مقالات

 

امام باقر علیہ السلام کے بعض اصحاب و تلامذہ

سید شاہد جمال رضوی گوپال پوری

تمہید
ائمہ معصومین علیہم السلام حقیقی نمائندۂ الٰہی اور واقعی رہبر تھے ، انہوں نے دین اسلام کی نشر و اشاعت میں اپنی پوری طاقت صرف کردی،ا پ حضرات کا تمام ہم و غم حقیقی اسلام کی تبلیغ تھی ، اس سلسلے میں آپ حضرات نے مختلف طریقے استعمال کئے ، کبھی لوگوں کو اپنے اقوال کے ذریعہ دین اسلام سے آشنا کیا تو کبھی دوسرے مذاہب اور آئین کے علماء و افاضل سے مناظرہ و مباحثہ کرکے دین اسلام کی حقانیت کا اعلان کیا ۔
اسی طرح آپ حضرات نے بعد کی نسلوں میں اپنے علوم و معارف کو محفوظ رکھنے کے لئے بہت سے اصحاب و تلامذہ کی تربیت کی تاکہ جابر و ظالم حکومتیں حقیقی اسلام کا چہرہ مسخ نہ کرسکیں ۔
امام باقر علیہ السلام کا زمانہ ، انتہائی حساس زمانہ تھا ، بنی امیہ نے ظلم و جبر کی انتہا کر دی تھی ،اسلام ناب محمد صلی اللہ علیہ و آلہ کو مسخ کرنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیاتھا ، واقعہ کربلا کے بعد حالات اتنے ناسازگار تھے اور حقیقی اسلام کی باتیں کرنا اتنا عظیم جرم تھا کہ امام زین العابدین نے اسلام کی تبلیغ کے لئے دعا و مناجات کا سہارا لیا ، امام کی حکمت عملی کے پیش نظر یہ کہاجاسکتاہے کہ اگر آپ کوئی اور طریقۂ کار استعمال کرتے تو آپ بھی دشمنوں کے ظلم و جبر کا نشانہ بن جاتے ۔امام باقر علیہ السلام کا عہد بھی اس سے مستثنیٰ نہیں تھا ، آپ نے بنی امیہ کی سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے بعد کی نسلوں تک اسلام ناب محمدی صلی اللہ علیہ و آلہ کوپہچانے کے لئے جہاں بہت سے طریقے استعمال کئے وہیں بہترین اور قابل قدر اصحاب و تلامذہ کی تربیت فرمائی ۔ اس تربیت کی انتہائی شدید ضرورت بھی تھی جس کا اندازہ امام صادق علیہ السلام کی حدیث سے لگایاجاسکتاہے ، حضرت فرماتے ہیں :'' ہمارے افکار اور ہمارے والد گرامی کی احادیث کو چار افراد نے زندہ اور محفوظ رکھا ، زرارہ ، ابو بصیر ، محمد بن مسلم اور برید بن معاویہ عجلی ۔ اگر یہ ہستیاں نہ ہوتیں تو کوئی بھی علوم دین اور افکار پیغمبر اکرم سے آشنا نہ ہوپاتا ، انہوں نے دین کی محافظت فرمائی ، ہمارے شیعوں میں یہی لوگ سب سے پہلے ہمارے مکتب فکر سے واقف ہوئے اور قیامت میں دوسروں سے پہلے ہم سے ملحق ہوں گے ''۔(۱)
امام باقر علیہ السلام کے اصحاب و تلامذہ کا دائرہ بہت وسیع ہے ، آپ نے بہت سے شاگردوں کی تربیت فرمائی ، کتب رجال کی جانب رجوع کرنے سے معلوم ہوتاہے کہ آپ کے اصحاب و تلامذہ کی تعداد چار سو بچاس تھی ، ظاہر ہے اس مختصر سے مضمون میں ان سب کا تذکرہ تو ممکن نہیں ہے ، یہاں ان میں سے بعض برجستہ اصحاب و تلامذہ کا تذکرہ اختصار کے ساتھ کیاجارہاہے :

١۔ زرارہ بن ا عین :
امام علیہ السلام کے خاص شاگرد تھے ، انہوںنے امام سے بہت سی حدیثیں اور روایتیں نقل کی ہیں ، انتہائی درجہ عالم ، فقیہ ، متکلم ، ادیب اور ثقہ تھے ، ان کی عظمت و جلالت کے لئے امام صادق کی حدیث ہی کافی ہے کہ خدا زرارہ ابن اعین پر رحمت نازل کرے ، اگر وہ نہ ہوتے تو آثار نبوت اور میرے والد گرامی کی احادیث ختم ہوجاتیں ۔(۲)
ایک مرتبہ امام صادق کی بزم میں ان کا ذکر آیاتو آپ نے اس انداز سے تذکرہ کیا جس سے پہلو ئے ذم نکلتا تھا ، انہیں اطلاع ملی تو اپنے فرزند کو حضرت کی خدمت میں دریافت حال کے لئے روانہ کیا ۔ آپ نے فرمایا کہ تم میرے واقعی دوست ہو لیکن کیا کروں دنیا میرے دوستوں کی دشمن ہے ، لہذا میں اس طرح ذکر کرتاہوں کہ میری دوستی کا اظہار نہ ہو اور اس طرح میرے چاہنے والے دشمنوں کے شر سے محفوظ رہیں ۔
اس سے جہاں امام کی نظر میں زرارہ کی اہمیت سمجھ میں آتی ہے وہیں اس وقت کے حالات و ماحول کا خاکہ بھی واضح ہوتاہے ۔

٢۔ محمد بن مسلم ثقفی :
امام باقر اور امام صادق علیہما السلام کے انتہائی مخلص اور باوفا صحابی تھے ، امام باقر علیہ السلام سے تیس ہزار اور امام صادق علیہ السلام سے سولہ ہزار حدیثیں نقل کی ہیں ۔ آپ اصل میں کوفہ کے رہنے والے تھے لیکن کسب علم و دانش کے لئے مدینہ تشریف لائے اور چار سال تک اسی شہر میں قیام فرمایا اور امام سے فیضیاب ہوتے رہے ۔ آپ کی علمی جلالت کا یہ پہلو کافی نمایاں ہے کہ آپ کو فقیہ اہل بیت کے نام سے یاد کیاجاتا ہے ، امام صادق علیہ السلام اپنے زمانے میں دینی سوالات کے لئے لوگوں کو ان کے پاس بھیجتے اور فرماتے تھے : تم لوگ محمد بن مسلم سے سوال کیوں نہیں کرتے ۔(۳)

٣۔ محمد حمران بن اعین :
مخلص شیعہ تھے ، امام باقر کے ممتاز شاگردوں میں ان کا شمار ہوتاہے ؛ امام باقر ان کے بارے میں فرماتے ہیں : انت من شیعتنا فی الدنیا والآخرة '' تم دنیا و آخرت میں میرے شیعہ ہو''۔آپ کی شخصیت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ آپ امام باقر کے حضور میں ادب کے پیش نظر اس وقت تک کلام نہیں کرتے تھے جب تک امام اجازت مرحمت نہیں فرماتے تھے۔

٤۔ ابو بصیر یحییٰ بن قاسم اسدی :
ان کے والد کا نام اسحاق تھا ، خود نابینا تھے اور نہایت درجہ ثقہ اور فقیہ تھے ، بعض لوگوں نے چھ فقہاء میں ان کو شمار کیاہے اور نقل کیا ہے کہ امام صادق علیہ السلام نے اپنی عدم موجودگی میں ان کی طرف رجوع کرنے کا حکم دیاتھا ۔ انہوں نے امام سے بہت سی حدیثیں نقل کی ہیں۔

٥۔ جابر بن یزید جعفی :
کوفہ کے رہنے والے تھے لیکن امام باقر کی خدمت میں آکر مدینہ میں رہ گئے تو امام نے فرمایا کہ اپنے کو کوفہ کا مت کہنا بلکہ مدینہ کا بتانا ورنہ لوگ اذیت کریں گے ۔ عرض کی کہ یہ غلط بیانی تو نہیں ہے ؟ فرمایا : ہرگز نہیں جب تک تم مدینہ میں ہو مدینہ کے رہنے والے ہو اس میں غلط بیانی کا کیا سوال پیدا ہوتاہے ۔
نعمان بن بشیر نقل کرتے ہیں کہ ایک شخص نے جابر کو ایک خط لاکر دیا ، انہوں نے آنکھوں سے لگایا اور کھول کر پڑھا اور افسردہ ہوئے اور کوفہ روانہ ہوگئے ۔ وہاں پہونچ کر عجیب و غریب حرکات کرنے لگے کہ ایک لکڑی پر گھوڑے کی طرح سوار ہوکر بچوں کے ساتھ دوڑنے لگے ۔ لوگوں کہا: جابر دیوانے ہوگئے ہیں ، تھوڑے دنوں کے بعد ہشام بن عبدالملک کا فرمان کوفہ کے حاکم کے پاس آیا کہ جابر کو قتل کرکے ان کا سر بھیج دو ، اس نے دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ وہ ایک مرد فقیہ تھے لیکن فی الحال پاگل ہوگئے ہیں ، انہیں قتل کرنے سے کیا فائدہ ۔ چنانچہ اس نے اپنی رائے بدل دی اور امام کے خط کی مصلحت سامنے آگئی اور یہ معلوم ہوگیا کہ ائمہ طاہرین کس طرح اپنے چاہنے والوں کی زندگیوں کا تحفظ کیاکرتے تھے ۔

٦۔ ابان بن تغلب :
آپ کو تین امام'' امام سجاد ، امام باقر اور امام صادق علیہم السلام '' کی زیارت نصیب ہوئی ، علمی میدان میں ابان کی شخصیت کو ایک خاص امتیاز حاصل ہے ، تفسیر ، فقہ ، حدیث ، قرائت ، لغت اور دوسرے علوم میں ید طولیٰ حاصل تھا اور آپ کی علمی شخصیت اس قدر مسلم تھی کہ امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا: ''تم مسجد مدینہ میں بیٹھو اور لوگوں کو فتویٰ دو اور لوگوں کو ان کے مسائل سے آگاہ کرو ، میری دلی تمنا اور آرزو ہے کہ میں اپنے شیعوں میں تمہارے جیسے افراد دیکھوں''۔(۴)
خدا رحمت کند این عاشقان پاک طینت را

حوالہ جات
۱۔ اختیار معرفة الرجال ص ١٣٦ ۔١٣٧
۲۔سفینة البحار ج١ ص ٥٤٧
۳۔تحفة الاحباب ، محدث قمی ص ١٢٥
۴۔سفینة البحار ج١ ص ٧

مقالات کی طرف جائیے