مقالات

 

کربلا اور آزادی

سید زائر امام مظفرپوری

آ ج اس ترقی یافتہ زمانے میں تعلیم و تحقیق کے سہارے دنیا کے ہر گوشہ و کنار سے صدائے آزادی بلند ہونے لگی ہے اب کوئی شخص غلامی کی زندگی پسند نہیں کرتا ہر انسان کی زبان پر آزادی کا نعرہ بلند ہے اور اس آواز میں اتنی طاقت پائی جاتی ہے کہ تاناشاہی حکومتیں متزلزل ہوتی نظر آ رہی ہیں اور نظام آزادی ہی کو نئے حاکم کے انتخاب کے لئے معیار قرار دیا جاتا ہے لیکن کیا یہی آزادی کا حقیقی مفہوم ہے کہ تاناشاہوں کی حکومتیں ختم ہو جائیں ان کی ہمالیہ بوس طاقتیں کمزوری و ناتوانی کا شکار ہو جائیں اور انصاف کی صدا بلند کرنے والے حکومت کے ذمہ دار بن جائیں یا پھر آزادی کا مفہوم اصل میں کچھ اور ہی ہے کہ جس کی طرف ہر انسان متوجہ نہیں ہے اور یہ تاریخ حقیقت ہے کہ غلامی کا یہ المناک سلسلہ حضرت آدمعلیہ السلام کے دور سے اب تک جاری ہے کوئی مال کا غلام ہے تو کوئی اولاد کا اسیر ہے کوئی خواہشات نفسانی کا قیدی بنا ہوا ہے تو کوئی حب دنیاکے زندان میں عمر قید کی سزا بھگت رہا ہے کوئی شیطان کے دام غلامی میں مقید ہو کر خود کشی کی منزل تک پہنچ جاتا ہے۔ اس کے باوجود خود کو آزاد خیال تصور کرتا ہے اور اس غلامی کے دلدل سے نکلنے کی کوئی تدبیر نہیں کرتا بلکہ اس زمانے میں فقط اسے غلام کہا جاتا ہے جو اتنا مجبور ہو کہ اس کا خرچ دوسرے کے ذمہ ہو اور اپنے امور انجام دینے میں آزاد نہ ہو۔
حالانکہ اسلام کی پاکیزہ و منصفانہ نگاہوں سے دیکھا جائے تو جسے ہم غلامی سمجھ رہے ہیں وہ دین کی نگاہ میں آزادی ہے اس لئے کہ ہم مادی چیزوں کو دیکھ کر فیصلہ کر دیتے ہیں اور اگر آزادی کا صحیح مفہوم معلوم کرنا ہے تو کربلا والوں کی سیرت کو مد نظر رکھنا ہوگا، انہوں نے جو آزادی کا پیغام دیا ہے وہ یہ ہے کہ انسان چاہے جہاں بھی ہو چاہے جس حالت و کیفیت میں ہو خود کو خدا کا بندہ سمجھتے ہوئے اولیاء الٰہی کی اطاعت و پیروی کرے اور یہی وہ راستہ ہے جس پر انبیاء الٰہی چلتے رہے ہیں اور اس راہ کی تبلیغ کرتے ہیں اس لئے کہ جب انسان خدا کا مخلص بندہ بن جائے گا تو پھر ہر طرح کی غلامی اور ہر قسم کے قید و بند سے آزاد ہو جائے گا حضرت عیسیٰعلیہ السلام نے یہودیوں کے سامنے گہوارے ہی سے یہ اعلان کر دیا کہ میں خدا کا بندہ ہوں مجھے کسی کا غلام نہ سمجھنا لہٰذا میں تم جیسے انسانوں کی طاقت و دولت سے خوف نہیں کھا سکتا، اور ہمارے نبی ۖ نے بھی بت پرستوں کے مقابلے میں اپنے بندئہ خدا ہونے کا اعلان فرما کے انہیں بتا دیا کہ میں تم میںسے کسی کی پیروی نہیں کرنے والا ہوں تم تو طاقت و دولت کے بندے ہو اور میں اس خدا کا بندہ ہوں جو ہر چیز پر قادر ہے اور اس نے مجھے مختار و آزاد بنایا ہے اور جس بلال کو یہ غلام سمجھ رہے تھے وہ غلام ہو کر بھی اسلام کی نگاہوں میں آزاد تھے اور خود ان کا مالک غلام تھا ۔ بلال اپنی آزادی کا اعلان بھی کرتے رہے ''وحدہ وحدہ'' کہ میں تمہارا غلام نہیںمیں تو خدائے واحد کا بندہ ہوں جس نے مجھے آزاد بنایا ہے اورکربلا والوں نے اسی حقیقی آزادی کا پیغام دیا ہے جو رہتی دنیا تک نمونہ عمل ہے مورخین رقم طراز ہیں کہ جب کاروان حسینی منزل حق کی طرف تیزی سے بڑھ رہا تھا تو مقام ثعلبیہ پر امام حسین نے خواب دیکھا بیدار ہونے کے بعد فرمایا میں نے عالم خواب میں صدائے ہاتف سنی ''انتم تسرعون و المنایا تسرع بکم الی الجنة'' تم لوگ بہت سرعت کے ساتھ بڑھ رہے ہو در حالانکہ موت تیزی سے تمہیں جنت کی طرف لے جا رہی ہے۔
حضرت علی اکبر نے عرض کیا: ''یا ابتاہ! أ لسنا علی الحق؟''اے بابا! کیا ہم حق پر نہیں ہیں؟ امام نے فرمایا: ''بلیٰ یا بنیّ والذی الیہ مرجع العباد'' ہاں ہم حق پر ہیں اے میرے بیٹے قسم ہے اس ذات کی جس کی طرف سب کی واپسی ہے، تو علی اکبرعلیہ السلام نے عرض کیا اے میرے بابا ''اذن لانبالی بالموت'' (١)پھر ایسی صورت میں ہمیں موت کی کوئی پرواہ نہیں ہے یعنی جب ہم کسی کے اسیر نہیں بلکہ خدا کے بندے ہیں تو پھر ہمیں موت کا کوئی خوف نہیں ہے اس لئے کہ یہ خدا تک پہنچنے کا وسیلہ ہے موت سے وہ ڈرتا ہے جو بندئہ خدا ہونے کے بجائے دنیا کا اسیر بنا ہو اور آزادی کے مفہوم سے عاری ہو۔
حضرت زہیر بن قین اپنی آزادی کا اعلان ان لفظوں میں کرتے ہیں: ''واللہ لوددت انّی قتلت ثمّ نشرت ثمّ قتلت حتی اقتل ہکذا الف مرّةٍ و انّ اللہ یدفع بذالک القتل عن نفسک و عن انفس ہولاء الفتیان من اہل بیتک'' خدا کی قسم مجھے پسند ہے کہ میں قتل ہو جائوں اور پھر زندہ کیا جائوں اس کے بعد مجھے پھر قتل کر دیا جائے یہاں تک کہ ہزار مرتبہ اسی طرح قتل کیا جائوں ، اگر خدامیرے قتل کے ذریعہ آپ اور آپ کے اہلبیت کے جوانوں کو قتل ہونے سے بچالے۔ (٢)
اسی طرح میدان کربلا میں حنظلہ بن سعد نے آزادیٔ نفس و بندگی خدا کا پیغام دیا ہے اذن جہاد لیتے وقت امام حسین سے فرماتے ہیں ''جعلت فداک أفلا نروح الی ربّنا فتحلق باخواننا'' میں آپ پر فدا ہو جائوں کیا میں اپنے پروردگار کی طرف کوچ نہ کروں تاکہ اپنے بھائیوں سے ملحق ہو جائوں امام نے حنظلہ کے اس جذبۂ بندگی کی تائید کی اور سراہا ''رح الیٰ ما ہو خیر لک من الدنیا و ما فیہا و الیٰ ملکٍ لا یبلی'' جائو اس کی جانب جو تمہارے لئے دنیا سے اور جو کچھ اس میں ہے اس سے بہتر ہے اور ایسی حکومت کی طرف کہ جسے زوال نہیں ہے (٣) حنظلہ کا شوق شہادت اس کی آزادی کی بہترین دلیل ہے۔
خود امام حسین نے بھی ایک مقام پر اپنے تنبیہ آمیز جملے سے حر کو اس کی غلامی کا احساس دلاتے ہوئے آزادی کی دعوت دی جس وقت حر نے امام کے لجام فرس پر ہاتھ ڈالا تو امام نے فرمایا ''ثکلتک امّک ماذا ترید منا'' (٤) تیری ماں تیرے ماتم میں بیٹھے ،تیرا ارادہ کیا ہے؟امام نے اس جملے سے اسے اپنی ماں فاطمہ زہرا علیہا السلام کی عظمت کو یاد دلایا اور اس کی فکر کو جھنجھوڑا کہ تجھے کیا ہو گیا ہے کہ دنیا کی خاطر ابن زیاد کی غلامی میں آکر میرا خون بہا کر خدا کو ناراض کر رہا ہے اور اس کی بندگی کا منکر ہو رہا ہے، حر کے دماغ میں تھوڑا شعور جاگا تو امام نے جب پوچھا نماز کا وقت ہے میرے ساتھ نماز جماعت انجام دو گے یا الگ جماعت قائم کرو گے حر نے جواب دیا فرزند رسول ۖ کے ہوتے ہوئے دوسری جماعت نہیں ہو سکتی دن گذرتے گئے جب شب عاشور حر کو اپنی غلامی کا مکمل احساس ہو گیا اور راہ آزادی بھی دکھائی دینے لگی تو پھر اس نے سوچ لیا کہ اب غلامی کی زنجیریں کاٹ ڈالے لہٰذا امام کی خدمت میں پہنچ کر فریاد بلند کی اے مولا حسین کیا آپ میرا گناہ معاف کر کے مجھے آزادی دلا سکتے ہیں؟ امام نے فرمایا: ''انت حر فی الدنیا و الآخرة'' میں نے تجھے دنیا و آخرت دونوں میں آزادی دے دی چونکہ حسین مالک دنیا و محشر ہیں لہذا اسے آزاد کر کے قیامت تک کے غلاموں کو دعوت فکر دی ہے کہ اگر آزادی چاہتے ہو تو خدا کا بندہ بن کے زندگی بسر کرو اور اسی حالت میں دنیا سے سدھارو۔ میں قربان ہو جائوں مولا کے اس پاکیزہ کلام پر: مجھ جیسا (آزاد انسان) یزید جیسے (غلام زادہ) کی بیعت نہیں کر سکتا۔ اور کربلا کے بعد بھی جو افراد حسینی پیغام پر عمل پیرا ہوکر آزادی کی خاطر اٹھ کھڑے ہوئے اور ظالموں کے سامنے سر نہیں جھکایا وہ اپنے آپ کو اور اپنی پوری ملت کو ایسا آزاد کر گئے کہ آج ساری دنیا کی حکومتیں یہودیت و صہیونیست کی غلام بنی ہوئی ہیں ذلت کے طوق ان کی گردنوں میں پڑے ہیں مگر تنہا ایک ملک ایران رضوی آزاد ہے اور آزادی کی دعوت دے رہا ہے کیونکہ کربلا کے جانثار ان کے آئیڈیل ہیں اور ان کی آزادی منجی بشریت امام مہدی کی سرپرستی کے سایہ میں باقی ہے۔
حوالے:
(١) بحارالانوار ج ٤٤ ص ٣٦٧
(٢) بحارالانوار ج ٤٤ ص ٣٩٣
(٣) بحارالانوار ج ٤٥ ص ٢٣
(٤) ذریعة النجاة ص ١

مقالات کی طرف جائیے