مقالات

 

چشم منتظر

سید شاہد جمال رضوی گوپال پوری

انتظار بڑا شیریں اور لطیف جذبہ ہے ، انسانی زندگی سے اس کا تعلق بھی بڑا والہانہ اور اٹوٹ ہے ، ایسا نہیں ہے کہ انسانیت اس سے بے نیاز ہے یا اس لفظ سے اس کا سابقہ نہیں بلکہ پورے عالم انسانیت کے لئے کسی نہ کسی اعتبار سے ایک ضروری اور اہم جذبہ ہے اور یہ اتنا مسلم کلیہ ہے کہ کوئی شخص اس سے انکار نہیں کرسکتا۔
حقیقت یہ ہے کہ انتظار ایک بے لوث باطنی کیفیت ہے جسے ہم اپنے محبوب کے تعلق سے دل و دماغ میں محسوس کرتے ہیں ، دل میں جس سے زیادہ محبت کا احساس ہوگا ،اس کی جدائی پر اسی اعتبار سے بے چینی اور اضطراب بھی زیادہ ہوگا ۔ لیکن یہ بھی ایک عجیب بات ہے کہ اس بے چینی کی لذت تلخ و تند نہیں ہوتی بلکہ شیریں ، کیف انگیز اور نشاط آگیں ہوتی ہے ، اس حیات آفریں جذبہ و احساس میں منتظر جس قدر مسرت و شادمانی سے دوچار ہوتاہے اس کا احاطہ قریب قریب ناممکن و محال ہے ۔ کبھی کبھی جب انتظار کا وقفہ بہت زیادہ طویل ہوجاتاہے تو آنکھوں سے قطرہائے اشک بہنے لگتے ہیں ، نیند اوجھل ہوجاتی ہے ،روز مرہ کے معمول میں تبدیلی آجاتی ہے ، خاکی وجود دھیرے دھیرے تنہائی اور اکیلے پن سے مانوس ہونے لگتاہے ، نگاہیں سراپا انتظار بن کر دروازے پر مرکوز رہتی ہیں اور پھر آخر میں اپنے انتظار کی تڑپ کو اس طرح دور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ بارگاہ الٰہی میں دست دعا بلند کرکے جس کا انتظا ہوتاہے اس کی آمد کے لئے مناجاتیں کی جاتی ہیں ...یہ بھی جذبۂ انتظار کی انتہائی عمدہ اور حسین کڑی ہے ۔
ایک بات اور بھی قابل غور ہے ، وہ یہ کہ جس کا انتظار ہوتاہے اس کے لئے اپنے آپ کو تیار کرتاہے ،اپنے گھر کو صاف و شفاف بناتاہے، منتظَر کے آرام و آسائش کو ذہن میں رکھتے ہوئے گھر کو اسی کے مزاج میں ڈھالتا ہے ۔ اپنے علاوہ دوسروں کو بھی اس کے استقبال کے لئے تیار کرتاہے اور اپنے گھر سے زیادہ دل کی دنیا کو اس کی خدمت اور پذیرائی کے لئے آمادہ کرتا ہے۔
مذکورہ جذبے زباں زد خاص و عام ہیں ، ان کیفیات سے دوچار شخص کو کوئی برا نہیں کہتا اور نہ ہی ان اداؤں کے متعلق بے جا نشتر زنی کرتاہے بلکہ ہر شخص اس کے جذبے کو مستحسن قرار دیتاہے اور اس کی اداؤں کو قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھتاہے ۔
مگر نہ جانے کیوں ...؟ جب شیعہ حضرات وقیع پیمانے پر اسی جذبہ کو عقیدہ کی شکل میں اپناتے ہیں تو ان کی داستان حیات انتہائی خونچکاں ہوجاتی ہے ، ان پر پابندی لگانے کے لئے بے جا نشتر زنی اور جھوٹی روایتوں کی پٹاری کھول دی جاتی ہے۔شاہانِ وقت نے ابتداء ہی سے اس سلسلے میں بے پناہ زور آزمائی صرف کی ، مصائب و آلام کے تیر چلائے ، مشقتوں کے نشتر چبھوئے اور دشواریوں کے آہنی گرز سے پیہم حملے کئے مگر شیعہ اپنے عقیدے میں (کَاَنّھُم بُنیَان مَرصُوص)کی عملی تفسیر ثابت ہوئے ، ان کا طرۂ امتیاز رہاہے کہ انہوںنے مشکلات کے پہاڑ دیکھ کر بھی اپنے بڑھے قدم پیچھے نہیں ہٹائے بلکہ مردانہ وار آگے ہی بڑھتے رہے اور اگر اس کی ترقی اور فروغ کے لئے خون جگر کا نذرانہ بھی پیش کرنا پڑا تو اس سے بھی دریغ نہیں کیا۔
ہمارے عقیدۂ انتظار کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے یارانِ دنیا ساز نے جن کاری ضربوں کا استعمال کیا ، وہ بیان سے باہر ہیں مگر عقیدت تو ڈانواڈول ہوسکتی ہے عقیدہ نہیں ....ہم انتظار کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے ، ہماری عمر کا ایک لمحہ بھی ان کی یاد سے غافل نہیں ہے ، ہماری آنکھیں یعقوب کی آنکھوں کی مانند یوسف زہراء کے انتظار میں سرگرداں ہیں... ہر وقت ، ہر پل یہی سودا اور بے قرار دل میں انہیں کے دیدار کی تڑپ ہے... اس لئے کہ اس انتظار کی بڑی اہمیت و عظمت ہے ، روایات و احادیث میں اس کی بڑی فضیلت بیان ہوئی ہے ؛چنانچہ مشہور حدیث ہے : فجدّ وا وانتظروا ھنیئًا لکم ایتھا العصابة المرحومة ''ہاں !کوشش کرو اور انتظار کرو ، تمہیں انتظار مبارک ہو اے رحمتوں کے حامل گروہ ''۔
متذکرہ حدیث کے انداز بیان پر غور فرمائیں تو اندازہ ہوگا کہ یہ اسی مطلب کی طرف اشارہ کررہی ہے یعنی ان دشواریوں اور پریشانیوں کی جانب اشارہ ہے جو ایک منتظر کا مقدر ہے ، کوشش کرو اور انتظار کرو ، زمانہ لاکھ تمہیں دبانے اور ورغلانے کی کوشش کرے مگر تم ظلم و ستم کے لمحاتی اور وقتی دبدبے میں آکر اپنی کوششوں سے منھ نہ موڑ لینا بلکہ اس میں مزید شدت کا مظاہرہ کرو اس لئے کہ یہ انتظار اور انتظار کرنے والے بڑی رحمتوں کے حامل ہیں۔
دوسری حدیث بھی انتہائی فکر انگیز ہے جس میں امام زین العابدین علیہ السلام نے شیعوں کی قدر و منزلت سے آشنا فرمایاہے ، امام فرماتے ہیں : ان اہل زمان غیبتہ القائلین بامامتہ والمنتظرین لظھورہ افضل من کل زمان ....''جو لوگ غیبت کے زمانے میں حضرت مہدی(عج) کی امامت کے قائل ہیں اور ان کے ظہور کا انتظار کررہے ہیں ، وہ ہر زمانے کے لوگوں سے افضل ہیں ، خداوندعالم نے ان کو ایسی عقل و فراست اور معرفت عطا فرمائی ہے ، جس کی وجہ سے ان کے نزدیک حضرت مہدی ( عج ) کی غیبت ان کے ظہور کی طرح ہے ، پروردگار ان لوگوں کو ان مجاہدین کا درجہ عطا کرے گا جو رسول خداۖ کی رکاب میں تلوار سے جہاد کرتے ہوئے راہ خدا میں شہید ہوئے ، یہی لوگ مخلص اور ہمارے سچے شیعہ ہیں ، یہی وہ افراد ہیں جو لوگوں کو خفیہ اور اعلانیہ طور پر خدا کی طرف بلاتے ہیں''۔(کمال الدین ص ٢٠٣)
حدیث کا ایک ایک لفظ انتظا کرنے والوں کی فضیلت کی پوری طرح وضاحت کررہاہے ،اس میں امام زمانہ ( عج) کے ظہور کے انتظار کو دنیاکے دوسرے انتظار سے بالکل مختلف شمار کیاگیاہے ، اس انتظار کی کیفیت مختلف اس لئے ہے کہ امام کی غیبت شیعوں کے نزدیک ظہور کے مترادف ہے ۔اگر تھوڑی سی توجہ مرکوز کی جائے تو اس فضیلت کا حقیقی رخ واضح ہوگا ؛ آپ ملاحظہ کریں کہ انتظار کرنے والے ان مجاہدین کے ہم پلہ ہیں جنہوں نے رسول خداؐکی رکاب میں جہاد کیاہے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ چونکہ مجاہدین کی زندگی سختیوں اور پریشانیوں سے بھرپور ہوتی ہے ، اپنوں سے جدا ہونا ، دوردراز مقامات پر جانا ، بھوک و پیاس کی شدت اور تلواروں کے گہرے زخم برداشت کرنا نیز کفار سے جنگ کرتے ہوئے جام شہادت نوش کرنا...بظاہر یہ ساری چیزیں سختیوں اور مشکلات کے زمرے میں آتی ہیں لیکن حقیقتاًان سے فضیلت و منزلت کے بے شمار باب واہوتے ہیں ۔
شیعوں کی کتابِ زندگی میں انہیں سختیوں کا عکس دکھائی دے گا ، غیبت امام میں انتظار کرنا جتنا سخت مرحلہ ہے ، وہ بیان سے باہر ہے ، واقعاًامام علیہ السلام سے دور رہنا جاں گسل ، دشوار گزار ، صبر آزما، رنج و غم سے لبریز ، مصیبت و الم اور ایک مکمل اضطراب ہے ، غیبت کے زمانے میں ان سختیوں کا غائرانہ تجزیہ کیاجائے تو اندازہ ہوگا کہ مجاہد اور منتظر کی سختیوں میں سر مو فرق نہیں ہے ۔
اس کے علاوہ چونکہ ان کے نزدیک امام کی غیبت ظہور کے مترادف ہے اسی لئے جس طرح مجاہد رسول ۖکی موجودگی میں تقویت محسوس کرتا تھا اسی طرح شیعہ امام زمانہ کی غیبت کے زمانے میں بھی تقویت محسوس کرتے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ منتظر امام زمانہ کو مجاہد کے برابر شمار کیاگیاہے ۔
ایک دوسری حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام نے انتظار کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے منتظرین کی فضیلت بیان کی ہے ؛ آپ فرماتے ہیں : ''جو لوگ قائم (امام زمانہ) کی حکومت کا انتظار کرتے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہوجائیں ، وہ ان افراد کی مانند ہیں جو قائم کے پاس ہیں'' ۔
مولا تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد پھر گویاہوئے : ''بلکہ وہ ان لوگون کی طرح ہیں جو حضرت مہدی (عج) کے ہم رکاب ہیں اور تلوار چلارہے ہیں ''۔ کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد پھر فرمایا: '' خدا کی قسم !یہ لوگ ان افراد کی طرح ہیں جو رسول خداۖ کے سامنے درجۂ شہادت پر فائز ہوئے ہیں ''۔(منتخب الاثر ص٤٩٨،ح١٣)
متذکرہ حدیث میں منتظر کے لئے فضائل و محاسن کا ایک دریا موجزن ہے چونکہ اس کا تعلق ظہور امام زمانہ (عج) کے حقیقی مناظر سے ہے اسی لئے اس کا دامن کسی حد وسیع ہوگیاہے ۔ اگر ظہور کے بعد کی روایات کو ملحوظ نظر رکھ کر اس حدیث کا تجزیہ فرمائیں تو منتظر کی حقیقی منزلت آشکار ہوگی ۔ روایات کے مطابق جو شخص مولا کا حقیقی چاہنے والا ہوگا وہ ظہور کے بعد ان کی رکاب میں جنگ کرے گا ، دشمنوں کو موت کے گھاٹ اتارے گا اور مولا کے نقش قدم پر اپنے قدم جمانے کا شرف حاصل کرے گا مگر یہ فضیلت بہت کم لوگوں کو حاصل ہوگی ۔ لیکن امام علیہ السلام نے اس کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے شیعوں کو بشارت دی ہے کہ تم انتظار کرو، تم یہ نہ دیکھو کہ مولا ہمارے درمیان نہیں ہیں بلکہ تم ایام انتظار میں اسی طرح محو جنگ ہو جس طرح ظہور کے بعد جنگ کرتے اور ان کی ہمراہی کا شرف حاصل کرتے ۔
ظہور کے قبل و بعد دو اہم خصوصیت اور ذمہ داری بیان کی گئی ہے : قبل ظہور حقیقی انتظار اور بعد ظہور مکمل اطاعت ؛حقیقی انتظار ذرا غور طلب ہے چونکہ ہمارے یہاں اس جذبے کو بہت سادگی سے لیاجاتاہے ، اسے دنیاوی انتظار کے مساوی قرار دیاجاتاہے حالانکہ انتظار قائم آل محمد(ص)دنیا سے ہٹ کر ایک الگ انتظار ہے اسی لئے صرف لفظ انتظار کا استعمال نہیں کیاگیاہے بلکہ حقیقی انتظار کی قید لگا کر اس کے بارے میں حساسیت کا ثبوت دیاگیاہے ، حقیقی انتظار سے کیا مراد ہے ؛ حدیث میں اس کی جانب اشارہ کیاگیاہے: من سرّہ ان یکون من اصحاب القائم فلینظر ولیعمل بالورع و محاسن الاخلاق و ھو منتظر۔(غیبت نعمانی ص٢٠٠)
تقویٰ ، پرہیزگاری اور حسن اخلاق وغیرہ انتظار کی واضح خصوصیتیں ہیں جو شخص امام علیہ السلام کا انتظار کررہاہے اس میں ان صفات کاپایا جانا ضروری ہے ۔
گویا حقیقی انتظار وہ ہے جس میں تقویٰ ، پرہیزگاری اور محاسن اخلاق بھی شامل ہوں ، اگر صرف خالی خولی انتظار کیاجائے اور متذکرہ محاسن و صفات کا خیال نہ رکھاجائے تو ایسے انتظار کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ یہ عقل کے منافی اور ارشاد خداو رسول کے برخلاف ہے ۔ یہ تو عام سی بات ہے کہ جس کاانتظار کیاجاتاہے اس کے لئے خاص اہتمام کیاجاتاہے ، خود کو ہر اعتبار اور ہر زاویے سے تیار کیاجاتاہے ۔ مگر کتنے افسوس کی بات ہے کہ ہم جس کا انتظار کررہے ہیں اس کے لئے کوئی اہتمام نہیں کرتے ، اپنے کردار کو اخلاقی فضائل و محاسن سے آراستہ نہیں کرتے ۔
ہمیں چاہئے کہ ہم انتظار کے ساتھ ساتھ اپنے اندر اچھی خصلتیں پیدا کریں اور اپنے اعمال و کردار سے زمین کو مولا کے ظہور کے لئے ہموار کریں تاکہ جلد از جلد مولا ظہور کریں اور دنیا سے ظلم و جبر کا صفایاہو۔
سچے دل سے تم کرو نقش قدم اس کا تلاش
قافلہ والوں چراغ رہ گزر مل جائے گا

مقالات کی طرف جائیے