مقالات

 

شہزادی فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا پرخلوص عمل

سید شاہد جمال رضوی گوپال پوری

خداوندعالم اپنے بندوں کے عمل کو دیکھ کر خوش ہوتاہے لیکن وہی عمل جس میں خلوص ہو ، جب انسان خلوص و محبت کے ساتھ اور صرف خداوندعالم کی رضایت کے لئے کوئی عمل انجام دیتاہے تو خدا اس ایک عمل پر بے پناہ اجر و ثواب عطا فرماتاہے اور ساتھ ہی ساتھ اس پرخلوص عمل کی برکت سے دوسرے لوگ بھی مستفیض ہوتے ہیں ؛ جناب زہراء (س) اس سلسلے میں فرماتی ہیں : من اصعد الی اللہ خالص عبادتہ اھبط اللہ عزوجل لہ افضل مصلحتہ ''جو شخص اپنے کاموں کو خداوندعالم کے لئے انجام دیتاہے تو خدا اس کے لئے بہترین مصلحتیں اور برکتیں لکھ دیتاہے ''۔(۱)
اب اس تناظر میں ذرا صدیقہ طاہرہ (س) کا خلوص عمل ملاحظہ فرمائیے ؛ جابر کا بیان ہے کہ ایک دن رسول خداؐ نماز عصر سے فراغت کے بعدمصلیٰ پر بیٹھ کر ہم لوگوں کو وعظ و نصیحت فرمارہے تھے ، اسی اثنا میں ایک بوڑھا شخص پھٹا پرانا لباس پہنے ہوئے رسول ؐکی خدمت میں حاضر ہوا ، ضعف اور کمزوری کی وجہ سے وہ اپنے آپ کو سنبھال نہیں پارہاتھا، آنحضرت اس کی جانب متوجہ ہوئے اور خیریت دریافت کی ، اس نے عرض کی : اے اللہ کے رسول !میں بھوکا ہوں مجھے غذا چاہئے ، برہنہ ہوں لباس عطا کیجئے ، میں محتاج ہوں مجھ پر احسان کیجئے ۔
آنحضرت نے فرمایا : میرے پاس تو کچھ نہیں ہے لیکن میں تمہاری رہنمائی کردیتاہوں ، کار خیر کی راہنمائی کرنے والا بھی ویسا ہی ہے جیسا کار خیر انجام دینے والا ، اس گھر کی طرف جائو جسے خدا اور اس کے رسول دوست رکھتے ہیں اور اس گھر میں رہنے والے خدا و رسول کو دوست رکھتے ہیں ، راہ خدا میں ایثار کرتے ہیں ، تم فاطمہ (س) کے گھر جائو ، شاید تمہاری ضرورت پوری ہوجائے ۔جناب فاطمہ کا گھر رسول کے گھر سے متصل تھا ۔ پھر آپ نے بلال کی طرف رخ کرکے کہا: اے بلال جائو اور فاطمہ کے گھر تک اس کی راہنمائی کردو۔
وہ شخص بلال کے ہمراہ خانۂ زہراء تک آیا اور دروازے پر کھڑے ہوکر عرض کی : سلام ہو آپ پر اے خاندان نبوت ، اے ملائکہ کے مرکز ، اے جبرئیل امین کی منزل گاہ ۔
جناب فاطمہ نے فرمایا : تم پر بھی سلام ہو ...تم کون ہو اور کیا چاہتے ہو؟
عرض کی : میں بوڑھا عرب ہوں ، سختی اور پریشانیوں کی بنا پر ہجرت کرکے آپ کے پدر بزرگوار کے پاس آیا ہوں ، اے بنت رسولؐ!میں بہت بھوکا ہوں ، برہنہ ہوں مجھ پر احسان کیجئے ، خدا آپ پر رحمتیں نازل کرے گا ۔روایت کے مطابق : اس وقت رسول خداؐ، حضرت علی اور جناب فاطمہ نے تین دن سے کچھ نہیں کھایا تھا ، پیغمبر ان کی حالت سے واقف تھے ، گوسفند کی وہ کھال جس پر حسن و حسین علیہما السلام سوتے تھے ، اسے جناب فاطمہ(س) نے بوڑھے عرب کی طرف یہ کہہ کر بڑھا دی کہ اے شخص !یہ لے لے ، امید ہے کہ خدا تجھ پر رحمتیں نازل کرے گا ۔
بوڑھے عرب نے عرض کی : اے بنت رسول ؐ!میں نے آپ کے سامنے بھوک کی شکایت کی ہے ، آپ مجھے گوسفند کی کھال عطا کررہی ہیں ، میں بھوک کی حالت میں اسے کیا کروں گا ۔ جناب فاطمہ (س) نے جب اس کی یہ بات سنی تو اپنے اس گلوبند کی طرف ہاتھ بڑھایا جس کو جناب حمزہ بن عبدالمطلب کی بیٹی فاطمہ نے تحفہ کے طور پر دیا تھا ، فاطمہ نے یہ گلو بند اس کے حوالے کرتے ہوئے فرمایا: اسے فروخت کرکے اپنی ضرورتیں پوری کرلو ۔
وہ شخص گلوبند لے کر مسجد میں آیا اور رسول سے عرض کی : اے اللہ کے رسول !فاطمہ نے مجھے یہ گلوبند عطا کیاہے اور فرمایاہے کہ اسے فروخت کرکے اس سے اپنی ضرورتیں پوری کرلو ۔یہ دیکھ کر رسول کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے ، فرمایا : خدا تمہاری ضرورتوں کو کیونکر پورا نہ کرتا جب کہ یہ گلوبند تم کو اس نے عطا کیاہے جو آدم کی تمام بیٹیوں کی سردار ہے ۔
رسول کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر جناب عمار یاسر کھڑے ہوئے اور عرض کی : یا رسول اللہ !اگر اجازت ہوتو میں یہ گلوبند خرید لوں ۔ آنحضرت نے فرمایا : اے عمار !خرید لو ، اگر اس کی خریداری میں تمام جن و انس شریک ہوں تو خدا ان سب کو آتش سے آزاد کردے گا ۔
جناب عمار نے عرب سے کہا : یہ گلوبند کتنے میں فروخت کروگے ؟ اس نے کہا : اتنا گوشت اور روٹی جس سے سیر ہوجائوں ، ایک یمنی چادر جس سے اپنے کو چھپا سکوں اور بارگاہ ایزدی میں نماز ادا کرسکوں اور ایک دینار جس سے اپنے گھر پہونچ جائوں۔ جناب عمار اس بوڑھے شخص کو اپنے ساتھ لائے اوراس سے کہا: اس گلوبند کے بدلے میں تمہیں بیس دینار دو سو درہم ، ایک یمنی چادر اور ایک اونٹ دوں گا جو تمہیں گھر تک پہونچا دے اور اس سے تم گوشت روٹی سے بھی سیراب ہوجاؤگے ۔(یہ خیبر کا مال غنیمت تھا جو عمار کے حصے میں آیا تھا)۔
عرب وہ لے کر خوشی خوشی چلا گیا ۔ اس کے جانے کے بعد جناب عمار نے اس گلوبند کو مشک سے معطر کیا اور ایک یمنی کپڑے میں لپیٹ دیا ۔ جناب عمار کے پاس ایک غلام تھا جس کو انہوںنے خیبر ہی کے مال غنیمت سے خریدا تھا ...انہوںنے وہ گلوبند غلام کے حوالے کرتے ہوئے کہا: اس کو رسول کی خدمت میں لے جائو ، آج سے تم بھی رسول سے متعلق ہو۔غلام گلوبند لے کر رسول کی خدمت میں حاضر ہوا اور جناب عمار کا پیغام پہونچایا ، رسول خداۖنے فرمایا : گلوبند لے کر فاطمہ(س) کے پاس جائو ، آج سے تم بھی فاطمہ سے متعلق ہو ۔
غلام گلوبند لے کر جناب فاطمہ کی خدمت میں پہونچا اور ساری روداد بیان کی ۔ جناب فاطمہ نے گلوبند لے لیااور غلام کو راہ خدا میں آزاد کردیا ۔ غلام یہ صورت حال دیکھ کر ہنسنے لگا ۔ جب صدیقہ نے اس کی ہنسی کی وجہ دریافت کی تو عرض کی : اس گلوبند کی بے پناہ برکت دیکھ کر ہنس رہاہوں ، اس نے ایک بھوکے کو سیراب کیا ، ایک برہنہ کو لباس پہنایا ، ایک فقیر کو بے نیاز کیا ، ایک غلام کو آزاد کیا اور پھر اپنے مالک کی خدمت میں پہونچ گیا ۔کتنا بابرکت ہے یہ گلوبند ۔

حوالجات
۱۔ بحار الانوار، علامہ مجلسی ج٦٧ص ٢٤٩
۲۔بحار الانوار، علامہ مجلسی ج٤٣ ص ٥٦

مقالات کی طرف جائیے