مقالات

 

قرآن مجید اور ہماری ذمہ داریاں

سید شاہد جمال رضوی گوپال پوری

تمہید
انبیائے کرام ہمیشہ روشن اور واضح دلیلوں کے ساتھ مبعوث ہوتے رہے تاکہ لوگوں کو اس بات کا یقین ہوجائے کہ وہ اللہ کے نمائندے ہیں ، انبیاء کے روشن دلائل اور معجزات کی سب سے بڑی خاصیت یہ تھی کہ وہ وقت و حالات کے اہم ترین تقاضوں پر استوار تھے تاکہ لوگ دل و جان سے ان پر ایمان لے آئیں اور ان کے فوق العادہ اور معجزاتی ہونے کا یقین کرلیں۔ اس لئے کہ جس وقت فرعون کے جادوگروں نے دیکھا کہ جناب موسیٰ علیہ السلام کا عصا اژدہابن کر ان کی رسیوں کو نگل رہاہے تو انہیں اس بات کا یقین ہوگیا کہ یہ کام انسانی حدود سے باہر ہے ، وہ فرعون کی دھمکیوں کی پراہ کئے بغیر جناب موسیٰ پر ایمان لے آئے ۔ ہر نبی کے معجزے کی یہی کیفیت رہی ہے ۔
پیغمبرخدا صلی اللہ علیہ و آلہ سلسلۂ انبیاء کی آخری کڑی اور تمام انبیاء سے افضل تھے ، وہ ایسا ابدی اور عالمی دین لائے جس نے تمام گزشتہ آسمانی ادیان کی تکمیل کی اور جو قیامت تک باقی رہے گا ، آپ بھی انبیائے ماسبق کی طرح روشن اور واضح نشانیوں کے ساتھ مبعوث ہوئے تاکہ کسی کو آپ کے دین کی حقانیت اور صداقت پر شک و شبہ نہ ہو ، خدا کی طرف سے آپ کو جو معجزہ عطا کیاگیا اس کا نام '' قرآن مجید '' ہے۔

اہمیت و عظمت قرآن
کسی کتاب کی عظمت و اہمیت کو درک کرنے کے لئے تین پہلوئوں کو پیش نظر رکھنا بہت ضروری ہے :
١۔کسی کلام یا کتاب کی عظمت صاحب کلام اور متکلم کی عظمت سے مربوط ہوتی ہے ۔
٢۔ یا پھر کتاب کو حمل کرنے والی شخصیت ، کتاب کی عظمت میں چار چاند لگاتی ہے ۔
٣۔ یا پھر اس کتاب کے مطالب ومقاصد اتنے اہم اور عظیم ہوتے ہیں کہ ہر شخص اس کی عظمت کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔
قرآن مجید کی عظمت ہر اعتبار سے مسلم ہے اس لئے کہ صاحب کلام وہ ہے جس کی قدرت کائنات کے ذرے ذرے پر محیط ہے: (ان اللہ علی کل شئی قدیر)۔(١)اس کے حامل رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ ہیں جن کی شخصیت پر خداوندعالم نے (لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوة حسنة )کی مہر لگا کر آنے والی تمام نسلوں کو یہ باور کرایا کہ رسول اکرم کی پوری زندگی تمام نوع بشر کے لئے اسوہ اور نمونۂ عمل کی حیثیت رکھتی ہے۔ لیکن ان دونوں سے ہٹ کر عظمت کا آخری رخ قرآن کی اہمیت میں چار چاند لگانے کے لئے کافی ہے ، دنیا میں ایسی کتاب نایاب ہے جس میں زندگی و بندگی کے بھرپور مطالب پائے جاتے ہوں ۔ حضرت علی علیہ السلام قرآن مجید کے متعلق فرماتے ہیں :''جان لو کہ یہ قرآن ایسا ناصح ہے جو دھوکانہیں دیتا ، ایسا ہادی ہے جو گمراہ نہیں کرتا اور ایسا بیان کرنے والا ہے جو غلط بیانی سے کام نہیں لیتا ، اس کا ہم نشین ہدایت میں اضافہ کرلیتاہے ''۔(٢)
قرآن کی اس خاصیت کا اعتراف خود دشمنوں نے بھی کیا ، ولید کہتاہے : ''خدا کی قسم !اس شخص کے کلام میں خاص قسم کی مٹھاس ہے اور عجیب کشش ہے ، اس کا کلام اس درخت کی مانند ہے جس کی جڑیں دور تک گہرائیوں میں پھیلی ہوئی ہیں اور پھلوں کی زیادتی نے اس کی شاخوں کو جھکادیاہے''۔

قرآن ؛ جامع ترین کتاب
قرآن مجید ایسی کتاب ہے جس میں انسانی زندگی کا مکمل لائحہ عمل موجود ہے اور انسانی تمدن و معاشرت ، سیاست و عبادت اور دیگر مختلف شعبوں کے وہ جامع اور اٹل قانون بیان کئے گئے ہیں جو دوسری جگہ نایاب ہیں ، خداوندعالم نے اس میں جسمانی و روحانی دونوں جنبوں کی ضرورتوں کو بیان فرمایاہے ، جس کا خلاصہ یہ ہے :

١۔ جسمانی زندگی :
انسانی حیات کی بقا کے لئے جس قدر ساز و سامان کی ضرورت تھی ، قدرت نے خود ہی زمین سے لے کر آسمان تک اس کے ارد گرد پھیلا دیاہے اور جابجا قرآن میں اس کا تذکرہ کرکے انسان کو اس کی طرف توجہ دلائی ہے ۔ ساتھ ہی ساتھ گھریلو اور معاشرتی زندگی کی چھوٹی چھوٹی ضرورتوں کو اہمیت دے کر انسانوں کو غور و فکر کرنے کی دعوت دی ہے ۔
٢۔ روحانی زندگی :
نظام حیات میں روحانیت کی اصلاح کے لئے بے شمار آیات قرآن میں موجود ہیں ، حیات بعد از موت میں جو کچھ انسان کے سامنے آتاہے اسے تفصیل کے ساتھ بیان کیاگیاہے ، جنت و دوزخ کا نقشہ ان کے سامنے کھول کر رکھ دیاگیا ہے ۔ یہ بھی بتایاگیا کہ دنیاوی زندگی چندہ روزہ ہے ، اصل زندگی تو آخرت کی زندگی ہے ؛(قُلْ مَتَاعُ الدُّنْیَا قَلِیل وَالْآخِرَةُ خَیْر لِمَنْ اتَّقَی)۔(٣)
جس طرح جسمانی زندگی کو باقی رکھنے کے لئے غذا کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح روحانیت کی بقا کے لئے چند مخصوص غذا کی نشاندہی کی گئی ہے ، قرآن میں مختلف جگہوں پر اس کا تذکرہ موجود ہے ۔

نظام قرآن کے برخلاف مسلمانوں کی حالت زار
قرآن مجید کے اس آفاقی نظام حیات کو دیکھ کر ذہن میں ایک سوال اٹھتاہے کہ آج کا مسلمان اتنے ہمہ گیر نظام کے باوجود اتنا تہی دست کیوں ہے ؛ مسلم معاشروں میں برائیوں کا رواج کیوں ہے ، ان کی معاشرتی اور گھریلو زندگی زبوں حالی اور ضعف کی شکار کیوں ہے...؟
اس کا واحد سبب یہ ہے کہ تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے ، اگر قرآں کے آفاقی نظام کو صرف حسرت بھری نگاہ سے دیکھنے پر اکتفا نہ کیا جاتا بلکہ عملی اقدام کے ذریعہ اس کی پیروی کی جاتی تو خاطر خواہ نتیجہ حاصل ہوتا مگر آج کی حالت یہ ہے کہ گھر میں قرآن ہے لیکن صرف طاقوں کی زینت بنا ہوا ہے ، مہینوں بعد اگر کسی کو احساس ہوجاتاہے تو اٹھا کر اس کے گرد و غبار کو صاف کرکے پھر اسی مقام پر رکھ دیتاہے ۔
اصل میں اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن مجید کے سلسلے میں ہم نے اپنی ذمہ داریوں کو نہیں پہچانا، قرآن سے متعلق ہمارے وظائف کیاہیں اس پر غور وفکر نہیں کیا ، آج دنیا میں اپنا وقار بنانے اور قرآن مجید سے بہتر طور پر استفادہ کرنے کے لئے ضروری ہے کہ قرآن سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کیاجائے اور اسے پورا کیاجائے ۔

قرآن سے متعلق ہماری ذمہ داریاں
قرآن مجید کے سلسلے میں مسلمانوں کے وظائف اور ذمہ داریاں بہت زیادہ ہیں ،یہاں قرآن و حدیث کی روشنی میں بعض کی جانب اشارہ کیاجارہاہے :

١۔ تلاوت قرآن :
اسلام میں دوسری تمام کتابوں کی بہ نسبت اس کتاب کو پڑھنے اور اس کی تلاوت کرنے کی خصوصی تاکید کی گئی ہے ؛ خداوندعالم فرماتاہے :''اس کتاب سے جس قدر ممکن ہو تلاوت کرو ''۔(٤)
ایک دوسری آیت میں خداوندعالم کا ارشاد ہے : "یقینا جو لوگ اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں ... وہ ایسی تجارت کے امید وار ہیں جس میں کسی طرح کی تباہی نہیں ہے ''۔(٥)
ایک حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام نے ہر روز پچاس آیتوں کی تلاوت کرنے کی تاکید فرمائی ہے ۔(٦)
اس کے علاوہ تلاوت کے وقت آداب تلاوت کی رعایت کرنا ضروری ہے جن میں '' باوضو ہونا ، قبلہ رخ بیٹھنا ، کمال ادب کی رعایت کرنا ، ترتیل سے پڑھنا اور آیات کے معانی پر غور وفکر کرنا '' سرفہرست ہیں۔

٢۔ استماع ( غور سے سننا)
ایک دوسری ذمہ داری یہ ہے کہ جب قرآن کی تلاوت کی جائے تو اسے غور سے سنا جائے ، خداوندعالم فرماتاہے ''اور جب قرآن کی تلاوت کی جائے تو خاموش ہوکر غور سے سنو کہ شاید تم پر رحمت نازل ہوجائے ''۔(٧)

٣۔ حفظ (یاد کرنا )
روایتوں میں حفظ قرآن کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے ؛ امام صادق حافظ قرآن کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :الحافظ للقرآن العامل بہ مع السفرة الکرام البررة ''قرآن کے حافظ جو اس پر عمل کرتے ہیں وہ خدا کے بزرگ و برتر سفیروں کے ساتھ ہوں گے''۔(٨)

٤۔ تعلیم و تعلّم
قرآن کی بہ نسبت مسلمانوں کی اہم ترین ذمہ داریوں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ خود بھی قرآن کی تعلیم حاصل کریں اور دوسروں بھی اس کی تعلیم دیں، رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ فرماتے ہیں : خیرکم من تعلم القرآن و علمہ''تم میں بہترین وہ ہے جو قرآن سیکھے اور دوسروں کو اس کی تعلیم دے''۔(٩) جو لوگ قرآن کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد دوسروں کو علم قرآن کے زیور سے آراستہ کرتے ہیں یا کسی بھی طرح تفہیم قرآن کے سلسلے میں دوسروں کی مدد کرتے ہیں وہ عظیم ترین مرتبہ کے حامل ہیں ، آنحضرت اس سلسلے میں فرماتے ہیں : الا من تعلم القرآن و علمہ و عمل بما فیہ فانا سابق لہ الی الجنة و دلیل الی الجنة''خبردار !جو بھی قرآن کو سیکھے اور اس کی دوسروں کو تعلیم دے اور اس کے دستورات و احکامات پر عمل کرے تو میں جنت کی طرف اس کی راہنمائی کرنے والا ہوں''۔(١٠)

٥۔ تدبر و تفکر
لغت میں تدبر کام کے عواقب اور باطن میں غور وفکر کرنے کے معنی میں استعمال ہواہے ، قرآن میں تدبر کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کی آیتیں جن مقاصد کے لئے نازل ہوئی ہیں ان میں غور و فکر کیاجائے ، خداوندعالم نے اس عظیم ہدف کو متعدد آیتوں میں بیان فرمایاہے ؛ ایک جگہ فرمایا: ''یہ مبارک کتاب ہے جسے ہم نے آپ کی طرف نازل کیاہے تاکہ یہ لوگ اس کی آیتوں میں غور وفکر کریں اور صاحبان عقل نصیحت حاصل کریں''۔(١١)
ایک دوسری آیت میں ان لوگوں کی سخت مذمت کی گئی ہے جو قرآن میں غور وفکر نہیں کرتے ؛ خداکا ارشاد ہے : ''تو کیا یہ لوگ قرآن میں ذرا بھی غور وفکر نہیں کرتے ہیں یا ان کے دلوں پر قفل پڑے ہوئے ہیں''۔(١٢)

٦۔ عمل اور پیروی
قرآن کریم کے سلسلے میں مسلمانوں کی اہم ترین ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اس پر عمل کریں ، اگر غور وفکر کیاجائے تو معلوم ہوگا کہ تلاوت ، حفظ ، استماع اورتعلیم و تعلّم وغیرہ سبھی قرآن پر عمل پیرا ہونے کے مقدمات ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم مسلمانوں کی عظمت و ترقی کی بلند پایہ عمارت اسی وقت متزلزل ہونے لگی جب ہم نے اس آسمانی کتاب کے حکم پر عمل کرنا چھوڑ دیا اور اس کے بتائے ہوئے راستے سے منحرف ہوگئے ، ہم نے صرف اسلام کے نام کو کافی جانا اسی لئے صرف نام کے مسلمان رہ گئے ۔
ہم اپنی کھوئی ہوئی عزت اسی وقت حاصل کرسکتے ہیں جب ہم اپنی کج رفتاری سے باز آئیں اور از سر نو مسلمان ہوں ، دل و دماغ کو آیات قرآن سے روشن کریں اور اس کے معین کردہ راستہ پر زندگی گزارنے کی کوشش کریں ؛ رسو ل اسلام فرماتے ہیں : جب رات کی سیاہی کی طرح ہر طرف سے تم کو فتنے گھیر لیں تو تم قرآن سے تمسک اختیار کرو۔(١٣)
آج حالات سب کے پیش نظر ہیں ، مسلمانوں پر مصائب و آلام کا ہجوم ہے ، ہر طرف سے اسلام اور مسلمانوں پر حملہ کیاجارہاہے ، انہیں صفحۂ ہستی سے مٹانے کی ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے..ایسے پر آشوب زمانے میں ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم قرآن کریم کی تعلیمات پر اسی طرح عمل کریں جیسے عمل کرنے کا حق ہے ، ورنہ حالات بد سے بدترین ہوتے چلے جائیں گے ۔

حوالہ جات
١۔ فاطر٣٥
٢۔ نہج البلاغہ ، خطبہ ١٧٤
٣۔ نساء ٧٧
٤۔ مزمل ٢٠
٥۔ فاطر ٢٩
٦۔ اصول کافی ج٢ ص ٤٤٦
٧۔ اعراف ٢٠٤
٨۔ اصول کافی ج٢ ص ٤٤١
٩۔ عوالی اللآلی ج١ ص ٩٩
١٠۔ کنز العمال ج١ ص ٥٣١
١١۔ ص٢٩
١٢۔ محمد ٢٤
١٣۔ اصول کافی ج٢ ص ٥٩٩

مقالات کی طرف جائیے