مقالات

 

امام باقرعلیہ السلام کی علمی عظمت وجلالت

سید شاہد جمال رضوی گوپال پوری

کائنات کے تمام ادیان و مذاہب میں دین اسلام کا یہ طرۂ امتیاز ہے کہ وہ ابتداء ہی سے علم و دانش کا حمایتی اور طرفدار رہاہے ، اس نے تحصیل علم کو ہر فرد پر واجب قرار دیاہے ، علم و ادب کی ترویج اور تعلیم و تربیت کے عام کرنے کی اہمیت کی وجہ سے احتکار علم کو حرام قرار دیاہے ۔
رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ بھی صرف اپنی زبان مبارک سے لوگوں کو علم و دانش کی ترویج کے لئے شوق نہیں دلاتے تھے بلکہ عملی طورپر اس بات کی کوشش فرماتے تھے کہ مسلمانوں کی معلومات میں زیادہ سے زیادہ اضافہ ہو ؛ ایک تاریخی واقعہ سے علم و دانش کے سلسلے میں آنحضرت کی حساسیت کا اندازہ لگایاجاسکتاہے : جنگ بدر سے کامیاب ہوکر جب مسلمان شاداں و فرحاں واپس ہوئے تو ان کے ساتھ اچھی خاصی تعداد مشرک قیدیوں کی تھی ، ان میں کچھ ایسے بھی قیدی تھے جو فدیہ دے کر اپنے کو آزاد کرانے کی طاقت نہیں رکھتے تھے لیکن دولت علم سے مالامال تھے ، رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ نے فرمایا :ہر مشرک اپنی آزادی کے لئے دس دس مسلمانوں کو لکھنا پڑھنا سکھائے تب اس کو آزادی ملے گی۔ بس پھر کیا تھا مشرکوں نے جی توڑ محنت شروع کردی اور اس طرح مسلمانوں کا اچھا خاصا طبقہ لکھنے پڑھنے کی نعمت سے بہرہ مند ہوگیا۔
آنحضرت کی اسی حساسیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے آپ کے تمام خلفائے برحق نے علم و دانش کے سلسلے میں اپنی بے پناہ حساسیت کا مظاہرہ فرمایاجس کا مکمل نمونہ امام محمد باقر علیہ السلام کی حیات طیبہ میں دیکھنے کو ملا ۔
امام باقر علیہ السلام بھی دوسرے ائمہ کی طرح وحی کے چشمۂ زلال سے سیراب ہوئے تھے ، انہوں نے نہ تو کسی استاد کے سامنے زانوئے ادب تہہ کیا اور نہ ہی کسی دنیاوی مدرسہ میں تعلیم حاصل کی ، اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ بھی دوسرے ائمہ اطہار کی طرح دنیا والوں کو علم و حکمت کی تعلیم دینے آئے تھے ، ان سے کچھ حاصل کرنے نہیں آئے تھے ۔
امام باقر علیہ السلام علم و عمل میں یگانۂ روزگار تھے ، دوست و دشمن سبھی آپ کے علمی چشمے سے فیضیاب ہوتے تھے ، حالانکہ دشمنوں نے آپ کے فضائل و کمالات پر پردہ ڈالنے کی بہت کوشش کی لیکن اسے کیا کہئے کہ جس کے فضائل و کمالات چھپانے کی ناکام کوششیں کررہے تھے ، اسی کے پاس اپنی علمی اور فقہی تشنگی کو بجھانے پر مجبور تھے ، اسی لئے ظالم و جابر حکومتوں میں بھی آپ کے فضائل اور آپ کی علمی عظمت و جلالت واضح و آشکار ہوتی رہی ، جس کا علمائے اسلام نے برجستہ اعتراف بھی کیاہے :
ابن عینیہ حضرت کی علمی صلاحیت کے بارے میں کہتے ہیں :کان واسع العلم وافر الحلم ''آپ کا علم کافی وسیع تھا اور آپ انتہائی حلیم و بردبار تھے ''۔(١)
ذہبی کہتے ہیں :کان احد من جمع بین العلم والعمل والسواد والشرف والثقة والرزانہ و کان اھلا للخلافة ''آپ ان افراد میں سے تھے جن کے اندر علم و عمل ، شرافت و بزرگی ، وثاقت اور متانت جیسی فضیلتیں جمع تھیں اور آپ خلافت کے مستحق تھے ''۔(٢)
ابو اسحق نے جب علمی مسائل کے سلسلے میں حضرت کی طرف رجوع کیا اور آپ کی حیرت انگیز علمی عظمت و جلالت کو دیکھا تو بے ساختہ یہ جملہ کہا: لم ار مثلہ قط'' میں نے ان کے جیسا کسی کو نہیں دیکھا''۔(٣)
ابن حجر ہیثمی کہتے ہیں : امام محمد باقر علیہ السلام نے اس قدر معارف کے خزانے کو آشکار کیا اور احکام و حقائق دین کو بیان فرمایا کہ جو صرف اسی پر پوشیدہ رہ سکتاہے جو بصیرت سے عاری اور دیانت سے خالی ہوگا ، اسی لئے آپ کو باقر العلوم اور پرچم علم کو بلند کرنے والا کہاجاتاہے ''۔(٤)
اسی طرح بہت سے علماء نے آپ کی علمی عظمت و جلالت کا اعتراف کرکے اپنے آپ کو آپ کے در علم کا گدائی کہاہے اور بعض نے اس پر فخر و مباہات بھی کیاہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دین اسلام حضرت کے علمی کمالات کا مرہون منت ہے ، آپ ہی کی علمی جلالت کی وجہ سے دین اسلام میں بہت سے علوم گوشہ و کنار میں منتشر ہوئے جس کا واضح ثبوت کتب احادیث ہیں جن میں بلاتفریق مذہب و ملت آپ کے کلمات و ارشادات ملاحظہ کئے جاسکتے ہیں ، چاہے وہ سنی کتابیں ہوں یا شیعہ کتب حدیث ہر جگہ ''قال محمد بن علی '' یا ''قال محمد الباقر '' جیسے جملے موجود ہیں ۔ خود حضرت نے اپنی ذات والاصفات کو علم الٰہی کا خزینہ دار کہاہے ، ایک جگہ آپ فرماتے ہیں : واللہ انا الخزان اللہ فی سماء ہ وارضہ لا علی ذہب و لا علی فضة الا علی علمہ ''خدا کی قسم ! میں زمین و آسمان دونوں جگہوں پر پروردگار عالم کا خزانہ دار ہوں لیکن سونے چاندی کا نہیں بلکہ علم الٰہی کا خزینہ دار ہوں ''.(٥)
ایک دوسری جگہ حضرت فرماتے ہیں : اگر مشرق و مغرب کی جانب سفر کرو تو ہم اہل بیت علیہم السلام کے علوم کے علاوہ صحیح علم کہیں نہ پائے گے۔(٦)
حضرت کی علمی جلالت کا ایک نمایاں رخ یہ بھی ہے کہ آپ نے اپنے فرزند امام جعفر صادق علیہ السلام کے مدرسۂ علم کے لئے زمینہ سازی کی ، جس سے ہزاروں تشنگان علم و فضل بیک وقت سیراب ہوئے اور دنیا کے گوشہ و کنار میں پھیل کر اسلام کی نشر و اشاعت کی ۔ اسلام کا کوئی بھی فرقہ ہو اس کے اندر اتنی جرائت نہیں کہ وہ اپنے آپ کو امام صادق کے مدرسۂ علم سے الگ کرکے اپنی حیثیت ثابت کرسکے ...اس مدرسۂ علم کی بنیاد در اصل امام باقرعلیہ السلام نے رکھی تھی جسے آپ کے فرزند امام صادق علیہ السلام نے عروج و کمال عطا فرمایا اور ہزاروں تلامذہ کی تربیت کی ۔
باقر علم نبی ، تجھ پہ ہوں ماں باپ فدا
اے زمانے سے جہالت کو مٹانے والے

جام عرفان و حقائق کے لنڈھائے کیا کیا
سیر و سیراب ہوئے خوب زمانے والے
شعور گوپال پوری مرحوم
امام باقر علیہ السلام کی علمی جلالت کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ آپ اپنے چاہنے والوں کی بھرپور خبر رکھتے تھے چاہے وہ دور دراز علاقے سے تعلق رکھتے ہوں یا نزدیک ہوں، چنانچہ ابو بصیر سے منقول ہے کہ امام محمد باقر علیہ السلام نے ایک افریقی سے اپنے دوست راشد کے حالات دریافت کئے ۔ افریقی نے جواب دیا : الحمدللہ !خیریت سے ہے ، اس نے آپ کو سلام عرض کیاہے ۔ امام نے فرمایا: خدا اس پر رحمت نازل کرے ۔ اس نے تعجب سے پوچھا : کیااس کا انتقال ہوگیا ؟ امام نے فرمایا : ہاں ۔ اس نے پوچھا : کب انتقال ہوا ؟ فرمایا : تمہارے آنے کے دو دن بعد ۔ اس نے کہا: بخدا!وہ مریض نہیں تھا ۔ امام نے فرمایا: کیا جتنے بھی مرنے والے ہیں وہ سب مریض ہوتے ہیں؟ اس وقت ابو بصیر نے راشد کے بارے میں سوال کیا : امام نے فرمایا : وہ ہمارے دوستوں اور چاہنے والوں میں تھا ، کیا تمہارا یہ خیال ہے کہ ہماری نگاہیں تمہارے اعمال پر نہیں ہیں ؟ کس قدر غلط ہے یہ خیال ۔ خدا کی قسم !تمہاری پوری زندگی ہماری نگاہوں کے سامنے ہے ، تمہاری ہر جنبش نگاہ پر ہماری نظر ہے ، ہمیشہ نیک اعمال انجام دو تاکہ تمہارا شمار اہل خیر میں ہو۔(٧)
لہذا ہم شیعوں کو چاہئے کہ ہم نیک اعمال انجام دے کر اپنے رہبروں اور اماموں کی نظروں میں سرخرو ہوں اور دنیا میں وہ مقام حاصل کریں کہ خود ہمارے ائمہ ہم پر ناز کریں۔

منابع و مآخذ
١۔عمدة الطالب ص ١٩٥
٢۔ سیر اعلام النبلاء ج٤ ص ٤٠٢
٣۔الامام الصادق والمذاہب الاربعہ ج٢ ص ٤٤٥
٤۔ اصول کافی
٥۔ الصواعق المحرقہ ص ٢٠١
٦۔ بحار الانوار ، ج ٤٦ص ٤٤۔٢٤٣
٧۔ بحار الانوار ج ٤٦ص ٤٤۔٢٤٣

مقالات کی طرف جائیے