مقالات

 

امتحان اور کربلا

محمد رضا معروفی

امتحان و آزمائش خدا وند عالم کی وہ عظیم سنت ہے جس سے ہر انسان ہر لمحہ گذرتا ہے انسانی زندگی کا کوئی بھی پہلو ایسا نہیں جو امتحان اور آزمائش سے خالی ہو اس لئے کہ خدا وندعالم کا قانون یہ ہے کہ وہ امتحان اور آزمائش کے بغیر کسی کو کچھ بھی نہیں دیتا چاہے وہ ثواب ہو یا عقاب ، لہذا ہر انسان ہر لمحہ مرحلہ امتحان میں ہے کسی کو بھی اس امتحان سے راہ فرار نہیںحتی نبی اور امام بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہیںبلکہ حدیث کے مطابق : جس کا مرتبہ بارگاہ الٰہی میں جتنا بلند ہوتا ہے اس کا امتحان بھی اتنا ہی سخت ہوتا ہے ۔

خداوندعالم کی طرف سے ہونے والے امتحانات کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے :
١۔ عمومی امتحان : اس امتحان میں تمام انسان شامل ہیں مومن ہوں یا کافر، انبیاء ہوں یا ائمہ علیہم السلام سبھی کو اس امتحان سے گذرنا ہوتاہے جس کی دلیل قرآن کی یہ آیت ہے:(وَنَبْلُوکُمْ بِالشَّرِّ وَالْخَیْرِ فِتْنةً) (١) اس آیت میں خدا وندعالم نے تاکید کے ساتھ واضح طور پر یہ اعلان کردیا ہے کہ یقینا ہم تم سب کا اچھی اور بری چیزوں کے ذریعہ امتحان لیں گے ۔
اس آیۂ کریمہ میں سبھی شامل ہیں کوئی بھی اس آیت کی عمومیت سے خارج نہیں ہے۔
٢۔ خصوصی امتحان: یہ امتحان بعض لوگوں سے مخصوص ہے اور کسی خاص مقصد کے تحت لیا جاتا ہے مثلاًجب خداوندعالم نے حضرت ابراہیم کو منصب امامت عطا کرنے کا ارادہ کیا تو پہلے امتحان لیا اس کے بعد یہ منصب عطا فرمایا چنانچہ قرآن مجید کا ارشاد ہے( وَِذْ ابْتَلَی ِبْرَاہِیمَ رَبُّہُ بِکَلِمَاتٍ فََتَمَّہُنَّ قَالَ ِنِّی جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ ِمَامًا)جب ابراہیم کا ان کے پروردگار نے چند چیزوں کے ذریعہ امتحان لیا اور انھوں نے اس امتحان میں کامیابی حاصل کرلی تو خدا نے فرمایاکہ میں نے تمہیں لوگوں کا امام بنایا۔(٢)
امتحان کی ان دونوں قسموں پر غور کرنے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ہر شخص محضر امتحان میں ہے کچھ لوگ عمومی امتحان دے رہے ہیں اور کچھ لوگ خصوصی امتحان سے گذررہے ہیں اور کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو ایک ہی وقت میں عمومی اور خصوصی دونوں امتحان سے گذررہے ہیں۔کربلا کے میدان میں امام حسین علیہ السلام اور ان کے باوفا اصحاب اس گروہ میں سے تھے جو بیک وقت عمومی اور خصوصی دونوں امتحان کے مراحل سے گذر رہے تھے ، عمومی اس لئے کہ وہ انسان تھے اور خصوصی اس لئے کہ خاصان خدا میں سے تھے اور خدا نے ان کو ایک خاص مشن کے لئے منتخب فرمایاتھا اور وہ مشن ایسا تھا کہ جس کی وجہ سے اسلام قیامت تک باقی رہنے والا تھا۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ جو ہر انسان امتحان کی منزلوں سے گذر رہا ہے اس امتحان کی خصوصیات اور امتیازات کیا ہیں ؟ خدا ہمارا امتحان کیوںلے رہا ہے ؟

امتحان کی اہمیت و ضرورت:
امتحان کی اہمیت کے سلسلے میں اتنا ہی کافی ہے کہ یہ امتحان خلقت انسانی کا لازمہ ہے یعنی خلقت بغیر امتحان کے قابل تصور نہیں ہے انسانوں کی خلقت کو خداوند عالم نے امتحان سے اس طرح سے منضم کردیا ہے کہ دونوں میں جدائی کا امکان نہیں ہے اس کی دلیل مولائے کائنات حضرت علی ابن ابی طالب علیہما السلام کی یہ حدیث ہے: ''ولا تقولن احدکم (اللھم انی اعوذبک من الفتنة)لانہ لیس احد الا وھو مشتمل علی فتنة ولکن من استعاذ فلیستعذ من مضلات الفتن''تم میں سے کوئی خدا سے یہ دعا نہ کرے کہ خدایا! میں امتحان سے تیری پناہ چاہتا ہوں کیوں کہ کوئی انسان ایسا نہیں ہے جو محضر امتحان میں نہ ہو، ہاں! اگر کوئی خدا سے پناہ طلب کرنا چاہتا ہے تو اس پر لازم ہے کہ امتحان کی لغزشوں سے پناہ طلب کرے ۔(٣)
مولائے کائنات کے اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ کائنات فنا کے قوانین میں سے ایک قانون امتحان ہے اگر کوئی یہ کہے کہ میں امتحان سے خدا کی پناہ چاہتا ہوں تو گویا اس نے اپنی خلقت سے پناہ طلب کی ہے کیوں کہ خلقت اور امتحان ایک دوسرے سے جدا ہونے والے نہیںہیں ،عالم خلقت عالم امتحان ہے حضرت آدم سے شروع ہوا ہے اور دنیا کے خاتمہ تک چلتا رہے گا ۔
امتحان کی اہمیت و عظمت روشن ہونے کے بعد اس کی بات کی قضاوت بھی ضروری ہے کہ خدا وند عالم بندوں کا امتحان کیوں لیتا ہے اس سلسلے میں قرآن مجید کی چند آیتیں ملاحظہ فرمائیے :
١۔(َأحَسِبَ النَّاسُ َنْ یُتْرَکُوا َنْ یَقُولُوا آمَنَّا وَہُمْ لاَیُفْتَنُونَ ٭ وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِینَ مِنْ قَبْلِہِمْ فَلَیَعْلَمَنَّ اﷲُ الَّذِینَ صَدَقُوا وَلَیَعْلَمَنَّ الْکَاذِبِین)کیا لوگوں نے یہ گمان کیا ہے کہ ان کے یہ کہنے سے کہ ہم ایمان لائے انھیں چھوڑدیا جائے گا اور ان کا امتحان نہیں لیا جائے گا ؟ ہم نے ان سے پہلے والوں کا بھی امتحان لیا تاکہ خداوندعالم جو ان کے بارے میں جانتا ہے کہ (کون سچا ہے کون جھوٹا)یہ علم خدا متحقق ہوجائے (یعنی لوگوں کا سچا یا جھوٹا ہونا ان کے سامنے آجائے )۔(٤)
اس آیۂ کریمہ سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مقصد امتحان لوگوں کو ان کی حقیقت سے آگاہ کرنا ہے کیوں کہ یہ کہنا ممکن نہیں ہے کہ خدا امتحان اس لئے لیتا ہے کہ وہ سچوں اور جھوٹوں کی شناخت کرسکے !اس لئے کہ خدا سب کے ظاہر وباطن سے آگاہ ہے لہذا یہ امتحان ممتحن کے علم میں اضافے کا سبب نہیں ہے بلکہ امتحان دینے والوں کو بتانا مقصود ہے کہ ہم تمہارا امتحان اس لئے لے رہے ہیں کہ تم یہ جان لو کہ تم لوگوں میں کون جھوٹا ہے اور کون سچا ؟آخرت میں ثواب کے مستحق ہو یا عقاب کے ؟ اگر ہم تمہارا امتحان نہ لیتے اور قیامت میں تمہیں اپنے علم کی بنیاد پرعذاب میں مبتلا کردیتے تو تم اعتراض کرسکتے تھے کہ ہم اس عذاب کے مستحق نہیں تھے !
٢۔ (فَلَمَّا رَآہُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَہُ قَالَ ہَذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّی لِیَبْلُوَنِی ََشْکُرُ َمْ َکْفُر)جب سلیمان نے تخت (بلقیس)کو اپنے پاس ثابت دیکھا تو کہاکہ یہ میرے پروردگار کے فضل سے ہے تاکہ مجھے آزمائے کہ میں شکر ادا کرتا ہوں یا کفران نعمت کرتا ہوں۔(٥)
اس آیت میں ضرورت امتحان کے دوسرے پہلو کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ کبھی کبھی خدا نعمت دے کر بھی آزماتا ہے اوراس آزمائش کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ شکر گذار بندے اور کفران نعمت کرنے والے افرادپہچان لئے جائیں ، خداوند عالم ہمیں جتنی بھی نعمتیںعطا کرتا ہے ان کے ذریعہ وہ ہمارا امتحان لیتا ہے کہ ہم ان نعمتوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں یا کفران نعمت کے مرتکب ہوتے ہیں ؟
صرف زبان سے ''شکراًللّٰہ ''کہنا ہی شکرنہیں ہے بلکہ ہر نعمت کے شکرئیے کا عملی پہلو بھی ہوتا ہے جو ہر نعمت کے اعتبار سے بدلتا رہتا ہے مثلاً خدا نے ہمیں اولادکی نعمت عطا کی تو اس کا عملی شکریہ یہ ہوگا کہ ہم ان کی اچھی تربیت کریں دینداری ،علم و ادب اور اخلاق اسلامی سے روشناس کرائیں اور کفران نعمت یہ ہوگا کہ ان کی طرف سے بے پرواہ ہوجائیں اور ان کی اچھی تربیت نہ کریںاور اسی طرح کی بہت سی مثالیں ہیں جو ہمارے موضوع کے دائرے سے خارج ہیں ۔
٣۔(تَبَارَکَ الَّذِی بِیَدِہِ الْمُلْکُ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیر ٭ الَّذِی خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیَاةَ لِیَبْلُوَکُمْ َیُّکُمْ َحْسَنُ عَمَلاً)یعنی با برکت ہے وہ ذات جس کے قبضۂ قدرت میں ملک ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے اس نے موت و حیا ت کو پیدا کیا تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے عمل کے اعتبار سے سب سے بہتر کون ہے ۔(٦)
مذکورہ تینوں آیتوں سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ مقصد امتحان یہ ہے کہ لوگ پہچان لیں کہ کل روز قیامت کون مستحق ثواب ہے اور کون مستحق عقاب ،اگر انسان اپنے دعوائے ایمان میں سچاہے (یعنی عمل کرکے اپنے ایمان کی تصدیق کررہا ہے )تو مستحق ثواب ہوگا اور اگر جھوٹا ہے تو مستحق عقاب ہوگا ، اگر نعمتوں کا شکر ادا کررہا ہے تو مستحق ثواب ہوگا اور اگر کفران نعمت کررہاہے تو مستحق عقاب ہوگا موت و حیات کے مراحل سے گذر کر عمل کے اعتبار سے اگر احسن ہے تو مستحق ثواب ہے ورنہ مستحق عقاب ہے ۔
اس کے علاوہ چونکہ امتحان کا تعلق عقل اور اختیار سے ہے لہذاصرف وہی افراد محضر امتحان میں ہیں جو عاقل و مختار ہیں حیوانات اور دیوانے محضر امتحان میں نہیں ہیں کیوں کہ نہ ان میں عقل پائی جاتی ہے اور نہ ہی اختیار ۔

امتحان کے موضوعات
گذشتہ مباحث سے معلوم ہوا کہ ہم سبھی منزل امتحان میں ہیں اور یہ بھی معلوم ہوا کہ امتحان کیوں لیا جارہا ہے اب سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ ہمارا امتحان کن چیزوں کے ذریعہ لیا جاتا ہے ہمارے امتحان کا موضوع کیا ہے ؟کیوں کہ یہ بات معقول نہیں ہے کہ موضوع بتائے بغیر کسی کا امتحان لے لیا جائے، تو کیا خدا نے بھی ہمارے امتحان کے موضوعات معین کئے ہیں ؟ کیا خدا نے ہمیں بتایا ہے کہ ہم تمہارا امتحان فلاں فلاں چیزوں کے ذریعہ لیں گے ؟
بے شک خدا وندعالم نے ہمیں بتایا ہے کہ کن چیزوں کے ذریعہ تمہارا امتحان لیا جائے گا چنانچہ ارشادہوتا ہے : (وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْئٍ مِنْ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنْ الَْمْوَالِ وَالَْنفُسِ وَالثَّمَرَات)اور یقینا ہم تم سبھیکو خوف کے ذریعہ ، بھو ک کے ذریعہ ، جان و مال اورثمرات میں کمی کرکے آزمائیں گے۔ (٧)
جن چیزوں کے ذریعہ بندوں کا امتحان لیا جاتاہے ان میں سے بعض چیزوں کو اس آیت میں بیان کیا گیا ہے :
١۔ خوف:کبھی انسان کی زندگی میں ایسا موقع بھی آتا ہے کہ اسے خوف و ڈر کا سامنا کرنا پڑتاہے اب اس ڈر اور خوف کے مصادیق مختلف ہیں کبھی دشمن کا خوف ہوتا ہے تو کبھی مال و دولت کے چھن جانے کا ڈر کبھی ناموس کی آبرو کا مسئلہ ہوتا ہے تو کبھی جان جانے کا خو ف، الغرض ڈر کے موقع پر انسان کو متوجہ رہنا چاہئے کہ یہ امتحان کی گھڑی ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم خوف کی وجہ سے کوئی خلاف شرع کام انجام دے دیں۔
٢۔بھوک:کبھی انسان پر ایسا وقت آجاتا ہے کہ اسکے پاس کھانے کے لئے ایک دانہ بھی نہیں ہوتا ایسا وقت شیطان کے لئے کمین گاہ کا کام کرتا ہے لہذا انسان کو بہت ہی محتاط رہنا چاہئے کہ ایسے موقع پر کہیں شیطان ہم پر غالب نہ آجائے اور ہم سے کوئی ایسا کام نہ کرادے جو شریعت کی رو سے حرام ہو۔
٣۔اموال میں کمی:انسان کی زندگی میں اتار چڑھائو آتا رہتا ہے کبھی مالدار ہوتا ہے کبھی فقیر ، کبھی اس کے یہاں مال و دولت کی فراوانی ہوتی ہے کبھی کمی ہوتی ہے لہذا اگر ہمارے اموال میں کسی بھی طرح سے کمی واقع ہو تو ہمیں یہ سمجھنا چاہئے کہ خدا اس کے ذریعہ ہمارا امتحان لے رہا ہے نیز ہمیں چاہئے کہ اس امتحان میں خدا کے بتائے ہوئے راستے پر چلیں اور کوشش کریں کہ ہمارے اموال میں اضافہ حلال راستے سے ہو کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کمی کو دور کرنے کے لئے ہم ہر صحیح و غلط راستے کو اپنا لیں ۔
٤۔موت(قبض روح):موت اور قبض روح بھی انسانوں کے امتحان کا ایک ذریعہ ہے کہا جاتا ہے کہ حالت احتضار میں شیطان انسان کے پاس آتا ہے اور ہر ممکن کوشش کرتا ہے کہ اسے راہ راست سے ہٹا دے مثلاً ہوسکتا ہے کہ کسی کے پاس آئے اور یہ کہے کہ اگر تم نے کلمہ نہیں پڑھا تو میں تمہیں نجات دلاسکتاہوں اگر ہم متوجہ نہ ہوئے اور ہمارا ایمان پختہ نہ ہوا تو بہت ممکن ہے کہ ہم موت سے نجات کے چکر میں اپنے ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھیں اور حالت کفر میں اس دنیا سے جائیں اسی لئے کہا گیا ہے کہ انسان کو ہمیشہ خدا سے اپنے عاقبت بخیر ہونے کی دعا کرتے رہنا چاہئے ۔
٥۔نقص ثمرات :اس کی دو تفسیریں کی گئی ہیں ایک تو یہ کہ پھلوں میں کمی آئے گی اور اس کے ذریعہ ہم آزمائے جائیں گے اور دوسری تفسیر یہ ہے کہ میووں سے مراد اولاد ہیں جن کو میوہ ٔدل کہا جاتا ہے یعنی خدا ہماری اولاد ہم سے لے کر ہمارا امتحان لے گا کیوں کہ جان چلے جانے کے بعد پھلوں میں کمی واقع ہونے سے اس انسان کو کیا فرق پڑتا ہے جس کی جان چلی گئی ہے ، لہذا ہمیں ہر حال میں یہ خیال رکھنا چاہئے کہ ہم محضر امتحان میں ہیں کسی بھی مرحلہ میں ہمارے قدم میں لغزش نہیں آنی چاہئے ۔
اس کے علاوہ میزان الحکمة میں مولائے کائنات حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام سے ایک حدیث مروی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مندرجہ بالا چیزوں کے علاوہ مصیبت اور ولایت بھی ان چیزوں میں داخل ہیں جن کے ذریعہ سے خداوندعالم ہمارا امتحان لیتا ہے، مولائے کائنات فرماتے ہیں : ''ثلاث یُمتحن بہ عقول الرجالِ ھنّ المال والولایة والمصیبة ''تین چیزیں ایسی ہیں جن کے ذریعہ مردوں کی عقلیں پرکھی جاتی ہیں پہلی چیز مال ہے دوسری چیز ولایت ہے اور تیسری چیز مصیبت ہے (٨)
سب سے پہلے اس نکتہ کی طرف توجہ ضروری ہے کہ اس طرح کی احادیث میں ''رجال'' سے مراد صرف مرد نہیں ہوتے بلکہ صفت مراد ہوتی ہے جس میں عورتیں اور مرد دونوں شامل ہوتے ہیں ۔
متذکرہ حدیث میں یہ بات واضح طور پر بیان کی گئی ہے کہ خدا دولت ، ولایت اور مصیبت کے ذریعہ عقلوںکو پرکھتا ہے ،کبھی مال دے کے آزماتا ہے تو کبھی واپس لے کر کبھی مصیبتوں میں مبتلاء کرکے امتحان لیتا ہے تو کبھی ولایت کے ذریعہ آزماتا ہے ۔ جہاں تک دولت و مصیبت کا سوال ہے تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ خدا وندعالم ان دونوں کے ذریعہ کس طرح امتحان لے گا لیکن ولایت کے ذریعہ امتحان لینے کا مفہوم غیر واضح ہے اس کی وضاحت کے لئے ہمیں اس بات کو جاننا پڑے گا کہ ولایت کے کیا معنی ہیں ؟علمائے لغت نے ولایت کے بہت سارے معانی بیان کئے ہیں جن میں سے اہم معنی حاکمیت و سرپرستی ہے یعنی ولی اسے کہا جاتا ہے جو حاکم و سرپرست ہوتا ہے ۔
مفہوم ولایت کی وضاحت کے بعد یہ سمجھنا آسان ہوجاتاہے کہ خداوندعالم ولایت کے ذریعہ ہماراامتحان کیسے لے گا وہ اس طرح کہ ولی حاکم و سر پرست کو کہا جاتا ہے اور اس ولایت اور سر پرستی کو دو قسموں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔
١۔ وہ حاکمیت جو خدا کی طرف سے نہ ملی ہو بلکہ دنیاوی قانون کے تحت کسی کا حاکم و سرپرست ہوگیا ہو ۔ اس ولایت کے ذریعہ اس طرح خدا ہمارا امتحان لے گا کہ تمہیں ولایت و حاکمیت ملی ہے تو اس بات کا خیال رکھنا کہ کہیں اقتدار کے نشے میں مجھے اور خود کو بھول کر اپنی رعایہ پر ظلم وستم نہ کرنے لگو اگر ظالم ہوئے تو عذاب کے مستحق ہوگے اور اگر عدل و انصاف کے ساتھ لوگوںپر حکومت کروگے تو ثواب کے مستحق ہوگے ۔
٢۔ وہ ولایت و سر پرستی جو خدا کی طرف سے ملی ہواس ولایت کے ذریعہ خداایک ہی وقت میں دو امتحان لیتا ہے ایک خود اس ولی کا امتحان ہوتا ہے کہ ہم نے تمہیں ولایت دی ہے تو کیا تم اس ولایت کے تقاضے کو پورا کررہے ہو یا نہیں ،اور دوسرا امت کا امتحان ہوتا ہے کہ ہم نے تمہارے درمیان اپنے ولی کو رکھا ہے یہ دیکھنے کے لئے کہ تم اس کے ساتھ کیسا برتائو کرتے ہو۔ کیا اس کے نور سے استفادہ کرتے ہو یا اسے بجھانے کی کوشش کرتے ہو ؟
لہذا ولایت کے ذریعہ جو امتحان ہوتا ہے وہ سب سے زیادہ سخت امتحان ہے خود ولی کا بھی اور امت کا بھی۔ ہم اس زمانے میں بھی امتحان ولایت سے گذررہے ہیں ہمیں بہت ہی محتاط رہنا ہوگا اگرچہ ہمارا ولی اس وقت پردۂ غیب میں ہے لیکن ہمارے حوالے سے ان کی بھی کچھ ذمہ داریاں ہیں اور ان کے حوالے سے ہمارے بھی کچھ وظائف ہیں وظائف ہیں جنھیں اگر ہم نے ادا نہ کیا تو ہم اس امتحان ولایت میں ناکام ہوجائیں گے اور آخرت میں مستحق عقاب قرار پائیں گے ۔

کربلا، ہمارے لئے نمونہ عمل امتحان
امتحان کے موضوع پر اختصار کے ساتھ کچھ مطالب بیان کئے گئے جن کوپیش نظر رکھتے ہوئے ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم امتحان وآزمائش کی تمام باریکیوں سے واقف ہوں اور خیال رکھیں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم تصور کرنے لگیں کہ ہم اس وقت امتحان کی منزل میں نہیں ہیں، جب ہم ہمیشہ اپنے آپ کو امتحان کی منزل میں تصور کریں گے تو لغزش اور خطا کے امکانات کم ہوں گے اور ہم ہر امتحان سے سرخرو ہوکر خارج ہوں گے اور یہ اسی وقت ہوسکتا ہے جب ہمارے سامنے کوئی ایسی درسگاہ ہو جہاں ایسے افراد پائے جاتے ہوں جو ایک ہی وقت میں خوف کا بھی امتحان دے رہے ہوں ،بھوک کا بھی امتحان دے رہے ہوں ، ان کے مال و اسباب بھی چھین لئے گئے ہوں،ان کی اولاد ان کے سامنے ذبح کی جارہی ہوں مگر ان کے قدم میں لغزش نہ آرہی ہولیکن ان حالات میں بھی ان کے ایمان و ایقان کی شمع اور زیادہ ضوفشاں ہو ۔
سوال یہ ہے کہ ہمارے لئے ایسی درسگاہ کی ضرورت کیوں ہے ؟ اس لئے کہ ایک انسان اگر اس کا جوان فرزند اس کے سامنے کروٹیں بدلتا ہو اموت کی آغوش میںچلا جائے تو ہوسکتا ہے وہ یہ کہے کہ پروردگار ایسی مصیبت پر صبر کرنا کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے میں اس عظیم مصیبت پر صبر نہیں کرسکتا اور نعوذباللہ کفرآمیزکلمات زبان سے جاری کرنے لگے تو خدااتمام حجت کے طور پر اس درسگاہ کو سامنے لائے گا اور کہے گا دیکھو یہ میرے بندے ہیں جنھوں نے اس سے عظیم مصیبتوں میں نہ صرف یہ کہ صبر کیا ہے بلکہ شکر کے سجدے بجالائے ہیں ۔
اس درسگاہ کا ایک نمونہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی شکل میں نظر آتا ہے جن کو آگ میں ڈالا گیا ، جلا وطن کیا گیااور فرزند کو اپنے ہاتھوں سے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا۔ ان تمام مصیبتوں پرآپ نے صبر کیا اور ہمیشہ راضی بہ رضائے الٰہی رہے تب خدا وند عالم نے انھیں عہدہ ٔ امامت سے سرفراز فرمایابلکہ آپ کے متعلق ملتا ہے :''بذ ل نفسہ للنیران وقلبہ للرھمان وولدہ للقربان ومالہ للاخوان '' آپ نے اپنی جان کو خدا کے لئے آگ میں ڈال دیا اور اپنے دل کو خدا کے لئے مخصوص کردیا اور اپنے بیٹے کو قربانی کے لئے اور اپنے مال کو اپنے بھائیوں کے لئے مخصوص کردیا۔ (٩)
اس عظیم فداکاری اور قربانی کے بعد خدا وند عالم نے ان کے مرتبہ کو بڑھایا اور انھیں نبی ، رسول ،اور خلیل ہونے کے ساتھ ساتھ امام ہونے کا شرف بھی حاصل ہوا ۔
دوسرا اور سب سے کامل نمونہ درسگاہ کربلاہے جہاں امام حسین علیہ السلام اور ان کے اصحاب و انصار نے تمام موضوعات کا امتحان اس طرح سے دیا کہ نہ ان سے پہلے کسی نے ایسا امتحان دیا تھا نہ ہی ان کے بعد کوئی دے گا،کیوں کہ اگر:
خوف کو موضوع بنایا جائے تو جیسا خوف کربلا میں تھا کہیں اور نظر نہیں آتا ایک طرف تیس ہزار کا لشکر تو دوسری طرف صرف بہتر افراد اور مخدرات عصمت و طہارت اور چھوٹے چھوٹے بچے ۔
اور اگر بھوک کو موضوع بنایا جائے تو تین دن کی بھوک اور پیاس ۔
اگر مال کی کمی کو موضوع بحث بنایا جائے تو ایک طرف اموال کی فراوانی تو دوسری طرف ناداری اور بعد شہادت تمام مال و اسباب کی لوٹ ۔
اگر جان کو موضوع بحث بنایا جائے تو ایک دو پہر میں بہتر افراد کا تہہ تیغ ہوجانا اور بعدشہادت لاشوں کو گھوڑوں کی ٹاپوں سے پامال کرنا ۔
اور اگر میوہ دل یعنی فرزند کو موضوع بحث بنایا جائے توکربلا والوں نے اس مرحلہ میں صبر و شکر کی وہ مثال قائم کی ہے کہ دنیا انگشت بدندان ہے کہ کیسے ہوسکتا ہے کہ بوڑھا باپ جوان بیٹے کے سینے سے نیزے کی انی نکالے اور آنکھوں سے آنسو بھی جاری نہ ہوں ، چھ ماہ کا بچہ ہاتھوں پر تیر ظلم کا نشانہ بن جائے اور امام کی زبان پر یہ کلمات جاری ہوں ''انا للّٰہ ونا الیہ راجعون رضاً بقضائہ وتسلیماًلامرہ' '
صرف یہی نہیں بلکہ کربلا میں جہاں مردوں نے امتحان کی منزل میںکمال دکھایا ہے وہیں عورتوں نے بھی کردار کی ابدی مثال قائم کی ہے۔ تاریخ نے لکھا ہے کہ ایک ماں کے سامنے اس کے دو بیٹوں کا جنازہ لایا جاتا ہے مامتا کا تو تقاضا یہ تھا کہ یہ بی بی داڑھیں مار مار کرروتیں لیکن مقاتل نے لکھا کہ یہی بی بی دونوں جنازوں کے بیچ میں سجدہ شکر ادا کررہی ہیں اور آنکھوں میں آنسو بھی نہیں ہیں کیوں اس لئے کہ ان کو معلوم ہے کہ میرے یہ فرزند ایسی راہ میں شہید ہوئے ہیں جس سے بہتر کوئی راستہ نہیں ان کی شہادت اسلام کی بقا کا زمینہ ہے لہذا انھوں نے شکر ادا کیا کہ ان کی کمائی کام آگئی ۔ غرض کربلا والوں کی نگاہ میں صرف خدا تھا اور اس کی رضایت تھی اور جس کی نظر میں بھی صرف حصول رضائے خداہووہ کچھ اور سوچتا ہی نہیں ۔
اور اگر مصیبت کے اعتبار سے دیکھا جائے تو تمام لوگوں نے اعتراف کیا ہے کہ جتنی مصیبتیں کربلاوالوں پر پڑی ہیں نہ اس سے پہلے کسی پر ایسی مصیبتیں وارد ہوئی تھیں اور نہ ہی تا قیام قیامت کوئی ایسی مصیبتوں میں گرفتار ہوسکتا ہے ۔
لہٰذا کربلا ہمارے لئے ہر اعتبار سے درسگاہ ہے خصوصاً الٰہی امتحان میں کس طرح کامیابی حاصل کی جاتی ہے وہ ہمیں کربلا والوں سے سیکھنا چاہئے وہی ہمیں بتائیں گے کہ مصیبتوں میں بھی اللہ کو نہیںبھولنا چاہئے بلکہ جتنی مصیبتیں بڑھتی جائیں ہمارا خدا سے رابطہ اتنا ہی مستحکم ہونا چاہئے ۔
اس عظیم مشن کی ابتداء ہی سے امام اور ان کے باوفا اصحاب ہمیں یہ درس دیتے آرہے ہیں کہ یاد رکھو نہ ظلم کرو اور نہ ہی ظلم سہو کیوں کہ جتنا بڑا گناہ ظلم کرنا ہے اتنا ہی بڑا گناہ ظلم کو سہنا بھی ہے اور یہ بھی یاد رکھنا کہ اگر تمہارے سامنے کسی پر ظلم ہورہا ہو تو تمہارا فریضہ ہے کہ مظلوم کو ظالم سے نجات دلائو جیسے بھی ممکن ہو اگر تماشائی بنے دیکھتے رہے تو تم بھی اس ظلم میں شریک ہو جائوگے اور جس عذاب کا حقدار ظلم کرنے والا ہوگا اسی عذاب میں تم بھی مبتلا ہو جائوگے لہذا تینوں مراحل امتحان کے ہیں جن کی طرف بے توجہی نہیں کی جاسکتی ۔
ان لوگوںنے ہمیں یہ بھی بتایا کہ کسی کے سامنے اپنے آپ کو ذلیل نہ کرو ہوسکتا ہے کہ کبھی ایسا موقع آجائے کہ اگر تم اپنے نفس کو ذلیل کردو تو تمہیں عیش و آرام کی زندگی نصیب ہوجائے تمہارے بچوں کو تمہارے عزت نفس بیچنے کے عوض چین و سکون کی زندگی نصیب ہو جائے اور اس کے برعکس اگر تم نے اپنے نفس کومحفوظ رکھا اور اسکا سودا نہیں کیا تو ہوسکتا ہے کہ جلاوطنی کی زندگی گزارنی پڑے،طرح طرح کی مصیبتیں جھیلنی پڑ یں۔ ایسے میں اگر ہم سے درس لینا ہو تو ہمارا پیغام یہی ہے کہ ''الموت اولی من رکوب العار'' خود کو ذلیل کرنے سے بہتر موت ہے
وہی بتائیں گے کہ کس طرح رضائے خدا کے مقابلہ میں آنے والی نفسانی خواہشات کا سر کچلا جاتا ہے وہ یہ بھی بتائیں گے کہ دیکھو جو ''فنا فی اللہ '' ہوجاتے ہیں ان کی نہ اپنی کوئی نظر ہوتی ہے نہ ہی اپنی کوئی خواہش، ایسے لوگ اپنے نفس کو اللہ کے حوالے کردیتے ہیں اب جو مالک چاہے وہی ہوگا۔
کربلا میں بچے، بوڑھے اور جوان سب نے ایک عظیم کردار پیش کیا ہے اور ہمیں یہ درس دیا ہے کہ دیکھو اگر کبھی اسلام پر آنچ آئے تو یہ مت سوچنا کہ میں تو بوڑھا ہوں میں کیا کرسکتا ہوں بلکہ تمام فکروں اور تمام امور کو بالائے طاق رکھ کر میدان میں کود پڑنا ہے اس کے بعد اللہ کی مرضی ۔
یہاں پر آگے بڑھ کر مائوں نے بھی ہماری مائوں اور بہنوںکے لئے ایک پیغام دیا، دیکھو ہمارے بچے ہماری نظر میں بلکہ تمام لوگوں کی نظر میں چاند کی طرح تھے مگر چونکہ اسلام کا سورج ڈوب رہا تھا اور دنیا کی کوئی بھی دولت اسلام سے زیادہ گراں قیمت نہیں ہے لہذا ہم نے اپنے چاند قربان کردئے تاکہ اسلام کا سورج ہمیشہ کے لئے تابندہ رہے خیال رہے کہ اگر تمہارے سامنے بھی اگر کبھی ایسا موقع آئے تو تمہاری بھی ذمہ داری یہی ہے کہ اسلام کو سب سے زیادہ اہمیت دو ۔
یہ درس بھی ہمیں کربلا ہی سے ملا ہے کہ انسان چاہے کسی بھی حال میں ہو نماز اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ایسے فرائض ہیں جنھیں ترک نہیں کیا جاسکتا اگر نماز کسی بھی حال میں ترک کرنے کی اجازت ہوتی تو سب سے زیادہ خطرناک حالت عاشور کے دن کے وقت کی تھی جب ایک صحابی نے مولاسے کہا تھا:آقا! وقت نماز ظہر آگیا ہے۔ اگر ترک کرنے کی اجازت ہوتی تو مولا فرماتے کہ ایسے حالات میں نماز ترک کی جاسکتی ہے لیکن مولا نے اس صحابی کو دعا دی ''جَعَلَکَ اللّٰہُ مِنَ المُصَلِّینَ''خدا تمہیں نماز گذاروں میں قرار دے ، اس کے بعد صفیں مرتب کی گئیں اور نماز جماعت برپاہوئی ، ہمیں بھی اس بات کا خصوصی خیال رکھنا چاہئے کہ کچھ بھی ہوجائے ہمارے واجبات نہ چھوٹیں خصوصاً نمازجو دین کا ستون ہے ۔
کربلا میں سب سے اہم اور سب سے زیادہ سخت امتحان ولایت کا امتحان تھا خود ولی کے لئے بھی سخت تھا اور ایسے حالات تھے کہ امت کے لئے بھی سخت تھا ،امام کے سامنے یزید دنیا کی تمام آسائشیں پیش کررہا تھا، اگرامام ہاں کہہ دیتے تو آپ کے پاس دنیا اور آرام وسکون کی زندگی ہوتی لیکن دوسری صورت یعنی انکار بیعت کی صورت میںوہی ہونے والا تھا جو ہوا ،لیکن چونکہ مولا کی نظر میں دونوں صورتوں کی عاقبت تھی اس لئے انھوںنے جلاوطن ہونا گوارا کیااورتین دن کی بھوک و پیاس کی حالت میں گلا کٹانا گوار کیا لیکن یزید ملعون کے نجس ہاتھ میں اپنا ہاتھ نہیں دیا۔
کربلا میں جیسا امتحان امت کا ہوا ویسا نہ اس سے قبل ہوا اور نہ ہی ہوگا کیوں کہ کربلا میں جو امت کا امتحان ہوا ہے اس کا نتیجہ بھی سامنے آگیا ہے ،جنت اور جہنم خود کربلا کے میدان میں دکھائی دے رہے تھے خود امام حسین علیہ السلا م نے اپنے اصحاب کو ان کی شہادت سے پہلے جنت میں ان کے مقام و مرتبہ سے آگاہ کردیا تھا۔
اس امتحان کی سختی کا اندازہ وہی لگا سکتا ہے جو اس وقت کربلا کے میدان میں موجودتھا کیوں کہ ہمارا یہ کہہ دینا کہ ''یالیتنی کنت معکم فافوزمعکم''اے کاش میں کربلا کے میدان میں آپ لوگوں کے ساتھ ہوتا تو میں بھی آپ کے ساتھ درجہ شہادت پر فائز ہوتا ۔بہت آسان ہے لیکن اس وقت ماحول اور حالات ایسے تھے کہ ہمیں اپنے آپ سے یہ سوال کرنا چاہئے کہ کیا ہمارا ایمان ایسا ہے کہ اگر ہم کربلا میں ہوتے تو امام حسین علیہ السلام کا ساتھ دیتے یا خدا نخواستہ ہمارا ایمان کمزور ہے مشکلات میں ہم گھبرا جاتے، مال ودولت کی چمک ہمارے ایمان کو ڈانواڈول کردیتی ہے اگر ہم ایسے ہیں تو یقین کیجئے کہ ہمارا یہ کہنا بیکار ہے کہ اے کاش کہ میں کربلا کے میدان میں آپ لوگوں کے ساتھ ہوتا تو میں بھی آپ کے ساتھ درجۂ شہادت پر فائز ہوتا ، کیوں کہ ایسے ایمان والے یزیدی لشکر میں تھے نہ کہ امام حسین علیہ السلام کے لشکر میں۔
اگر ہمیں اپنے آپ کو آزمانا ہے تو آج بھی کربلا ہے ،آج بھی امام حسین ہمارے زمانے کے امام حضرت صاحب الزمان عجل اللہ فرجہ الشریف کی صورت میں موجود ہیں اگر ہمیں اپنے آپ کو پرکھنا ہے تو ہمیں یہ دیکھنا پڑے گا کہ ہم امام زمانہ علیہ السلام کے ساتھ کتنے وفادار ہیں ہم ان کے لئے کتنا کام کرتے ہیں کیا اپنی زندگی ان کی مرضی کے مطابق گزار رہے ہیں یا بس زبان سے ان کی غلامی اور محبت کا دم بھرتے ہیں اور عملی اعتبار سے شاید ہم ان کے چاہنے والے نہیںہیں ،لہذا ہمارے زمانے میں بھی ولایت کا امتحان بہت سخت ہے کیوں کہ ایک تو ہمارا ولی ہماری نظروں سے اوجھل ہے ہم اسے دیکھنے کی صلاحیت نہیںرکھتے دوسرے ہمیں ان کی مرضی کے خلاف ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھانا ہے اس امتحان میں کامیاب ہونے کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنے زمانے کے امام کی معرفت حاصل کریں اور شریعت کے احکام پر جو علماء کے توسط سے ہم تک پہونچے ہیں عمل کریں اگر ہم نے یہ دو کام کرلئے توہم اپنے امتحان میں کامیاب ہوئے اور آخرت میں ہم ثواب کے مستحق ہوں گے اور اگر خدا نخواستہ ہم نے ان دونوں ذمہ داریوں میں سے کسی کو بھی ادا کرنے میں کوتاہی کی تو پھر گویا ہم ناکام رہ گئے اور آخرت میں عذاب الٰہی ہمارا منتظر ہے ۔
لہذا نتیجہ کے طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ امتحان ایک سنت الٰہی ہے اور الٰہی سنت قابل تبدیل نہیں ہوتی ۔
امتحان کا مقصد انسانوں کے استحقاق ثواب یا عقاب کو اجاگر کرنا ہے ۔
موضوعات امتحان بھی قرآن و احادیث کے آئینہ میں ہمارے لئے وضاحت کے ساتھ بیان کردئے گئے ہیں جن کو پہچاننا اور اس کی بہ نسبت آمادہ ہونا ہماری ذمہ داری ہے ۔
تمام موضوعات پر نظر کرنے کے بعد یہ سمجھ میں آتا ہے کہ یہ امتحان بہت سخت ہے اس امتحان میں کامیاب ہونے کے لئے ہمیںایک ایسی درسگاہ کی ضرورت ہے جہاں ان تمام موضوعات پر امتحان دیا گیا ہو تاکہ ہمیں پتا چلے کہ کیسے امتحان دیا جاتا ہے ۔
تاریخ کی ورق گردانی کے بعد ہمیں ایک ہی ایسی درسگاہ ملتی ہے جہاں ان تمام موضوعات کا امتحان دیا گیا ہے اور امتحان دینے والے امتیازی اعتبار سے کامیاب ہوئے ہیں،وہ درسگاہ کربلاہے ۔
یہی کربلا کی درسگا ہ امتحان کے اعتبار سے عالم انسانیت کے لئے درسگاہ ہے اور اس کے افراد معلم ہیں لہذا ہمیں اس درسگاہ میں آکر اساتذہ کے سامنے زانوئے ادب تہہ کرکے یہ سیکھنا چاہئے کہ کس طرح اس امتحان کی تیاری کریں، کیسے امتحان کی منزلوں سے گزریں اور کیسے اندازہ لگائیں کہ ہمیں کامیابی نصیب ہوئی یانہیں۔
آخر میں خداوندعالم سے یہی دعا ہے کہ ہمیں کربلا والوں سے درس لینے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین ربّ العالمین

حوالہ جات
١۔سورہ ٔانبیا٣٥۔
٢۔سورۂ بقرہ١٢٤۔
٣۔نہج البلاغہ کلمات قصار٩٣۔
٤۔سورہ عنکبوت ٣٢۔
٥۔سورہ نمل٤٠۔
٦۔سورہ ٔملک ١۔
٧۔سورۂ بقرہ ١٥٥۔
٨۔میزان الحکمة ج٩ص٧١۔
٩۔تفسیر نمونہ ج٢٢ص٥٤٩۔

مقالات کی طرف جائیے