مقالات

 

فلسفۂ محرم الحرام ؛قسط/1

سید شاہد جمال رضوی گوپال پوری

مقدمہ
دنیا جب سے آباد ہوئی ہے اور جب تک قائم رہے گی ، واقعات و حادثات کا سلسلہ جاری و ساری رہے گا ، کارکنان قضا و قدر ایک پل کے لئے بھی اپنے فرائض سے غافل نہیں ہیں ، واقعات کے اس دائمی دور و تسلسل میں کوئی واقعہ اتفاقاًوقوع پذیر ہویا ارادةًعالم وجود میں ظاہر ہو ، اپنے پیچھے کوئی نہ کوئی نتیجہ ضرور رکھتاہے اور یہ بھی طے ہے کہ جو واقعہ جس قدر عظیم الشان ہوتاہے اسی اعتبار سے اس کے نتائج بھی عظیم اور بلند ہوتے ہیں۔
کربلا کا عظیم واقعہ کائنات میں رونما ہونے والے واقعات میں سے ایک ہے ، بلکہ دوسرے واقعات و حادثات اس کی عظمتوں کے آگے سر بسجود ہیں اس لئے کہ اس واقعہ کے وسیع دامن میں زندگی و بندگی کے وہ اسباق و دروس موجود ہیں جو دوسرے واقعات میں قطعی مفقود ہیں ۔ چودہ سو سال گزرنے کے بعد بھی اس کی عظمت و رفعت نگاہ بشر کے لئے محیر العقول سلسلے کی ایک کڑی ہے ، آج بھی جب مغرب کے دبیز افق پر ہلال محرم کی مدہم کرن پھوٹتی ہے تو ہر طرف اداسی و سوگواری کی لہر دوڑ جاتی ہے ، ایسا محسوس ہوتاہے جیسے دل کسی نامعلوم طاقت کے مضبوط شکنجے میں بری طرح جکڑا ہواہے ، آنکھیں ہلال محرم پر مرکوز ہوتی ہیں لیکن انہیں آنکھوں سے نمکین پانی کا صاف و شفات چشمہ جاری ہوجاتاہے ، اس چاند کے دیدار کے ساتھ ہی زندگی کے خوشنما لمحے بھولی بسری چیز بن جاتے ہیں، ہر گھر میں فرش عزا بچھ جاتا ہے ، مجلسوں کا ایک طویل سلسلہ شروع ہوجاتاہے ، نوحہ و ماتم کی پر درد آوازیں فضائے عالم میں گونجنے لگتی ہیں ۔ ان مصروفیتوں کے سلسلے میں ہر شخص اس قدر حساس نظر آتاہے کہ جیسے اس کی زندگی کا اولین مقصد گریہ و بکا ہے ، اس کی حیات کا واقعی ہدف نوحہ خوانی اور سینہ زنی ہے بلکہ کبھی کبھی خود رونا ہی اس کی زندگی نظر آتی ہے ۔
ظاہر ہے جب واقعہ کربلا اتنی عظمتوں کا حامل ہے کہ ہر شخص اس کے اہتمام و انتظام میں حساس نظر آتاہے تو اس کے عواقب و نتائج بھی انتہائی عظیم ہوں گے ورنہ کسی کو کیا پڑی ہے کہ اپنی ذاتی زندگی کی مصروفیتوں کو بالائے طاق رکھ کر گریہ و زاری کو اپنا شیوہ بنائے ۔ ہاں ! یہ سچ ہے کہ یہ عظیم واقعہ جس مہینہ میں رونما ہوا وہ اپنے وسیع دامن میں عظیم المرتبت فلسفہ رکھتاہے اور اس کے عظیم فلسفے کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ کہاجاسکتاہے کہ خاطی انسان کی محدود پرواز فکر میں اتنی وسعت نہیں کہ وہ اس مہینے کے فلسفے اور اہداف و مقاصد کو مکمل طور پر درک کرسکے، ہاں !تاریخ و واقعات کے دریچہ سے اس کی کچھ جھلکیاں ضرور پیش کی جاسکتی ہیں ؛ آئیے ، اس عظیم مہینے کے فلسفہ اور اہداف و مقاصد کا سرسری جائزہ لیاجائے :

١۔ محرم؛معرفت امام حسینؑ علیہ السلام کا مہینہ
معرفت ہر چیز کی اصل و اساس ہے ، تمام اعمال و افعال کا دارو مدار اسی معرفت پر ہے اور اسی کے اعتبار سے ثواب و عقاب کی تقسیم کی گئی ہے ، انسان کی معرفت جس قدر وسیع اور مکمل ہوگی ،اسی اعتبار سے اس کے درجات میں اضافہ ہوتارہے گا ۔
حضرت امام حسینؑ علیہ السلام گلدستۂ انسانیت کا وہ حسینؑ اور خوشنما پھول ہیں جنہوں نے اپنی قربانی و فداکاری کے ذریعہ بنی نوع انسان کو بہت سے انسانیت ساز پیغامات دئیے ہیں جن میں علم ، حلم ، اخلاق ، اخوت ، صداقت ، طہارت ، عبادت ، شرافت ، ایثار و قربانی ، محبت ، مروت ، دینداری ، اعلان حق اور انکار باطل سر فہرست ہیں۔ظاہر ہے ان پیغامات کا واقعی ادراک اسی وقت ہوسکتاہے جب ہم شہید انسانیت حضرت امام حسینؑؑ کی معرفت حاصل کریں ،امام علیہ السلام کی معرفت جتنی وسیع ہوگی ،اسی اعتبار سے آپ کے پیغامات ہماری زندگی میں اثر انداز ہوں گے ۔
محرم الحرام وہ واحد مہینہ ہے جس میں امام حسینؑ کی زیادہ سے زیادہ معرفت حاصل کی جاسکتی ہے ، اس لئے کہ یہ مہینہ اسی ذات سے منسوب ہے ، عام طور سے جب بھی محرم الحرام کا تذکرہ آتاہے ذہن فوراً امام حسینؑ اور ان کے واقعۂ شہادت کی جانب منتقل ہوجاتاہے ، اس مہینہ میں آپ کی مجلس عزا برپا کی جاتی ہے اور اس میں بہت زیادہ اہتمام کیاجاتاہے تاکہ لوگ شریک مجلس ہو کر آپ کے مصائب پر گریہ و زاری کریں اور اپنی ذہنی سطح کے مطابق آپ کی معرفت حاصل کریں۔
یہ مجلس عزا امام حسینؑ علیہ السلام کی معرفت حاصل کرنے کا بہترین اور موثر ترین ذریعہ ہے ، عام طورسے امام علیہ السلام کی معرفت اور واقعہ کربلا کی تہہ تک جانے کے لئے سب سے بڑی سند تاریخ بتائی جاتی ہے لیکن اگر غائرانہ نظر سے تجزیہ و تحلیل کیجئے تو معلوم ہوگا کہ تاریخ معرفت کا صرف پہلا زینہ فراہم کرسکتی ہے کسی شخصیت اور اس کے کردار کو پوری طرح متعارف نہیں کراسکتی ۔اس لئے کہ پہلی بات تو یہ کہ تاریخ ایسے لوگ لکھتے ہیں جن کی نگاہ ظاہری حوادث پر ہوتی ہے ، جیسے آج کل خبر نگار ایک خاص جگہ کے حالات کو قلم بند کرکے ہمارے سامنے پیش کرتاہے ، اس کی وجہ سے ہمیں صرف یہ معلوم ہوتاہے کہ وہاں کیا ہوا لیکن ہم اس واقعہ کے پیچھے کار فرما عوامل اور اس کے پس پردہ اسباب سے آشنا نہیں ہوپاتے ۔ تاریخ میں صرف وہ چیزیں تحریر کی گئی ہیں جو آنکھ اور بصارت سے نظر آتی ہیں لیکن تاریخ کو جنم دینے والی چیزیں اور اس واقعہ کے پیچھے کار فرما عوامل بصارت سے نظر نہیں آتے بلکہ اس کے لئے بصیرت کی ضرورت ہوتی ہے ۔
دوسری بات یہ کہ جو تاریخ ہماری آنکھوں کے سامنے ہے اسے سو فیصدی صحیح تسلیم کرنا حماقت ہے اس لئے کہ تخریب کار عناصر نے ہر دورکی تاریخ خاص طور سے صدر اسلام کی تاریخ میں بہت زیادہ الٹ پھیر کی ہے، حکام وقت نے اپنی خواہشات اور اپنے احساسات و جذبات تاریخ میں بھرنے کی کوشش کی ہے اور حقائق کے بجائے من گھڑت باتوں سے صفحۂ قرطاس کو سیاہ کیا ہے ، ظاہر ہے ایسی صورت میں تاریخ کو سوفیصدی صحیح تسلیم نہیں کیاجاسکتاہے ۔ اس کے علاوہ ایک لمحہ کے لئے تاریخ کو صحیح مان بھی لیاجائے تب بھی اس میں ظاہری حالات و واقعات قلمبند ہیں ، واقعہ کا پس منظر اور پس پردہ اسباب و عوامل کی نشاندہی نہیں کی گئی ہے۔
یہ سچ ہے کہ شہید انسانیت حضرت امام حسینؑؑ کی معرفت کا پہلا زینہ تاریخ فراہم کرتی ہے ، ہمیں تاریخ سے معلوم ہوتاہے کہ امام حسینؑؑ کب پیدا ہوئے ، آپ کی کتنی عمر تھی ، آپ کے ماں باپ کون تھے ، کہاں شہید ہوئے آپ کی شہادت کے وقت کس نے آپ کا ساتھ دیا اور کس نے ساتھ دینے سے انکار کیا....ایسی بہت سی ظاہری باتیں ہمیں تاریخ سے معلوم ہوتی ہیں لیکن کیا امام حسینؑؑ کو صرف اسی (٥٧) سال میں محدود کیاجاسکتاہے ۔ نہیں قطعی نہیں بلکہ حسینؑؑ ایک ابدی حقیقت اور دائمی واقعیت کا نام ہے ، ہر زمانے میں اس حقیقت کے مختلف جلوے رہے ہیں ، جتنی طولانی انسان کی تاریخ ہے ، حسینؑیت کی داستان بھی اتنی ہی دراز ہے ، یہ حقیقت زمان و مکان کی تمام تر وسعتوں پر محیط ہے ، کسی مخصوص زمانے یا خاص مکان کے اندر اس کو محدود نہیں کیاجاسکتا، علامہ اقبال نے اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:
حقیقت ابدی ہے مقام شبیری
بدلتے رہتے ہیں انداز کوفی و شامی
اگر امام حسین علیہ السلام کو ایک ابدی حقیقت فرض کیاجائے گا تو وہ کسی ایک زمانے میں محدود نہیں رہیں گے بلکہ ولادت سے پہلے اور شہادت کے بعد ہر دور میں حسینیت کا جلوہ نظر آئے گا کبھی آدم کی شکل میں تو کبھی نوح کی صورت میں کبھی بت شکن ابراہیم کے انداز میں تو کبھی موسی و عیسیٰ کے تناظر میں ...اسی لئے تو امام حسینؑ کو وارث انبیاء کہاگیاہے۔ لیکن یہ حقیقت ابدی اسی وقت سمجھ میں آئے گی جب ہم امام حسینؑؑ بلکہ حسینیت کی صحیح معرفت حاصل کریں گے ، افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم امام کی محبت کا دم بھرنے کے باوجود ان کی معرفت سے کوسوں دور ہیں ، ولادت سے پہلے اور شہادت کے بعد کا مرحلہ تو بہت دورکی بات ہے ابھی ہم نے ان ٥٧ سال کی معرفت حاصل نہیں کی ہے جس میں آپ نے تاریخ انسانیت کا عظیم اور ناقابل تسخیر کارنامہ انجام دیاہے۔
آج محرم الحرام کے مہینہ میں ہمارا فریضہ ہے کہ ہم اپنی مجلسوں کو اختلاف کا پیمانہ اور آپسی برتری کا وسیلہ نہ بناکر معرفت امام کا ذریعہ قرار دیں ، اگر ہم مجلسوں میں بیٹھیں تو امام حسینؑ کے حوالے سے ہماری محبت و الفت زبانوں اور لفظوں کی حد تک محدود نہ رہے بلکہ زبان سے ہوتے ہوئے دلوں میں اتر جائے اور ظاہری محبت، قلبی اور معنوی محبت میں تبدیل ہوجائے ۔خاص طور سے خطباء و ذاکرین کا اولین فریضہ ہے کہ وہ اپنے سامعین تک صرف واقعات و حوادث نہ پہونچائیں بلکہ واقعات کا تحلیلی جائزہ لیں ، واقعہ کے پس پردہ محرکات و عوامل کا تجزیہ و تحلیل کریں اور اس کے بعد لوگوں تک واقعہ کے اہم ترین پیغامات منتقل کریں ، ہماری مجلسوں میں امام حسینؑ کی تبلیغ و اقدام کے اصلاحی نقوش اور پیغامات کی زیادہ سے زیادہ تکرار ہونی چاہئے تاکہ سامنے بیٹھنے والے لوگ اپنی ذات اور پھر آگے بڑھ کر اپنے معاشرے کی اصلاح کرسکیں ۔اگر ہم نے ایسا کیا تو سمجھ لینا چاہئے کہ ہم نے معرفت امام حسینؑ کا ایک اور زینہ طے کرلیاہے ورنہ ہمیں اپنے حسینؑی ہونے پر ایک مرتبہ غور و فکر ضرور کرنا چاہئے۔

مقالات کی طرف جائیے