مقالات

 

رسول خدا(ص)کی حمایت میں حضرت ابو طالب کا کردار

سید شاہد جمال رضوی گوپال پوری

سردار مکہ حضرت ابو طالب علیہ السلام خورشید رسالت کے طلوع ہونے سے لے کر بابرکت عمر کے خاتمہ تک رسول خدا(ص)کے لئے ایسی سپر تھے جس سے رسول(ص) اپنے آپ کو محفوظ رکھتے اوراسے مشرکوں اور بت پرستوں (جوان دنوں عظیم قدرت و طاقت کے مالک اورپوری دنیا کو اپنے ہاتھوں میں لئے ہوئے تھے اور پیغمبر اسلام(ص)کی آسمانی رسالت اور ان کی دعوت کے مقابلے میں خلل ایجاد کررہے تھے) کے لئے آہنی دیوار سمجھتے تھے۔ انہوں نے اس راہ میں اسلام کے لئے بہت سی خدمتیں انجام دی ہیں جو شہرہ ٔ آفاق اور شمار سے باہرہیں ۔ ان کے اجمالی تذکرے کے لئے بھی ایک مستقل کتاب کی ضرورت ہے ۔جو بھی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہوئے ر سول خدا(ص)کے اعزہ و احباب کے محاصرۂ ''شعب ابی طالب '' کے واقعہ تک پہونچے گا ، اسے معلو م ہوجا ئے گا کہ صرف ابو طالب ہی ان کے محافظ و کفیل تھے اور انہیں غذا پہنچا رہے تھے۔
امیر المومنین کی مادرگرامی فاطمہ بنت اسد سے مروی ہے : جب عبدالمطلب کا وقت آخر قریب آیا توانھوں نے اپنے بیٹوں سے کہا: محمد (ص) کی کفالت و سرپرستی کون کرے گا؟ سب نے کہا : وہ ہم سے زیادہ عقلمند ہیں خود ان سے کہئے کہ کسی کو اپنا سرپرست منتخب کرلیں۔عبد المطلب نے محمد(ص)سے کہا: اے محمد(ص)! آپ کے جد سفر قیامت کے لئے آمادہ ہیں ،آپ اپنے کس چچا یا پھوپھی کو اپنی سرپرستی کے لئے منتخب کرتے ہیں؟آنحضرت(ص)نے ان کے چہروں کی طرف دیکھا پھر ابو طالب کی طرف دوڑ پڑے ۔عبد المطلب نے کہا: یٰا اَبَاطَالب! اِنِّیْ قَدْ عَرَفْتَ دَیَانَتَکَ وَ اَمَانَتُکَ، فَکُنْ لَہ کَمَا کُنْتَ لَہ''اے ابو طالب !ہم تمہاری دیانتداری اور امانتداری سے واقف ہیں ان کے ساتھ وہی سلوک کرنا جو ہم نے کیا ہے''۔
فاطمہ بنت اسد کابیان ہے: عبد المطلب کے انتقال کے بعدحضرت ابو طالب نے ان کی سرپرستی قبول فرمائی،میں ان کی خدمت کرتی تھی اور وہ مجھے ماں کہہ کر آواز دیتے تھے...۔ابو طالب نے محمد(ص)کے سلسلے میں مجھ سے فرمایا: ہُوَ اِنَّمَا یَکُوْنَ نَبِیًّا وَاَنْتَ تَلِدِیْنَ لَہ وَزِیْرًابَعْدَ یَاس''وہ پیغمبر ہیں او رتم یاس ( مایوسی)کے بعد اس کے وزیر کو دنیا میں لاؤ گی''۔(١)
حضرت ابو طالب ٤٤سال تک پیغمبر اسلام(ص)کے کفیل او ر محافظ رہے ، آپ نے اسلام کی نشر و اشاعت میں آنحضرت کی بہت زیادہ مدد کی ، قریش کے ظلم وستم اوراذیتوں سے آپ کو محفوظ رکھا او راپنے بیٹوں سے زیادہ ان کی حفاظت و حمایت کی۔
اگر چہ ابوطالب کی مالی حالت بہترنہ تھی لیکن رسول خدا(ص)کی حمایت کرنے میں ذرا بھی دریغ نہیں کیا او راپنی زوجہ فاطمہ بنت اسد کے ہمراہ مل کر ان کی خدمت وحفاظت کے سلسلے میں کوشاں رہے ۔ فاطمہ بنت اسد کا بیان ہے : آنحضرت کے آنے سے ابوطالب کے گھر میں خیرو برکت آگئی ،چنانچہ کئی برسوں سے جو درخت خشک تھے وہ لہلہا کر پھل دینے لگے ۔
منقول ہے کہ حضرت خدیجہ سے رسول(ص)نے تجارت کے لئے معاملہ کیا تھا اور اس میں قرارداد کے ذریعے عہد کیا تھا کہ خدیجہ کے سرمایہ کے ساتھ سفر تجارت پر جائیں اور حضرت خدیجہ کے مال میں جو فائدہ ملے اس میں شریک ہوں، طرفین کے توافق کے بعدخدیجہ نے اونٹ اور کچھ قیمتی سامان حضرت محمد(ص)کے حوالے کیا او راپنے دو غلاموں کو حکم دیا کہ اس سفر تجارت میں حضرت کے ساتھ رہیں اور ان کے حکم کی پیروی کریں۔ شام کے اس تجارتی سفر کی وجہ سے پیغمبر (ص)کی مالی حالت کچھ بہتر ہوئی، سفر کے خاتمہ پر اس قرشی جوان کی شائستگی اور بہترین تجارت کرنے پر خدیجہ (مکہ کی سب سے مالدار خاتون ) نے بہت تعریف وتکریم کی ۔ اسی وجہ سے قرار داد کے علاوہ کچھ او رپیسہ انھیں دیا لیکن رسول(ص) نے صرف معین کئے ہوئے پیسے کو قبول کیا اور اضافی پیسہ لینے سے انکار کردیا،پھرشام کی تجارت سے جو کچھ پیسہ حاصل ہوا تھا اسے ابوطالب کے گھر لائے اورسب کچھ ان کے حوالے کردیاتاکہ ابوطالب کے گھر کی مالی حالت کچھ بہترہوجائے۔(٢)

شعب ابی طالب میں ابو طالب علیہ السلام کاصبرو استقامت
جب مشرکین مکہ پیغمبر(ص) کو ہر طرح سے روکنے کے باوجود کسی نتیجہ پر نہیںپہنچے تو آنحضرت (ص) اور بنی ہاشم کے چاہنے والوں کو شعب ابی طالب ( جو ابو قبیس کے پیچھے ایک درہ تھا او روہاںبنی ہاشم کے گھر تھے) میں شدید اقتصادی ناکہ بندی میں گرفتار کرنے کا ارادہ کیا تاکہ وہ ولوگ بھوک وپیاس کی شدت سے تڑپ کر مرجائیں۔
مشرکین نے اس سلسلے میں ایک عہد نامہ لکھا اوراس پر اسّی لوگوں نے دستخط کئے پھر ]اسے کپڑے سے لگا کر کعبہ کے اندر لٹکا دیا۔ بعثت کے ساتویں سال محرم کے شروع میں محاصرہ کا آغاز ہوا او ردویا تین سال تک چلتا رہا ، یہ مدت بنی ہاشم کی عورتوں اور بچوں پر بہت سخت گذری ،کبھی کبھی بعض لوگ پوشیدہ طور پر ان لوگوں تک غذا پہنچاتے تھے۔
محاصرے کے تمام واقعات میں اہم بات یہ تھی کہ حضرت علی علیہ السلام کے والد ابوطالب شب و روز پیغمبر (ص)کی حفاظت کی فکر میں تھے، اکثر رات میں ان کے بستر کو تبدیل کردیتے تھے اورعلی علیہ السلام کو ان کے بستر پر سلادیتے تھے اور انھیں دوسری جگہ سلاتے، تاکہ حضرت کے بستر کو مشرکین پہچان نہ سکیں اورمشرکین اپنے مکرو حیلہ سے حضرت کو نقصان نہ پہنچائیں یاکوہ ابو قبیس کی طرف سے ان کے بستر پر پتھر نہ پھینکیں۔ابن ابی الحدید اس سلسلے میں لکھتے ہیں :کَانَ اَ بُو طَالِبْ کَثِیْرًا مَایخاف علی رسول اللہ البیات اذا عرف مضجعہ ، یقیمہ لیلاً من منامہ و یضجع ابنہ علیا مکانہ ''ابو طالب غالباً آنحضرت پر دشمن کے رات کے اچانک حملے اور روزانہ کی اذیتوں سے خطرہ محسوس کررہے تھے۔ رات کو بیدار ہوتے اور اپنے بیٹے علی علیہ السلام کوپیغمبر(ص)کے بستر پرسلادیتے تھے''۔(٣)
جی ہاں! ابو طالب اورا ن کے بیٹے علی پیغمبر(ص)کی حمایت کے سلسلے میں بہت سخت اذیتیں برداشت کر رہے تھے لیکن پھربھی حمایت سے دست بردار نہیں ہوئے۔کیاایمان و اخلاق کے علاوہ کوئی ایسا عامل ہے جو ابو طالب اور ان کی طرح دوسرے لوگوں کو اتنامستحکم و محفوظ رکھتا؟
ایسے حالات میں پیغمبر(ص)کے بعد سب سے زیادہ علی علیہ السلام کی جان خطرے میں تھی کیونکہ آنحضرۖت کی حفاظت کے لئے ان کے بستر پر سوتے تھے ا ور ہر لمحہ یہ خطرہ بنا رہتا تھا کہ کوہ ابو قبیس سے بڑا پتھر کب ان کے بستر پر گرادیا جائے یا مشرک جلاد، ان کے بستر پر حملہ آور ہوجائیں ۔ایک رات علی علیہ السلام نے اپنے والدسے کہا:انی مقتول'' میں قتل کردیا جاؤں گا''۔ابوطالب نے اشعار کے ذریعہ اپنے بیٹے کو صبرو استقامت کی تلقین کی،حضرت نے بھی مندرجہ ذیل اشعار میں اپنے والد کو جواب دیا :
اتامرونی بالصبر فی نصر احمد
واللہ ماقلت الذی قلت جازعا
ولکننی احببت ان تریٰ نصرنی
وتعلم انی لم ازل لک طالعاً
وسیحیی لوجہ اللہ فی نصر احمد
نبی الہدیٰا لمحمود طفلاً ویافعاً
''کیا پیغمبر(ص)کی نصرت کے لئے آپ مجھے صبر واسقامت کاحکم دے رہے ہیں؟! خدا کی قسم! جو کچھ میں نے کہا ہے وہ بے صبری کی وجہ سے نہ تھا ،میں توچاہتا ہوں کہ آپ میری نصرت ومدد کو دیکھیں او رجان لیں کہ میں ہمیشہ آپ کے حکم کا فرمانبردار تھا (حالانکہ موت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں پھر بھی محمد (ص) کے بستر پرسوتا ہوں) اور بچپن سے جوانی تک میری پوری کوشش خدا اور ہادی و رہنما رسول کی نصرت کے لئے تھی''۔(٤)
ابوطالب نے رسول کی رسالت کے دوران او رسالت سے پہلے تمام نشیب وفراز میں اپنے عزیز بھتیجے کی مدد کی ، قریش کے شر و فساد کو ان سے دور کیا ، رسول کے قلب ناز نین کو رسالت الہٰی کے پہنچانے میں خوشحال و مسرور کیا اور بہترین کلمات کے ذریعے ان کی حفاظت کی۔جیسے : اِذْہَبْ یَابْنَ اَخِیْ فَقُلْ مَااَحْبَبْتَ فَوَاللّٰہِ مَااَسْلَمْکَ لِشَیْئٍ اَبَدً ا''اے میرے بھتیجے جو کچھ بھی چاہتے ہو (قریش کے مشرکین سے) کہو! خدا کی قسم! تمہیں کبھی بھی کسی کے سامنے تنہا نہیں چھوڑوں گا''۔
علامہ طباطبائی نے کتنی عمدہ بات کہی ہے: '' پیغمبر (ص)کی جان کی حفاظت میں ہجرت سے دس سال پہلے ابو طالب کا اکیلا مجاہدانہ کردارتمام مہاجرین و انصار کی ہجرت کے دس سال بعد سے بھی زیادہ اثرات اور اہمیت کا حامل ہے ''۔ (٥)
ظاہر سی بات ہے کہ ان مجاہدانہ اقدامات کو دیکھتے ہوئے بھی اگر کوئی جناب ابوطالب کے ایمان و عقیدے پرانگلی اٹھانے کی کوشش کرے تو اسے پاگل پن نہیں تو اور کیا کہاجائے گا ۔

حوالے جات
١۔ الخرائج والجرائح ١:١٣٩؛ بحارالانوار ٣٥: ٨٣۔٨٤
٢۔بحارالانوارج ١٦ص٢٢
٣۔ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدیدج ١٤ص٦٤
٤۔بحار الانوارج ٣٥ص٩٣؛ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدیدج ٢٤ص٦٤(تھوڑے فرق کے سا تھ)
٥۔تفسیر المیزان ج ١٦ص ٥٧

مقالات کی طرف جائیے