مقالات

 

مصائب حضرت زہراء سلام اللہ علیہا

ادیب عصر مولانا سید علی اختر رضوی شعور گوپال پوری

مقدمہ
حضرت صدیقہ کبریٰ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے عین طلوع فجر کے وقت بروز جمعہ ٢٠ جمادی الثانیہ بعثت کے پانچویں سال دنیا میں آنکھ کھولی اور ہجرت کے دوسرے سال جبکہ آپ کی عمر تقریباً ٩ سال تھی حضرت علیؑ سے ( جن کا سن اس وقت تقریباً پچیس سال تھا ) آپ کی شادی ہوئی ۔ آپ کے پانچ فرزند ہوئے ۔ حسن ،حسین ، زینب ،ام کلثوم اور محسن ۔
آپ کے والدحضرت رسول خدا(ص)اور ماں جناب خدیجہ تھیں ۔ آپ نے مغرب و عشا کے درمیان تین جمادی الثانیہ ١١/ہجری کو اٹھارہ سال کی عمر میں شہادت پائی ۔ آپ کا مرقد شریف مدینہ میں ہے اور تین جگہوں میں سے کوئی ایک جگہ آپ کی قبر ہے :
۱۔ رسول(ص)کے پہلو میں ؛
۲۔ قبرستان بقیع میں ؛
۳۔ منبر و قبر رسول(ص)کے درمیان مسجد النبی(ص)میں
رسول خدا(ص)کی رحلت کے بعد جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا پر بہت زیادہ مصائب ڈھائے گئے، آپ رسول خدا(ص)کے بعد حضرت علی علیہ السلام کی طرفدار تھیں اور اس راہ میں آخر عمر تک حضرت علیؑ کی حمایت اور دفاع فرمایا اور اس راہ میں اپنی جان تک دے دی ، آپ بعد رسول ٧٥ دن یا ٩٥ دن سے زیادہ زندہ نہ رہیں لیکن اتنی ہی مدت میں آپ پر اس قدر مصائب ڈھائے گئے کہ ان کے بیان سے قلم عاجز ہے ۔

جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا پر دیوار و در کا فشار
رسول(ص)کی رحلت کے بعد ایسے حالات پیش آئے کہ ابو بکر کی بیعت کر لی گئی ، حضرت علی جو رسول(ص)کے بر حق جانشین تھے گھر سے باہر نہ نکلے اور وصیت رسول(ص)کے مطابق گھر میں قرآن جمع کرتے رہے ۔
عمر نے ابو بکر سے کہا : تمام لوگوں نے آپ کی بیعت کر لی ہے سوائے اس شخص ( علی ) اور اس کے گھر والوں کے ۔ کسی کو ان کے پاس بھیجئے کہ وہ آئیں اور بیعت کریں ۔
ابو بکر نے عمر کے چچیرے بھائی جس کا نام قُنفذ تھا، اسے اس کام کے لئے منتخب کیا اور اس سے کہا : علی کے پاس جاؤ اور کہو کہ خلیفۂ رسول کی دعوت پر لبیک کہو ۔
قنفذ کئی بار علی کے پاس گیا اور ابوبکر کی بات پہونچائی لیکن علی نے ابو بکر کے پاس جانے سے انکار کیا ۔
عمر غصّے میں اٹھے اور خالد بن ولید اور قنفذ کو بلا کر حکم دیا کہ آگ اور لکڑی لے آئیں، انہوں نے عمر کی بات مانی اور آگ لکڑی لے کر عمر کے ساتھ خانۂ زہرا کی طرف چلے ۔ فاطمہ پس دیوار تھیں، رحلت رسول(ص)کی وجہ سے ابھی آپ کے سر پر شال عزا تھی ، اس سوگ میں آپ بہت کمزور ہو گئی تھیں ۔ عمر نے دروازے پر پہونچ کر ہاتھ مارا اور بلند آوازمیں کہنے لگا:اے ابو طالب کے بیٹے ! دروازہ کھولو۔
فاطمہ نے فرمایا : '' اے عمر !تمہیں ہم سے کیا سروکار ،ہم تو سوگ میں ڈوبے ہوئے ہیں ، ہمیں ہمارے حال پر کیوں نہیں چھوڑدیتے ؟'' ۔
عمر نے کہا :'' دروازہ کھولو ورنہ تمہارے سامنے اسے جلادوں گا۔''
فاطمہ نے بہت سمجھایا لیکن عمر اپنے ارادے سے باز نہ آئے پھر آگ منگائی اور گھر میں آگ لگا دی ۔ جب دروازے کا نصف حصہ جل گیا تو اسے جھٹکا دیا ۔ اس طرح فاطمہ کا جسم نازنین درودیوار کے فشار میں آگیا ۔(١ )
معاویہ کو خط لکھتے ہوئے عمر نے اپنے اورجناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کے درمیان متذکرہ برتاؤ کا اس طرح تذکرہ کیا ہے :
فاطمہ پس دیوار تھیں، میں نے کہا :اگر علی بیعت کے لئے گھر سے باہر نہ نکلے تو میں ڈھیر ساری آگ اور لکڑی لا کر اس گھر اور گھر والوں کو جلا ڈالوں گا یا پھر علی کو بیعت کے لئے مسجد میں گھسیٹ کر لے جاؤں گا ۔ اس وقت میں نے قنفذ سے تازیانہ لے کر فاطمہ کو مارا، پھر میں نے خالد بن ولید سے کہا :'' تم دوسروں کے ساتھ لکڑی لے آؤ اور فاطمہ سے کہا کہ میں گھر میں آگ لگا دوں گا ۔ اسی وقت گھر کے اندر فاطمہ کا ہاتھ برآمد ہوا جو مجھے گھر میں داخل ہونے سے روک رہاتھا ۔ میں نے ہاتھ ہٹایا اور دروازے کو جھٹکا دیا اور فاطمہ کے ہاتھ پر تازیانہ مارا تاکہ وہ دروازہ چھوڑ دیں ۔ تازیازنہ لگتے ہی وہ شدت درد سے چیخ پڑیں اور اس طرح رونے اور چلانے لگیں کہ قریب تھا کہ میرا دل نرم پڑ جائے اور میں واپس ہو جاؤں ،لیکن اسی وقت مجھے کینۂ علی اور ان کاحریصانہ طریقے سے قریش کو قتل کرنا یا د آگیا ... میں نے دروازے پر زور سے پیر مارا لیکن فاطمہ دروازے کو زبردست طریقے پر تھامے ہوئی تھیں کہ دروازہ کھل ہی نہیں رہا تھا ، جس وقت میں نے دروازے پر زور سے پیرماراتو فاطمہ کی چیخ سنائی دی ، یہ صدائے نالہ ایسی تھی کہ میں نے گمان کیا کہ مدینہ اتھل پتھل ہو گیا، شدت درد سے فاطمہ فریاد کر رہی تھیں :
یا ابتاہ یا رسول اللہ(ص)ھٰکذا یفعل بحبیبتک و ابنتک آہ یا فضّة الیک فخذینی فقد واللہ قتل ما فی احشائی من حمل''اے بابا جان ! اے رسول خدا(ص)آپ کی محبوب وپیاری بیٹی کے ساتھ ایسا برتائو کیا جا رہا ہے،آہ اے فضہ ! ذرا مجھے تھام لو کہ خدا کی قسم میرے رحم میں فرزند قتل کر دیا گیا ''۔
میں نے اسی وقت دروازے کو پھر جھٹکا دیا اور وہ کھل گیا جس وقت میں گھر میں داخل ہوا توفاطمہ اسی درد کی حالت میں کراہتے ہوئے میرے سامنے بیٹھ گئیں ، لیکن مجھے اس قدر شدید غصہ تھا کہ جیسے میری آنکھوں پر پردے پڑے ہوں، میں نے فاطمہ کو ایسا طمانچہ مارا کہ وہ زمین پر گر کر بیہوش ہو گئیں ...۔( ۲)

حضرت فاطمہ(س) کی وصیتیں
امیر المومنین نے فاطمہ کے سرہانے ایک خط دیکھا، اسے اٹھا کرپڑھا ،اس میں لکھا تھا :
بسم اللّہ الرحمن الرحیم ،یہ فاطمہ بنت رسول(ص)کی وصیت ہے :
١۔ فاطمہ گواہی دیتی ہے کہ کوئی معبود سوائے خدا کے نہیں ہے ۔
٢۔ اور محمد(ص)خدا کے بندے اور رسول ہیں ۔
٣۔ بہشت و دوزخ حق ہے ۔ اور مردوںکو زندہ ہونے اور قیامت برپا ہونے میں کوئی شک نہیں ہے ۔
٤۔اے علی ! میں فاطمہ بنت محمد(ص)ہوں کہ خدا نے مجھے آپ کی زوجہ قرار دیا تاکہ دنیا و آخرت میں آپ کے ساتھ رہوں آپ دوسروں کی بہ نسبت میرے نزدیک شائستہ تر ہیں ۔ مجھے شب میں حنوط اور غسل دیجئے ، شب ہی میں مجھ پر نماز پڑھئے اور دفن کر دیجئے، کسی کو بھی خبر نہ کیجئے آپ کو خدا کے سپرد کرتی ہوں اور اپنے بیٹوں پر قیامت تک سلام بھیجتی ہوں ۔
روایت کا فقرہ ہے: ''حنّطنی وغسّلنی وکفّنّی باللیل وصلّ علیّ وادفنی باللیل ''۔(۳)

رسول(ص)کے چچا عباس نے فاطمہ کی عیادت کی
جس وقت حضرت فاطمہ بستر شہادت پر تھیں۔ ایک دن عباس عیادت کے لئے خانۂ زہرا پر آئے، کنیزوں نے ان سے کہا : بی بی کی حالت ٹھیک نہیں ،حالت یہ ہے کہ کسی کو بھی ملاقات کی اجازت نہیں دیتیں ۔
عباس لوٹ گئے اور کسی شخص کے ذریعے امیر المومنین کی خدمت میں یہ پیغام بھیجا :'' اے بھتیجے ! تمہارا چچا سلام کہتا ہے ۔ خدا کی قسم! رسول(ص)کی حبیبہ ، نورچشم فاطمہ کی بیماری کا سنکر اس قدر اندوہگیں ہوں کہ میری حالت دگرگوں ہے، میرے خیال میں وہی سب سے پہلے رسول خدا(ص)سے ملحق ہوں گی اور آنحضرت(ص)نے انہیں کو بہشت کے بہترین درجے کے لئے چنا اور اپنے پاس بلایا ہے ۔ اگر فاطمہ کی رحلت کا وقت آگیا ہے تو مجھے اجازت دو کہ مہاجرین و انصار کو مطلع کروں تاکہ لوگ ان کی نماز اور تشیع جنازہ کے لئے جمع ہوں اور اجر پائیں،یہ کام شعائر اسلامی کے لحاظ سے مناسب اور نیک ہے ''۔
حضرت علی نے عباس کی وفاداری اور محبت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے فرمایا : اے چچا !میں آپ سے تقاضہ کرتا ہوں کہ ایسا کام نہ کریں کسی کو اطلاع نہ دیں ،مجھے معاف کریں کیونکہ مجھے فاطمہ نے وصیت کی ہے کہ ان کے امور کو پوشیدہ رکھوں۔(۴)
انہوں نے وصیت کی ہے کہ جنازہ کو رات میں غسل و کفن دوں اور نماز پڑھ کر رات ہی میں دفن کر دوں ۔
وضاحت کے لئے عرض کیا جاتا ہے کہ اگر ہم حضرت زہرا سے پوچھیں: آپ نے حضرت علی سے وصیت فرمائی کہ مجھے رات میں دفن کیجئے ۔ یہ وصیت خود آپ کے دل کے لئے تھی کہ آپ نہیں چاہتی تھیں کہ جنہوں نے آپ پر ظلم کیا ہے ، آپ کا حق غصب کیا ہے وہ آپ کے دفن و کفن میں شریک ہوں ۔
لیکن میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ آپ نے یہ وصیت کیوںکی کہ رات ہی میں مجھے غسل دیں ۔ شاید جواب ملے کہ یہ وصیت علی کے محزون دل کے لئے تھی کیونکہ آپ جانتی تھیں کہ رات کی تاریکی سے علی آپ کے وہ زخم نہ دیکھ سکیں گے جو دشمنوں سے آپ کو پہونچے اور اس طرح ان کا داغ تازہ ہو جائے ۔
ہاں جناب فاطمہ کو فکر تھی حضرت علی کے غم کی ۔ امام محمد باقر اپنے آبائے کرام سے روایت کرتے ہیں کہ فاطمہ نے سخت گریہ کیا۔علی نے پوچھا : کیوں روتی ہو؟ فاطمہ نے جواب دیا:ابکی لما تلقی بعدی ''میں اس لئے رورہی ہوں کہ میرے بعد آپ بڑے مصائب جھلیں گے ''۔
علی نے انہیں تسلی دیتے ہوئے فرمایا : گریہ نہ کرو، خدا کی قسم! یہ حادثے خدا کی راہ میں میرے لئے بہت معمولی ہیں ''لا تبکی فواللّہ ان ذلک لصغیر عندی فی ذات اللّہ ''۔(۵)

شہادت زہرا(س) کی غم انگیز گھڑی
ابو رافع کی زوجہ سلمیٰ کہتی ہیں کہ میں فاطمہ کی آخری گھڑیوں میں رات دن تیمارداری کرتی تھی ، ایک دن ان کی حالت بہتر ہوئی تو مجھ سے فر مایا : تھوڑا پانی لاؤکہ غسل کروں ۔
میں نے پانی لا کر دیا اور غسل میں مدد پہونچائی ۔ فاطمہ نے غسل کر کے فرمایا : میرا بستر وسط خانہ میں بچھا دو ۔پھر آپ بستر پر روبہ قبلہ لیٹ گئیں اور فرمایا : آج میں دنیا سے رخصت ہو رہی ہوں ( خیال رہے کہ در و دیوار کی مصیبت کے بعد آپ چالیس روز تک بستر پر رہیں ) پھر آپ نے اپنا ہاتھ سر کے نیچے رکھا اور دنیا سے رخصت ہو گئیں ۔
اسماء بنت عمیس کا بیان ہے کہ جس وقت حضرت فاطمہ کا وقت احتضار آیا، اپنے کپڑے سے سر ڈھانکا اور فرمایا : ذرا صبر کرو اور میری منتظر رہو ،پھر مجھے آواز دینا، اگر تمہارا جواب نہ دوں تو سمجھ لینا کہ میں اپنے بابا کی خدمت میں پہونچ گئی ۔
اسماء نے تھوڑی دیر صبر کیا پھر آپ کو آواز دی ۔ کوئی جواب نہ ملا تو فریاد بلند کی : یا بنت محمد المصطفیٰ یا بنت اکرم من حملتہ النساء یا بنت خیر من وطا الحصیٰ '' اے محمد مصطفیٰ(ص)کی بیٹی ! اے بہترین انسان کی بیٹی ،اے زمین پر چلنے والوں میں سب سے بہتر کی بیٹی... ''۔
پھر بھی جواب نہ ملا ۔ چادر ہٹائی تو سمجھ گئی کہ فاطمہ خدا سے ملحق ہو گئیں ، اپنے کو چہرۂ فاطمہ پر گرا دیا اور والہانہ بوسے دینے لگیں ،پھر عرض کی: ''اے فاطمہ !اپنے بابا کی خدمت میں پہونچئے تو میرا سلام پہونچایئے''۔
اسماء نے اپنے گریبان چاک کئے اور گھر سے سراسیمہ باہر آئیں،گھر کے باہر حسن و حسین پر نظر پڑی انہوں نے پوچھا :ہماری اماں کہا ں ہیں ؟
اسماء نے کوئی جواب نہ دیا ۔
وہ دونوں گھر میں آئے اور دیکھا کہ روبہ قبلہ پڑی ہیں ۔ حسین نے شانہ ہلایا تو معلوم ہوا کہ اماں دنیا سے رخصت ہو گئیں ،اپنے بھائی حسن سے کہا:آجرک اللّہ فی الوالدة'' بھیا ! خداآپ کو والدہ کے سلسلے میں اجر کرامت فرمائے''۔امام حسن سامنے آئے اور اپنے کو مادر گرامی پرگرادیا ، کبھی آپ کا بوسہ لیتے تھے اور کبھی کہتے تھے ، اماں مجھ سے بات کیجئے اس سے قبل کہ آپ کی روح بدن سے نکلے ۔
امام حسینؑ نے ماں کے پیروں کا بوسہ لینا شروع کیا اور کہتے جاتے تھے: اماں جان ! میں آپ کا بیٹا حسین ہوں ، اس سے پہلے کہ میرا دل ٹوٹ جائے اور میں مر جائوں ، مجھ سے بات کیجئے ۔ (۶)

حضرت علی علیہ السلام ،جناب فاطمہ(س) کے سرہانے
رات کا وقت تھا، حضرت زہرا کی شہادت کے وقت حضرت علی مسجد میں تھے،حسن و حسین مسجد کے طرف دوڑے اور مادر گرامی کی شہادت کی خبر دی ۔
حضرت علی اس خبر سے ٹوٹ سے گئے ، آپ زمین پر گر پڑے ،لوگوں نے آپ پر پانی چھڑ کا ،جب حالت سنبھلی تو سلگتے اور داغدار دل کے ساتھ اٹھے اور فرمایا :
بمن العزاء یا بنت محمد کنت بک اتعزّی ففیم العزا من بعدک ''اے بنت محمد(ص)! کسے تعزیت پیش کروں ؟ جب تک تم زندہ تھیں اپنی مصیبتوں پر تمہیں کو تعزیت پیش کرتاتھا ۔ اب تمہارے بعد کیسے چین ملے ؟ ''۔
معروف مورخ مسعودی نے حضرت علی کے کچھ اشعار نقل کئے ہیں جسے آپ نے جنازہ زہرا پر سوز وگداز کے ساتھ پڑھے :
لکل اجتماع من خلیلین فرقة
و کل الذی دون الممات قلیل

وان افتقاری فاطمابعد احمد
دلیل علی ان لا یدوم خلیل
''ہر دو ساتھیوں کا اجتماع سر انجام جدائی سے دو چار ہوتا ہے اور ہر مصیبت فراق و جدائی کے بعد معمولی ہے ۔ رحلت رسول(ص)کے بعد فاطمہ کی جدائی اس بات کا ثبوت ہے کہ کوئی دوستی باقی رہنے والی نہیں'' ۔(۷)
جس وقت حضرت علی جسد زہرا کو کفن پہنا رہے تھے ، بند کفن باندھنے سے پہلے آواز دی :
''اے ام کلثوم ،اے زینب ، اے فضہ ،اے حسن اے حسین ! آؤ اور دیدار مادر کا توشہ فراہم کرو کہ یہ وقت فراق ہے ۔
حسن و حسین آئے اورنالہ و فریاد بلند کرنے لگے : اے اماں ! جب نانا جان کی خدمت میں پہونچئے تو ہمارا سلام کہئے گا ۔ ان سے کہئے گا کہ ہم آپ کے بعد یتیم ہو گئے ۔ آہ ، آہ !نانا اور مادر گرامی کے فراق میں ہمارا شعلۂ غم کیسے کم ہو گا ؟
امیر المومنین فرماتے ہیں:
''انّی اشھد اللّہ انّھا قد حنّت و انّت و مدت یدیھا و ضمتھما الی صدرھا ملیا ''میں خدا کو گواہ کر کے کہتا ہوں کہ فاطمہ نے نالۂ جانکاہ بلند کیا اور اپنے دونوں ہاتھ پھیلا دیئے اور اپنے فرزندوں کو دیر تک سینے سے چمٹائے رہیں ''۔
ناگاہ میں نے سنا کہ ہاتف نے آواز دی :
یا ابا الحسن ارفعھماعنھا فلقد ابکیا و اللہ ملائکة السماء'' اے ابو الحسن ! حسن و حسین کو ماں کے سینے سے ہٹا لو کیونکہ خدا کی قسم یہ حالت دیکھ کر آسمان کے ملائکہ رورہے ہیں ''۔(۸)

حضرت علیؑ ، قبر فاطمہ (س) پر
فتال نیشاپوری کی روضة الواعظین میں ہے:
رات گئے حضرت نے جناب فاطمہ کا جنازہ گھر سے باہر نکالا ۔ آپ کے ہمراہ حسن و حسین ،عمار ، مقداد ، عقیل ، زبیر ، ابو ذر ، سلمان ، بریدہ اور چند دوسرے خواص بنی ہاشم تھے ۔ ان لوگوں نے جنازے پر نماز پڑھی اور آدھی رات کو سپرد لحد کیا ۔ قبر کے اطراف میں آپ نے سات دوسری قبریں بھی بنائیں تاکہ اصل قبر پہچانی نہ جائے اس وقت ''ھاج بہ الحزن فارسل دموعہ علی خدّیہ ''علی کا غم و اندوہ ہیجان میں آیا اور آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی ۔
آپ نے قبر رسول(ص)کی طرف رخ کر کے کہا :
السلام علیک یا رسول اللہ عنّی و عنّ ابنتک النازلة فی جوارک و الشریعة اللحاق بک قلّ یا رسول اللہ عن صفیّتک صبری ورقّ عنھا تجلّدی'' سلام ہو آپ پر اے خدا کے رسول !میری جانب سے اور آپ کی خدمت میں آنے والی بیٹی کی جانب سے ۔ جو بہت جلد آپ سے ملحق ہو گئیں ۔ اے خدا کے رسول! آپ کی بیٹی کے فراق میں میرا پیمانۂ صبر لبریز ہو گیا ،میری طاقت جواب دے گئی ۔ انّا للّہ و انّا الیہ راجعون ''۔( ۹)
امام جعفر صادق اپنے آبائے کرام سے روایت کرتے ہیں کہ جب حضرت علی نے فاطمہ کو قبر میں لٹایا اور قبر برابر کی تو تھوڑا سا پانی بھی قبر پر چھڑکا پھر اس کے بعد روتے ہوئے قبر پر بیٹھ گئے ۔ بہت دیر تک روتے رہے یہاں تک کہ آپ کے چچا عباس نے آپ کا بازو تھاما اور پکڑ کر گھر لے گئے ۔ ( ۱۰)
مصائب آل محمدسے ماخوذ

حوالے جات
١۔کتاب سلیم بن قیس و بیت الاحزان ص٩٠
۲۔دلائل الامامہ طبری ،ج٢۔بحار الانوارقدیم ،ج٨،ص٢٢٢ ۔بیت الاحزان ص٩٦،٩٧
۳۔بیت الاحزان ص١٥٢
۴۔ امالی شیخ مفید؛بحارالانوار ،ج٤٣،ص٢١٠
۵۔بحار الانوار ج٤٣،ص٢١٨
۶۔ بیت الاحزان محدث قمی ،ص١٥١
۷۔ بیت الاحزان ،ص١٥٢
۸۔بیت الاحزان ،ص١٥٤
۹۔بیت الاحزان ،ص ١٥٤،١٥٥۔نہج البلاغہ خطبہ ٢٠٢
۱۰۔بیت الاحزان ص١٥٦

مقالات کی طرف جائیے