مقالات

 

چراغ ہدایت اور کشتی نجات

امام موسیٰ صدرعلیہ الرحمہ/ترجمہ: سجاد حیدر صفوی

نبی کریم حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ و آلہ نے فرمایا: حسین علیہ السلام چراغ ہدایت اور کشتی نجات ہیں۔اور کیوں نہ ہو کہ وہ اہلبیت علیہم السلام کی ایک فرد ہیں جن کے بارے میں وہ فرما چکے ہیں: میرے اہلبیت کی مثال کشتی نوح جیسی ہے جو اس میں سوار ہوا نجات پاگیا اور جس نے اس سے منھ موڑا وہ ہلاک ہوگیا۔لیکن ان تمام ہستیوں میں امام حسینؑ کو ایک خاص مقام حاصل ہے کہ جس کی بنا پر نبی کریمۖ نے ان کے لئے بطور خاص چراغ ہدایت اور کشتی نجات کی تعبیر استعمال کی۔ اس حدیث میں پیغمبر اکرمۖ نے راہ ہدایت کو ایک تاریک راستے سے تشبیہ دی ہے جس پر چلنے کے لئے ایک چراغ کی ضرورت ہے اور وہ چراغ حسین ابن علی ہیں۔لیکن سوال یہ ہے کہ آج کے دور میں اور ہماری زندگی میں اس حدیث کا مفہوم کیا ہے؟ امام حسین کس طرح ہمارے لئے چراغ ہدایت اور کشتی نجات ہیں۔ اس نکتہ کو سمجھنے کے لئے میں پہلے ایک مقدمہ بیان کرنا چاہتا ہوں:
انسان عملی زندگی میں کچھ اس طرح کا ہے کہ وہ ایک عمل میں جتنا آگے بڑھتا جاتا ہے،وہ اس سے مانوس ہوتا جاتا ہے اور وہ کام آہستہ آہستہ اس کی عادت بن جاتی ہے۔ اچھا کام ہو یا برا کام۔جب انسان پہلی بار کوئی کام کرتا ہے تو اسے دشواری محسوس ہوتی ہے لیکن جب دو،تین بار اور کئی بار اسے انجام دیتا ہے تو اس تکرار کے نتیجہ میں یہ کام اس کے لئے آسان ہوجاتا ہے گویا اس کی عادت بن جاتی ہے بلکہ اتنا عادی ہوجاتا ہے کہ اب اس کام کو چھوڑنا اس کے لئے دشوار ہوجاتا ہے بالکل اسی طرح جیسے ایک گاڑی جب نشیب کی طرف حرکت کرتی ہے تو شروع میں آہستہ آہستہ آگے بڑھتی ہے اور اسے روکنا آسان ہوتا ہے لیکن جتنا آگے بڑھتی ہے اس میں سرعت آتی جاتی ہے اور اسے روکنا اتنا ہی مشکل ہوتا ہے یہاں تک کہ اس کی سرعت اس حد تک پہنچ جاتی ہے کہ اسے کنٹرول کرنا ناممکن ہوجاتا ہے۔بلکہ اس وقت اگر ڈرائیور اسے روکنے کی کوشش کرے تو خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے ۔ہماری زندگی کے روزمرہ کے کام بھی ایسے ہی ہیں۔جب ایک انسان سگریٹ پینا شروع کرتا ہے تو شروع میں اسے تلخی کا احساس ہوتا ہے، اسے کھانسی آنے لگتی ہے لیکن جب عادت بن جاتی ہے تو اسے چھوڑنا دشوار ہوجاتا ہے یا اگر ہم بالکل سیدھے راستے پر چل رہے ہوں اور درمیان میں تھوڑا سا راستہ ٹیڑھا کرلیں اب ہم جتنا آگے بڑھتے جائیں اتنا سیدھے راستے سے دور ہوتے جائیںگے، شروع میں صرف چند قدم ہی ٹیڑھے ہوں گے لیکن اس کے بعد ٹیڑھے ہوتے جائیں گے۔اب اگر ہم کئی کلو میٹر اسی طرح چلتے رہیں،گھنٹوں تک چلتے رہیں تو نتیجہ یہ ہوگا کہ اصل راستے سے اتنے دور ہوجائیں گے کہ پلٹنا دشوار ہوجائے گا۔
ہمارا طرز زندگی اسی طرح کا ہے اور اسے ہم سب اچھی طرح درک کرتے ہیں۔ یہی وہ موڑ ہے جہاں کسی ہادی و رہنما ،کسی نصیحت کرنے والے اور راستہ دکھانے والے کا کردار نظر آتا ہے۔ہم میں سے بہت سے افراد جب کو ئی گناہ کرتے ہیں یا کسی کا حق پامال کرتے ہیں تو خود کو گنہگار نہیں سمجھتے۔ کیوں؟کیونکہ ہم کہتے ہیں: ہم نے کیا کیا ہے؟ بس ایک چھوٹا سا گناہ کیا ہے۔ذرا سا حق چھینا ہے۔بس دس روپیہ کی ہیرا پھیری توکی ہے۔ایک چھوٹی سی گالی تو دی ہے۔ ہم اس بات سے غافل ہوجاتے ہیں کہ جب ان کاموں کی تکرار ہوتی ہے اور انسان ان کا عادی ہوجاتا ہے تو نہایت خطرناک ہوجاتا ہے۔
آج میں کسی کا چھوٹا سا حق غصب کرتا ہوں۔ کسی کی ایک فٹ زمین اپنے قبضہ میں لیتا ہوں،کسی کے تھوڑے سے پیسے دباتا ہوں اور یہ سوچتا ہوں کہ یہ تو معمولی سی چیز ہے لیکن اس بات سے غافل ہوں کہ یہی چھوٹی چھوٹی چیزیں جب زیادہ ہوجاتی ہیں تو میرے اندر بڑے ظلم کی جرائت بھی پیدا ہوجاتی ہے،یہی چھوٹے چھوٹے گناہ بڑے گناہوں کے لئے راستہ ہموار کرتے ہیں۔ جب میں گناہ کرتا ہوں تو اس کے آثار پر توجہ نہیں کرتا ،اس کے انجام پر نگاہ نہیں کرتا لیکن جو چراغ ہدایت ہوتا ہے جو کشتی نجات ہوتا ہے وہ جانتا ہے کہ اگر آج معاشرہ راہ حق سے چند قدم دور ہوا تو کل ہزاروں کلو میٹر دور ہوجائے گا۔یہیں پر رہنما کا،چراغ ہدایت کا کردار سمجھ میں آتا ہے۔کیونکہ وہی ہمیں آگاہ کرسکتا ہے،وہی ہمیں بتا سکتا ہے، وہی ہمیں انحراف سے بچا سکتا ہے۔یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ ظلم و ستم اور گناہ صرف کسی خاص عمل کا نام نہیں ہے۔ظلم صرف یہ نہیں ہے کہ میں کسی کا حق غصب کروں،کسی کا مال ہڑپ لوں ،کسی کی توہین کروں،کسی کو جھڑکوں بلکہ کسی پر ظلم کے مقابل خاموش رہنا بھی ظلم ہے،کسی کا حق چھنتے ہوئے تماشائی بنے رہنا بھی ظلم ہے، جیسا کہ کہا جاتا ہے : جو حق سے آنکھ چراتا ہے یا حق گوئی سے کتراتاہے وہ گونگا شیطان ہے۔جو دوسروں پر ظلم کے مقابل خاموش رہتا ہے وہ گویا ظالم کی تائید کرتا ہے اور مظلوم کو رسوا کرتا ہے یہ دو ظلم قوموں کی زندگی میں کافی دیکھنے کو ملتے ہیں،ممکن ہے وہ واضح طور پر نظر نہ آئیں لیکن حادثات کے وقت وہ ظاہر ہو جاتے ہیں۔
آئیے اب کربلا کی سمت لوٹتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ چراغ ہدایت یعنی امام حسین نے کس طرح اندھیری راہوں کو روشنی بخشی تاکہ لوگ حقیقت کو جان سکیں۔
آپ جانتے ہیں کہ کربلا میں دنیا کے بہترین انسانوں کو قتل کیا گیا ،امام حسین، ان کی اولاد،ان کے بھتیجے اور بھانجے،ان کے ساتھی قتل کئے گئے اور اہلبیت حرم کو اسیر کرکے دیار بہ دیار پھرایا گیا،کربلا میں جو ظلم و ستم ہوا ہے اس کا موازنہ دنیا کے کسی ظلم و ستم سے نہیں کیا جا سکتا۔لیکن سوال یہ ہے کہ اس واقعہ کا باعث کون بنا؟ظلم کس نے کیا؟
اس واقعہ میں ایک شخص نے فرمان دیا جو یزید تھا،ایک شخص اس فرمان کو عملی جامہ پہنانے والا تھا وہ ابن زیاد تھا،ایک شخص لشکر کا سپہ سالار تھا جو عمر سعد تھا،کچھ لوگوں نے تیر پھینکے،تلواریں چلائیں،پتھر مارے جو شمر اور اس کے ساتھی تھے ۔یہاں سوال یہ ہے کہ کیا یہاں قصور وار یزید،ابن زیاد ،عمر سعد اور شمر ہی ہیں ؟ اگر عمر سعد کے لشکر میں پچاس یا سو افراد ہوتے تو کیا اتنا بڑا ظلم ہوسکتا تھا؟یقینا نہیں! پھر اتنا بڑا ظلم کیوں ہوا؟ حاکم، امیر، سپہ سالار، فوجی، حامی، تماشائی سب اس جرم و ظلم میں شریک ہیں یعنی ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس امت کے تمام افراد نے اپنے قول، فعل، خاموشی، تائید، خوشی اور ہر طریقے سے امام حسین علیہ السلام کے قتل پر اتفاق کیا۔سب واقعہ کربلا کے رونما ہونے میں شریک تھے سوائے چند انگشت شمار افراد کے۔
یہ حقیقت کب ان لوگوں کے لئے واضح ہوئی۔اس واقعہ کے کچھ عرصہ بعد۔اس وقت کوفہ اسلامی مملکت کی سب سے بڑی آبادی والا شہر تھا۔اس میںہزاروں لوگ رہتے تھے۔ان میں سے ہر ایک کو یہ سوچنا چاہیے تھا کہ اگر وہ خاموش نہ رہتا اور امام کی مدد کے لئے نکلتا تو امام قتل نہ کئے جاتے۔ جس طرح ایک رات میں تیس افراد امام کے لشکر سے آملے اگر ہزار،دو ہزار، چار ہزار لوگ آجاتے تو یہ واقعہ پیش نہ آتا۔ امام عالی مقام نے اپنے خون کے ذریعہ انہیں بیدار کیا اور یہ بتایا کہ آج تم خوف یا لالچ کی وجہ سے خاموش ہو اور اپنی اولاد کو میدان میں آنے سے روک رہے ہو لیکن کل اس کا کیا نتیجہ ہوگا اس سے بے خبر ہو۔
امام حسین اتفاقی طور پر اچانک قتل نہیں کئے گئے بلکہ ایک چھوٹا سا انحراف جو معاویہ کے زمانہ سے شروع ہوا جب وہ اپنا دامن پھیلاتا گیاتو اس کا نتیجہ فرزند رسول ۖکا قتل ہوا۔پہلے خوف کی وجہ سے خاموشی تھی،چند درہم کی لالچ تھی لیکن جب اسکا سلسلہ بڑھتا گیا تو نتیجہ یہ نکلا کہ فرزند بتول کو قتل کیا گیا لیکن سب کی زبانوں پر مہر سکوت لگی تھی بلکہ وہ خود فرزند زہرا کو قتل کرنے نکل آئے۔
امام حسین نے اپنی شہادت کے ذریعہ حقیقت سے پردہ اٹھایا اور لوگوں کو بتایا: اے وہ لوگو!جو ابھی ایک سوئی برابر ظلم کرتے ہو تم نے اس راہ میں قدم رکھا ہے جو پوری انسانیت کی آبرو،زندگی اور دین پر ستم کرنے پر ختم ہوتا ہے۔آج تم ایک قدم حق سے منحرف ہوئے ہو لیکن کل تم فرزند رسولۖ کے قتل پر بھی راضی ہوجاؤ گے۔اے وہ کہ جو اپنی آنکھوں کے سامنے ہونے والے ظلم پرخاموش رہتے ہو، تمہارے سامنے حق چھینا جاتاہے لیکن خاموش تماشائی بنے رہتے ہو کل لوگوں کی آبرو کے ساتھ کھیلا جائے گا یا دوسروں کا خون بہانا جائز شمار کیا جائے گا تو تم اس پر خوشی منائو گے یا اس میں شریک رہوگے یا اس پر خاموشی اختیار کرو گے۔ تم میں اور ان میں کوئی فرق نہیں ہے۔دو ہی راستے ہیں اور ان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔حق و ہدایت کا راستہ اور گمراہی و باطل کا راستہ۔درمیانی راستہ کوئی بھی نہیں کہ انسان نہ حق کا مخالف ہو اور نہ باطل کاطرفدار۔البتہ انتخاب میں بھی آزادی ہے۔
ایک سوال جو اکثر ذہن میں اٹھتا ہے اور اس کی حقیقت آج تک واضح نہیں ہوسکی ہے کہ وہ لوگ کس طرح امام حسین کے قتل پرراضی ہوگئے؟ یہ کس طرح ممکن ہوا؟آج آپ سب بڑی آسانی سے کہتے ہیں کہ اگر ہم امام حسین کے زمانے میں ہوتے تو ہرگز ایسا نہ ہونے دیتے۔امام حسین کے زمانے کے لوگوں نے ایسا کیوں نہیں سوچا اور یہ فیصلہ کیوں نہ کیا؟کیا ان پر واجب نہیں تھا کہ فرزند رسولۖ کو قتل ہونے سے بچا لیں؟
امام کے اصحاب باوفا جو ان سے پہلے میدان میں گئے ،سب کو یقین تھا کہ مارے جائیں گے اور آخر میں امام بھی تنہا رہ جائیں گے لیکن پھر بھی میدان میں جانے کے لئے ایک دوسرے پر سبقت کیوں لے جانا چاہتے تھے ؟ان سب کی ایک ہی آرزو تھی اور وہ یہ تھی کہ امام کی شہادت کچھ لمحوں کے لئے ٹل جائے۔ یعنی وہ اپنی جان کا نذرانہ پیش کرکے امام کے قتل میں تاخیر کا سبب بننا چاہتے تھے ۔لیکن کیوں؟کیونکہ وہ سوچ رہے تھے کہ شاید ان کی شہادت ان اشقیا ء کے دلوں میں کچھ رحم ڈال دے اور وہ امام حسین کے قتل سے باز آجائیں۔بہرحال ان سب نے اپنا کردار بخوبی نبھایا۔جب ہم ہدایت کے اس چراغ کی روشنی میں دیکھتے ہیں تو ہم نتیجے تک پہنچتے ہیں کہ حق، حق ہے چاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا۔اور ظلم ظلم ہے چاہے کم ہو یا زیادہ۔انحراف کا راستہ شروع سے آخر تک انحراف ہے ۔حق چھوٹا ہو تو انسان کو بڑے حق کی جانب گامزن کرتا ہے اور ایک یتیم کے منہ پر طمانچہ قتل حسین تک پہنچا دیتا ہے۔حرام کا ایک لقمہ اس بات کا باعث بنتا ہے کہ عمر سعد ''ری ''کی حکومت کے لئے حسین ابن علی کو قتل کرنے کے لئے نکل پڑتا ہے اور زبان یا نگاہ کے ذریعہ ایک عورت کی بے احترامی پاکیزہ ترین خواتین کی بے حرمتی اور انہیں اسیر کرنے تک جا پہنچتی ہے۔اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جب انحراف کا آغاز ہوتا ہے تو اس سے بازگشت پہلے دن دوسرے دن سے آسان ہوتی ہے، دوسرے دن تیسرے دن سے آسان ہے اور اسی طرح ہر دن اگلے دن سے آسان۔
اگر ہم اپنی زندگی کا جائزہ لیں تو ہمیں نظر آئے گا کہ ہماری زندگی میں بھی کوئی نہ کوئی انحراف پیش آتا ہے۔اب ہمیں دیکھنا ہے کہ ہم اس کے مقابل کیا کرتے ہیں؟ روز بروز اس میں آگے بڑھتے جاتے ہیں یا اس سے واپسی کی کوشش کرتے ہیں۔یہ ہماری انفرادی زندگی میں بھی ہوتا ہے اور سماجی زندگی میں بھی۔ اور اصلاح اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک ہم خود اس صورتحال کو بدلنے کا ارادہ نہ کرلیں:(اِنَّ اللہ َلا یُغَیُِّرُ مَا بِقوم حتی یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِہِمْ)(١)
دوستو!بڑے بڑے مسائل سے پہلے چھوٹے مسائل کی جانب توجہ دیں۔کیا ہم عمومی مفادات کے لئے شخصی مفادات کو قربان کرتے ہیں یا شخصی مفادات کی خاطر دوسروںکے مفادات سے بھی چشم پوشی کرتے ہیں؟گھر،محلے،شہراورملک کے مسائل میں ہمارا موقف کیا ہے؟ فداکارانہ یا خودغرضانہ؟اگر ہم گھر کے مسائل میں انحراف کا شکار ہیں تو محلے کے مسائل میں کیا حال ہوگا؟ اگر ہم محلے کے مسائل میں حق سے دور ہیں تو اس سے آگے کے مسائل میں کیا صورت حال ہوگی ۔ جان لیں عمومی اور کلی مسائل میں ہمارا موقف جزئی مسائل پر موقوف ہے اور بڑا انحراف چھوٹے انحراف ہی کے بعد وجود میں آتا ہے اور حسین جیسی شخصیت کا قتل کسی بے گناہ کے منہ پر ایک طمانچہ ہی کا نتیجہ ہوتاہے۔
ہمیں نئے سرے سے شروع کرنا ہوگا ۔ نئے سرے سے خود کو بنانا ہوگا۔خدا کو حاضرو ناظر جان کریہ سوچنا ہوگا کہ ہماری زندگی میں کن چیزوں میں ہمارے ذاتی مفادات غالب نہیں ہیں؟زندگی کے کس شعبے میں اپنی ذات کے حصار سے باہر نکل کر سوچتے ہیں؟کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم سلام،احوال پرسی،خرید و فروش،میل جول اور تعلقات میں اپنے مفادات کو مد نظر رکھتے ہوں ۔ اگر ایسا ہے تو قرآن کا فیصلہ بھی سن لیں:(َفَرََیْتَ مَنْ اتَّخَذَ ِلَہَہُ ہَوَاہُ وََضَلَّہُ اﷲُ عَلَی عِلْم) ''کیا آپ نے اس شخص کو نہیں دیکھا ہے جس نے اپنی خواہش ہی کو خدا بنالیا ہے اور خدا نے اس حالت کو دیکھ کر اسے گمراہی میں چھوڑدیاہے''(٢)جب تک ہمارے لئے ہمارے مفادات اہم ہیں اور ہم صرف اپنے فائدے کے بارے میں سوچتے ہیں کوئی تبدیلی نہیں آسکتی۔اس امت کی تقدیر کیسے بدلی جاسکتی ہے؟جب ہم خود کوبدلیں گے، جب خدا کو اپنا معبود حقیقی قرار دیں گے، جب حق اور میرے عزیز کے مفادات میں ٹکرائو ہوجائے تو میں حق کو ترجیح دوں،اگر ہمارے اور دوسروں کے مفادات میں ٹکراؤ ہوگیا اور حق ان کے ساتھ ہوتو ہم حق کے ساتھ ہوجائیں۔ اسی معیار پر ہم اپنی زندگی کے ہر کام کا جائزہ لے سکتے ہیں اور جان سکتے ہیں کہ ہم کس حد تک حق کے ساتھ ہیں یعنی ہم کس حد تک کربلا اور امام حسین کے ساتھ ہیں۔
ہمیں خود سے شروع کرنا ہوگا ۔اگر ہم خواہشات کے اسیر ہیں تو غلام ہیں اور جو ان کے چنگل سے رہائی پا چکا ہے وہ درحقیقت آزاد ہے۔آزاد وہ ہے جو اپنی قید سے رہائی پاچکا ہو۔اگر ہم اپنی شہوتوں کی قید میں ہوں تو لاکھوں کے باوجود کچھ نہیں ہیں بلکہ شیطان کے بندے ہیں لیکن اگر آزاد ہوں تو ہم میں سے ہر ایک اپنی ذات کی حد تک حسین بن علی علیہماالسلام ہو سکتا ہے اور بنی امیہ جیسی طاقتوں کے مقابل کھڑا ہوسکتا ہے۔اس چراغ ہدایت نے ہمارے لئے حق و باطل کا راستہ روشن کردیا ہے۔ ہم عمر سعد کو بھی دیکھ رہے ہیں جو اپنے اعمال کی وجہ سے حکومت (رَی ْ)کے لئے قتل حسین پر آمادہ ہوجاتا ہے اور دوسری طرف ان عظیم شہدائے کربلا کو بھی دیکھ رہے ہیں جو اپنے امام کو بچانے کے لئے جان کی بازی لگاتے ہیں اور اس کام میں ایک دوسرے پر سبقت کرنا چاہتے ہیں۔
جناب حرکوئی عام انسان نہیں تھے ،وہ گمراہی کی تاریکیوں میں تھے لیکن جب چراغ ہدایت نے انہیں راستہ دکھایا تو فوراً چلے آئے : مولا!کیا میری توبہ قبول ہوسکتی ہے؟آئیے آج ہم بھی تاریکیوں سے نکل کرچراغ ہدایت کے پاس آئیں: اے مولا! کیا ہم بھی توبہ کرسکتے ہیں؟ کیا ہماری توبہ بھی قبول کی جائے گی؟ہم حسین ابن علی کے نور وجود کی خاطر یہاں آئے ہیں تاکہ اپنے دل و دماغ اور قلب و ذہن سے ان کے ساتھ بیعت کریں اور حر،زہیر قین اور دوسروں کی طرح اس کشتی نجات میں سوار ہوجائیں جسے حسین کہتے ہیں۔

حوالہ جات:
١۔ سورۂ رعد١١۔
٢۔ سورۂ جاثیہ٢٣۔

مقالات کی طرف جائیے