مقالات

 

ولایت فقیہ، اہمیت وضرورت کی روشنی میں

سید شاہد جمال رضوی گوپال پوری

تمہید
دین اسلام انسانوں کو ہر قسم کی ذلت و غلامی سے نجات دلانے کے لئے اور ان کے درمیان سماجی انصاف برقرار کرنے کے لئے آیاہے ، مادی اور طبیعی ضرورتوں کو پورا کرنے کے علاوہ روحانی اور معنوی پہلوؤں سے بھی انسانوں کی تربیت کرتاہے تاکہ انسانی معاشرے کو عدالت اور اخلاق کی بنیادوں پر تعمیر کرے ۔
یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ معاشرے میں قانون کے نفاذ اور حکومت کی تشکیل کے بغیر ہم مذکورہ اہداف تک نہیں پہنچ سکتے ، اسی لئے رسول اکرم(ص) نے بھی مدینہ کی طرف ہجرت کرکے سب سے پہلے حکومت تشکیل دی، ائمہ معصومین نے بھی یہی کوشش کی کہ معاشرے کی قیادت اپنے اختیار میں رکھیں ۔ظاہر ہے معصومین علیہم السلام کی سعی و کوشش کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس نتیجہ پر پہونچنا قطعی آسان ہوجاتاہے کہ عصر حاضر میں بھی اسلامی حکومت قائم ہونی چاہئے تاکہ خدا کا دین معاشرے میں نافذ ہوسکے ، اس بات کو ثابت کرنے کے لئے کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہے ، خود اسلام کے احکام سے معلوم ہوتاہے کہ احکام کو نافذ کرنے کے لئے حکومت اور قیادت کی ضرورت ہے ۔
امام معصوم کی عدم موجودگی میں اسلامی حکومت اور مذہبی قیادت کا ایک نام''ولایت فقیہ '' ہے ، اس کے ذریعہ سے اسلام کے احکامات و دستورات کو نافذ کیاجاسکتاہے ۔آئیے مندرجہ ذیل سطور میں ولایت فقیہ کی اہمیت و ضرورت کا سرسری جائزہ لیاجائے ۔

معاشرے میں ولایت فقیہ کی ضرورت
انسانی معاشرہ مختلف افراد سے تشکیل پاتا ہے؛ ہر فرد کے الگ الگ مفادات، دلچسپیاں اور ذائقے ہوتے ہیں جو ایک دوسرے سے بالکل مختلف، متعارض اور بعض مواقع پر متضاد ہوتے ہیں چنانچہ اس کے لئے حکومت کی ضرورت ہوتی ہے۔ انسانی معاشرہ چاہے بہت مختصر اور ایک قبیلے یا ایک گائوں میں رہنے والے افراد کی حد تک ہی محدود کیوں نہ ہو، نظام اور حاکمیت کا محتاج ہے۔ مفادات کا تصادم، افراد کے درمیان اختلافات اور نظم و امن میں خلل، ایسے مسائل ہیں جن کو حل کرنے اور نظم و امن بحال کرنے کے لئے مقتدر اور معتبر اداروں کی ضرورت ہے؛ چنانچہ اگر معاشرے میں سیاسی قوت، فیصلہ سازی، نفاذ قوانین اور امر و نہی کی طاقت کی حامل حکومت نہ ہو تو وہ معاشرہ ناقص ہوگا اور اپنی بقا کی صلاحیت کھودے گا۔
امیرالمومنین علیہ السلام نے'' لا حکم الا للہ'' کا نعرہ لگانے والے ، حکومت و امارت کی نفی پر اصرار کرنے والے اور انسانوں پر اللہ تعالی کی براہ راست حاکمیت کا دعوی کرنے والے خوارج کے جواب میں فرمایا:
''یہ کلمۂ حق ہے جس سے باطل مطلب اخذ کیاگیا ہے، بے شک کوئی حکم اور کوئی فیصلہ فرمان خدا اور اللہ کے فیصلے کے سوا کچھ نہیں ہے جبکہ لوگوں کے لئے ایک حاکم کی ضرورت ہے چاہے وہ نیک ہو یا بد؛ تا کہ مومنین حکومت کے سایہ میں اپنے کام میں مصروف ہوں اور کافر بھی بہرہ مند ہوں اور لوگ حکومت کے سایہ میں زندگی بسر کریں۔ حکومت کے وسیلہ سے بیت المال جمع ہوتا ہے اور اس کی مدد سے دشمنوں کے خلاف جنگ کی جاتی ہے اور راستوں کو محفوظ بنایا جاتا ہے، طاقتوروں سے کمزوروں کا حق لیا جاتا ہے۔ حکومت کے وسیلہ سے نیک انسان امن و امان میں رہتے ہیںاور بدکاروں کے ہاتھوں سے محفوظ رہتے ہیں۔ہاں! نیک حکمرانوں کی حکومت میں پرہیزگار لوگ اپنے فرائض بہتر انداز سے انجام دیتے ہیں جبکہ بدکاروں کی حکومت سے ناپاک لوگ بہرہ مند ہوتے ہیں یہاں تک کہ اس کی زندگی کا خاتمہ ہو جائے اور اس کی موت آن پہنچے''۔(نہج البلاغہ ،خطبہ ٤٠)
سیاسی ولایت کی ضرورت انسان کی ذاتی کمزوریوں میں مضمر نہیں ہے بلکہ انسانی اجتماع کے نقائص اور کمزوریوں میں مضمر ہے چنانچہ اگر ایک معاشرہ نیک انسانوں سے تشکیل پایا ہو اور اس کے سارے افراد نیک ،صالح اور شائستہ کردارہوں پھر بھی اس کے لئے سیاسی ولایت یا حکومت کی ضرورت ہے، کیونکہ ایسے بہت سے امور و معاملات ہیں جو فردی نہیں ہیں بلکہ ان کا تعلق معاشرے اور اجتماع سے ہے اور ان کے لئے اجتماعی فیصلہ سازی کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ اس کو معاشرتی سطح پر نافذ کیا جاتا ہے ۔
عصر غیبت میں ولایت فقیہ اسی اہم ترین ضرورت کی تکمیل کرتاہے ، ولی فقیہ کسی ایک انسان سے سروکار نہیں رکھتا بلکہ و ہ ایک معاشرے سے سروکار رکھتاہے ، معاشرے میں کن چیزوں کی ضرورت ہے ، اسلام کی ترویج و اشاعت میں کن قوانین و احکام کی شدید ضرورت ہے ...ان تمام چیزوں کا تجزیہ و تحلیل کرکے اسے معاشرے میں جو نافذ کرتاہے اسے ولی فقیہ کہتے ہیں ۔اس اعتبار سے یہ کہاجاسکتا ہے ایک معاشرے میں جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے اسے ولایت فقیہ یا ولی فقیہ کہتے ہیں۔

ولایت فقیہ کیاہے ...؟
ولایت فقیہ ایک تفصیل طلب اور وسیع موضوع ہے ، ظاہر ہے یہاں اس کی تفصیلی گفتگو نہیں کی جاسکتی ،اسی لئے اختصار کے پیش نظر صرف ولایت فقیہ کے مفہوم کی جانب اشارہ کیاجارہاہے :
دین اسلام صرف نماز، روزہ، زکات، ذاتی اعمال اور عبادات ہی کا نام نہیں ہے بلکہ اسلام کا ایک سیاسی نظام بھی ہے جس کے تحت اسلامی قوانین کے تناظر میں حکومت کی تشکیل ہوتی ہے ۔اسی اسلامی حکومت کو ''ولایت''کہاجاتاہے اور جو شخص حکومت کا سربراہ ہوتاہے اسے ولی اور مولا کہاجاتاہے ۔ اس نظام میں حاکم کا عوام سے محبت آمیز، جذباتی اور فکری و عقیدتی رشتہ ہوتا ہے۔ اس حکومت میں عوام اور حکام کے درمیان، فکری، عقیدتی اور جذباتی رابطہ اور محبت کا رشتہ ہوتا ہے، جس میں عوام حاکم سے جڑے ہوتے ہیں، اس سے قلبی وابستگی رکھتے ہیں۔اور حاکم بھی اس سیاسی نظام اور فرائض کو الہی عطیہ اور خود کو اللہ تعالی کا بندہ سمجھتا ہو۔ ولایت میں غرور و تکبر کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ولایت کا اطلاق اس وقت ہوگا جب والی یا ولی کے ساتھ عوام کا نزدیکی محبت آمیز رشتہ ہو۔ یعنی والی خود عوام کے درمیان سے آئے اور ولایت و حکومت کی باگ ڈور سنبھالے۔ ولایت یعنی اسلامی معاشرے کی سرپرستی۔ یہ طرز حکومت دیگر معاشروں کی حکومتوں سے مختلف و متفاوت ہے۔ اسلام میں معاشرے کی سرپرستی کے مسئلے کا تعلق خداوندعالم سے ہے۔ کسی بھی انسان کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ دوسرے انسانوں کے امور کا انتظام اپنے ہاتھ میں لے، یہ حق خداوندعالم کی ذات سے مختص ہے۔
خداوندعالم نے اس ولایت و حکومت کے نفاذ کے لئے سب سے پہلے انبیائے کرام اور پھر ائمہ معصومن بھیجے تاکہ وہ الٰہی قوانین و احکام کو معاشرے میں نافذ کرسکیں ۔امام زمانہ کے عصر غیبت سے پہلے تک یہ حکومت خود امام علیہ السلام کے دست اختیار میں تھا ، پھر الٰہی مصلحتوں کی بنا پر آپ نے غیبت اختیار فرمائی ۔
ظاہر ہے اسلام اور اس کے ماننے و الے اب بھی موجود ہیں ، لہذا اس نظام حکومت کو چلانے والا اب بھی کسی نہ کسی کو ہونا چاہئے ، اسی لئے یہ ذمہ داری نائب امام یعنی فقیہ جامع الشرائط کے سپرد کی گئی ہے تاکہ اسلامی معاشرہ اور اس میں زندگی بسر کرنے والے مسلمان ، حاکم اور سرپرست کے بغیر نہ رہیں ۔خود ائمہ معصومین نے بھی اس بات کی تاکید فرمائی ہے کہ ہماری عدم موجودگی میں تمہارے اوپر ضروری ہے کہ فقیہ جامع الشرائط کی پیروی کرو ؛اسی لئے جب اسحق بن یعقوب نے امام زمانہ سے سوال کیا کہ فرزند رسول !جب آپ پردۂ غیب میں ہوںگے تب ہمیں کس کی طرف رجوع کرنا چاہئے ؟ امام نے جواب میں فرمایا: فارجعوا فیھا الی رواة حدیثنا ...و انا حجة اللہ علیھم ''پس اس وقت تم راویاں حدیث کی طرف رجوع کرو جو میری طرف سے تم پر اللہ کی حجت ہیں اور میں اللہ کی طرف سے ان پر حجت ہوں''۔
ایک دوسری حدیث میں امام جعفر صادق نے واضح طور پراسلامی حاکمیت کی تصریح فرمائی ہے ،آپ فرماتے ہیں :''میری طرف سے تمہارے اوپر وہ شخص حاکم ہے جو ہماری احادیث کی معرفت رکھنے والا ہواور جو حلال و حرام کو بہتر انداز میں جانتا ہو''۔
اسی اسلامی حاکمیت کو ہم ولایت فقیہ سے تعبیر کرتے ہیں جوانتظامی مصلحتوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے قوانین نافذ کرتاہے اور عوام یعنی مسلمانوں کے سیاسی ، اجتماعی ، فردی اور عقیدتی دردوں کو سمجھ کر اس کا درمان کرتاہے۔
ولی فقیہ کون ...؟
اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ کسی بھی نظام اور قانون کو نافذکرنے اور چلانے کے لئے ایک اہم ، برجستہ اور معاشرتی امور میں ماہر شخصیت کی ضرورت ہوتی ہے۔اسلام کا بھی ایک اہم اصول ہے کہ عصر غیبت میں اسلامی نظام اور احکام و قوانین کو نافذ کرنے اور اسے چلانے کے لئے ایک زبردست ،برجستہ ، معاشرتی امور میں ماہر اور جامع الشرائط فقیہ کی ضرورت ہے ، عصر غیبت میں یہ ذمہ داری ایک جامع الشرائط فقیہ کے سپرد اس لئے کی گئی ہے تاکہ وہ پوری دنیا میں اسلام کے حفظ آبرو کے لئے صحیح طریقے سے قوانین نافذ کرے اور اسلام کے ماننے والوں پر بھی لازم ہے کہ وہ اس کی بات تسلیم کریں ۔
لیکن سوال یہ ہے کہ شیعی مکتب فکر کے اعتبار سے عصر غیبت میں سیاسی زعامت و ولایت ،ایک جامع الشرائط فقیہ کے سپرد کیوں کی گئی ہے؟
اس کا واضح جواب یہ ہے کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ مسلمانوں کے امور و معاملات کو شریعت کی تعلیمات پر منطبق کرلے اور عوام کی زندگی کو شریعت کے تقاضوں کے مطابق آگے بڑھائے۔یعنی یہ کہ دینی حکومت کی ذمہ داری ہر قیمت پر امن و امان برقرار کرنا اور لوگوں کو خوشحال زندگی فراہم کرنا ہی نہیں ہے بلکہ اس کو معاشرے کے تمام معاملات اور تمام روابط کو دین کے احکام، اصولوں اور اقدار کے مطابق کرنا چاہئے اور اس مہم کے لئے ضروری ہے کہ اسلامی معاشرے کے مدیر و منتظم کو اگر ایک طرف زبردست انتظامی صلاحیتوں سے بہرہ مند ہونا چاہئے تو دوسری طرف اس کو ان امور و معاملات میں اللہ کے احکام سے سب سے زیادہ آگہی حاصل ہونی چاہئے اور سماجی و سیاسی معاملات میں فقاہت لازمہ کا مالک و حامل ہونا چاہئے۔
امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام فرماتے ہیں:
''اے لوگو!امامت و خلافت کا سب سے زیادہ اہل اور حقدار وہ شخص ہے جو اس کا انتظام چلانے کی سب سے زیادہ قوت رکھتا ہو اور حکومت کے معاملے میں اللہ کے فرامین کا سب سے بڑا عالم ہوتا ہے''۔(نہج البلاغہ خطبہ١٧٣)
چنانچہ اسلامی معاشرے کے لئے سیاسی ولایت و زعامت کی ضرورت ہے جیسا کہ غیراسلامی معاشروں کو بھی بعض نقائص برطرف کرنے اور معاشرتی مسائل حل کرنے نظم و ضبط کے قیام کے لئے حکومت کی ضرورت ہوتی ہے۔
اسلامی معاشرے میں امام معصوم علیہ السلام کی غیبت کے دور میں یہ سیاسی ولایت و زعامت ایسے جامع الشرائط فقیہ کو دی گئی ہے جو علمی، اخلاقی اور انتظامی حوالے سے سب سے زیادہ قابلیت اور اہلیت کا مالک ہو اور مرتبے کے لحاظ سے امام معصوم علیہ السلام سے سب سے زیادہ قریب ہو کیونکہ اسلامی معاشرے کے انتظام و انصرام کے لئے انتظامی اہلیت سے بھی زیادہ اسلام شناسی اور فقہ شناسی کی ضرورت ہے۔
مختصر یہ کہ اسلامی معاشرے میں دین کا نفاذ پہلی ترجیح ہے اور دین کا نفاذ ایک فقیہ سے بہتر کوئی اور نہیں کرسکتا چنانچہ ایسے معاشرے کو فقیہ کی حکومت ہی درکار ہوتی ہے ،کسی اور کی نہیں۔

معاشرے میں ولی فقیہ کا کردار
جس طرح انسانی جسم اپنی بقا و دوام کے لئے مختلف چیزوں کا محتاج ہے اور انسان ان کے حصول کے لئے مصروف عمل ہے اسی طرح کائنات خاص طور سے انسانی اور اسلامی معاشرہ بھی چند اصولوں اور قاعدوں پر منحصر ہے، جن میں سے ایک ''ولایت ''ہے۔
جس اسلامی معاشرے میں ولایت ہوتی ہے اس کے تمام اجزا اور شعبے ایک دوسرے سے اور اسی طرح معاشرے کے مرکزی نقطے یعنی ولی فقیہ سے وابستہ ہوتے ہیں۔ اسی وابستگی اور اتصال کا ہی نتیجہ ہے کہ اسلامی معاشرہ اندر سے متحد اور ایک دوسرے سے متصل ہوتا ہے۔ یہ معاشرہ بیرونی دنیا میں بھی اپنے ہم خیالوں کو اپنے ساتھ ملا لیتا ہے اور دشمنوں کو زوردار ٹکر دیتا ہے۔ ولایت یعنی پارسا انسانوں کی حکومت، ایسے انسانوں کی حکمرانی جو خواہشات اور شہوت نفسانی کے مخالف ہوتے ہیں، جو نیکیاں انجام دیتے ہیں اور دوسروں کو بھی نیکیاں انجام دینے کی تاکید کرتے ہیں۔
ولایت فقیہ ، معاشرے میں روح کا کردار ادا کرتاہے ، جس طرح جسم سے روح نکل جاتی ہے تو وہ مردہ اور بے جان ہوجاتاہے اسی طرح اگر معاشرے سے ولایت فقیہ نکال دیا جائے تو وہ معاشرہ مردہ اور بے جان ہوکر رہ جائے گا ۔
ولایت فقیہ کی اسی اہمیت و عظمت کو پیش نظر رکھتے ہوئے استعماری طاقتوں نے لوگوں کو ولایت اور ولی فقیہ سے متنفر کرنے کی کوشش کی تاکہ اسلامی معاشرے سے روح کو نکال دیاجائے اور اسلامی معاشرہ مردہ اور بے جان ہوکر رہ جائے۔
ایسے لوگوں کی باتیں نہیں سننا چاہئے جو اسلامی طریقہ کار کے مخالف ہیں اور اپنے آپ کو روشن فکر سمجھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ولایت فقیہ کو قبول نہ کریں۔ اگر فقیہ بیچ میں نہ ہو اور ولایت فقیہ کی دخالت نہ ہو تو طاغوت کی دخالت ہو گی۔ یا خدا ہے یا طاغوت۔ یا طاغوت ہے یا خدا۔ اگر خدا کا حکم مد نظر نہ رکھا جائے اگرکسی حکم اسلامی کو ولایت فقیہ کے بغیر نافذ کیا جائے تو وہ غیر شرعی ہو گا اور جب غیر شرعی ہو گا تو اس نظام میں خدا نہیں ہو گا طاغوت ہو گا۔ اس کی اطاعت، طاغوت کی اطاعت ہو گی۔
ہمیں چاہئے کہ اپنی بصیرت کو بروئے کار لاکر اسلام کے اس اہم ترین رکن کی حقیقت و واقعیت کو سمجھیں اور ان چار لوگوں سے خوف زدہ نہ ہوں جو خود نہیں جانتے کہ اسلام کیا ہے؟ نہیں جانتے کہ فقیہ کیا ہے؟ انہیں کیا معلوم ولایت فقیہ کیا ہوتی ہے؟ وہ یہ سوچتے ہیں ولایت فقیہ سماج کے لیے ایک طوفان ہے۔ وہ اسلام کو سماج کے لیے طوفان سمجھتے ہیں، ولایت فقیہ کو سماج کے لیے مصیبت سمجھتے ہیں، ولایت فقیہ مصیبت نہیں ہے رحمت ہے ولایت فقیہ اسلام کا لازمی جزء ہے ۔

نوٹ: اس مضمون کے بعض مطالب حجۃ الاسلام آقای جواد محدثی دام ظلہ کی کتاب "ولایت فقیہ بہ زبان سادہ" سے ماخوذ کئے گئے ہیں ، باتشکر

مقالات کی طرف جائیے