مقالات

 

کربلا کے پیغام، امت کے نام

سید غافر حسن رضوی

ہرواقعہ کسی نہ کسی درس عبرت،تبلیغی پہلویا اسلامی پیغام کا حامل ہوتا ہے یعنی ہرواقعہ میں کوئی نہ کوئی عبرت انگیز پہلو ضرورہوتا ہے، یہ بات الگ ہے کہ کس واقعہ میں کس قسم کا پیغام ہے! اس میں پیغام ہدایت ہے یا پیغام ضلالت وگمراہی، اسی طرح واقعۂ کربلا بھی متعدد پیغامات کا حامل ہے،اس واقعہ میں جو پیغام ، تبلیغی پہلو اور درس عبرت پائے جاتے ہیں وہ تو پروازفکر سے ماوراء اور نوک قلم کی تاب سے خارج ہیںلیکن جہاں تک ممکن ہے کوشش یہی رہے گی کہ اس واقعہ کے اکثر و بیشترپیغامات کوہدیۂ قارئین کرام کیاجائے، امید ہے کہ ہم کربلا کے دیئے ہوئے دروس پر عمل پیرا ہوں اور اس کے پیغاموں کو عملی جامہ پہنائیں۔ آئیئے کربلا کے پیغاموں پر غوروخوض کیا جائے :

معرفت و احترام:
سب سے پہلے اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ میں نے پہلے معرفت کا تذکرہ کیا ہے پھراحترام کا ذکر ہے، اس کا سبب یہ ہے کہ احترام واکرام اورعزت، معرفت پر موقوف ہے چونکہ جب تک معرفت حاصل نہیں ہوگی اس وقت تک حقیقی احترام اور واقعی عزت و اکرام ممکن نہیں، یہی وجہ ہے کہ جب امام حسین علیہ السلام نیمدینہ سے کربلا کی جانب روانہ ہونے کا قصد فرمایا تو بہت سے لوگوں نے امام کی خدمت میں اپنی رائے پیش کی، بعض نے کہا کہ کربلا نہ جاکر کسی اور جگہ چلے جائیں ، کوئی کہتا نظر آیا کہ اگر آپ نے کربلا جانے کا قصد کر لیا ہے تو چلے جائیں لیکن اپنے ہمراہ خواتین اور بچوں کو نہ لے جائیں؛امام حسین علیہ السلام نے ان کے جواب میں ارشاد فرمایا کہ میں نے اپنے جدامجد حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلہ کو خواب میں دیکھا ہے،وہ فرمارہے تھے :
''اُخْرُجْ یَاحُسَینْ! اِنَّ اللّٰہَ شَائَ اَنْ یَّراکَ قَتِیْلاً وَ اِنَّ اللّٰہَ شَائَ اَنْ یَّراھُنَّ سَبَایَا''۔''اے حسین! (کربلا کی جانب) جائو چونکہ خداوندعالم یہ چاہتا ہے کہ تم کو شہید ہوتے ہوئے دیکھے اور اس کا یہ ارادہ ہے کہ تمہاری خواتین کواسیری کی حالت میں دیکھے''۔
مقصد صرف یہ ہے کہ جن لوگوں نے اپنے زمانے کے امام کی معرفت حاصل نہیں کی تھی وہ لوگ عزت و احترام سے پرے امام کو مشورے دے رہے تھے لیکن جن لوگوں کو امام کی معرفت تھی وہ امام کی خدمت میں مشورہ تو درکنار، اپنی زبان کھولنے کو تیار نہیں تھے، جن کا واضح شاہکار جناب عباس علیہ السلام کی ذات گرامی ہے، امام نے جیسا حکم دیا اس کے سامنے سر تسلیم خم کیا۔
یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جناب عباس کو اپنے امام زمانہ کی بطورکامل معرفت حاصل تھی جو ہمارے لئے بہترین نمونہ ہے کہ ہم امام زمانہ کی معرفت حاصل کریں تاکہ ان کے احترام میں کوئی کوتاہی نہ ہونے پائے۔

شجاعت:
کربلا کا ایک بہترین پیغام شجاعت و بہادری ہے ،اس کا بہترین نمونہ دربار ولید میں اس وقت ملتا ہے کہ جب مروان نے ولید سے یہ کہا کہ اے ولید! موقع کو غنیمت شمار کر اور سرحسین قلم کردے۔ ادھر تو مروان کے ناہنجار کلمات اس کے گندے دہن سے خارج ہوئے اور ادھر جبین امامت پر شکن آگئی، ''یابن الزرقاء أ تقتلنی''اے چشم نیلگوں ماں کے بیٹے! یہ کیا کہہ رہا ہے کیا تو مجھے قتل کرنا چاہتا ہے؟۔
ادھر امام کی آواز، دربارولید کے دروازے پر ایستادہ بنی ہاشم کے نوجوانوں کے کانوں سے ٹکرائی اور ادھر تمام جوانان بنی ہاشم آستینیں الٹ کر دربار میں داخل ہوگئے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا ان جوانوں کو اپنی جانوں اور اپنے سروں کی کوئی پرواہ نہیں تھی؟ کیا یہ ہلاکت سے تعبیر نہیں کیا جائے گا؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ان کی آستینیں ان کی خواہشات کے مطابق نہیں الٹی تھیں بلکہ اپنے امام زمانہ کے حکم کے تحت الٹی تھیں چونکہ جب امام دربار میں داخل ہورہے تھے تو ان جوانوں کو حکم دے کرگئے تھے کہ جب تک میری آواز نیچی رہے تم دروازے پر رہنا لیکن جب میری آواز بلند ہوجائے تو تم لوگ دربارمیں داخل ہوجانااس سے معلوم ہوتا ہے کہ حکم امام کے تحت اپنی جان ہتھیلی پر رکھنا اور اپنے سرپر کفن باندھنا ہلاکت نہیں بلکہ عین شہادت ہے۔
اس سے جذبۂ شجاعت کو بیدار کیاگیا ہے اور یہ سمجھایا گیا ہے کہ امام کی حقیقی معرفت، شجاعت وبہادری کا پیش خیمہ ہے، لہٰذا حقیقی عاشقان ولایت و امامت کا یہ فرض بنتا ہے کہ راہ ولایت میں شجاعت واستقامت کا ثبوت دیں اور اس کو عملی جامہ پہنائیں۔

خوش اخلاقی:
کربلا کا ایک اہم پیغام؛ انسان کو تیرگی سے نجات دے کر نورانی شاہراہوں کا مسافر بنانا ہے، اگر کسی گمراہ انسان کو تاریکیوں کے کنویں سے نکال کر شاہراہ ہدایت پر گامزن کرنا چاہیں تو اس کے لئے بہترین اسلحہ اخلاق ہے، اور یہ اس وقت دیکھا گیا جب امام حسین اپنے کارواں کے ساتھ کربلا کے راستے پر گامزن تھے، امام کا قافلہ تنہانہیں تھا بلکہ اس قافلہ کے ساتھ ایک چھوٹا سا قافلہ اور بھی تھا جو امام سے تھوڑے فاصلہ پر اپنے خیام نصب کرتا تھا ،اس کے سردار کا نام زہیر ابن قین جبلّی تھا، یہ عثمانی المذہب تھے ،امام سے دور دور چل رہے تھے، لیکن امام کے اخلاق نے ایسا نمایاں کارنامہ انجام دیاکہ جو تیروشمشیرسے بھی ممکن نہیں، یہ عثمانی المذہب انسان جو ابھی تک امام سے دوری اختیار کئے ہوئے تھے اب اس طرح امام کے فدائی ہوگئے کہ امام کے حقیقی شیعہ قرار پائے اور امام کی نصرت کرتے ہوئے میدان کربلا میں شہادت جیسی عظیم نعمت سے سرفراز ہوئے، گویا خوش اخلاقی کی اتنی زیادہ اہمیت ہے کہ انسان کو مذہب بدلنے پر مجبور کرسکتی ہے، لہٰذا امام حسین کے عاشقوں کا فرض بنتا ہے کہ اخلاق کے دامن کو نہ چھوڑیں اور اس بات کو ہمیشہ اپنے دل ودماغ میں محفوظ رکھیںکہ اگر دلوں پر حکومت درکار ہے تو خوش اخلاقی کے ذریعہ ہی ممکن ہے اور اگر سرکو جھکاہوا دیکھنا مقصود ہو تو اس کے لئے رعب ودبدبہ ہی کافی ہے۔

جا نثا ری:
واقعۂ کربلا ہمیں جانثاری، سرپر کفن باندھنے کا جذبہ عنایت کرتا ہے، کاروان حسینی جانب دشت کرب وبلا رواں دواں ہے؛ منزل ذی حسم پر پہونچ کرقیام کی خاطر خیام لگائے گئے، ماحول پررات کی تاریکی اور سناٹے کاراج تھا،امام حسین کی آنکھ لگ گئی جیسے ہی بیدار ہوئے تو زبان پر ایک مرتبہ کلمۂ استرجاع جاری ہوا: ''اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ'' امامت شناس کڑیل جوان بیٹے(علی اکبر )جو آپ کے پہلو میں بیٹھے ہوئے تھے؛ سوال کرتے ہیں: بابا جان! یوں تو کلمۂ استرجاع حق ہے لیکن اس منزل پر کلمۂ استرجاع کا کیا مطلب؟ امام نے جواب دیا: بیٹا علی اکبر! ابھی ابھی مجھ پر غنودگی طاری ہوگئی تھی اسی غنودگی کے عالم میں میں نے ایک منادی کی ندا سنی جو ببانگ دہل کہہ رہا تھا کہ یہ کارواں آگے آگے جارہا ہے اور موت اس کے پیچھے پیچھے چل رہی ہے۔ علی اکبر نے سوال کیا: ''یَا اَبَتَاہُ! أَلَسْنَا عَلیٰ الْحَقْ''بابا جان! کیا ہم حق پر نہیں ہیں؟ امام نے جواب دیا: ''بَلیٰ''بیٹا! ہم حق پر ہیں۔ جب مولائے کائنات علی کے پوتے(علی اکبر )نے امام کے دہن مبارک سے یہ بات سنی تو بے ساختہ بولے:بابا جان! جب ہم حق پر ہیں تو ہمیں کیا پرواہ ہے! اب ہم موت پرجاپڑیں یاموت ہم پر آپڑے۔
یہاں سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ حق کی ہمراہی میں جان کا خوف نہیں ہوتا، موت سے اسی وقت خوف محسوس ہو گا جب ہم حق کے خلاف ہوںگے، کربلا یہی درس دیتی ہے کہ حق پر گامزن رہو تاکہ اپنے سر سے زیادہ دین حق عزیز رہے۔

رحم دلی و مہربانی:
کاروان حسینی اپنی منزلیں طے کررہا ہے، راستے میں ایک قافلہ سے ملاقات ہوئی ، جس کے افراد شدت عطش سے جاں بہ لب تھے،ان کے جانوروں کی زبانیں باہر نکلی پڑی تھیں، امام نے حکم دیا کہ اس قافلہ کو سیراب کیا جائے، پورا قافلہ سیراب ہوگیا تو پھر جانوروں کی سیرابی کا حکم دیا، جانور سیراب ہوگئے تو حکم دیا کہ گرمی کی وجہ سے ان کی ٹاپیں تپ رہی ہیں جائو ان جانوروں کی ٹاپوں پر بھی پانی ڈالو، ممکن ہے کہ امام کے لشکریوں کے دل میںخیال آیا ہو کہ مولا ! ابھی دوردور تک پانی کاکوئی نام ونشان نہیں ہے تھوڑا سا پانی اپنے لئے بھی محفوظ رکھئے لیکن امام رؤوف کو جانوروں کی ٹاپوں کا بھی خیال ہے، جب پانی کا کام مکمل ہوچکا تو امام اپنے کارواں کے ساتھ آگے بڑھنے کا قصد فرماتے ہیں،ناگہاں احسان ناشناس قافلہ سالار(حرابن یزیدریاحی) آگے بڑھتا ہے اور لجام فرس پر ہاتھ ڈال دیتا ہے اور کہتا ہے کہ میرے امیر کا حکم ہے کہ آپ کو آگے نہ جانے دوں... یہاں ٹھہرکر ایک سوال سر اٹھاتا ہے کہ امام حسین علم امامت کے ذریعہ سب کچھ جانتے تھے تو کیا ان کو یہ علم نہیں تھا کہ جس لشکر کی پیاس کا اتنا زیادہ خیال کررہے ہیں وہ دشمن کا لشکر ہے! کیا آپ کو یہ معلوم نہیں تھا کہ یہی حر ہے کہ جس کے لشکر کو میں سیراب کررہا ہوںمجھے آگے نہیں بڑھنے دے گا؟ جی ہاں! امام کو سب کچھ معلوم تھا، یہ بھی معلوم تھا کہ یہ حر کا لشکر ہے، یہ بھی معلوم تھا کہ یہ ہمارا دشمن ہے، سب کچھ جانتے ہوئے امام ایسابرتائو کر رہے ہیں، اب یہ سوال سراٹھاتا ہے کہ امام نے ایسا کیوں کیا؟ اس لشکر کو پیاسارہنے دیتے کچھ دور چل کر ہلاک ہوجاتا اور آپ کے راستے میں بھی حائل نہیں ہوتا! عزیزو! یہ امام امت ہیں،ان کو پوری امت کی فکر لاحق ہے، الٰہی نمائندے یہ نہیں دیکھتے کہ کون اپنا ہے اور کون پرایا! وہ تو صرف یہ دیکھتے ہیں کہ یہ خداوندعالم کی مخلوق ہے، دشمن کو بھی سیراب کیا اور اس کے جانوروں کو بھی سیراب کیا چاہے اپنا لشکر پیاسا رہ جائے۔
جب حر نے لجام فرس پر ہاتھ ڈالا تو امام نے ایک جملہ ارشاد فرمایا: ''ثکلتک امک، ماذا ترید''تیری ماں تیرے ماتم میں بیٹھے،آخرتیرا ارادہ کیا ہے؟۔
شاید امام نے اس جملہ سے یہ سمجھانا چاہا ہو کہ احسان کا بدلہ احسان کے سوا کچھ نہیں ہوتالیکن تو کیساانسان ہے کہ احسان کے بدلے لجام فرس پر ہاتھ ڈال دیا؟۔
امام کی اس بد دعا کے بدلے میں حر جواب دیتا ہے: ''اے فرزند رسول! اگر آپ کی ماں فاطمہ بنت رسول خدا ۖ نہ ہوتیں تو میں بھی آپ کی شان والا صفات میں وہی گستاخی کرتا جو آپ نے کی ہے''۔
اس جملہ سے یہ اندازہ لگایاجاسکتا ہے کہ حر کو حسین کی معرفت تھی،اور شاید اس کے ضمیر نے بھی خاموش رہنے پر مجبور کیا ہو کہ جس شخص نے ابھی ابھی اتنی عالی ظرفی کا ثبوت دیا ہے کہ اس کے جانوروں کو بھی پانی پلایا، اس کے ساتھ ایسا سلوک روا رکھنا اچھی بات نہیں،لیکن حکم حاکم مرگ مفاجات کے تحت سرتسلیم خم کرناپڑا۔
امام اپنی عطوفت و مہربانی کے ذریعہ دشمن کو بھی یہ سمجھانا چاہتے تھے کہ دیکھو انسانیت سب سے اہم چیز ہے، دولت و حکومت کچھ بھی نہیں، جو امام اپنے دشمن کو بھی رحم دل دیکھنا چاہتا ہو تو کیا وہ اپنے شیعوں کو سخت دلی اور کینہ پروری کا سبق دے گا؟ ہر گز نہیں۔
ہمارے امام،اپنے شیعوں کو مہربان دیکھناچاہتے ہیں اور یہ سمجھانا چاہتے ہیں دیکھو سامنے والا دشمن ہی سہی لیکن انسان تو ہے لہٰذا اسکے ساتھ بھی رحم دلی اور مہربانی کا مظاہرہ کرو۔

حلاوت (مٹھاس):
کربلا کا ایک درس''ذہن و دل کی طہارت اور زبان کی حلاوت''ہے اور حلاوت اتنی زیادہ کہ موت بھی میٹھی نظر آئے، زبان کی حلاوت کوئی اہم شئے نہیں ہے چونکہ اگر انسان تھوڑی سی ریاضت کرلے تو اسے میٹھا بولنا آجائے گا، اس کی زبان کی کڑواہٹ دور ہوجائے گی، لیکن ہمیں کربلا یہ درس دیتی ہے کہ تم اتنے زیادہ میٹھے بن جائو کہ تلخ حقیقت کا مزہ بھی شیریں ہوجائے۔
ذرا ملاحظہ فرمائیئے کہ ایک تیرہ سال کے بچہ کا سن ہی کیا ہوتا ہے؟ یہ تو لڑکپن کے دن ہوتے ہیں! آخر جناب قاسم معصوم تو نہیں! وہ تو صرف معصوم کے بیٹے ہیں... اس تیرہ سال کے بچہ کی ذہنیت کا اندازہ لگائیں کہ جب چچا سے مرنے کا اصرار کرتے ہیں تو امام سوال کرتے ہیں:
''کَیْفَ عِنْدَکَ الْمَوْتْ''اے قاسم! تمہارے نزدیک موت کیسی ہے؟ قاسم جواب دیتے ہیں: ''اَحْلَیٰ مِنَ الْعَسَلِ''چچا جان! میرے نزدیک موت شہد سے بھی زیادہ شیریں ہے۔
عبا د ت:
ذرا سی مشکلات پیش آنے پر سب سے پہلے ترک ہونے والی مظلوم شئے عبادت ہے، کپڑوں پر ذرا سی چھینٹیں آگئیں بس بہانہ مل گیا کہ کپڑے نجس ہوگئے نماز کیسے پڑھیں؟ ذرا سا بخار کیا آگیا کہ پورا گھر سر پر اٹھالیا... ہائے ہائے ڈاکٹر ڈاکٹر... نماز کجا... و ...روزہ کجا... ہم ایسی حالت میں کیسے نماز پڑھیں کیسے روزہ رکھیں! جب ہمارے خدا نے اجازت دی ہے کہ مریض پر نماز روزہ ساقط ہے تو مولانا آپ کہاں سے آئے زبردستی کرنے والے؟ ارے جناب... مولانا آپ سے زبردستی نہیںکر رہے ہیں چونکہ اسلام میں تو زورزبردستی کا وجود ہی نہیں ہے(لَا اِکْرَاہَ فِیْ الدِّیْنِ)دین اسلام میں کو ئی جبروزبردستی نہیں ہے، اگر آپ انجام دیںگے تو آپ ہی کا فائدہ ہے اور اگر انجام نہیں دیںگے تو عذاب جھیلنے کے لئے آمادہ رہیں۔
مولانا تو آپ کو راہ راست پر گامزن رکھنے کی کوشش کررہے تھے، ورنہ پھر آپ جانیں اور آپ کا کام...۔
اب آئیئے ذرا کربلا کا رخ کیجئے... شب عاشور سے بڑی کون سی مصیبت ہوسکتی ہے...؟ سب کو یقین ہے کہ کل صبح نمودار ہوتے ہی جنگ کا سلسلہ شروع ہوجائے گا اورسبط پیمبرہزاروں کے نرغہ میں یک وتنہا رہ جائیں گے۔
اگر ذرا سے بخار میں نماز چھوڑی جاسکتی ہے تو پھر ایسے ماحول میں کیا ہونا چاہیئے؟ بخار کے مقابلے میں تو یہاں وجود خدا سے ہی انکارکردیناچاہیئے...؟ لیکن ذرا کربلائیوں کو دیکھئے، راوی کا بیان ہے کہ شب عاشورخیام حسینی سے مسلسل تسبیح وتہلیل کی آوازیں آتی رہیں اور ایسے زمزمے گونجتے رہے کہ جیسے شہد کی مکھیاں بھن بھنارہی ہوں ۔
عبادت کا مرقعہ کربلا میں ملتا ہے، انتہائی شدت کرب کے عالم میں بھی یاد خدا کو فراموشی کی نذر نہیں ہونے دیا ، حد تو یہ ہے کہ جب امام حسین کو شہید کیا گیا تب بھی آپ عالم سجدہ میں تھے،جو اس بات کا ثبوت ہے کہ نماز کسی بھی عالم میں ترک نہ کرو...یہ نزلہ....یہ بخار....وغیرہ کیا چیز ہے؟ کیا یہ ہمارا نزلہ بخار اس شمشیر سے زیادہ تیز ہے کہ جو جناب مسلم کے سر پر لٹکی ہوئی تھی اور آپ نماز میں مشغول تھے؟ کیا یہ ہماری کھانسی اس تلوار سے زیادہ تیز ہے جس نے ہمارے مولا و آقا حضرت علی کو نماز کی حالت میں شہید کیا؟ کیا یہ ہمارا روز آنے جانے والا بخار شمر کے کند خنجر کی مانندہے؟ ہمیں ان ہستیوں کو اپنے لئے نمونۂ عمل بنانا چاہیئے،کیسی بھی سخت سے سخت مصیبت کا سامناکیوں نہ ہو دامن نماز ہاتھ سے نہ چھوٹنے پائے۔

محبت:
بعض کج فکر افراد کا نظریہ ہے کہ کربلا والوں کے احساسات مردہ ہوچکے تھے، ان میں زندگی کی کوئی رمق باقی نہیں تھی اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اگر ان کے احساس جاگے ہوتے تو وہاں کی مائیں اپنی گود کے پالوں کو قربان نہ کرتیں، ان کے جوان بیٹے کیسے شہید ہوگئے؟حسین تو بس اپنا وعدۂ طفلی نبھا رہے تھے ان کو اپنے اہل و عیال کی کوئی پرواہ ہی نہیں تھی...۔
ان کج فکر اور بے وقوف افراد کا جواب یہ ہے کہ محبت صرف جسمانی یا ظاہری نہیں ہوتی بلکہ محبت کی مختلف قسمیں ہیں اور اس کی تقسیم کئی طرح سے ہوسکتی ہے، مثلاً ظاہری محبت و باطنی محبت، جسمانی محبت و روحانی محبت، دوسری طرف سے آئیں تو شوہروبیوی کی محبت، ماںبیٹے کی محبت، باپ بیٹی کی محبت،بھائی بھائی کی محبت، بھائی بہن کی محبت، اعزاواقارب کی محبت، آقاو غلام کی محبت، مولا سے محبت، خداسے محبت اور ان قسموں کے علاوہ بہت سی قسمیں اور بھی نکالی جاسکتی ہیں کہ اس مختصرسے مضمون میں ان کی تفصیل پیش نہیں کی جاسکتی۔
اس تناظرمیںان کج فکروں سے سوال کیا جائے کہ کیا یہ ساری محبتیں ایک جیسی ہیں...!؟ نہیں عزیزو! زمین و آسمان ایک ہوجائیں،ساری نہریں الٹی بہنے لگیں، سورج مغرب سے نکل کر مشرق میں غروب ہونے لگے، آپ خود ایڑی چوٹی کا زور لگالیں لیکن یہ ساری محبتیں ایک جیسی تاقیام قیامت نہیں ہوسکتیں۔
یہ آپ حضرات کی کج فکری وکوتاہ نظری ہے کہ آپ کو کربلا کے میدان میں محبت نامی کوئی شئے نظر نہیں آتی لیکن حقیقت یہ ہے کہ کربلا درسگاہ محبت ہے، کربلا محبت کا منھ بولتا شاہکار ہے،اگر کربلا نہ ہوتی تو محبت والفت کا حقیقی مفہوم واضح نہیں ہوپاتا۔ لیکن محبت کے کچھ درجات و مراتب ہوتے ہیں اور کربلا میں ان مراتب کاخاص لحاظ رکھا گیا ہے، مراتب کے اعتبارسے چھوٹی محبت کو بڑی محبت پر قربان ہونا پڑتا ہے، کون کہہ سکتا ہے کہ رباب اپنے علی اصغر سے محبت نہیں کرتی تھیں؟ کیا تاریخ نہیں پڑھی کہ رباب دودھ خشک ہونے کی وجہ سے علی اصغر کے قریب نہیں آرہی تھیں؟ طوفان محبت تو ان کے سینے میں بھی جولانیاں کررہا تھا،کیا یہ نہیں دیکھتے کہ شب عاشورام لیلیٰ علی اکبر کے سر پر ہاتھ پھیرتی رہیں کہ آئندہ یہ سر میسر نہیں ہوگا! کیا جناب عباس سے ام کلثوم کی محبت میں شک ہے؟ کیا ایک باپ اپنے کڑیل جوان سے محبت نہیںکرے گا؟لیکن کربلا والوں کے نزدیک سب سے بڑی محبت؛ خداوندعالم کی محبت تھی، اسی لئے ایک ماں نے اپنے ششماہہ کو میدان کی جانب روانہ کردیا، ایک ماں نے اٹھارہ سال کے کڑیل جوان کو اسلام کی نذر کردیا،ایک ماں نے اپنی پوری کمائی کھودی، ایک بہن نے نہ جانے کتنے بھائی گنوادیئے...اور اس کا سبب صرف یہ تھا کہ خداوندعالم کی محبت کے سامنے یہ سب دنیاوی رشتے ہیچ تھے، لہٰذا ئندہ یہ اعتراض نہیںہونا چاہئے کہ کربلا میں محبت کا وجود نہیںبلکہ مرقع محبت کا نام کربلا ہے،اور اس کی محبت سے ہی ہمیں محبت کی منزلیں طے کرنی ہوں گی، یا یوں تعبیر کیا جائے کہ کربلا کی مصیبت بھی محبت ہے اور اگرکربلا سے ہٹ کر محبت کی جائے تو وہ محبت بھی مصیبت ہے۔

امام زما نہ کی حفاظت:
اپنے زمانے کے امام کی حفاظت ایک اہم امر ہے جو کہ کربلا میں بہ نحو احسن ملتا ہے اور ہر شخص نے اس ذمہ داری کو نبھایا ہے، یہاں تک کہ وہ شیرخوار جو ابھی دوقدم چلا بھی نہیں امام کی تنہائی پر خود کو میدان تک پہونچاتا ہے اور اپنے گلے پر تیر سہ شعبہ کھانے کے بعد مسکراکربتاتا ہے کہ اس نے اپنے زمانہ کے امام کی مدد میں کوئی کوتاہی نہیں کی۔اول سے آخر تک پورے لشکر کودیکھ لیجئے کیا کسی نے یہ چاہا کہ میری جان محفوظ رہے اور امام میدان جنگ میں چلے جائیں؟ نہیں کوئی بھی ایسا نظر نہیں آتا ،امام حسن کا ایک کمسن بچہ جوعبداللہ ابن حسن کے نام سے جانا جاتا ہے اسوقت شہید ہوا جب شمر تلوار لیکر امام کی جانب بڑھ رہا تھا یعنی یہ بچہ بھی اپنے وقت کے امام سے پہلے شہید ہوا اور امام کی نصرت وامداد کی،بلکہ اس بچہ کو دو دو شہادتوں کے درجے دستیاب ہوئے؛ چونکہ یہ جناب عباس کا بھتیجا تھا اسلئے ان کی مانند اپنے شانے قلم کرائے، اور چونکہ یہ بچہ جناب علی اصغر کا بھائی تھا اسی لئے ان کی مثل گلے پرتیر کھایا۔
یہ امام حسین کے اعزاء و اقارب کا حال ہے کہ میدان جنگ میں جانے میں ہرایک دوسرے پر سبقت حاصل کررہا ہے، اصحاب و انصار کی تو بات ہی الگ ہے وہ جب تک زندہ رہے انہوں نے تو امام کے اعزاء و اقارب کی نوبت ہی نہیں آنے دی، جب امام کے تمام اصحاب شہید ہوگئے تب آپ کے اہل بیت کی نوبت آئی اور ایک ایک کرکے میدان جنگ میں جاکر اپنے امام کی حفاظت کرتا رہا۔
یہ منظرروزعاشورمیں عصرعاشور تک کا منظر تھا لیکن عصر عاشور کے بعد جب عالم غربت میں یتیموں اور بیواؤں کا کوئی پرسان حال نہ تھا، اب یہ امامت کی ذمہ داری امام سجاد کے دوش پر آچکی تھی لیکن بیماری کی وجہ سے اتنی زیادہ نقاہت تھی کہ بے ہوش پڑے ہوئے تھے، تمام تاریخیں گواہ ہیں کہ جناب زینب سلام اللہ علیہا نے حفاظت امام میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی، راوی کا بیان ہے کہ جب خیام حسینی سے آگ کے شعلے بلند تھے تب میں نے ایک بی بی کو دیکھا کہ کبھی تو خیام میں جاتی تھی اور کبھی باہر آجاتی تھی، ایسا لگتا تھا کہ ان جلتے ہوئے خیموں میں اس کی کوئی قیمتی شئے رہ گئی ہے، تھوڑی دیر بعد دیکھا کہ وہی بی بی اپنی پشت پر ایک ضعیف ولاغر نوجوان کو لے کر باہر آرہی ہے،زینب نے اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر اپنے زمانہ کے امام کی حفاظت کی اس مفہوم کو شعری قالب میں ڈھال کر اس طرح کہاجاسکتا ہے
یاتواحمد ہی اٹھاتے تھے کبھی وزن امام
یا ہمیں کرب و بلا بات یہ بتلاتی ہے
خواہر شاہ امامت کو بچانے کے لئے
پشت پر عابد غمگیں کو اٹھالاتی ہے
(غافر رضوی)
جی ہاں! جناب زینب نے امام حسین کے بعد ان کی تمام ذمہ داریوں کو بہت اچھی طرح نبھایا اور ہمارے لئے نمونہ ہے کہ جب وہ ایک خاتون ہوتے ہوئے اپنے امام زمانہ کی حفاظت میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھتی ہیں تو پھر ہمارا کتنا بڑا فرض بنتاہے...!

جذبۂ قربانی و فداکاری:
قربانی؛ ایک بہت نیک اورگرانقدر عمل ہے، اس کے لئے بہت زیادہ تاکید ہوئی ہے ،بلکہ روایتوں میں یہاں تک ملتا ہے کہ اگر تمہارے پاس پیسے نہ ہوں اور قربانی کا قصد ہو تو قرض لیکر قربانی کرو، تمہارا یہ قرض خداوندعالم جلدی ادا کرائے گا، لیکن ہم ہیں کہ اس سے بچنے کے لئے ایک ہزار بہانے تلاش کرتے ہیں مثلاً قربانی سنت ہی تو ہے... واجب تو نہیں ہے...جب ہمارے والد نے قربانی کردی تو ہم کیوں کریں وغیرہ جیسی بہانہ بازی۔
قربانی ؛ کسی بھی حال میں رائگاں نہیں جاتی،لہٰذا ہمیں کنجوسی کے مدنظر اس عظیم امر سے آنکھیں نہیں چرانی چاہئیں اور اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیئے۔
چونکہ جوانسان مال کی قربانی میں اتنا زیادہ غوروخوض کرے گا ... وہ اپنی اولاد کو کیسے قربان کرسکتاہے...!۔
جذبۂ قربانی ؛ ایسا عظیم جذبہ ہے کہ جس کے سامنے جذبۂ محبت بے رنگ ہوجاتا ہے، چونکہ اگر جذبۂ محبت کا رنگ پھیکا نہیں پڑے گا تو قربانی ممکن نہیں ہوگی، اب یہ محبت کون سی ہے یہ خود ہمارے اوپر موقوف ہے، مال ومتاع کی محبت ہے،اولاد کی محبت ہے... وغیرہ۔
لیکن ذرا غور کیجئے کہ اگر جناب ابراہیم اپنے جگر کے ٹکڑے کی محبت کو بالائے طاق نہیں رکھتے تو کیا اپنے امتحان قربانی میں کامیاب ہوسکتے تھے! نہیںہرگز نہیں،اس لئے کہ جب بھی اسماعیل کو قربان کرنا چاہتے تبھی بیٹے کی محبت حائل ہوجاتی۔
اسی لئے جذبۂ قربانی کو بیدار رکھنے کے لئے ہمیں بھی جان مال اوراولاد وغیرہ جیسی اشیاء کی محبت کو بالائے طاق رکھنا ہوگا۔
جذبۂ قربانی کا بہترین نمونہ کربلا میں ملتا ہے،جیسا کہ ہم نے محبت والے حصہ میں بیان کیا کہ کربلا درسگاہ محبت ہے، لیکن اتنی زیادہ محبتوں کے باوجود جذبۂ قربانی اس قدر بیدار ہے کہ ہر شخص قربانی دینے کے لئے مضطرب نظر آتا ہے، ام لیلیٰ ہیں جو علی اکبر کو سمجھا رہی ہیں بیٹا کل قربانگاہ میں جانا ہے دیکھو تم سے پہلے کوئی اور نہ چلا جائے...! ام رباب کی تو لوریاں ہی یہی تھیں جو علی اصغرکو گہوارہ جھلاتے ہوئے گنگنا رہی تھیں: بیٹا! کل میدان شہادت سجے گا، اپنی دادی کے سامنے مجھے سرخرو کردینا،بیٹا ایسا نہ ہو کہ مجھے میدان حشر میں سر جھکانا پڑے، ادھر جناب زینب اپنے بیٹوں(عون ومحمد)سے فرمارہی ہیں: میرے بچو! کل سب سے پہلے تم کو ہی اپنے ماموں کے قدموں پر جان دینی ہے،ادھر ام کلثوم اپنے خیمہ میں بیٹھی ہوئی اشک فشاں ہیںجناب عباس کی نظر پڑی...گریہ کا سبب پوچھا، ام کلثوم نے جواب دیا: بھیا! کل میدان شہادت سجے گا سب کے پاس قربان کرنے کے لئے اولاد ہے لیکن میں کیا کروں میں تو بے اولاد ہوں۔ عباس نے سر جھکایا اور فرمایا: اے بہن! اس میں غمگین ہونے کی کیا بات ہے یہ آپ کا بھائی حاضر ہے، شہزادی! عباس آپ کی جانب سے مقتل میں جائے گا، میرے ہوتے ہوئے آپ اپنی آنکھوں میں سیل اشک کو جگہ نہ دیں۔
یہ تو امام حسین کے اہل بیت کا منظر تھا، ذرا اصحاب پر بھی ایک نظر ڈالئے، شب عاشوردو نمونے ایسے ہیں جو اصحاب کی وفا اور جذبۂ قربانی کا منھ بولتا شاہکار ہیں:
١۔ اصحاب حسینی کے گوش سماعت سے زینب کی یہ صدا ٹکرائی کہ بھیا! آپ نے اپنے اصحاب کو آزما بھی لیا ہے؟ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ وقت پر منھ پھیر لیں! تمام اصحاب نے نیام سے اپنی اپنی شمشیریں نکالیں اور زینب کے درخیمہ پر آگئے، شہزادی!آپ کو ہماری وفا پر اعتبار نہیں ہے...! حکم دیجئے تو ابھی اپنی اپنی شمشیروں سے اپنے سر کاٹ کر آپ کے قدموں پر نچھاور کردیں...۔
٢۔ امام حسین نے سارے چراغ گل کردیئے اور فرمایا کہ جو مجھے چھوڑکر جانا چاہتا ہے وہ اس تاریکی سے فائدہ اٹھا سکتا ہے اگر چاہو تو پروانۂ بہشت بھی لکھ کر دیدوں!تمہاری جنت کا ذمہ دار میں ہوں، اگر اب بھی شرم آرہی ہے تو ایسا کرو کہ میرے عزیزوں میں سے ایک ایک کا ہاتھ تھامو اور نکل جائو، امام حسین نے اپنی گفتگو کے درمیان کچھ آہٹ محسوس کی،چراغ روشن کیا گیاتو عجیب منظر نظر آیا سب کی برہنہ شمشیریں اپنی اپنی گردنوں پر ہیں،آقا...کیااب بھی ہماری وفا پر شک ہے...؟ خدا کی قسم اگر ہمیں ہزار بار زندگی عطا ہو اور ہر بار شہید ہونا پڑے تب بھی ہم آپ پر جان دینے سے گریز نہیں کریں گے۔
اللہ اکبر... عقل انسانی دنگ رہ جاتی ہے کہ آخر ان کے سینوں میں کون سے قلوب تھے...! جذبۂ قربانی اس منزل پر تھا کہ اپنی جانوں کی پرواہ کئے بغیر نواسۂ رسول کے قدموں پر جان نثار کرنے کو آمادہ تھے۔
یہ جذبہ ہمارے لئے نمونۂ عمل ہے کہ ہم اپنی جان،اپنے مال،اپنی اولاد غرض کسی بھی شئے کی پرواہ کئے بغیر میدان قربانی میں کود پڑیں۔

وفا د اری:
اس سے قبل بیان کیا گیا کہ اصحاب حسینی کی وفا پر کوئی بھی انگشت اعتراض بلند کرنے کی جسارت نہیں کرسکتا، اسی لئے تو خود امام نے فرمایا کہ جیسے اصحاب مجھے ملے ایسے اصحاب نہ تو میرے نانا کو ملے، نہ ہی میرے بابا کو اور نہ ہی میرے بھائی کو۔
آخریہ کیسے پروانے تھے جو شمع گل ہونے کے بعد بھی پراگندہ نہیں ہوئے؟ حقیقت تو یہ ہے کہ ہیرے کو تاریکی میں ہی پرکھاجاتا ہے،اصلی ہیرے کی پہچان یہی ہے کہ وہ شب تار میں بھی تابش کاحامل ہوتا ہے، شاید امام حسین نے اپنے ہیروں کو پرکھنے کے لئے ہی شمع گل کرائی تھی۔
امام نے اصحاب کی شہادت کے بعد بھی ان کو بہت زیادہ یاد فرمایا ہے:''... أین أین حبیب...أین أین زہیر...أین أین مسلم بن عوسجہ...یا ابتال الصفا و یا فرسان الھیجاء مالی انادیکم فلا تجیبونی''۔
اے حبیب!(میرے دوست!)کہاں ہو؟ اے زہیر تم کہاں گئے؟ اے مسلم بن عوسجہ! تم کہاں ہوں؟ اے میرے جاں نثارو! اے میرے بہادر شہسوارو! آخر کیا ہوگیا کہ میں تمہیں آواز دے رہاہوں اور تم جواب نہیں دیتے!۔
امام حسین کا اپنے اصحاب کویاد کرنا بتا رہا ہے کہ اصحاب حسینی کی وفا میں کوئی شک کی گنجائش نہیں ہے۔
ہم جب جوان ہوجاتے ہیںتو اپنے بچپن کی باتیں بھول جاتے ہیں کہ ہمارے دوست کیسے تھے؟ کون کون دوست تھے؟ اصحاب حسینی کی ایک خصوصیت یہ بھی تھی کہ انہیں اپنے بچپن کی دوستی بھی یاد تھی چونکہ اصحاب حسینی میں ایک شخصیت وہ تھی کہ جسے عالم طفلی سے امام حسین کی دوستی کاشرف حاصل رہا اور اس ہستی کا اسم گرامی''حبیب ابن مظاہر''ہے، امام نے صرف ایک خط لکھا: ''اے میرے بچپن کے دوست حبیب! تمہارا دوست(حسین ) عالم غربت میں اغیار کے حصار میں ہے، میری مدد کرنے آجاؤ'' اگر حبیب چاہتے تو یہ کہہ سکتے تھے کہ کون حسین؟ میں کسی حسین کو نہیں جانتا... مجھے بچپن کی باتیں یاد نہیں ہیں۔ لیکن نہیں... ادھر قاصد حسین پہونچا اور ادھر کوفہ کے حالات کشیدہ ہونے کے باوجود حبیب کربلا کی جانب روانہ ہوگئے اور حسین کے قدموں پر جان نچھاورکردی۔
عیش وآرام کے ایام میں کسی کے ساتھ رہناکوئی اہم بات نہیں،اپنے اور بیگانہ کی پرکھ مصیبت کے وقت ہی ہوتی ہے، اور اس امتحان میں اصحاب حسینی مکمل طریقہ سے کھرے اترے، انہوں نے ہر قسم کا امتحان دیااور جبین پر شکن تک نہیں آنے دی
''کربلا والے ہمیں درس وفا دیتے ہیں''

سخا وت:
سخاوت ایسی پسندیدہ صفت ہے کہ جس کو کسی بھی انسان نے مذموم قرار نہیں دیا یہاں تک کہ بخیل افراد بھی سخی انسان کی مدح وستائش کرتے ہیں،اگر ایسا نہ ہوتا تو حاتم طائی بہت پہلے طاق نسیاں کی زینت بن چکا ہوتا، تاریخ میں حاتم طائی کو سخاوت کے عنوان سے پہچانا جانا؛جو اس صفت کی پسندیدگی کا ثبوت ہے،یہ بات الگ ہے کہ حاجت مند کو ایک ہی دروازہ سے اتنا عطا کردیاجائے کہ اسے سات دروازوں پر جانے کی ضرورت پیش نہ آئے۔
سخی کی پہچان یہ ہے کہ وہ عطا کرنے کے بعد احسان نہیں جتاتابلکہ وہ تو ایسے عطا کرتا ہے کہ ایک ہاتھ سے دیتا ہے تو دوسرے کوپتہ نہیں چلتا حد تو یہ ہے کہ وہ انکساری کی مثال بن جاتا ہے:
سخاوت کا طریقہ دوستو! سیکھو صراحی سے
کہ اسکا فیض جاری ہے جھکی جاتی ہے گردن بھی
جی ہاں! سخاوت مندی، انکساری پیدا کرتی ہے اور انسان کے کعبۂ دل سے کبرو نخوت کے بتوں کو توڑ دیتی ہے اور اگر سخاوت کے نمونے دیکھنا چاہیں تو کربلا کا رخ کیجئے وہاں سخاوت کے متعدد نمونے نظر آئیںگے:
کیا خود بھوکے پیاسے رہ کر دوسروں کو سیروسیراب کرنے سے بڑی کوئی سخاوت ہے؟یہ صفت کربلا والوں میں بہ نحو احسن ملتی ہے،چونکہ جب امام حسین نے لشکرحر کو پانی پلانے کاحکم دیاتو اپنے بارے میں کچھ بھی نہیں سوچا۔
ہمارے ذہنوں میں سخاوت کا مفہوم یہ ہے کہ کوئی انسان اپنے ہاتھوں سے کسی شخص کو کوئی چیز عطا کرے،یا اپنے غلام کو حکم دے کہ فلاں چیز فلاں شخص کو عطا کی جائے اور اس کا غلام وہ چیز اس کو عطا کردے، لیکن ذرا سوچئے کہ جس نے اپنے دونوں ہاتھ ہی خیرات میں دے دیئے ہوں وہ سخاوت کے کون سے درجہ پر فائز ہوگا!
ہاتھ سے دیتے ہیں سب، اس نے تو ہاتھوں کو دیا
کون یہ ابن سخی، اللہ اکبر آگیا!
(غافر رضوی)
یہ ہمارے لئے بہت بڑا درس ہے کہ ہمیں سخاوت کی کس منزل پر ہونا چاہیئے!۔

جذبۂ بخشش:
بخشش ومعافی کا جذبہ، ایک ایسا جذبہ ہے کہ جو ہر کسی کو میسر نہیں ہوتا، کسی کو معاف کرنا آسان کام نہیں ہے چونکہ جب وہ معافی مانگنے آتاہے تو اس کے تمام افعال اور سلوک و برتائو نظروں کے سامنے آجاتے ہیں لیکن عفو و بخشش کا جذبہ بھی کربلا میں نمایاں نظرآتا ہے، جیسا کہ ہم نے پہلے تفصیلی گفتگو کی کہ حر نے امام کا راستہ روک لیا تھا، تو کیا اس کے بعد اس کو یہ امید تھی کہ امام حسین اس کو معاف کردیںگے؟ وہ یہ جانتا تھا کہ حسین کسی عام شخصیت کا نام نہیں ہے یہ تو ایسے گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں جو قاتل کو بھی جام شیر عطا کرتے ہیں، اسے یہ یقین تھا کہ میں نے امام کی شان میں گستاخی ضرور کی ہے لیکن ابن ملجم کی مانند شمشیر سے حملہ تو نہیں کیا، اور دوسری بات یہ کہ اس کو امام کی سخاوت یاد تھی کہ امام نے ہمیں راستے میں سیراب کیا تھا،تو یہ کیسے ممکن ہے کہ جو امام اپنے دشمن کے لشکر کو سیراب کرے وہ کسی کی غلطی کو معاف نہ کرے؟ لہٰذا آنکھوں پر پٹی بندھواکر امام حسین کے قدموں پر آگرا، امام نے فوراً اٹھایا اور گلے سے لگا کر فرمایا:اے حر! تیری ماں نے تیرا کتنا اچھا نام رکھا ہے! ''انت حر فی الدنیا والآخرة'' تودنیامیں آبھی زاد ہے اور آخرت میں بھی، لیکن مجھے افسوس ہے کہ تو میرا مہمان بن کر ایسے وقت میں آیا ہے کہ میرے پاس میزبانی کے فرائض انجام دینے کے لئے کچھ بھی نہیں ہے یہاں تک کہ حسین تجھے پانی بھی نہیں پلا سکتا،اے حر! حسین بہت شرمندہ ہے کہ تیری خاطر و مدارات نہ کرسکا۔
اور صرف اتنا ہی نہیں کہ امام نے کہہ دیا کہ میں نے تجھے معاف کردیا بلکہ جب حر نے جام شہادت نوش کیا تو آپ حر کے جنازے پر پہونچے اور اس کے سر کو اپنے زانو پر رکھا، اس کے سر سے جاری خون کے فوارہ کو روکنے کے لئے اپنی والدہ کے مبارک ہاتھوں سے بنا ہوا رومال باندھا۔
سوال یہ ہے کہ کیا ایسا بھی ممکن ہے...؟ کیا امام کی لجام فرس پر ہاتھ ڈالنا چھوٹی سی غلطی تھی...؟ کیا ہم اتنی بڑی غلطی کو اتنی آسانی سے معاف کرسکتے ہیں...؟ ہم تو ہرگز معاف نہیں کرسکتے، جی ہاں! یہی تو فرق ہے ہم میں اور امام میں، ہم جس غلطی کو معاف کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں وہ غلطی امام نے کتنی آسانی سے معاف کردی! چونکہ امام ہمارے دل کی باتوں سے بھی آگاہ ہوتا ہے اور معافی مانگنے کے لئے دل کی سچائی شرط ہے اگر دل سے شرمندہ ہے تو معافی مل سکتی ہے، توبہ کی شرطوں میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ خداوند عالم کی بارگاہ میں صدق دل سے مغفرت طلب کی جائے، بڑے سے بڑا گناہ معاف کردیا جائے گا،امام کو حر کے دل کی کیفیت معلوم تھی، وہ اپنے دل سے اظہار شرمندگی کررہا تھا، سپیدی سحر کے ہنگام گمراہی کی تاریکیوں سے نور کی وادیوں میں آجانا کوئی آسان کام نہیں، حر کی اسی دیدہ دلیری اور اظہار ندامت نے حر کو ''حرعلیہ السلام ''بنادیا ۔
اس سے ہمیں یہی درس ملتا ہے کہ ہمیں ہر حال میں جذبۂ بخشش کو اجاگر رکھنا چاہیئے اور اگر ہم سے کوئی غلطی سرزد ہوگئی ہے تو معافی مانگنے کا طریقہ بھی یاد رہنا چاہیئے، ایسا نہ ہو کہ ہم معافی تو مانگیں لیکن ہماری معافی قبول نہ ہو چونکہ معافی کا دل سے بہت گہرا رشتہ ہے۔

اتحا د و اتفاق:
کربلا کاایک اہم تبلیغی پہلو، درس اتحاد و یکجہتی ہے کہ ہمیں آپس میں مل جل کر رہنا چاہیئے اور ایک گروہ کی شکل اختیار کرکے کفر کا دندان شکن جواب دینا چاہیئے۔
امام حسین کے لشکر میں تمام لوگ ایک ہی خاندان کے نہیں تھے کہ جو ایک بزرگ نے کہہ دیا چھوٹوں نے بھی سر تسلیم خم کردیا! بلکہ اس کارواں میں مختلف اقوام وقبائل کے لوگ تھے، کوئی مکی تو کوئی مدنی، کوئی عرب تو کوئی عجم اور کوئی حبشی... لیکن کیا کسی تاریخ میں یہ ملا کہ کسی نے امام کی کسی بھی بات پر انگشت اعتراض بلند کی ہو؟ نہیں... ایسا ممکن ہی نہیں تھا چونکہ امام حسین نے تمام دُر ایک جیسے چنے تھے تاکہ ان دانوں کے ذریعہ اسلام کا ایک خوبصورت گلوبند آمادہ ہوسکے.
جی ہاں! امام حسین نے سب کو ایک مقام پر جمع تو کردیا تھا، عادات و اطوار کا ایک ہونا ممکن ہے لیکن نظر کا ایک ہونا کوئی آسان کام نہیں،یہ کربلا کا کیسا کرشمہ ہے کہ بہتر افراد اور نظریہ ایک...!جو ایک کی فکر وہی بہتر کی فکر،جو ایک کی گفتار وہی بہتر کی گفتار...۔
ہم ان جیسے تو نہیں بن سکتے لیکن ان کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش تو کرسکتے ہیں! ہماری فکریں الگ ہوسکتی ہیں لیکن دشمن کے مقابلہ میں ایک ساتھ تو جمع ہوسکتے ہیں...! تو پھر ہم ایسا کیوں نہیں کرتے؟ اگرہر ایک انگلی کو الگ الگ دیکھا جائے تو بہت کمزور نظر آتی ہے لیکن جب پانچوں انگلیوں کو ایک ساتھ ملادیا جائے تو مشت محکم میں تبدیل ہوجاتی ہیں:
متحد ہو تو بدل ڈالو نظام عالم
منتشر ہو تو مرو، شور مچاتے کیوں ہو؟
(علامہ اقبال)
دشمن کو جواب دینے کے لئے انتشار نہیںبلکہ اتحاد درکار ہے، اگر اصحاب حسینی مختلف مزاجوں کے حامل ہوتے تو کیا یزید پر فتح حاصل ہوسکتی تھی؟ ہرگز نہیں... چونکہ دشمن پر فتح و کامرانی کا اصلی راز اتحاد و یکجہتی میں ہی مضمر ہے۔

حجا ب:
حجاب(پردہ)،اسلام کی اہم ضرورتوں میں سے ایک ضرورت ہے،مفسدوں سے محفوظ رہنے کا وسیلہ حجاب ہے، ناموس کی حفاظت حجاب میں ہے، اسلام کی نشانی حجاب ہے، بدحجابی فسادات کا باعث ہے، بدحجابی ہتک حرمت کا سبب ہے، بدحجابی اسلام کی کھلم کھلا مخالفت ہے۔
کربلا والوں میں تو اس کے عجیب و غریب نمونے نظر آئے، چاہے وہ چار سال کی بچی ہی کیوں نہ ہو...جس جانب نظر جاتی ہے اسی جانب پردہ...پردہ...اور پردہ...حجاب...حجاب...اورحجاب...اور بس.
مقاتل شاہد ہیںکہ جب خیام حسینی سے آگ کے شعلے اٹھ رہے تھے تو جناب زینب نے امام سجاد سے پردہ کے متعلق سوال کیا: اے بیٹا سید سجاد ! تم امام وقت ہو ہمیں یہ بتائو کہ اس مصیبت کے وقت میں کیا کریں، پردہ کی حفاظت کریں یا اپنی جان بچائیں، امام سجاد نے جواب دیا: پردہ کی اہمیت ناقابل انکار ہے لیکن وقت کا تقاضہ یہ ہے کہ خیام سے بے پردہ نکل جائیں۔
راوی کا بیان ہے کہ خیام حسینی سے آتشی شعلے بلند ہوتے وقت، میں نے ایک کمسن بچی کو دیکھا کہ اس کے دامن میں آگ لگی ہوئی ہے اور وہ اس کو بجھانے کی خاطر نہر فرات کی جانب گامزن ہے ،میں نے چاہا کہ اس کے دامن کی آگ بجھادوں لیکن بچی نے جیسے ہی مجھے اپنی جانب بڑھتے دیکھا بولی: اے شیخ! ہم سے دور ہی رہنا، ہم اہلبیت پیغمبر ۖ ہیں، تو نامحرم ہے، خبردار! مجھے ہاتھ نہ لگانا۔
کربلا سے کوفہ،کوفہ سے شام تک کی راہ کو دیکھئے! کیا کسی بی بی نے کسی چیز کی درخواست کی؟ نہیں... اگر کسی نے کچھ مدد کرنے کی درخواست بھی کی تو شہزادیوں نے فقط یہی فرمایا کہ اگرہوسکے تو ہمیں ردائیں لاکر دیدو تاکہ ہم پردہ کرسکیں۔حد تو یہ ہے کہ جناب زینب نے اپنی آواز کو بھی بے پردہ نہیں ہونے دیا:
ردا جب چھن گئی، تقریر تھی حیدر کے لہجہ میں
کوئی وقت مصیبت ہو، مگر پردہ نہیں جاتا
(غافر رضوی)
لیکن جناب زینب کی کنیزوں کو کیا ہوگیا...؟خود کو جناب فاطمہ و جناب زینب کی کنیزیںکہتی ہیں اور پردہ کا نام ونشان نہیں!
لب پر ہے نام فاطمہ، چہرہ ہے بے حجاب
یہ ڈھنگ عورتوں کا ہے، ذلت ہماری ہے
(مرغوب شکارپوری)
کیا یہ نام فاطمہ و نام زینب کی توہین نہیں ہے؟ جناب زینب اور جناب فاطمہ کی کنیزی کادم بھرنے والی خواتین اور پردہ سے لا پرواہ! کیا یہ جناب سیدہ کو منھ دکھانے کے قابل ہیں؟ ۔
بعض نام نہاد کنیزان زینب کا یہ ماننا ہے کہ جناب زینب کربلا سے کوفہ اور کوفہ سے شام بے پردہ گئی تھیں ہم بھی انکی یاد میں بے پردہ ہوتے ہیں...۔
ایسی باتیں کرنے والی خواتین کو یہ معلوم ہونا چاہیئے کہ جناب زینب اپنی مرضی سے بے پردہ نہیں ہوئی تھیں بلکہ نیزہ و تازیانے مارمارکر چادر چھینی گئی تھی، کیا آپ کے ساتھ بھی کسی نے یہ سلوک کیا؟۔
اگر آپ کے ساتھ ایسا سلوک نہیں ہوا تو پھر جناب زینب کی بے پردگی کو ڈھال بناکر بے حجابی کیوں پھیلا رہی ہیں؟ ۔
کنیزان زینب کو جناب زینب کی بے پردگی کا واسطہ، اپنے پردہ کی حفاظت کریں۔
جیساکہ ہم نے اس بحث کے آغاز میں بیان کیا کہ پردہ، اسلام کے اہم احکام میں سے ایک حکم ہے،اس حکم کو پس پشت نہ ڈالئے تاکہ محشر کے روز جناب فاطمہ و جناب زینب سے یہ کہنے کی حقدار رہیں کہ شہزادی! ہم نے اپنے آپ کو بے پردہ نہیں ہونے دیا۔
ہم نے آغاز کلام میں یہ بیان کیا تھا کہ ہم اپنی سعی کے مطابق کربلا کے درسی پہلوئوں پر روشنی ڈالیں گے چونکہ تمام تبلیغی گوشوں کو بیان کرنا تو جبریل تخیل کی پرواز سے ماوراء ہے، ہم نے بہت سے گوشوں کا تذکرہ کیا ہے اور ان کے علاوہ بہت سے پہلو پائے جاتے ہیں کہ جن کو بیان نہیں کیا جاسکتاکربلا کے آشکار پہلوئوں میں سے صبروشکیبائی،رعب و دبدبہ، سچائی وغیرہ جیسے انمول موتی بھی پائے جاتے ہیں چونکہ ہمارا یہ مضمون اس ظرفیت کا حامل نہیں کہ اس میں تمام پہلوئوںکا تذکرہ کیا جاسکے،لہٰذا باقی پہلوئوں سے غض نظر کیا جارہا ہے۔والسلام علی من اتبع الھدی

منابع ومآخذ:
١۔ قرآن کریم۔
٢۔ بحارالانوار: علامہ مجلسی۔
٣۔ لھوف:سید ابن طاؤس۔
٤۔ منتھی الآمال:شیخ عباس قمی۔
٥۔ مقتل خوارزمی: حسین خوارزم۔
٦۔ مقتل ابو مخنف۔
٧۔ مقتل مقرم: سید حسین مقرم۔
٨۔دمعة الساکبة۔
٩۔حماسۂ حسینی:شہید مطہری۔
١٠۔ جلاء العیون۔
١١۔ مقتل فلسفی۔
١٢۔ روضات الجنات۔

مقالات کی طرف جائیے