مقالات

 

امام زمانہ(عج) کی خصوصیات

مقدمہ
امام زمانہ علیہ السلام سرچشمئہ ولایت کا وہ گوہر نایاب ہیں کہ جسکے وجود کا عقیدہ ایمان کی تکمیل کا سبب بنتا ہے؛ آج ہر ایک چاہنے والے کی زبان پر امام کا ذکر جاری و ساری ہے، ہماری دعاؤں میں امام کا تذکرہ ،مناجات میں امام کی یاد ،امام زمانہ کے نام سے تحریکیں چلائ جا رہی ہیں جو ہونا بھی چاہیے لیکن اسی کے ساتھ ساتھ ہم جس امام کا عقیدہ رکھتے ہیں ہمارے لئے اسکی معرفت و شناخت اور خصوصیات سے باخبر ہونا بھی ضروری ہے اسلئے کہ خصوصیت ایک ایسا اہم رکن ہے کہ جب تک کسی شئ کی خصوصیت معلوم نہ ہو اس وقت تک اس شئ کی اہمیت کا اندازہ لگانا ناممکن ہے لہذا امام زمانہ علیہ السلام کی اہمیت سے روشناس ہونےکے لئے ضروری ہیکہ امام کی خصوصیات کو درک کیا جاے تاکہ امام کی اہمیت جو انبیاءو ائمہ نے ذکر فرمای ہیں ہمارے ذہن نشین ہو اور ہم زیادہ سے زیادہ فرمان امام پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کر سکیں۔

مہدویت :
مسلمانوں کے درمیان عقیدہ مہدویت صدر اسلام سے مشہور ہے اور پیغمبر اکرم نے متعدد مرتبہ امام مہدی عج کے وجود کی خبر دی ہے اور امام مہدی کی حکومت ، اسم ،کنّیت کو بھی بیان فرمایا ہے جیسا کہ آپنے فرمایا : جسنے میرے بیٹے قائم کا انکار کیا گویا اسنے میرا انکار کیا "(بحارالانوار،ج51)
عبداللہ نے پیغمبر سے روایت کی ہے: آپ نے فرمایا "دنیا اس وقت تک فنا نہیں ہوگی جب تک عرب کا مالک میرے اہلبیت میں سے وہ شخص نہ ہوگا جسکا نام میرے نام پر ہوگا (صحیح ترمزی،ج 4،ینابیع المودۃ ، ج 2)

غیبت:
خداوند عالم نے اس مقدس وجود کو پوشیدہ رکھا ہے کیونکہ اسکے احکام مستحکم اور مصلحت سے مملوں ہوتے ہیں غیبت کا بنیادی سبب صرف ائمہ علیہم السلام جانتے ہیں "امام موسی کاظم علیہ السلام فرماتے ہیں "ساتویں امام کے جب پانچویں بیٹے غائب ہو جائیں ،تم اس وقت اپنے دین کی حفاظت کرنا ایسا نہ ہو کہ کوئ تمہیں دین سے خارج کر دے ؛اے میرے بیٹے صاحب امر کے لئے ایسی غیبت ہے جسمیں مؤمنین کا گروہ منحرف ہو جایگا ؛خدا امام زمانہ عج کی غیبت کے ذریعہ بندوں کا امتحان لیگا (بحار الانوار،ج 52)

ظہور:
روایات سے واضح ہیکہ جب حکومت حق کو قبول کرنے کے لئے لوگوں کے دل سازگار ہو جاینگے اس وقت اللہ ،امام کو ظہور کی اجازت دیگا آپ مکّہ میں ظاہر ہونگےاور منادی حق لوگوں کو آپکے ظہور کی بشارت دیگا ۔ بعض روایات کے مطابق تین سو تیرہ افراد ندائے حق پر سب سے پہلے لبیک کہیں گے۔

آپکی حیات طیّبہ کے مختصر حالات
شیخ مفید " الارشاد میں تحریر فرماتے ہیں کہ ابو محمد کے بعد آپکے فرزند امام ہونگے انکا نام رسول کے نام پر اور کنّیت رسول کی کنّیت پر ہوگی اور انکے والد نے اور کوئ بیٹا انکے علاوہ ظاہر اور باطن میں نہیں چھوڑا ہے انکے خلف غائب اور پردہ میں رہیں گے۔آپ 15شعبان المعظم 255ھ میں متولد ہوے آپکی والدہ ماجدہ ام ولد ہیں جنکو نرجس کہا جاتا ہے آپکے والد ماجد امام حسن عسکری علیہ السلام ہیں ،والد واجد کی وفات کے وقت آپکی عمر پانچ برس تھی اسی عمر میں خدا نے آپکو حکمت عطا کی جیسے جناب یحیّ علیہ السلام کو عطا کی تھی ( جمال منتظر،آیۃ اللہ العظمی صافی گلپائگانی)

آپکی خاصیت
امیرالمؤمنین علیہ السلام اپنے خطبے کے آخر میں حضرت مھدی عج کے ظہور کی طرف اشارہ کرتے ہوے فرماتے ہیں : جب حضرت ظہور کریں گے تو مصر کی طرف جایں گے اس شہر کی جامع مسجد میں داخل ہونگے اور خطبہ دینگے پس زمین کو عدل و انصاف کی خوشخبری دی جایگی، آسمان بارش برسایگا ، درخت میوہ دینگے ،زمین سبزہ اگائگی اور اہل زمین کےلئے مزین ہوگی، لوگ درندوں سے بھی امان میں ہونگے، مؤمنین کے دل علم و دانش سے مملوں ہونگے یہاں تک کہ ایک مؤمن دوسرے مؤمن کے علم کا محتاج نہ ہوگا ، اس روز اس آیۃ شریفہ کی تاویل محقق ہوگی "یغن اللہ کلّا من سعتہ" خداوند عالم ہر ایک کو اپنے فضل و کرم سے بے نیاز کریگا ۔
زمین اپنے خزانہ آشکار کریگی اور حضرت مھدی عج فرمایں گے " کلوا ھنیئا بما اسلفتم فی الایّام الخالیۃ " کھاؤ جو تم گوارا سمجھو، یہ سب تمہارے گزرے ہوئے اعمال کی انجام دہی کا سبب ہے (بحارالانوار، ج 53)
قطب راوندی "الخرائج" میں لکھتے ہیں : آبان کہتا ہے کہ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں : علم و دانش کے ستائس حروف ہیں، تمام پیامبر اب تک دو حرف سے زیادہ نہیں لاۓ،لوگ آج تک دوحرف سےزیادہ علم و آگھی نہیں جانتے لیکن جب امام قائم قیام کریں گے پچیس حروف بھی آشکار ہو جایں گے اور وہ دو حرف بھی انمیں منضم کئے جایں گے لہذا زمانہ امام میں ستائس حروف نشر ہونگے (الخرائج ، ج 2)
یعقوب بن منقوش کہتا ہے : میں ایک روز خدمت امام حسن عسکری علیہ السلام میں حاضر ہوا امام گھر میں تشریف فرماں تھے حضرت کے دائیں طرف ایک حجرہ تھا کہ جس پر پردہ پڑا ہوا تھا میں نے عرض کیا :مولا صاحب امر کون ہوگا؟ آپنے فرمایا :حجرے کا پردہ اٹھاؤ۔ جب میں نے پردہ اٹھایا تو ایک پانچ سالہ حسین ترین بچہ باہر آیا اسکی پیشانی روشن تھی ،چہرہ سفید اور درخشاں تھا ، آنکھیں چمک رہی تھیں ،اسکے بازو قوی اور زانوں توانا تھے ،خوبصورت بال اور مزین گیسو تھے ،وہ بچہ آیا اور امام حسن عسکری علیہ السلام کے زانوں پر بیٹھ گیا ، امام نے میری طرف رخ کرکے کہا : یہ تمہارا صاحب ہے اورجب بچہ جانے کے لئے اٹھا تو امام نے فرمایا : یا بنیّ ادخل الی وقت المعلوم"جب کہ بچہ گھر میں داخل ہوا تو میں بھی اسے دیکھ رہا تھا ،امام حسن علیہ ا لسلام نے مجھ سے کہا : اے یعقوب اندر جاؤ اور دیکھو کون ہے ؟ میں وارد خانہ ہوا اوروہاں کسی کو نہ پایا ۔(کمال الدین ،ج 2)

مدّت حکومت روایت کی نظر سے
امام باقر علیہ السلام فرماتے ہیں :قائم علیہ السلام تین سو نو سال حکومت کریں گے یعنی اسی مدت تک کہ جس مدت تک اصحاب کہف غار میں رہیں ہیں ۔آنحضرت زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے، خداوند عالم شرق غرب کی زمین اسکے لئے فتح کریگا وہ اس قدر کفار کو قتل کریں گے کہ دین محمّد کے علاوہ کوئ دین باقی نہیں رہیگا ،آنحضرت حضرت سلیمان کی طرح حکومت کریں گے (اعغیبت شیخ طوسی ،بحار الانوار،ج 53)

غیبت امام پر ثابت قدم رہنے کا اجر
شیخ صدوق کمال الدین میں لکھتے ہیں : جو شخص ہمارے قائم کی غیبت کے دوران ہماری ولایت پر ثابت قدم رہے خداوند عالم اسکو ان ہزار شہیدوں کا ثواب عطاء کریگا جو احد و بدر کے شہداء کو عطاء کیا جایگا (الدعوات راوندی؛1)
: شیخ صدوق کتاب غیبت میں لکھتے ہیں : جو شخص اس امر کا معتقد ہو اور امام قائم عج کے قیام سے پہلے مر جاےتو اسکی جزا اس شخص کے مانند ہے جو آنحضرت کی رکاب میں قتل ہوا ہو ۔

امام زمانہ علیہ السلام کی فضیلت آیۃ شریفہ کی تفسیر میں
:" یوم الفتح لا ینفع الذین کفروا ایمانھم و لا ھم ینظرون "( سورہ سجدہ/29)امام صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ روز فتح سے مراد وہ دن ہے جس دن دنیا امام ہادی علیہ السلام کے ہاتھ پر فتح ہوگی، اس وقت ان لوگوں کا ایمان لانا جو پہلے ایمان نہیں لائے تھے کوئ فائدہ نہیں پہونچایگا ( تفسیر برھان،3)
" و لتعلمنّ نبئاہ بعد حین " ( سورہ ،ص/88) امام باقر علیہ السلام سے روایات ہے، آپ نے فرمایا :اس سے مراد امام مھدی کا خروج ہے (الکافی ، 8)
" و کنّا نکذّب بیوم الدین"(سورہ مدثر/46 ) روایت ہیکہ اس آیت سے مقصود روز ظہور اور قیام حضرت مھدی علیہ السلام ہے ۔
شیخ صدوق کتاب "کمال الدین " والعصر کی تفسیر کرتے ہوے امام صادق علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ عصر سے مراد امام مھدی علیہ السلام کا زمانہ ہے ( کمال الدین ،2)

امام زمانہ علیہ السلام کی خاصیت ائمہ علیہم السلام کی نظر میں
حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا " مہدی موعود ہم میں سے ہوگا اور آخری زمانے میں ظہور کریگا اس کے علاوہ کسی قوم میں مہدی منتظر نہیں ہے ( اثبات الھدات ،ج 7)
امام حسن علیہ السلام نے فرمایا " رسول کے بعد بارہ امام ہیں ان میں سے نو میرے بھائی کی نسل سے ہونگے اور اس امت کا مہدی ان ہی کی نسل سے ہے ( اثبات الھدات ،ج 2)
امام زین العابدین علیہ السلام نے فرمایا " لوگوں پر ہمارے قائم کی ولادت آشکار نہیں ہوگی یہاں تک وہ یہ کہنے لگے گیں کہ ابھی پیدا نہیں ہوئے ہیں ۔انکے مخفی ہونے کی وجہ یہ ہے کہ جب وہ اپنی تحریک کا آغاز کریں اس وقت کسی کی بیعت میں نہ ہو ( بحبر الانوار، ج 51)
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نےفرمایا " خدا کی قسم امامت وہ عہدہ ہے جو رسول خدا سے ہمیں ملا ہے ۔ پیغمبر کے بعد بارہ امام اور ان میں سے نو امام حسین علیہ السلام کی اولاد سے ہوں گے ،مہدی بھی ہم میں سے ہوگا اور آخری زمانہ میں دین کی حفاظت کریگا ( اثبات الھدات، ج 2)
امام علی نقی علیہ السلام نے فرمایا " میرے بعد میرا بیٹا حسن امام ہے اور اسکے بعد ان کے ببٹے قائم ہیں جو روئے زمین پر عدل و انصاف پھیلائینگے ( بحار الانوار، ج 51)

نتیجہ
ہر ایک شیعان امام کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے امام کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جانکاری حاصل کرے ، ان کے فضائل و خصائل کو جانے اور انکی معرفت کو درک کرے اسلئے کہ جب تک معرفت حاصل نہ ہوگی امام کی پیروی بھی نہیں ہو سکتی۔ امام کے فضائل و خصائل ہمیں اس بات کا درس دیتے ہیں کہ جو افعال امام کو پسند ہو ہم بھی انہیں افعال کی طرف رغبت پیداکریں تاکہ سفینہ نجات سے متمسک ہو سکیں ۔۔

ماخوذ از :http://razavi.aqr.ir

مقالات کی طرف جائیے