مقالات

 

اجتہاد اور مرجعیت

موضوعات کی اہمیت وضرورت زندگی کے مختلف شعبوں میں وسعت اورنئے مسائل ومشکلات کا وجود میں آناکبھی بھی دین یاالہی مکتب کی نظرسے او جھل نہیں رہاہے۔ ایسادین جوہمیشہ رہنے والا اور آسمانی ہو، جوانسانی ضروریات کو آفاقی نظروں سے دیکھتاہواورانسان کوانتہائی گہرائی اورعمق عطاکرے توایسانہیں ہوسکتاکہ انسانی زندگی کے تحولات وتغیرات اس کے منظورنہ بوں۔
ایسے دین کی جاودانگی اوربقاؤودوام اس صورت میں ہے کہ اس کے قواعد کلی ہوں، اس کے اہداف دائمی اورروشن ہوں جوآنے والے ادوارکے حالات اور شرائط اورنئے موضوعات پرمنطبق ہوتے ہوں۔ اس امرکو ”تفقہ فی دین“ یااجتہاد کہاجاتاہے جودین کے بقا کی رمزہے۔ شہید مطہری فرماتے ہیں :
”خاتمیت (زمانہ ختم نبوت(ص)) کے زمانے میں اجتہادیاتفقہ فی الدین پرانتہائی حساس اور بنیادی فریضہ عائد ہوتاہے اوریہ اسلام کے زندہ و جاوید رہنے کے امکان کی شرائط میں سے ہے۔
اجتہاد کوجواسلام کی قوت محرکہ کہاگیاہےبہت صحیح ہے عالم اسلام کے عظیم فلسفی ابن سینا اس مسئلہ کویوں بیان کرتے ہیں ”اسلامی کلیات ثابت، غیر متغیر اور محدود ہیں لیکن حوادث اورمسائل لامحدوداور متغیرہیں ۔ ہرزمانے کے اپنے مخصوص تقاضے اورمخصوص مسائل ہوتے ہیں پس اسی لئے ہرزمانے میں کچھ ایسے متخصص افرادکی ضرورت ہے جواسلام کی کلیات سے واقف ہوں اورجدید مسائل وموضوعات سے آگاہ ہوں۔ یہ افراداجتہاداورجدیدمسائل کے احکام کی اسلامی کلیات سے استنباط کی صلاحیت رکھتے ہوں ۔
میری نظرمیں اسلام کے معجزات مین سے ایک اجتہادکی خصوصیت ہے … یہ اسلام کی خصوصیات میں سے ہے کہ بعض امورکوزمانے کی ضرورت کے مطابق بدل دیتاہے اورتبدیل شدہ ضرورت کومستقل غیر متغیر وثابت ضروریات سے متصل کردیتاہے گویاہرمتغیرحاجت ایک ثابت ضرورت کے ساتھ وابستہ ہے۔ فقط مجتہد اورفقیہ چاہتاہے کہ اس ارتباط کوکشف کرے اورپھرحکم اسلام کوبیان کرے یہی اسلام کی قوت محرکہ ہے ۔
یہاں بہت سارے سوالات اٹھتے ہیں:
اجتہاد کیسے حاصل ہوتاہے؟
ایک مجتہد کی کیاخصوصیات ہونی چاہئیں؟
دین سے باہرکون سے عوامل ہیں جومجتہدکی ذہنیت پراثراندازہوتے ہیں؟
مجتہد کے فرائض اورمنصب کیاہیں؟
مجتہد کے متابل لوگوں کی کیاشرعی ذمہ داری بنتی ہے؟
عوام مجتہدکی شناخت کیسے کریں؟
لوگ مجتہدسے اپنی شرعی ذمہ داریوں کوکیسے معلوم کرتے ہیں؟
اور اسی قسم کے دسیوں سوالات ہیں ۔ تاریخ کے مختلف ادوارمیں ان سوالات میں اضافہ ہوتارہتاہے انہی سوالات نے اجتہاداورمرجعیت“ کی ابحاث کے لئے زمین ہموارکی ہے۔
یہاں ابتداء میں دونکتوں کی طرف توجہ کی ضرورت ہے۔
1۔ یہاں ہماری بحث شیعہ دائرہ تفکراورنکتہ نظرسے ہوگی۔ لہذااہل سنت کے ہاں اجتہاد کے مسائل وموضوعات اورمنابع کاذکرہم کسی اورمناسب فرصت میں کریں گے۔
2۔ ہماری بحث کے عناوین کاتعلق اجتہادومرجعیت سے مربوط دین کی اندرونی بحاث سے ہوگا۔
لہذا بعض کلامی یاسماجیات سے مربوط موضوعات سے ہم صرف نظرکریں گے اگرچہ ہم یقین رکھتے ہیں کہ ان کی اہمیت بھی دین کی اندرونی بحثوں سے کمتر نہیں ہے اورصاحبان فکرونظرکوان کی طرف بھی توجہ کرنی چاہئے۔

اجتہاد و مرجعیت کاماضی
پیامبرگرامی اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اوآئمہ ہدی علیہم السلام کے زمانے میں کیااجتہادموجودتھا؟
اس کے بارے میں شک وتردیدکیاگیاہے لیکن بہت سارے شواہدوقرائن موجودہیں کہ اس زمانے کے مسلمانوں میں یہ مسئلہ موجودتھا۔
اس سلسلے میں قرآن کریم کی آیہ نفر کے علاوہ معصومین علیہم السلام کے قول اوران کی تقریر(معصوم کے سامنے کوئی عمل انجام دیاجائے تووہ سکوت اختیار فرمائیں جوان کی رضایت کی دلیل ہے) میں اس کے بہت سے نمونے ملتے ہیں۔
اس سلسلے میں ہم فقط بعض ارشارات پراکتفاکریں گے۔ رسول اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بعض اصحاب کے اجتہادکوصحیح قراردیتے ہیں اوران کی تائیدفرماتے تھے ۔
آئمہ ھدی علیہم السلام اپنے اصحاب کواس امرکی طرف مختلف طریقوں سے ترغیب دلاتے تھے بطورمثال:
الف) ہمارافریضہ ہے کہ تمہارے لئے اصول بیان کریں اورتم پرہے کہ ان سے فروعات حاصل کرو ۔
ب) اصحاب کوفتوی دینے کاحکم دیاجیساکہ حضرت علی علیہ السلام نے قثم بن عباس کوفرمان دیا ۔
ج) لوگوں کومختلف فقہاء کی طرف رجوع کرنے کاحکم دیناجیساکہ ابوبصیراسدی۔ زکریابن آدم محمدبن مسلم یونس بن عبدالرحمن عبدالملک بن جریح زرارہ بن اعین حارث بن مغیرہ ۔
د) بعض احکام کے استنباط کی کیفیت قرآن حکیم سے بیان کرناجیسے سراورپاؤں کے مسح کاحکم 14 جبیرہ پر مسح کاحکم حیض کی عمرکابیان
اس کے علاوہ بھی بعض دیگرشواہدوقرائن موجودہیں جواس زمانے میں اجتہادپردلالت کرتے ہیں مثلا:
الف) بغیرعلم کے فتوی دینے سے منع فرمایا
ما انزل اللہ“ کے علاوہ حکم دینے سے منع فرمانا ۔
ابن ندیم نے بھی اس زمانے کے بعض شیعہ فقہاء کاذکرکیاہے ۔
اگرچہ اس زمانے تک شیعوں میں اجتہادتورائج تھا لیکن اس سلسلے میں کوئی تصنیف یاتالیف نظرنہیں آتی۔
غیبت صغری کے زمانے میں بعض احادیث کے مجموعوں کی تدوین کاسلسلہ شروع ہوا۔
اس زمانے سے اب تک اجتہادکے مسائل کی تفصیل یوں رہی ہے۔
سید مرتضی علم الہدی (436ہ.ق) کی کتاب ”الذریعہ الی اصول الشریعة“ کسے لے کرآخوند محمد کاظم خراسانی (1329ہ.ق) کی کتاب کفایة الاصول تک ان کتابوں میں اجتہاد تقلید پربحث ہوئی ہے۔

ب) استدلالی فقہ پرکتابیں
ان کتابوں میں امربمعروف اورنہی ازمنکرکی بحث اورقضاوت میں فقیہ جامع الشرائط پراختصارسے بحث ہوئی ہے اس سلسلے کی چندکتابیں یہ ہیں:
1۔الروضة البھیة فی شرح اللمعة الدمشقیة ج1کتاب القضا۔ص277، 278۔
2۔شرائع الاسلام ج1ص344۔
3۔قواعدالاحکام ج1 ص119۔
4۔جامع المقاصد ج3ص490اور۔۔۔۔
البتہ بعض اوقات کتاب کے مقدمہ (پیش لفظ) میں اجتہاداورفتوی کے بعض مسائل کی طرف اشارہ ہواہے اس سلسلے کی ایک کتاب بطورمثال”ذکری الشیعہ“ شہیداول کی تالیف ہے۔

ج) "عروة الوثقی" پراستدلالی شرحیں
سید محمد کاظم طباطبائی یزدی(1337) کی تالیف عروة الوثقی جب سے فقہ میں تدریس وتالیف کامحوربنی ہے فقہ کی بحثوں میں ”اجتہادتقلید“ کی بحث اولین قرار پائی ہے اس کی مثالیں مندرجہ ذیل کتابیں ہیں:
آیت اللہ العظمی سیدمحسن حکیم 1390کی کتاب” مستسمک العروة الوثقی“
آیت اللہ العظمی خوئی 1412کامجموعہ دروس التنقیح فی شرح العروة الوثقی اور
آیت اللہ علی صافی گلبائگانی کی کتاب ”ذخیرة العقبی فی شرح العروة الوثقی“ یہ چنداہم اورنمایاں شرحیں ہیں ۔

د) مستقل عنوان کے طورپر
دسویں صدی ہجری کے بعدسے ”الاجتہاد التقلید“ کے موضوع پرمستقل کتابیں نظرآتی ہیں۔ شیخ آغابزرگ تہرانی نے الذریعہ میں انیس کتابوں کاذکر کیاہے۔

ھ) رسالہ عملیہ (توضیح المسائل)
”رسالہ ہای عملیہ“ جن میں مراجع عظام کے فتوے ہوتے ہیں ان میں جناب شیخ اعظم انصاری سے مابعد”اجتہادتقلید“ کے مسائل کاآغازہوابطورمثال:
رسالہ سراج العباد“ شیخ جعفرشوشتری (م1303)

و) مرجعیت کے موضوع پرمستقل کتاب
گذشتہ عشروں میں مرجعیت کے موضوع پربعض ایسی تحقیقی کتابیں سامنے آئی ہیں جن میں فقہی اوراستدلالی کی بجائے معاشرتی رنگ غالب ہے۔
بطورمثال یہ کتابیں ہیں: ”المعالم الجدیدة المرجعیة الشیعة“ ”بحوث فی خط المرجعیة“ وغیرہ۔
اجتہادومرجعیت کے باب مین یہ مختصری تاریخ اس کے تکامل کی طرف اشارہ ہے ۔

تحقیق کی ضرورت
اس مئلے کی تاریخ بتاتی ہے کہ علمائے علم اصول اورفقہاء کی توجہ اس مئلے پررہی ہے لیکن پھربھی بعض ابہامات کی وجہ سے اس میں جدیداورسنجیدہ تحقیق کی ضرورت ہے یہاں ہم بعض مسائل کاذکرکرتے ہیں۔
الف) بعض فقہاء اورمحققین کی نظرمیں ”اصطلاحی اجتہاد“ جدیدضروریات کاوسیع سطح پرحل پیش نہیں کرتاپس مطلوب اجتہادکی تفسیروتشریح کی ضرورت ہے۔
اس سلسلے میں امام خمینی فرماتے ہیں”یہی وجہ ہے کہ حوزہ علمیہ میں اصطلاحی اجتہادکافی نہیں ہے بلکہ اگرچہ ایک شخص حوزہ علمیہ کے رائج علوم میں اعلم ہو(تسلط رکھتاہو) لیکن معاشرے کی مصلحتوں کی تشخیص نہ دے سکتاہو، اسی طرح صالح انسانوں کی غیرصالح افرادسے تشخیص نہ دے سکتاہو، کلی طورپراگریہ شخص صحیح بصیرت نہ رکھتاہواورفیصلے کی صلاحیتواستعدادبھی نہ رکھتاہوتویہ شخص حکومتی اورمعاشرتی مسائل میں مجتہدنہیں ہے اورنہ ہی معاشرے کی زمام امورسنبھال سکتا ہے“
شہید مطہری فرماتے ہیں”اتفاقااجتہادان مسائل میں سے ہے جن کے بارے میں یہ کہاجاسکتاہے کہ اپنی روح کھوچکے ہیں لوگوں کاخیال یہ ہے کہ اجتہادکامعنی اورمجتہدکافریضہ یہ ہے کہ وہ ان مسائل میں لوگوں کی راہنمائی کرین جن کاحکم ہرزمانے میں ایک ہی رہاہے مثلایہ کہ تیمم کے لئے زمین پرایک ضرب لگاناکافی ہے یاد ومرتبہ ایساکرناضروری ہے؟ ایک مجتہدکہے”اقوی“ ایک ضرب لگاناہے جب کہ دوسراکہے”احوط“ دوضرب لگاناہے یااسی طرح کے دیگرمسائل جب کہ ان کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہے جوچیزاہمیت رکھتی ہے وہ نئے اورجدیدمسائل ہیں جوہرروزپیداہوتے ہیں یہ دیکھناچاہئے کہ یہ مسائل کن اسلامی اصولوں سے مطابقت رکھتے ہیں ۔
جناب محمد رضا حکیمی نے بھی اصطلاحی اجتہاداورمطلوب میں تفکیک وامتیاز پرزوردیاہے ۔
یایہ کہ اجتہاد کے لئے ضروری ہے کہ دین کے اہداف کی طرف توجہ کی جائے اوراس سلسلے میں اس نکتے کوانتہائی زیادہ اہمیت دیتے ہیں
ب) اجتہادومرجعیت کے باب میں نئے موضوعات کانمودارہوناجیسے اجتماعی فتوی(فتوی میں مجتہدین کی مشاورت) اقتداراورمرجعیت میں رابطہ، مرجعیت کی مرکزیت یاتعدادیااس طرح کے دیگرمسائل۔
ج) گذشتہ آراء ونظریات پربعض شبہات کاوجودجیسے کیاکیامرجع تقلیدکے لئے مرد ہونا شرط ہے توضیح المسائل لکھنے کی روش پربعض اعتراضات وغیرہ۔
د) موجودہ زمانے کے سیاسی وسماجی حالات اورارتباطات کی دنیامیں انتہائی تیزی وسرعت یہ وہ چیزیں جوقابل انکارنہیں ہیں ایسے حالات مین ضرورت ہے کہ حوزہ ہای علمیہ میں ایک انتہائی متعادل اورتحقیقی فضاقائم کی جائے۔

مختلف ابواب میں تقسیم

پہلاحصہ : کلیات
الف: مختلف اصطلاحات کی تشریح وتفسیرمثلافقہ، تفقہ، فتوی، افتا، اجتہاد، تقلید، مرجعیت، استنباط وغیرہ۔
ب: ان اصطلاحات کی شیعہ لغت میں آنے کی تاریخ :
ج: اجتہاد کی تاریخ :
د: اجتہاد و تقلید کی بنیادی بحثیں جیسے عقلاکی سیرت یاشریعت اورعقل۔

دوسراحصہ: اجتہاد
الف: اجتہاد کی ضرورت۔
ب: اجتہاد کے لئے لازمی علوم۔
ج: اجتہاد میں مؤثرعوامل۔
د: اجتہاد مطلق یا ہرشعبے میں جدااجتہاداورتخصص۔
ھ: مجتہد اور مختلف موضوعات کاتخصص۔

تیسراحصہ: مرجعیت
الف: مرجعیت کی شرائط جیسے اعلم ہو، مردہو۔ وغیرہ۔
ب: مرجع کے بعض عہدے اوراختیارات۔
1۔ افتا۔
2۔ قضاوت ۔
3۔ رہبری
4۔ وجوہات (خمس) ۔
5۔ مرجعیت کی مرکزیت یاتعدد ۔
6۔ مرجعیت اور رہبری
7۔ مرجع تقلید کی شناخت کے راستے۔

ج: توضیح المسائل
1۔ اس کی تاریخ وماضی۔
2۔ توضیح المسائل کے موجودہ روشیں۔
3۔ حقیقی یامطلوب روش 4۔حاشیہ یاتعلیقہ نویسی شوری
د: افتا (فتوی میں مشاورت)
1۔ اس کی ضرورت
2۔ رکاوٹیں
3۔ دارالافتا

چوتھاحصہ : تقلید تقلید کا جوازیاضروری ہونا۔
اس سلسلے میں تین طرح کے ماخذکاذکرکر یں گے:
الف۔ اس باب میں مستقل کتابیں
ب۔ علم اصول کی کتابوں میں اجتہاد و تقلیدپربحث۔
ج۔ مقالات۔

الف ۔ مستقل کتابیں
1۔ اجتہاد والفتوی فی عصرالمعصوم وغیبتہ، محی الدین موسوی غریفی، دارالتعارف، بیروت، 1398قمری 135ص، عربی۔
2۔ اجتہاد والتقلید، ابوالقاسم بن زین العابدین، چاپ دوم، چاپ خانہ سعادت، کرمان، 293ص۔
3۔ الاجتہاد والتقلید، سیدرضاصدردارالکتب، بیروت، 1976م، 501ص عربی۔
4۔ الاجتہاد والتقلید، احمدآذری قمی، 2ج، دارالعلم، قم، 1373، 314۔399ص، عربی۔
5۔ اجتہاد والتقلید، علی رحمانی سبزواری، کنگرہ شیخ اعظم انصاری، قم، 1373، 36ص۔
6۔ الاجتہاد والتقلید، مرتضی اردکانی یزدی، مولف، قم، 1370 ش، 116ص، عربی۔
7۔ الاجتہاد والتقلید، ازنظرشیخ اعظم انصاری، عبدالجوادابراہیمی، کنگرہ شیخ انصاری، قم، 1373، 47ص۔
8۔ الاجتہاد والتقلید، دراسلام وشیعہ علامہ سیدمحمدحسین طباطبائی، رسالت، 45ص۔
9۔ الاجتہاد والتقلید وشئون الفقیہ، محمدمہدی الاصفی، التوحید، قم، 1410، 99ص۔عربی
10۔ الاجتہاد والمنطق الفقیہ فی السلام، مہدی فضل اللہ، دارالطلیعة، بیروت، 1987م، 340ص، عربی۔
11۔ ادوار اجتہاد، محمدابراہیمی جناتی، کیھان، تہران، 1372، سیزدہ۔523ص۔
12۔ اسلام ومقتضیات زمان، شہیدمرتضی مطہری، صدراقم، ج1، ص299۔242، ج2، ص33و93۔
13۔ الاسلام یقود الحیات، محمدباقرالصدر، دارالتعارف، بیروت، 1410ق، 1990 م، ص13۔25، عربی
14۔ امام راحل وفقہ سنتی، محمدمحمدی گیلانی، موسسہ تنظیم ونشرآثارامام خمینی، تہران، 193ص۔
15 ۔ بینش وروش اجتہاد درمکتب شیخ انصاری، مہدی ہادوی، کنگرہ شیخ انصاری، قم، 1373، 44ص۔
16۔ تاریخ الفقہ والاجتہاد من وجھة النظرالشیعہ، محمدصادق الجعفری، کنگرہ شیخ انصاری، قم، 1373، 43ص، عربی
17۔ تفصیل الشریعہ فی شرح تحریرالوسیلہ، محمدفاضل، مطبعہ مہر، قم، 1399ق، 299 ص، عربی۔
18۔ تقلید، حسن طاہری خرم آبادی، انتشارات جامعہ مدرسین، قم، 40ص۔
19۔ التقلید، شیخ مرتضی ا نصاری، کنگرہ شیخ انصاری، قم، 1415ق، 96ص، عربی۔
20۔ تقلید چیست؟، علی مشکینی، یاسر، قم، 103ص،
21۔ التنقیح فی شرح العروة الوثقی، سیدابوالقاسم الخوئی، مقرر، مرزاعلی غروی تبریزی، موسسہ آل البیت، قم، ج1، ص440، عربی۔
22۔ التنقید الاحکام التقلید، مرزاابوطالب، تہران، 1316ق
23ـ الرای السدید فی الاجتہاد و التقلید، السید ابوالقاسم الخوئ، مقرر: غلام رضا عرفانیان الیزدی، چاپ دوم: المطبعہ العلمیہ، قم، 1411، 7 22 ص، عربی.
24ـ الرسائل، الامام الخمینی، ج 2، چاپخانہ مہر، قم، ص94-172، عربی.
25ـ رسالہ علمیہ (تقلید، مرجعیت، رہبری) ، احمد آذری قمی، ج 1، مکتبہ ولایت فقیہ، 1373، 204ص.
26ـ شورای الفقہاء، مرتضی شیرازی، مؤسسہ الفکر الاسلامی، بیروت، 1411 ق، 510 ص، عربی.
27ـ فلسفہ اجتہاد و تقلید، علی دشتی، مؤسسہ امام صادق(ع) ، قم، 126ص.
28ـ مسائل الاجتہاد و التقلید، حسین نوری ہمدانی، مکتب المؤلف، قم، 1415ق، 176 ص، عربی.
29ـ مسألہ اجتہاد و تقلید، مدرسہ الامام امیرالمؤمنین قم، 37 ص.
30ـ مطارح الانظار، تقریرات الشیخ الاعظم الانصاری، مقرر: ابوالقاسم کلانتری، مؤسسہ آل البیت، قم، ص 252، 307، عربی.
31ـ منابع اجتہاد، محمد ابراہیم جناتی، کیہان، تہران، 1370، 415 ص.
32ـ النظرہ الخاطفہ فی الاجتہاد، محمد اسحاق الفیاض، مؤسسہ دار الکتاب، قم 1413، 93 ص، عربی
33ـ نقش علوم تجربی در اجتہاد، محسن غرویان، کنگرہ شیخ انصاری، قم، 1373، 16ص.
34ـ ہمراہ با تحول اجتہاد، شہید محمدباقر صدر، انتشارات روزبہ، تہران، 36ص.

ب۔ اجتہاد و تقلید کی بحث علم اصول کی کتابوں میں
1ـ الذریعہ الی اصول الشریعہ، سید مرتضی، ج2، دانشگاہ تہران، تہران، 1363، ص 792، عربی.
2ـ عدہ الاصول، محمد بن الحسن الطوسی، ج 2، بمبئی، 1312ق، ص113-177، عربی
3ـ معارج الاصول، المحقق الحلی، مؤسسہ آل البیت، قم، 1403ق، ص177، عربی.
4ـ مبادی الوصول الی علم الاصول، علامہ حلی، مکتب الاعلام الاسلامی، قم، 1403، ص239، عربی.
5ـ تہذیب الوصول الی علم الاصول، علامہ حلی، تہران، ص99، 107، عربی.
6ـ القواعد و الفوائد، ج1، شہید اول، مکتبہ المفید، قم، ص 315، عربی.
7ـ ذکری الشیعہ، شہید اول، مکتبہ بصیرتی، قم، ص2.
8ـ تمہید القواعد، شہید ثانی، مکتبہ بصیرتی، قم، ص45.
9ـ رسالہ اصول فقہ فارسی، ابوالفتح شریفی گرگانی، شرکت انتشارات علمی و فرہنگی، تہران، 1367، ص233.
10ـ معالم الدین، جمال الدین الحسن بن زین الدین، مطبعہ الاداب، نجف، 1391، ص455، عربی.
11ـ زبدہ الاصول، بہاء الدین محمد العماملی، تہران، 1319ق، ص115-124، عربی.
12ـ الوافیہ، فاضل التونی، مجمع الفکر الاسلامی، قم، 1412، ص241-308، عربی.
13ـ ہدلیہ الابرار الی طریق الائمہ الاطہار، حسین بن شہاب الدین الکرکی، بغداد، 1396، ص298، عربی، (محقق کرکی کے علاوہ ہیں) .
14ـ الاصول الاصلیة، محمد محسن الفیض الکاشانی، دانشگاہ تہران، 1390ق، ص147، عربی.
15ـ سفینہ النجاہ، محمد محسن فیض کاشانی، ترجمہ محمد رضا تفرشی، ص70-124.
16ـ الدرہ النجفیہ، یوسف البحرانی، 1314ق، ص255-258، عربی.
17ـ تجرید الاصول، مولی مہدی النراقی، 1317ق، ص230، عربی.
18ـ کشف الغطاء، جعفر کاشف الغطاء، انتشارات مہدوی، اصفہان، ص41، عربی.
19ـ الحق المبین، جعفر کاشف الغطاء، ص61، عربی.
20ـ قوانین الاصول، میرزا ابوالقاسم القمی، ج2، انتشارات الاسلامیہ، تہران، ص93، عربی.
21ـ مفاتیح الاصول، السید محمد الطباالطبایی, موسسہ آل البیت، قم، ص 634-569، عربی.
22ـ الاصول الاصلیہ، عبداللہ الشبر، مکتبہ المفید، قم، 1404ق، ص228-284، عربی.
23ـ مناہج الاصول، مولی احمد النراقی، 1262 (صفحہ نمبر نہیں ہے) ، عربی.
24ـ ہدلیہ المستر شدین، محمد التقی الاصفہانی، مؤسسہ آل البیت، قم، ص463، عربی.
25ـ الفصول، محمد حسین بن عبدالرحیم الاصفہانی، 1305، ص385-431، عربی
26ـ ضوابط الاصول، سید ابراہیم قزوینی، 1275، عربی.
27ـ نتایج الافکار، سید ابراہیم قزوینی، بمبئی، ص216-235، عربی.
28ـ القواعد الشریفہ، محمد شفیع، ص 359، 1377، عربی.
29ـ حقائق الاصول، عبدالرحیم النجفی الاصفہانی، عربی.
30ـ حل العقود و لعقد الفحول، محمد باقر بن مرتضی الطباالطبائی، 1291، ص54، عربی.
31ـ ہدلیہ الاصول، محمد باقر الموسوی الاصفہانی، مطبعہ علمیہ، قم، 1384، ص 159-206، عربی.
32ـ درر اللئالی، محمدرضا الموسوی الشیرازی، 1274ق، عربی.
33ـ قوامع الاصول، محمد العراقی النجفی، ص518-567، عربی.
34ـ الرسائل، محمد بن ابراہیم الکلباسی، عربی.
35ـ تشریح الاصول، ملاعلی النہاوندی، 1316ق، ص285، عربی.
36ـ مقاصد اصول، محمد حسن شریعت، تہران، 1317ش، ص96.
37ـ حاشیہ القوانین، جواد الطارمی، ج2، 1306 ق، ص232، عربی.
38ـ کفایہ الاصول، محمد کاظم الاخوند الخراسانی، مؤسسہ آل البیت، قم، 1409ق، ص463، عربی.
39ـ العناوین، محمد مہدی الکاظمی الخالصی، ج 2، مطبعہ دارالسلام، بغداد 1342، ق، ص81، عربی.
40ـ مقالات الاصول، ضیاء الدین العراقی، ج2، مکتبہ المصطفوی، تہران، 1349ق، ص201، عربی.
41ـ نہایہ الافکار، ضیاء الدین العراقی، ج4، مؤسسہ النشر السلامی، قم، 1405، ص215، عربی.
42ـ نہایہ الدرایہ محمد حسین الاصفہانی، ج 3، انتشارات مہدوی، اصفہانی، ص22-191، عربی.
43ـ بحوث فی الاول، محمد حسین الاصفہانی، مؤسسہ النشر الاسلامی، قم، 1409، رسالہ سوم، عربی.
44ـ ملاک اصول استنباط، محسن شفائی، ج3، دارالکتب الاسلامیہ، تہران، 1383، ص94.
45ـ اصول معتبرہ، محمد حسین الرضوی الکاشانی، شرکہ طبع الکتاب، تہران، 1383، ص299.
46ـ منتہی الاصول، حسن البجنوردی، ج2 بصیرتی، قم، ص618، عربی.
اس سلسلے میں جوشر حیں لکہی گئی ہیں ان سے ہم صرف نظر کررہے ہیں.

ج۔ مقالات
1ـ اجتہاد در تشیع، حوزہ، ش5، ص23-11.
2ـ الاجتہاد فی الشریعہ، محمدعلی الطباطبائی، رسالہ الاسلام، سال2، ص428، عربی.
3ـ الاجتہاد فی نظر الاسلام، محمد جواد مغنیہ، رسالہ الاسلام، سال4، ص28، عربی.
4ـ اجتہاد و تاریخ آن علیرضا فیض، مقالات و بررسیہا، ش41-42، ص53-98.
5ـ اجتہاد و منابع آن، مشکاہ، ش9، ص69-95.
6ـ آزادی تفکر(اجتہاد در فروع) ، حوزہ، ش27، ص97.
7ـ بازنگری اجتہاد و فقہ، حوزہ ش27، ص3-17.
8ـ بانگ رحیل، حوزہ، ش28، ص3.
9ـ تاریخ تطور اجتہاد، عباس مخلصی، فقہ، کتاب اول، ص122.
10ـ تحقیق در نظریہ اجتہاد، علی عابدی شاہرودی، کیہان اندیشہ، ش24، 26، 27، 30، 31، 32، 33، 34، 36..
11ـ حول الاجتہاد فی الاسلام، عبدالعزیز الخیاط، التوحید، ش69.
12ـ السمات المطلوبہ للمجتہد فی الحکومہ الاسلامیہ، محمد ابراہیم جناتی، الفکر الاسلامی، ش6، ص41، عربی.
13ـ سیرتاریخی تقلید از علم، محمد ابراہیم جناتی، کیہان اندیشہ، ش6، ص17.
14ـ مصادیق اعلام از آغاز غیبت کبری تاکنون، محمد ابراہیم جناتی، کیہان اندیشہ، ش7، ص10.
15ـ منابع اجتہاد در فقہ شیعہ و اہل سنت، ناصر مکارم شیرازی، نور علم، ش10، 12، 13، 15.
16ـ نامہ، محمد رضا حکیمی، آینہ پژوہش، ش9، 10، 11.
17ـ ندوہ الاجتہاد فی الشریعہ الاسلامیہ، مہدی محقق، علی موسوی، التوحید، ش69، عربی.
18ـ نظریہ تعین تقلید از مجتہد اعلم، محمد ابراہیم جناتی، کیہان اندیشہ، ش51، ص101.
19ـ نظریہ شوری مرجعیت، رہنمون، ش7، ص116.
20ـ نقد متدہای فقہی و آموزشی حوزہ، کیہان اندیشہ، ش22، ص6.
21ـ نقد نظریہ عدم تعین تقلید از اعلم، عباس ظہیری، کیہان اندیشہ، ش55، ص51.
22ـ نقد و نظر(ویژہ مبانی اجتہاد) ، سال اول، شمارہ اول.
23ـ نقش دو عنصر زمان و مکان، دراستنباط. عباس حسینی، کیہان اندیشہ، ش32. ص36.
24ـ نگاہی دیگر بہ اجتہاد، حوزہ، ش42، ص27.
25ـ ویژگیہای اجتہاد و مرجع تقلید در پیامہای امام خمینی، پاسدار اسلام، ش62، ص10.

مرجعیت

یہاں جن ماخذکا ذکر کیا جارہاہے ان میں فقہی ابحاث کم ہیں اور مرجعیت کو بحیثت ایک عظیم ادارے(institution) کے بحث کیا گیا ہے۔

الف۔ کتب
1ـ بحوث فی خط المعرجیہ، صدر الدین القبانچی، چاپ دوم: 1405ق/1983م، 159ص، عربی.
2ـ بحثی دربارہ مرجعیت و روحانیت، سید محمد حسین طباطبایی و دیگران، چاپ دوم: تہران، شرکت سہامی انتشار، 8+261ص.
3ـ تشکیلات مذہب شیعہ، ابومحمد وکیلی قمی، تہران 1345، 172ص.
4ـ الحیاہ، محمدرضا حکیمی و دیگران، چاپ سوم، قم، انتشارات جامعہ مدرسین، 1360، ج2، ص370-349، عربی.
5ـ مرجع کیست و اختیارات او چیست؟ ، احمد آذری قمی، 1372، 32ص.
6ـ المرجعیہ الدینیہ العلیا عند الشیعہ الامامیہ، حسین معتوق، بیروت دارالہدی، 1390ق، 1970م، 59ص، عربی.
7ـ المعالم الحدیدہ للمرجعیہ، سلیم الحسینی، نشر توحید، 1413ق/1992م، 208ص، عربی.
8ـ چگونگی مرجعیت و نشر فتاوی شیخ اعظم انصاری، سید محمدعلی روضاتی، قم، دبیرخانہ کنگرہ و شیخ انصاری، ، 16ص.

ب۔ مقالات
1ـ اجتہاد و مرجعیت زنان، مینا یادگار آزاید، زنان، سال اول، ش8، ص24.
2ـ اسس المرجعیہ الدینیہ والمقترحات حولہا، التوحید، ش71.
3ـ بررسی مسایل مرجعیت و رہبری در جہان اسلام، حوزہ، ش45، ص185.
4ـ حوزہ(ویژہ مرجعیت) ، ش56-57.
5ـ حوزہ و مرجعیت، آئینہ پژوہش، سال چہار، ش22، ص2.
6ـ رہبری و مرجعیت، محمدعلی موحدی کرمانی، پاسدار اسلام، ش22، 1362، ص24.
7ـ زن و مرجعیت، محمد حسین نجفی، فقہ(کتاب اول) ، 1372، ص29.
8ـ لزوم مرجعیت واحد برای جامعہ اسلامی، امامی مقدم، حوزہ، ش45، ص181.
9ـ مرجعیت بعد از فوت حضرت آیہ اللہ بروجردی، یاد، ش11، ص47.
10ـ نقدتیوری تفکیک مرجعیت از رہبری، سیدکاظم حائری، کیہان اندیشہ، ش22، ص33.
11ـ نقش امام خمینی در مرجعیت عامہ آیہ اللہ بروجردی، محمد دہقانی آرانی، حضور، ش1، ص38.
12ـ مرجعیت و تشکیلات حوزہ، انٹرویو آیہ اللہ سید ابوالقاسم کاشانی، حوزہ، ش42، ص44
نقل از http://www.erfan.ir

مقالات کی طرف جائیے