مقالات

 

علماء اور قیادت

سید عابدر رضا رضوی نوشاد

علم اور علماء؛عقل کی نظر سے
انسان بہت سی چیزوں کا منکر ہوتا ہے حتی وجود خدا کا بھی منکر ہوتا ہے لیکن علم کی عظمت کا کوئی بھی منکر نہیں ہے یہاں تک کہ جاہل بھی علم کا منکر نہیں ہوتااور ضرورت کے وقت عالم کی طرف رجوع کرتا ہے اور اس کی بتائی ہوئی باتوں پر عمل کرنے کی کوشش کرتا ہے گویا اس کو اپنا قائد و رہبر جانتا ہے ، یہ ایک ایسا واضح امر ہے جس کے لئے کسی دلیل و برہان کی ضرورت نہیں ہے ۔
ہم جانتے ہیں کہ موجودات عالم یا جماد ہیں یا نامی، اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ نامی موجودات جمادات سے افضل ہیں۔ نامی موجودات کی دو قسمیں ہیں:حساس جیسے حیوان ، اور غیر حساس جیسے پیڑ پودے ، حساس موجودات بھی دو قسم کے ہوتے ہیں '' عاقل''جیسے انسان اور '' غیر عاقل ''جیسے حیوان ۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ انسان چونکہ عاقل ہے لہذا حیوان سے افضل ہے ، عاقل بھی دو قسم کا ہوتا ہے ''عالم '' اور '' جاہل '' اور عالم انسان جاہل انسان سے افضل ہے لہذا نتیجہ یہ ہوا کہ عالم اشرف المخلوقات ہے ،جب عالم اشرف المخلوقات ہے تو اس کی پیروی کرنا عقل کے مطابق بہترین عمل ہے ۔

علم ا ور علماء؛ قرآن کی رو سے
قرآن کریم میں مختلف مقامات پر علم اور علماء کی فضیلت کے بارے میں بہت سی آیات موجود ہیں یہاں تک کہ رسول گرامی پر نزول وحی کا آغاز بھی پڑھنے لکھنے کی بات سے ہی ہوا اور پہلی آیت نازل ہوئی :
''پڑھو اس پروردگار کے نام سے جس نے خلق کیا ''۔( سورۂ علق ١)
ہم ایسی صرف چند آیات ذکر کر رہے ہیں جو علماء کی عظمت کو بیان کرتی ہیں ۔
١۔''کہہ دو کہ کیا علما اور نادان یکسان و برابر ہیں ''۔( سورہ زمرآیت٩)
یہ استفہام انکاری ہے یعنی آیت کی مراد یہ ہے کہ علماء ، جاہل اور نادان افراد پر برتری رکھتے ہیں ۔
٢۔''خدا وند عالم جس کو چاہے علم و حکمت عطا کرتا ہے اور جسکو علم و حکمت مل جائے تو بے شک اس کو بے پناہ نیکی مل گئی ہے ''۔(سورۂ بقرہ آیت٢٦٩)
علم و حکمت تمام نیکیوں کا سر چشمہ اور تمام فضائل کا منشاہے ۔
٣ ''صرف علماء وہ بندے ہیں جو خدا سے ڈرتے ہیں''۔(سورہ فاطرآیت٢٨)
٤۔خدا وند عالم حضرت طالوت کا قصہ بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے :
''خدا وند عالم نے طالوت کو تم میں سے چنا ہے اور ان کو علم و جسم میں وسعت بخشی ہے ''۔ (بقرہ آیت٢٤٧)
یہ آیت بھی علم کی عظمت پر دلالت کرتی ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ آیت شیعیت کی حقانیت پر بھی دلالت کرتی ہے کیوں کہ شیعوں کا عقیدہ ہے کہ امام و پیشوا، خدا کی طرف سے مقرر ہونا چاہئے اور اسی طرح امام و پیشوا کو علم و شجاعت میں بھی سب سے افضل ہونا چاہئے جس کی طرف جملہ '' زَادَہُ بَسْطَةًفِی الْعِلْمِ وَ الْجِسْم ،، اشارہ کر رہا ہے ۔
٥۔خدا وند عالم نے ایمان والوں اور علم والوں کے درجات بلند قرار دیئے ہیں۔(سورۂ مجادلہ آیت١١)
لہذا ایمان اور علم جو درجات کی بلند ی کے اسباب ہیں تمام چیزوں سے افضل و اشرف ہیں ۔ ایمان اور علم سے افضل اور پسندیدہ کوئی اور چیز نہیں ہے لہذا خدا نے ان ہی دونوں کو درجات کی بلندی کا سبب بنا دیا ۔

علما ء کی پیروی و تقلید عقل کی نظر سے
تقلید ا و ر پیروی عقل کے مطابق چند حصوں میں تقسیم ہوتی ہے :
١۔ کسی علم و فن میں ماہر اور متخصص شخص اس شخص کی پیروی اور تقلید کرے جو اسی علم و فن میں مہارت رکھتا ہے۔(یعنی علم و فن کے اعتبار سے مساوی افراد ایک دوسرے کی پیروی کریں)
٢۔ کسی علم کا عالم کسی ایسے شخص کی تقلید کرے جو اس علم میں جاہل ہے ۔
٣۔ جاہل کسی جاہل کی تقلید کرے ۔
٤۔ جاہل کسی ایسے شخص کی تقلید و پیروی کرے جو اس میدان میں تخصص و مہارت رکھتا ہے۔
آخری قسم کی تقلید عقل ، قرآن اور سنت کی رو سے صحیح اور مورد تائید ہے ۔
اس وضاحت کے بعد یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ احکام دین اور مسائل شرعیہ میں بھی تقلید اور پیروی دوسرے علوم کی طرح ایک عقلی امر ہے لہذاجو لوگ اسلامی مسائل اور احکام دین سے ناواقف ہیں اور تحلیل و تجزیہ نہیں کرسکتے ان پر لازم ہے کہ مجتہد جامع شرائط کی پیروی کریں ،خواہ وہ روزہ و نماز جیسے مسائل ہوں یا پھر اجتماعی مسائل ہوں اس لئے کہ اسلام نے انسانی زندگی کے ہر لمحہ کے لئے قوانین و ضوابط مشخص کر دئے ہیں ، چونکہ اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے اس لئے اس میںانفردی اور اجتماعی زندگی دونوں کے ہی احکام واضح کر دئے گئے ہیں ۔
ایک مسلمان پر فرض ہے کہ وہ اپنی انفردی اور اجتماعی زندگی کے دینی مسائل میں اس کے کسی ماہر شخص ( مجتہد ) کی طرف رجوع کرے اور اس کے بتائے ہوئے احکام پر عمل کرے۔

علماء کی پیروی و تقلید، قرآن کے آئینہ میں
قرآن نے بھی علماء کی پیروی کے مسئلہ کو واضح کر دیا ہے ، چند آیات جو علماء کی تقلید کی طرف اشارہ کرتی ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں:
١۔ ''اگر تم نہیں جانتے ہو تو جاننے والوں سے پوچھو''۔(سورۂ نحل آیت ٤٣)
اس آیت میں خدا وند عالم نے علماء سے سوال کرنے اور ان کے بتائے ہوئے راستے پر عمل کرنے کا حکم فرمایا ہے لہذا ہر مسلمان پر واجب ہے کہ جن احکام اسلامی کو نہیں جانتا ہے ان کے بارے میں علماء سے سوال کرے اور ان پر عمل کرے ۔
٢۔''یہ شائستہ نہیں ہے کہ سارے مومنین (جہاد کے لئے)کوچ کرجائیں پھر ان کے ہر گروہ میں سے ایک طائفہ کوچ کیوں نہیں کرتا تاکہ دین میں سوچ بوجھ اور تفقہ پیدا کرے اور جب اپنی قوم کے پاس واپس آئے تو انھیں ڈرائے شاید وہ (معصیت سے) ڈریں (اور گناہ نہ کریں)''۔(سورۂ توبہ آیت١٢٢)
مذکورہ آیت سے بھی یہی نتیجہ حاصل ہوتا ہے کہ جو شخص دین کا عالم ہو جائے اور لوگوں کے لئے احکام خدا کو بیان کرے تو لوگوں پر اس کی پیروی واجب ہے ۔
علمائے اسلام دین خدا کے مددگار ہیں
پروردگار عالم قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے :
''جو شخص خدا کی مدد کرے گا ، بے شک خدا بھی اس کی مدد کرے گا ، بے شک اللہ بڑی قوت والا ہے ''۔ (سورۂ حج آیت٤٠)
اس آیہ مبارکہ میں خدا کی مدد سے مراد دین خدا کی مدد ہے اس لئے کہ خدا کو انسان کی مدد کی ضرورت
نہیں ہے اور وہ ہر چیز سے بے نیاز ہے ۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ خدا کے دین کے مددگار کون افراد ہیں ؟ کیا وہ افراد ہیں جو سنیما ، مراکز فحشاء اور اسی طرح کے تمام انسانی اقدار مخالف مراکز کے مالک و مدیر ہیں ؟ کیا وہ سلاطین ہیں جنہوں نے دنیا پرستی کو اپنا شیوہ اور دین کی مخالفت کو اپنا شعار بنا رکھا ہے ؟ یا وہ افراد ہیں جو اپنی خلقت کے ہدف کو فراموش نہ کرتے ہوئے حق و ہدایت کی شاہراہوں پر گامزن ہیں اور بندگان خدا کو اپنے علم و عمل کی بنیاد پر خدا شناسی ، دین و مذہب کی طرف دعوت دے کر اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے ذریعہ انھیں سعادت کی منزل تک پہونچاتے ہیں ۔
اس کے بعد کی آیت میں ارشاد ہوتا ہے :
'' ( دین خدا کے مددگار ) وہ لوگ ہیں جن کو اگر زمین پر ہم قدرت دیتے ہیںتو وہ ( گناہ کی ترویج نہیں کرتے بلکہ ) نماز قائم کرتے ہیں زکات دیتے ہیں اورامر بالمعروف و نہی عن المنکر کرتے ہیں اور کاموں کی عاقبت خدا کے ہاتھ میں ہے ''۔(سورۂ حج آیت٤١)
اس آیت سے ثابت ہو جاتا ہے کہ دین خدا کے مددگار افراد لوگوں کو دینداری ، نماز،زکات ،واجبات کی انجام دہی اور گناہوں سے پرہیز کرنے کی طرف دعوت دیتے ہیں ۔ یہ وہ اعمال ہیں جن کو انجام دینے میں پیغمبروںۖ اور ائمہ معصومین علیہم السلام کے بعد علماء سب سے آگے رہے ہیں اور رسول گرامی(ص) کی بعثت کا سبب اور اہم ہدف بھی یہی تھا ۔اس سلسلہ میں ارشاد ہوتا ہے :
''وہ ذات خدا وندی ہے جس نے امّیوں میں انھیں میں سے ایک رسول کو مبعوث کیا تاکہ ان کے لئے آیات خدا کی تلاوت کرے ، ان کا تزکیہ کرے اورکتاب اور حکمت و دانش کی تعلیم دے ''۔(سورۂ جمعہ آیت٢)
ہمیشہ علماء نے ہی اپنے قلم ، قدم ، بیان ، زبان اور تمام ممکن کوششوں کے ذریعہ دین خدا کی مدد کی ہے علماء اسلام نے اس راہ میں زندانوں کی سخت ترین صعوبتوں کو برداشت کیا ہے ، قربانیاں دی ہیں ، اپنے بچوں کو قربان کیا ، رشتہ داروں کو نذر دین کیا حتی خود بھی شہید ہوئے ہیں۔
آخر میں بارگاہ خداوندی میں دعا ہے کہ ہمیںعلماء دین کے قدردانوں اور انکی عزت کرنے والوں میں شمار کرے اور ہماری قوم کو ان شیاطین کے شر سے محفوظ رکھے جو علماء دین اور ملت اسلامیہ کے درمیان دیرینہ روابط کو منقطع کرنا چاہتے ہیں۔(آمین)

مقالات کی طرف جائیے