مقالات

 

امام حسین علیہ السلام پر گریہ

ادیب عصر مولانا سید علی اختر رضوی شعور گوپال پوری

گریہ صفائے نفس کی شاہ کلید ہے ،گریہ خلوص کی پہچان ہے ، یہ غلط سمت بہنے والے جذبات کا دھارا موڑتا ہے زندگی میں بندگی کے تعمیری احساسات کو پروان چڑھاتا ہے کوئی بھی قلب سلیم کا حامل انسان ،گریہ کی افادیت سے انکار نہیں کرسکتا۔
پورا قرآن دیکھ جائیے،اس دنیا میں ہنسنے کی کہیں کبھی تعریف نہیں کی گئی ہے جو کچھ مسرت یا ہنسی بیان ہوئی ہے وہ آخرت سے تعلق رکھتی ہے کیوں کہ وہ یہاں کی گریہ و زاری کا نتیجہ ہے ، دنیا میں ہنسنے کی مذمت ہی کی گئی ہے :(أَفَمِنْ ھَذَاالْحَدِیْثِ تَعْجُبُونَ٭ وَتَضْحَکُوْنَ وَلَا تَبْکُونَ)تو کیا تم اس قرآن کو سن کر تعجب کر تے ہو اور ہنستے ہو اور روتے نہیں ہو ۔(١)
چونکہ ''ِہَذَا الْحَدِیث ''سے مراد سورۂ واقعہ میں قرآن لیاگیا ہے ''َفَبِہَذَا الْحَدِیثِ َنْتُمْ مُدْہِنُون''(٢)اور پھر سورۂ مرسلات میں بھی(فَبَِیِّ حَدِیثٍ بَعْدَہُ یُؤْمِنُون) قرآن ہی کو مراد لیا گیا ہے اس لئے ان دونوں آیتوں کی بنیاد پر ''ِہَذَا الْحَدِیث''کا ترجمہ قرآن کیا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تلاوت قرآن کی آرائش و تزئین گریہ ہے ہنسی نہیں ہے بلکہ ہنسی کی وجہ سے غیظ و غضب کا لہجہ اختیار کیا گیا ہے ۔
سو رۂ توبہ میں تو واضح طور پر حکم دیا گیا ہے: (فَلْیَضْحَکُوا قَلِیلًا وَلْیَبْکُوا کَثِیرًا)(٣)تو انھیں کم ہنسنا چاہئے اور زیادہ رونا چاہئے ، یہ قبل کی آیت (فَرِحَ الْمُخَلَّفُونَ)سے متعلق ہے ، منافقوں کی ایک ٹولی نے اپنی جان بچائی اور جنگ تبوک میں شرکت نہ کی، وہ اس چالاکی پر خوش ہورہے تھے، مخلص مومنین کا مذاق اڑا رہے تھے ۔انھیں قرآن نے نصیحت فرمائی کہ تم نے جو حرکت کی ہے اس کا نتیجہ گریہ ہے تمہیں اس وقت کم ہنسنا چاہئے اور زیادہ رونا چاہئے۔
مندرجہ ذیل آیت میں بھی رونے کا پہلو واضح ہے ، گریہ و زاری کے ساتھ سجدہ ان شائستہ کردار افراد کا شیوہ ہے جو ہدایت سے نوازے گئے ہیں :( ِذَا تُتْلَی عَلَیْہِمْ آیَاتُ الرَّحْمَانِ خَرُّوا سُجَّدًا وَبُکِیًّا)(٤)جب ان کے سامنے آیات رحمان کی تلاوت کی جاتی ہے تو وہ سجدے میں گرجاتے ہیں اور زار زار روتے ہیں۔
یہ آیت تذکرۂ انبیاء کے سیاق میں ہے اور تفسیر مجمع البیان کے مطابق آل محمد علیہم السلام کو مراد لیا گیا ہے ''نحن عینینا بھا''۔ظاہر ہے کہ جب خدا نے آل محمد علیہم السلام کی روح میں ان کی عبادت و گریہ وزاری کو نمایاں حیثیت دی ہے تو ہمیں بھی اپنی عبادتوں میں گریہ کا خصوصی التزام کرنا چاہئے ، کبھی خوف خدا سے ، اور کبھی سید الشہداء کے مصائب و آلام یاد کرکے ، یہ گریہ بہر حال ان سجدوں کو معطر کردے گا ۔
سجدوں میں خوف خدا سے رونا تو خود اس آیت سے ثابت ہے اور مصائب سید الشہدا ء یاد کرکے رونا سیرت معصوم میں موجود ہے ۔
امام زین العابدین علیہ السلام کا غلام اشرف بیان کرتا ہے کہ امام اپنے مکان میں حالت سجدہ میں تھے اور پھوٹ پھوٹ کر رو رہے تھے، میں نے عرض کی: آقا!کیا آپ کی گریہ و زاری ختم ہونے کا زمانہ نہیں آیا؟
امام نے فرمایا: تیری ماں تیرے ماتم میں بیٹھے ، خدا کی قسم یعقوب نے جو بارگاہ خداوندی میں شکایت کی تھی وہ غم میرے غم کے مقابلے میں بہت کم ہے ، حالانکہ وہ چیخ پڑے تھے (وَا أَسَفَاہْ عَلٰی یُوْسُفَ)ان کا تو ایک فرزند نگاہوں سے اوجھل ہوا تھا اور میں نے تو اپنے باپ کو اور اپنے پورے گھرانے کو خاک و خون میں آغشتہ دیکھا کہ وہ ہر چہار جانب ذبح کئے ہوئے پڑے تھے۔ (٥)
روتے ہوئے سجدہ کرنا یا سجدے میں رونا مخلص مومن کی پہچان ہے ، گریہ شقاوت و قساوت کو ختم کرتا ہے ''جن لوگوں کو رونا نہیں آتا اپنی حالت پر رونا چاہئے''سورہ مریم کی اس آیت کے ذیل میں تفسیر ابن کثیر کا افادہ ملاحظہ فرمائیں جسے انھوں نے بحوالہ ابن طائی اور ابن جریر نقل کیا ہے :
''صحیح بخاری میں ہے کہ مجاہد نے ابن عباس سے سوال کیا کہ کیاسورۂ ص میں سجدہ ہے ؟آپ نے فرمایا : ہاں۔ پھر اس آیت کی تلاوت کرکے فرمایا :تمہارے نبی کو ان کی اقتداء کرنے کا حکم دیا گیا ہے ، اور حضرت دائود بھی مقتدیٰ نبیوں میں سے ہیں۔ فرمان ہے کہ'' ان پیغمبروں کے سامنے جب کلام اللہ کی تلاوت کی جاتی تھی تو ان دلائل و براہین کو سن کر خضوع و خشوع کے ساتھ اللہ تعالی کا شکراد ا کرنے کے لئے احسان مانتے ہوئے روتے گڑگڑاتے ہوئے سجدے میں گرپڑتے تھے ''اسی لئے اس آیت میں سجدہ کرنے کا حکم علماء کا متفق علیہ مسئلہ ہے تاکہ ان پیغمبروں کی اقتداء اور اتباع ہوجائے ۔
امیر المومنین حضرت عمر ابن خطاب رضی اللہ عنہ نے سورۂ مریم کی تلاوت کی اور جب اس آیت پر پہونچے تو سجدہ کیا ، پھر فرمایا : سجدہ تو کرلیا لیکن وہ رونا کہاں سے لائیں...؟ (٦)
سورۂ یوسف کو احسن القصص کہا گیا ہے: (َنَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْکَ َحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَا َوْحَیْنَا ِلَیْکَ ہَذَا الْقُرْآنَ)اے رسول ! ہم آپ کو تمام قصوں میں سب سے حسین قصہ سناتے ہیں اس سے جو ہم نے آپ کی طرف قرآن کی وحی بھیجی ۔(٧)
قرآن کے تمام قصے افادیت کے اعتبار سے حسین ہیں ، ان قصوں میں ابد آثار بلاغت ہے لیکن ان تمام قصوں میں صرف واقعہ ٔیوسف ہی کو احسن القصص کیوں کہا گیا؟
اس بارے میں مفسرین کے بہت سارے اقوال ہیں لیکن سب سے زیادہ دل کو لگتی بات صاحب روضة الشہداء کی ہے ، جنھوں نے لکھا ہے کہ محضر شہادت ملاحظہ فرماکر جب رسول ۖخدا نے گریہ فرمایا تو ان کی نسل کے لئے خدا نے سورۂ یوسف نازل کیا۔ گریۂ رسول کا سب سے زیادہ حساس پہلو یہ تھا کہ آپ کی امت کہلانے والے ، آپ کا کلمہ پڑھنے والے لوگ ہی میرے پیارے حسین کو تین دن کا بھوکا پیاسا قتل کریں گے۔خدا وندعالم نے لفظ غیظ کے لئے واقعہ ٔ یوسف بیان فرمایا کہ تمہارے بھائی یوسف پر ان کے اپنے بھائیوں نے کیا کیا مظالم ڈھائے ، وہ سب اپنے خیال میں بڑی بیدردی سے موت کے گھاٹ اتارچکے تھے اپنی تمام تدبیروں کے بعد انہیں کنویں سے زندہ نکلتے دیکھ کر چند کھوٹے سکوں میں بیچ دیا یہی نہیں .....ان کے سینوں میں کینہ اس قدر شدید تھا کہ یوسف کے مانجائے بنیامین پر بظاہر چوری ثابت ہونے کے بعد پرانا کینہ عود کر آیا (قَالُوا ِنْ یَسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ َخ لَہُ مِنْ قَبْلُ)ان سب نے کہا: اگر اس نے چوری کی تو اس کے بھائی نے بھی اس سے پہلے چوری کی تھی۔ (٨)
اس تناظر میں سورہ یوسف کو امام حسین علیہ السلام پر گریہ کے جواز کا بہترین ثبوت قرار دیا جاسکتا ہے ، کیوں معصوم یوسف پر ان کے معصوم اور صاحب منصب باپ نے گریہ کیا،بلند آواز سے گریہ فرمایا ،اپنے رخساروں اور سرو سینہ پر اس قدر شدید ماتم کیا کہ ان کی آنکھیں سفید ہوگئیں( وَقَالَ یَاَسَفَی عَلَی یُوسُفَ وَابْیَضَّتْ عَیْنَاہُ مِنَ الْحُزْنِ فَہُوَ کَظِیم) اور چیخ مار کر روئے اور کہا ہائے افسوس یوسف پر اور ان کی دونوں آنکھیں رنج و غم سے سفید ہوگئیں اور وہ غم و غصہ میں بھر گئے ۔(٩)
ایک پیغمبر کی سیرت کو قرآن جیسی ابد آثار آئینی کتاب میں بیان کرنا بجائے خود پسندیدۂ خدا وندی ہونے کا ثبوت ہے ، اگر اس کے سامنے دوسرے متون شرعیہ نہ بھی ہوتے تو یہی ایک آیت اس کے اثبات کے لئے کافی تھی احادیث رسول ۖ ظنی السند ہیں اگر ان میں غیر معتبر راویوں نے اس سے متصادم کچھ باتیں کی ہوں تو ان کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہ جاتی ، جبکہ صحاح ستہ اور دیگر مسانید میں میت پر گریہ سے متعلق احادیث موجود ہیں بلکہ یہاں تک ملتا ہے کہ رسول خدا کے سامنے اگر کسی صحابی نے میت پر گریہ کرنے سے روکا تو رسول خدا نے اس صحابی کی سرزنش کی ۔
واقعۂ یوسف کا یہ انتہائی دلچسپ پہلو بھی نظر آتا ہے کہ یوسف کے بھائیوں نے اپنی دانست میں قتل کرنے کے بعد جو رویہ اختیار کیا اس کی روایت قرآن نے کی:(وَجَا ؤُا َبَاہُمْ عِشَائً یَبْکُون)(١٠)''اور وہ شام کو اپنے باپ کے پاس روتے ہوئے آئے '' وہ ظالم بھائی کس پر رورہے تھے ، اس مظلوم بھائی پر !!اگر اس منظر کو محسوس کیا جائے تو واقعی بڑا دلچسپ لطیفہ بن جائے گا ، جس مظلوم بھائی کو بے دردی سے اندھے کنویں میں ڈھکیل دیا تھا ، اپنی دانست میں مار ڈالا تھا یہ سب اسی مظلوم پر رو رہے تھے ! معلوم ہوا خواہ عیاری سے ، خواہ مظالم پر ضمیر کی ملامت سے خواہ جواب دہی کے خوف سے ، خواہ اصل واقعہ پر پردہ ڈالنے کے لئے ... وہ بہر حال رورہے تھے ۔
اس تناظر میں اجماع، استخلاف اور شوریٰ کے مسلم الثبوت خلیفہ یزید ابن معاویہ مظلوم حسین پر رورہے تھے تو اسے برادران یوسف کی پیروی کیوں نہ کہا جائے ....؟
یہ ''مَالِی وَالحُسَین'' ''عِشَائً یَبْکُون''پر گرہ لگائی جارہی تھی۔
اب برادران یوسف کے کردار کا دوسرا رخ بھی ملاحظہ فرمائیے جب حضرت یعقوب اپنے فرزند کی جدائی پر یا ان پر ڈھائے گئے مظالم یاد کرکے رورہے تھے تو انھیں ظالم بھائیوں نے سرزنش کی :(قَالُوا تَاﷲِ تَفْتَُ تَذْکُرُ یُوسُفَ حَتَّی تَکُونَ حَرَضًا َوْ تَکُونَ مِنْ الْہَالِکِین٭ قَالَ ِنَّمَا َشْکُو بَثِّی وَحُزْنِی ِلَی اﷲِ وََعْلَمُ مِنْ اﷲِ مَا لاَتَعْلَمُونَ)(١١)ان ظالم بھائیوں نے اپنے باپ سے کہا : خدا کی قسم آپ برابر یوسف کو یاد کرتے رہیں گے یہاں تک کہ آپ سخت بیمار پڑجائیں گے، یا پھر ہلاک ہوجائیں گے مظلوم پر رونے سے روکنے کی یہ سخت سرزنش سن کر یعقوب نے کہا: میں تو اپنے رنج و غم کی شکایت بس خدا سے کرتا ہوں ، اور جانتا ہوں اللہ کی طرف سے وہ سب کچھ جو تم نہیں جانتے ۔
واضح بات ہے کہ یہ سب کچھ حضرت یعقوب کا والہانہ پن تھا وہ ایک مظلوم کی محبت میں ظالموں کی سرزش بھی برداشت کر رہے تھے رو بھی رہے تھے، ماتم بھی کررہے تھے ، ان کا یہ والہانہ پن اس قدر شدید تھا کہ خود ظالموں کو احساس ہونے لگا کہ اب یہ ہلاک ہوجائیں گے ۔
یہ ظالم کی مشفقانہ نصیحت کس کو تھی ؟ اس معصوم اور صاحب منصب باپ کو ، جس کی سیرت خود ان کے لئے بلکہ تمام امت کے لئے نمونۂ عمل تھی وہ سیرت اس قدر جاندار تھی کہ قیامت تک باقی رہنے والی آئینی کتاب میں جگہ پاگئی، قرآن نے مؤثر انداز میں اس کا تفصیلی تذکرہ کردیا ، باپ کے اس والہانہ پن کو ظالموں نے پہلے ہی محسوس کرلیا تھا اسی لئے باھم گفتگو میں کہا کرتے تھے: ''یقیناً ہمارے باپ تو کھلی ہوئی گمراہی میں ہیں ''ان کے نزدیک یہ گمراہی کیا تھی ؟ اپنے معصوم فرزند سے محبت کا برتائو !اپنے دوسرے فرزندوں کے مقابل امتیازی سلوک ، مظلوم کے محاسن کا بیان ،تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ ابن ابی حاتم سے ایک مخلص دوست نے ایک مرتبہ پوچھا کہ آپ کی بینائی کیوں جاتی رہی ؟فرمایا: میں یوسف پر رو رو کر آنکھیں کھو بیٹھا۔(١٢)
حوالہ جات:
١۔سورۂ نجم٦٠۔٦١۔
٢۔سورۂ واقعہ٨١۔
٣۔سورۂ توبہ٨٢۔
٤۔سورۂ مریم٥٨۔
٥۔کامل الزیارات۔
٦۔ترجمہ تفسیر ابن کثیر ج سوم ص٣٩۔
٧۔سورۂ یوسف ٣۔
٨۔سورۂ یوسف٧٧۔
٩۔سورۂ یوسف٨٤۔
١٠۔سورۂ یوسف١٦۔
١١۔سورۂ یوسف ٧٥،٧٦۔
١٢۔ترجمہ تفسیر ابن کثیرجلد سوم ١١سورۂ یوسف۔

مقالات کی طرف جائیے