مقالات

 

امام حسین علیہ السلام اور قرآن

سید عباس مہدی حسنی

نبی آخر حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ کی سنت اورسیرت سے یہ بات واضح ہے کہ امام حسین علیہ السلام کی شناخت اورمعرفت سب کیلئے ایک ضروری امر ہے اسی وجہ سے متعدد مقامات پر مختلف طریقہ سے اپنے اصحاب کے درمیان اپنے نواسہ کی عظمت اورفضیلت بیان فرماتے ہیں تاکہ صحابہ کرام میں معرفت حسین کا چراغ روشن ہوجائے تاکہ آنے والے زمانہ میں وہ فرزند رسوۖل کو مشعل ہدایت اورکشتی نجات بنانے میں شک وشبہہ کا شکار نہ ہوں اوراپنی دنیوی واخروی سعادت کا سامان فراہم کرسکیں۔
امام حسین علیہ السلام ہر زمانے کیلئے چراغ ہدایت اورکشتی نجات ہیں لہٰذا ہر زمانہ میں وہی حسین کو مشعل راہ بنائے گا جس کے پاس حسین کی معرفت ہوگی۔

معرفت حسین حاصل کیسے کی جائے؟
تو اسکے دو اہم ذریعے ہیں ایک قرآن دوسرے رسول ۖ اورآل رسول علیہم السلام کی احادیث واقوال، جس میں سب سے معتبر اورقابل اعتماد ذریعہ قرآن مجید ہے۔ سردست مقالہ میںامام حسین کی نظر میں قرآن کی عظمت ومنزلت اورامام کی زندگی میں قرآن کے نقش کوبیان کیا جارہاہے۔
قرآن سے گہرا رابطہ: حدیث ثقلین کی رو سے قرآن واہلبیت میں اتنا مستحکم اورعمیق رابطہ ہے کہ جو ادراک وفہم بشر سے بالاتر ہے شب عاشور ایک رات کی مہلت اس لئے لی تھی تاکہ عبادت وتلاوت کرسکیں ''انی احب الصلوٰة وتلاوة کتابہ والدعاء والاستغفار'' مجھے نماز ، کتاب خدا کی تلاوت، دعا اوراستغفار محبوب ہے۔ اگر کسی کے عمر کی آخری شب ہو تو وہ بہترین کام انجام دینا چاہتا ہے معلوم ہوتا ہے سب سے محبوب کام امام کے نزدیک عبادت، تلاوت اوردعا واستغفار ہے۔ امام حسین اورقرآن کے رابطہ کی گہرائی کا اندازہ یہاں سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب حسین کے سروتن میں جدائی کردی جاتی ہے توجدائی کے باوجود نوک نیزہ سے سرحسین کلام اللہ کی آیات کی تلاوت کررہاتھا۔
امام کی نظر میں قرآن کی اہمیت: قرآن کی عظمت اورمنزلت کیا ہے؟ امام کے اقوال اورسیرت پر جب نظر کی جاتی ہے تو ہم کو اندازہ ہوتا ہے کہ امام حسین کی نظر میں قرآن کتنی اہمیت کا حامل تھا ۔
امام فرماتے ہیں کہ جو شخص نماز میں قیام کی حالت میں ایک آیت کی تلاوت کرے ہر حرف کے بدلے سو نیکی اس کے نامہ اعمال میں لکھی جاتی ہے ،اور اگر نماز کے علاوہ پڑھے تو دس نیکی لکھی جاتی ہے ،اگر قرآن کو غور سے سنے تو ہر حرف کے بدلے ایک نیکی کا ثواب اسے دیا جاتا ہے ۔(بحار الانوار ،ج٩٢،ص٢٠)
عبد الرحمٰن ابن سلمیٰ نے ایک بچے کو قرآن مجید کا ایک سورہ سکھایا تو امام نے ہزار دینار اس کے لئے ہدیہ بھیجا ۔(بحار الانوار،ج٤٢،ص١٩١)
امام علیہ السلام قرآن کو گریہ و زاری کے ساتھ پڑھا کرتے تھے ۔(موسوعة کلمات الامام الحسین علیہ السلام ،ص٣٤٧)

امام علیہ السلام کے قرآنی کارنامے:
قرآن کے سلسلے میں امام حسین علیہ السلام کی خدمات کو مختصر طور پر بیان کیا جارہاہے :
الف: فہم قرآن کے درجات کا بیان :
امام علیہ السلام قرآن کو سمجھنے کے مراتب کو اس طرح بیان فرماتے ہیں :''کتاب اللہ عزّ و جلّ علی اربعة اشیاء ؛ علی العبارة والاشارة واللطائف والحقائق ؛فالعبارة للعوام والاشارة للخواص واللطائف للاولیاء والحقائق للانبیائ''(بحار الانوار ،ج٤٦،ص١٩٥)
یعنی کتاب خدا چار چیزوں پر مشتمل ہے ؛عبارت ،اشارہ، لطائف اور حقائق ،عبارت(ظاہری متن)عام لوگوں کے لئے ،اشارہ خواص کے لئے لطیف باتیں اولیاء الٰہی کے لئے اور حقائق انبیاء کے لئے ہیں ۔
اسی طرح ایک اور حدیث میں فرماتے ہیں:''القرآن ظاہرہ انیق وباطنہ عمیق''(ما سبق ،ج٩٢،ص٢٠)قرآن کا ظاہر خوبصورت اور باطن گہرا ہے ۔
ان دو روایتوں سے یہ بات بہر حال ثابت ہے کہ قرآن سب کے سمجھنے کی کتاب ہے یہ اور بات ہے کہ ہر انسان اپنی صلاحیت اور ظرفیت کے لحاظ سے استفادہ کرتا ہے ،عوام الناس صرف ظاہر قرآن تک محدود رہتے ہیں ،خواص قرآن کے دقیق اشاروں تک رسائی حاصل کرلیتے ہیں ،اولیاء الٰہی تزکیۂ نفس کے سبب آیات کے باریک نکات کو بھی درک کرلیتے ہیں اور انبیاء علم الٰہی (لوح محفوظ)سے متصل ہونے کے سبب قرآن سے ایسے حقائق درک کرلیتے ہیں جو دوسرے نہیں کرپاتے ۔
ب: آیات کی تفسیر:
امام علیہ السلام مفسر قرآن ہی نہیں بلکہ قرآن ناطق ہیں قرآن کی حقیقی تفسیر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد آپ کے اہل بیت کا خاصہ ہے لہٰذا ہم دیکھتے ہیں کہ امام نے قرآن کی مختلف آیتوں کی تفسیر اور توضیح فرمائی ہے ، یہ بذات خود ایک مفصل موضوع ہے فی الحا ل صرف ایک نمونے کے ذکر پر اکتفا کی جارہی ہے ؛اہل بصرہ نے آپ کو ایک خط لکھااور اس میں لفظ ''الصمد'' کے بارے میں سوال کیا ، امام علیہ السلام نے جواب میں تحریر فرمایا: قرآن کے سلسلہ میں بغیر علم کے گفتگو مت کرو میں نے اپنے جد رسول خدا سے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا:جو شخص بغیر علم کے قرآن کے بارے میں گفتگو کرے اس کا ٹھکانہ جہنم ہے ،درحقیقت خداوندسبحان نے ''صمد ''کی تفسیر بیان فرمائی ہے :(لَمْ یَلِدْ وَ لَمْ یُوْلَدْوَلَمْ یَکُنْ لَہ کُفُواً احَد) (لَمْ یَلِد)خدا نے نہیں جنا،یعنی خدا سے بچے اوردیگر اشیاء خارج نہیں ہوتے (نور الثقلین، ج ٥،ص٧١١)
ج: قرآن کو مہجوریت سے نکالنا:
امام حسین علیہ السلام کے دور میں بنی امیہ بالخصوص یزید کی حکومت میں قرآن معاشرہ میں متروک ہوچکا تھا ، قرآنی احکام پر عمل نہیں ہورہا تھا اسلام اپنے راستے سے منحرف کیا جارہاتھا لہٰذا امام حسین علیہ السلام نے قرآنی تعلیمات کی بنیاد پر قیام کیا تاکہ قرآن کو مہجور ہونے سے محفوظ رکھیں۔ افسوس کہ آج پھر ہمارے معاشرہ میں قرآن مہجور ہوچکا ہے لہٰذا سیرت حسین پر عمل کرتے ہوئے قرآنی تعلیمات کو زندہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ صحیح معنوں میں مقصد قیام حسین کی تکمیل ہوسکے ۔
حسین قرآن مجسم:
امام حسین قرآن کی عملی تفسیر ہیں آپ قرآن ناطق ہیں آپ کی تمام حرکات وسکنات قرآنی آیات کی بولتی تصویر ہیں حتی امام کا قیام بھی قرآنی اصولوں پر استوار تھا، آپ کی زندگی میں قرآن پر عمل کے کچھ نمونے پیش کئے جارہے ہیں:
١۔ نیکی کا جواب بہتر نیکی سے: ایک مرتبہ ایک کنیز نے امام کی خدمت میں پھول ہدیہ کیا امام نے اسے راہ خدا میں آزاد کردیا اس نے کہا :آپ نے پھول کے بدلے آزاد کردیا ؟! امام نے فرمایا: خدا نے ہماری تربیت اسی طرح کی ہے۔ ( وَِذَا حُیِّیتُمْ بِتَحِیَّةٍ فَحَیُّوا بَِحْسَنَ مِنْہَا َوْ رُدُّوہَا)(سورہ نسائ٨٦) ''جب تمہیں تحیت (سلام ، ہدیہ وغیرہ) پیش کیا جائے تو تم اس سے بہتر تحیت پیش کرو یا اس کے مثل جواب دو''۔ پھر امام نے فرمایا : اس پھول سے بہتر اس کنیز کے لئے اسکی آزادی تھی۔(بحار الانوار،ج ٤٤، ص ١٩٥)
٢۔ عفو ودرگذر : ایک مرتبہ امام حسین کے ایک غلام سے ایسی خطا ہوگئی جس کے سبب وہ سزا کا حقدار تھا آپ نے فرمایا اسکی تنبیہ کرو ، غلام نے کہا اے مولا (وَالْکَاظِمِینَ الْغَیْظَ)''جو اپنے غصے کو پی جاتے ہیں''(سورہ آل عمران١٣٤)۔ امام نے کہا اسے چھوڑدو، غلام نے عرض کی اے مولا (وَالْعَافِینَ عَنْ النَّاسِ) ''جولوگوں کی غلطیوں کو درگذر کردیتے ہیں''، امام نے فرمایا : میں نے معاف کردیا، غلام نے کہا: اے مولا (وَاﷲُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِینَ) ''خدا نیکی کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے''، امام نے فرمایا: میں نے تجھے راہ خدا میں آزاد کردیا۔(بحار الانوار،ج ٤٤،ص ١٩٥)
یہ دونمونے تھے امام حسین علیہ السلام کی قرآنی زندگی کے ورنہ امام کی پوری زندگی قرآنی تعلیمات کا عملی نمونہ تھی، آپ نے حیات کا ہر لمحہ کتاب خدا کے سایہ میں گزارا۔
امام حسین کی معرفت اورشناخت کیلئے یہ دیکھنا ہوگا کہ امام کی زندگی قرآنی تعلیمات پر استوار تھی لہٰذا قرآن میں جو صفات خود قرآن اورانبیاء کیلئے بیان ہوئے ہیں وہ تمام صفات وکمالات امام حسین علیہ السلام میں پائے جاتے تھے ، امام کی کامیابی کا راز قرآنی آیات پر عمل میں مضمر تھا ، خدا وندعالم ہمیں بھی حسینی سیرت پر عمل کرتے ہوئے دنیا وآخرت کی سعادت سے ہمکنار فرمائے۔

مقالات کی طرف جائیے