر ابوبکر کھڑے ہوئے اورعلی وفاطمہ علیھما السلام کے گھر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے دریافت کیا:یا رسول اللہ! کیا یہ گھر بھی انہیں گھروں میں سے ہے؟ آنحضرت ؐ نے فرمایا: ہاں بلکہ ان میں بھی برترین گھروں میں سے ہے ۔ (۳)

۲۔ حضرت فاطمہ زہرا علیھا السلام کا مرتبۀ ایمان
امام محمد باقر(ع) فرماتے ہیں: ایک دن پیغمبر اکرم ؐنے حضرت سلمان کو ایک پیغام لےکر حضرت فاطمہ علیھا السلام کے گھر بھیجا۔ سلمان کہتے ہیں: تھوڑی دیر میں ، میں جناب فاطمہ کے گھر کے دروازے پر تھا۔ میں نے سلام کیا۔ گھر کے اندر سے جناب فاطمہ کی تلاوت کی آواز آرہی تھی اور باہر چکّی رکھی ہوئی تھی جو خود بخود چل رہی تھی۔ میں نے اس بات کا تذکرہ رسول اکرم ؐسے کیا تو آپ نے فرمایا: اے سلمان! اللہ تعالی نے میری بیٹی فاطمہ زہرا کے دل، اعضا و جوارح اور پورے وجود کو ایمان سے بھر دیا ہے۔ میری بیٹی عبادت پروردگار میں مصروف ہے تو اللہ تعالی نے ایک فرشتہ کو بھیجا ہے جو ان کی جگہ چکّی چلا رہا ہے۔

۳۔ محراب عبادت میں
حضور اکرمؐ نے فرمایا: میری بیٹی فاطمہ اوّلین سے لے کر آخرین تک دوعالم کی عورتوں کی سردار ہیں، جب وہ محراب عبادت میں کھڑی ہوتی ہیں تو اللہ کےستّر ہزار مقرّب فرشتے ان پر درود و سلام بھیجتے ہیں اور وہی ندا جو مریم کے لئے بلند کرتے تھے فاطمہ کے لئے بھی بلند کرتے ہیں:{إِنَّ اللَّهَ اصْطَفاكِ وَ طَهَّرَكِ وَ اصْطَفاكِ عَلى‏ نِساءِ الْعالَمِين‏} [سورہ آل عمران/۴۲] "خدا نے تمہیں چن لیا ہے اور پاکیزہ بنادیا ہے اور عالمین کی عورتوں میں منتخب قرار دے دیا ہے۔(۴)

۴۔ قیامت کا خیال
روایات میں آیا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی:{وَ إِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوْعِدُهُمْ أَجْمَعِينَ لَها سَبْعَةُ أَبْوابٍ لِكُلِّ بابٍ مِنْهُمْ جُزْءٌ مَقْسُوم‏}(۵) تو پیغمبر اکرمؐ بہت روئے، آپ کا گریہ دیکھ کر آپ کے اصحاب بھی روئے، لیکن ابھی تک کسی کو یہ نہیں معلوم تھا کہ حضور اکرمؐ کیوں گریہ فرما رہے ہیں اور جبریل کون سا پیغام لے کر آئے ہیں؟ اس وقت کسی کے اندر سبب معلوم کرنے کی ہمت بھی نہیں ہو رہی تھی۔ اصحاب خوب جانتے تھے کہ پیغمبر اکرمؐ اپنی بیٹی فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں، لہذا ایک شخص کو واقعہ کی اطلاع دینے کے لئے بی بی کے گھر بھیجا گیا۔ آپ یہ خبر سن کر مضطرب ہوگئیں۔ فورا اپنےبابا سے ملاقات کے لئے مسجد تشریف لائیں اور فرمایا:"بابا جان! میری جان آپ پر قربان، کون سی چیز آپ کے گریہ کا سبب ہوئی؟"۔ پیغمبر اکرمؐ نے وہ آیت اپنی بیٹی کو سنائی جو جبریل لےکر نازل ہوئے تھے۔ جناب فاطمہ خشیت خدا کے سبب منھ کے بل زمین پر گر گئیں اور اسی حالت میں فرمایا: " الْوَيْلُ ثُمَّ الْوَيْلُ لِمَنْ دَخَلَ النَّار"۔ وائے ہو وائے ہو اس شخص پر جو جہنم میں داخل ہو۔
حضرت امیر المومنین علیہ السلام نے جب یہ آیت سنی تو فرمایا: کاش میں پیدا نہ ہوتا اور جہنم کا نام نہ سنتا۔(۶)
اس روایت کو سننے اور پڑھنے کے بعد ہمیں یہ غور کرنا چاہئے کہ جہنم کیسی خوفناک شے ہے کہ پیغمبر اکرم، جناب زہرا اور حضرت علی علیھم السلام جیسی عظیم الہی شخصیتیں معصوم ہوتے ہوئے اس کے نام سے بھی اسقدر نفرت کرتی ہیں ، ہمیں غور کرنا چاہئے کہ ہمارے اندر جہنم کی آگ کا کتنا خوف ہے؟ کیا ہمیں آتش جہنم پر یقین ہے؟ کیا ہمارے اعمال ایسے ہیں جو ہمیں جہنم کی آگ سے بچا سکیں؟ ہمیں اس بات پر بھی غور کرنا ہوگا کہ جب ان معصوم ہستیوں کو جہنم سے اتنی نفرت ہے تو جہنمی لوگوں سے کتنی نفرت ہوگی جو اپنے برے اعمال کی وجہ سے جہنم کی آگ کا ایندھن بنیں گے۔ اللہ ہمیں جہنم کی آگ سے بچائے اور اپنی بارگاہ میں اور محمد و آل محمد کے حضور، بے آبرو ہونے سے محفوظ رکھے۔

۵۔ قرآن سے لگاؤ
آپ کی سیرت کا ایک نمایہ اور درس آموز پہلو ، قرآن مجید سے آپ کا بےپناہ لگاؤ ہے۔ آپ خود فرماتی ہیں: " تمہاری دنیا میں سے مجھے تین چیزیں پسند ہیں:۱۔ قرآن مجید کی تلاوت ۲۔ رسول اکرم ؐکے چہرۀ مبارک کی طرف دیکھنا ۳۔ اللہ کی راہ میں انفاق کرنا۔(۷)
آپ کے بیت الشرف سے بیشتر اوقات قرآن مجید کی تلاوت کی آواز آتی رہتی تھی۔ آپ قرآن مجید سے اسقدر مانوس تھیں کہ آپ نے حضرت علی علیہ السلام کو جو چند وصیتیں کی تھیں ان میں ایک یہ بھی تھی کہ قبر کی پہلی رات میں میرے مرقد پر قرآن کی خوب تلاوت کیجئےگا۔
بی بی دوعالم کی نظر میں قرآن مجید کی قدر و اہمیت پر اور بھی بہت سی مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں جو آپ کے چاہنے والوں کے لئے سرمشق زندگی کی حیثیت رکھتی ہیں ۔ صدیقۀ کونین سلام اللہ علیہا نے اپنے عمل سے اپنے محبوں کو قرآن کی تلاوت، اس میں غور و فکر اور اس کے احکام و فرامین پر عمل کرنے کی دعوت دی ہے۔

۶۔ انفاق اور ایثار
جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا، اللہ کی راہ میں انفاق و ایثار اور بے نواؤں کی امداد اور فریاد رسی کو بہت پسند کرتی تھیں۔ آپ نے اپنے شوہر اور اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں حسن و حسین کے ساتھ تین دنوں تک روزے رکھے اور وقت افطار جب سفرۀ افطار پر بیٹھیں تو تینوں دن کبھی یتیم کبھی مسکین اور کبھی کسی اسیر نے آکر دق الباب کیا ، بی بی اور اور آپ کے پورے گھرانے نے اپنے اپنے حصہ کی روٹیاں اٹھا کر انہیں دے دیں۔ اس عمل میں بے پناہ للہیت تھی لہذا اللہ نے بھی آپ اور آپ کے گھرانے کی شان میں "سورہ ھل اتی" نازل فرمایا۔
اگر معاشرہ میں اہل بیت اطہار علیہم السلام کی اس سیرت پر باقاعدہ عمل کیا جائے اور غریب و نادار افراد کا خیال رکھا جائے، اللہ کی راہ میں انفاق کیا جائے، اپنے مختصر مال میں بھی غریب و نادار افراد کا حق جانا جائے تو سماج میں ایک محبت کی فضا بھی قائم ہوگی اور فقر و غربت کا آہستہ آہستہ خاتمہ بھی ہوتا نظر آئےگا۔

۷۔ حیا و عفت
حضرت زہرا سلام اللہ علیہا نے اپنے قول و عمل کے ذریعہ شرم و حیا، عفت و پاکدامنی اور حجاب کا درس دیا ہے۔ آپ فرماتی ہیں :"عورت کے لئے سب سے بہترین چیز یہ ہے کہ نہ کوئی نامحرم اسے دیکھ سکے ، نہ وہ کسی نامحرم کو دیکھے"
آپ اس مسئلہ کی اسقدر پابند تھیں کہ ایک دن ایک نابینا صحابی "ابن مکتوم" آپ کے گھر آئے تو آپ اس کمرے سے دوسرے کمرے میں چلی گئیں۔ کہا گیا: ابن مکتوم تو نابینا ہیں۔ تو آپ نے فرمایا: ابن مکتوم نابینا ہیں مگر میں تو نابینا نہیں ہوں!
آپ اتنی با حیا تھیں کہ اپنی شہادت کے بعد بھی آپ کو اپنے پردے کا خیال تھا۔ اس زمانہ میں تشییع جنازہ کے لئے تابوت کا رواج نہیں تھا، یہ بات آپ کو بہت ستاتی تھی لہذا آپ نے اسماء بنت عمیس سے فرمایا: میرے لئے ایسے تابوت کا انتظام کرو جس میں میری شہادت کے بعد اور تشییع جنازہ کے وقت، اس رات کی تاریکی میں بھی میرا جسم پوری طرح ڈھکا رہے۔ جب اسماء نے وہ تابوت تیار کیا تو آپ اسے دیکھ کر بے حد خوش ہوئیں۔
تمام کنیزان زہرا پر فرض ہے کہ وہ بی بی دوعالم سے عفت و حیا، اور پردے کا پیغام لیں اور اس پر بخوبی عمل پیرا ہوں تاکہ اپنے کنیزی کے اس دعوے میں سچی ثابت ہوں اور روز محشر صدیقہ کبری علیہا السلام کے حضور سرخرو رہیں۔

۸۔ مشکلات زندگی میں صبر وتحمل
اس دور میں مسلمان زندگی کی سختیوں اور مشکلات سے روبرو تھے۔ بہت سے مہاجرین و انصار تنگدستی کے عالم میں زندگی بسر کر رہے تھے۔ حضرت امیر المومنین علیہ السلام بھی اپنے دیگر مسلمان بھائیوں کی طرح سادگی کے ساتھ زندگی بسر کر رہے تھے۔ ان حالات میں بھی آپ ایثار و انفاق کو فراموش نہیں کرتے تھے۔ گھر کا اثاثہ انتہائی مختصر اور ناچیز تھا۔ بچھانے کے لئے گوسفند کی ایک کھال، کھانے پکانے کے لئے چند مٹی کے برتن اور کوزے، اور ایسی ہی چند دیگر چیزیں۔ جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے تمام حالات میں اپنے شوہر کا ساتھ دیا۔ اللہ کی رضا اور رسول خداؐکی خوشنودی کی خاطر زندگی کی تمام سختیوں میں صبر و تحمل اور ایثار و فداکاری کا مظاہرہ کیا۔
آپ ان سختیوں میں بھی رسول خدا ؐسے فرماتی تھیں:"یا رسول اللہ! اللہ کی نعمتوں پر اس کی حمد بجا لاتی ہوں اور اس کی ظاہری نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرتی ہوں"۔ایسے حالات میں بھی آپ شوہر داری اور تربیت اولاد کے فرائض کو بخوبی انجام دیتی تھیں۔ آپ مولا علی علیہ السلام کے لئے حقیقی شریکۀ حیات تھیں۔ کبھی کبھی جب گھر میں کچھ بھی نہیں ہوتا تھا اور بچے بھوکے ہوتے تھے تب بھی جناب زہرا علیہا السلام حضرت علی علیہ السلام سے کچھ نہ کہتی تھیں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ علی وہ مطالبہ پورا نہ کر پائیں اور انہیں شرمندگی ہو۔ مولا جب پوچھتے تھے کہ فاطمہ! آپ نے مجھے بتایا کیوں نہیں کہ گھر میں کچھ نہیں ہے؟ تو آپ فرماتی تھیں: اے ابوالحسن! مجھے اللہ سے حجاب آتا ہے کہ آپ سے کوئی چیز مانگوں اور آپ اسے مہیا نہ کر سکیں۔
جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا یہی کردار تھا جس کے سبب امیر المونین علیہ السلام آپ کی شہادت کے بعد آپ کو یاد کرتے ہوئے فرماتے ہیں:قسم خدا کی جب تک فاطمہ زندہ رہیں میں نے کبھی انہیں نہ ناراض کیا اور نہ کبھی کسی کام پر مجبور کیا، اسی طرح انہوں نے بھی نہ کبھی مجھے ناراض کیا نہ میری کبھی نافرمانی کی۔ میں جب بھی فاطمہ کو دیکھتا تھا تو میرے تمام درد و غم دور ہو جاتے تھے۔"(۸)
تمام زن و شوہر اگر سیرت علی و زہرا علیہما السلام پر عمل کریں اور اپنی زندگی میں صبر و تحمل ، مہر و محبت، حیا و عفت اور امانتداری کا پورا خیال رکھیں تو دنیا و آخرت دونوں سنور جائیں۔
بی بی دوعالم حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا سے منسوب ان ایام میں ، بارگاہ رب العزت میں دعا ہے کہ تمام محبان اہل بیت علیہم السلام ، راہ و روش اہل بیت اطہار علیہم السلام اختیار کرنے کی توفیق عنایت کرے۔ آمین۔

حوالے:
۱ ۔ بحار الانوار، ج۴۳ ص۷۶
۲ ۔ سورہ نور ۳۶؛ " یہ چراغ ان گھروں میں ہے جن کے بارے میں خدا کا حکم ہے کہ ان کی بلندی کا اعتراف کیا جائے اور ان میں اس کے نام کا ذکر کیا جائے کہ ان گھروں میں صبح و شام اس کی تسبیح کرنے والے ہیں "
۳۔ بحار الانوار،ج۲۳ص۳۲۵
۴۔ بحار الانوار، ج۴۳ ص۲۴
۵ ۔ سورہ حجر/۴۴ - ۴۵؛ "ان سب کی وعدہ گاہ جہنم ہےجس کے سات دروازے ہیں ہر دروازے کے لیے ان کا ایک حصہ مخصوص کر دیاگیا ہے۔"
۶۔ بحار الانوار، ج۴۳ ص ۸۷
۷۔ وقايع الايام- ص 295
۸۔ کشف الغمہ ج۱ ص ۳۶۳؂

مقالات کی طرف جائیے