حدیث

 
رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا :میں جس کا ولی ہوں یہ علی بھی اس کے ولی ہیں اور میں جس کا امام ہوں یہ علی بھی اس کے امام و رہبر ہیں ۔
ینابیع المودۃ ، شیخ سلیمان حنفی ص ۲۵۰؛ کوکب دوری ، شیخ جمال الدین اسنوی ص ۱۲۱
رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا :بے شک خداوندعالم نے ہر پیغمبر کے لئے ایک وصی اور جانشین قرار دیاہے ، حضرت شیث کو حضرت آدم علیہ السلام کا وصی ، جناب یوشع کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کا وصی ، شمعون کو حضرت عیسیٰ کا وصی اور علی علیہ السلام کو میرا وصی قرار دیاہے اور میرا وصی ان سب سے بہتر ہے ، میں دعوت دینے والا ہوں اور وہ روشنی عطا کرنے والا ہے ۔
ینابیع المودۃ ، سلیمان حنفی ص ۲۴۸؛ بحار الانوار ، علامہ مجلسی ج۳۸ ص ۲
رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا :بے شک آسمان کے نیچے موجود لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے کہ علی بن ابی طالب علیہما السلام، مومنین کا امیر ہے ۔
مناقب مرتضوی ، کشفی ترمذی ص ۱۱۸؛ ینابیع المودۃ ج۲ ص ۷۲
رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا :بے شک میں اولین و آخرین کا سید و سردار اور علی بن ابی طالب علیہما السلام اوصیاء کا سید و سردار ہے ، وہ میرا بھائی ، وارث اور میری امت پر میرا خلیفہ ہے ، اس کی ولایت فرض ہے ، اس کی پیروی فضیلت ہے اور اس کی محبت خداوندعالم تک پہونچنے کا وسیلہ ہے ، پس اس کا گروہ خدا کا گروہ ہے ، اس کے شیعہ خدا کے انصار و مددگار ہیں ، اس کے اولیاء خدا کے اولیاء ہیں اور اس کے دشمن خداکے دشمن ہیں ، وہ مسلمانوں کا امام اور میرے بعد مومنین کا امیر و ولی ہے ۔
امالی شیخ صدوق ص ۵۲۱؛ غایۃ المرام ، بحرانی ج۱ ص ۳۰۰
رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا :بے شک خداوندعالم نے پہلے سید و سردار اور سب سے آخری وصی کے ذریعہ میری تائید فرمائی ، پس نے اس نے علی کو میری بیٹی کا کفو قرار دیا لہذا اگر بہرہ مند اور کامیاب ہونا چاہتے ہو تو اس کی پیروی کرو ۔
آل محمد ، حسام الدین حنفی ص ۲۰؛ ملحقات احقاق الحق ج۲ ص ۲۷۴
رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا :میرے بعد بارہ امام ہوں گے ، اے علی ! ان میں سب سے پہلے تم ہو اور آخری وہ قائم ہوگا جس کے ذریعہ خداوندعالم زمین کے مشرق و مغرب کو فتح فرمائے گا ۔
ینابیع المودۃ ج۲ ص ۴۹۳
رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا :اے علیؑ ! میں ، تم اور تمہاری ذریت کے ائمہ دنیا میں سید و سردارہیں اور آخرت میں بادشاہ ، لہذا جس نے ہماری معرفت حاصل کرلی،بے شک اس نے خدا کی معرفت حاصل کرلی اور جس نے ہمارا انکار کیا بے شک اس نے خداوندعالم کا انکار کیاہے ۔
ینابیع المودۃ ، ج۱ ص ۱۲۳؛ امالی شیخ صدوق ص ۵۲۳
رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا : علی کو اس امت پر اسی طرح فضیلت حاصل ہے جس طرح تمام مہینوں پر رمضان المبارک کو،تمام راتوں پر شب قدر کو اورروز جمعہ کو تمام ایام پر حاصل ہے ، لہذا خوشا بہ حال جو علی بن ابی طالب سے رغبت کا مظاہرہ کرے اور اس کی ولایت کو قبول کرے ، اور وائے ہو اس شخص پر جو اس کا اور اس کے حق کا منکر ہو ۔ خداوندعالم قیامت کے دن ایسے شخص کو اپنی رحمت سے محروم رکھے گا اور رسول خداؐ کی شفاعت اس سے دور رہے گی۔
احقاق الحق ج۵ ص ۷۰ ؛ الاربعین ابی فوارس ص ۱۴
رسول خداصلی اللہ علیہ و آلہ نےمیدان غدیر خم میں حضرت علی ؑ کی ولایت کے اعلان کے موقع پر فرمایا : اللہ کی شان کہ اس نےدین کو کامل کیا ، نعمتیں تمام کیں اور میری رسالت اور میرے بعد علی بن ابی طالب علیہما السلام کی ولایت سے راضی و خوشنود ہوا ۔
شواہد التنزیل حسکانی ج۱ ص ۱۶۶؛ مناقب خوارزمی ص ۸۰
رسول خداؐ صلی اللہ علیہ و آلہ نے فرمایا : جب قیامت کا دن آئے گا اور جہنم کے اوپر پل صراط نصب کیا جائے گا تو اس پر سے صرف وہی شخص عبور کرے گا جس کے پاس علی بن ابی طالب علیہما السلام کی ولایت کا امان نامہ ہو گا اور یہی خداوندعالم کے ارشاد کا مفہوم ہے :"انہیں روکو ان سے سوال کیاجائے گا "۔
ینابیع المودۃ ، شیخ سلیمان حنفی ج۱ ص ۱۱۳؛ صواعق محرقہ ص۱۴۹
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا : اے علی ؑ!تم مسلمانوں کے سید و سردار ہو ، باتقویٰ افراد کے امام اور سفید چہرے والوں کے رہبر ہو ، اے علی !تم تمام مومنین کے پیشوا اور امیر ہو ۔
مناقب ابن مغازلی ص ۶۵؛ ریاض النضرہ ، محب الدین طبری ج۱ ص ۲۳۴
رسول خداصلی اللہ علیہ و آلہ نے فرمایا : جس نے میرے بعد میری خلافت و جانشینی کے سلسلے میں علی بن ابی طالب علیہما السلام سے اختلاف کیا تو وہ کافر ہے اور بے شک اس نے خدا و رسول سے اختلاف و نزاع کیاہے ۔
المناقب ، موفق بن احمد خوارزمی ص ۲۵۳؛ بحار الانوار ،علامہ مجلسی ج۳۸ ص ۱۳۵
رسول خداصلی اللہ علیہ و آلہ نے فرمایا: میرا پروردگار مجھے جب بھی معراج پر لے گیا اور اس نے مجھ سے گفتگو کی تو یہ فرمایا کہ اے محمد(ص) !میری جانب سے علی کو سلام کہیے اور کہہ دیجئے کہ تم میرے چاہنے والوں کے رہبر اور امام ہو اور میری اطاعت کرنے والوں کو روشنی عطا کرنے والے ہو ، تمہیں یہ کرامت و عزت بہت بہت مبارک ہو۔
ینابیع المودۃ ، شیخ سلیمان حنفی ج۱ ص ۱۳۳؛ ملحقات احقا ق الحق ج۴ ص ۱۷۰
رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ نے فرمایا : بے شک میرا وصی و جانشین ، میرے بعد سب سے بہتر انسان اور میرا قرض ادا کرنے والا علی بن ابی طالب علیہما السلام ہے ۔
ینابیع المودۃ ج۱ص ۲۳۱؛ ذخائر العقبی ، محب الدین طبری ص ۷۱
رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ نے فرمایا : ہر نبی کا ایک وصی ، جانشین اور وارث تھا ،بے شک میرا وصی ، جانشین اور وارث علی بن ابی طالب علیہما السلام ہے ۔
ینابیع المودۃ ج۱ص۷۹؛حلیۃ الاولیاء ج۱ ص ۶۳
امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں :ہمارے شیعوں کو تین چیزوں کے ذریعہ آزماؤ: ۱۔نماز کے وقت کے ذریعہ کہ وہ نماز کی کتنی رعایت کرتے ہیں ؛ ۲۔ایک دوسرے کے رازوں کو کس طرح چھپاتے یا فاش کرتے ہیں ؛ ۳۔ اپنے اموال سے کس طرح دوسروں کے مسائل حل کرتے ہیں اور دوسروں کے حقوق کو کس طرح ادا کرتے ہیں ۔
وسائل الشيعة:ج۱۵ ص ۱۶۲ح/۸
رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا : جسے پسند ہو کہ میری جیسی زندگی گزارے ، میری جیسی موت سے ہمکنار ہو اور شاداب و آراستہ باغ ( جنت عدن ) میں سکونت پذیر ہو تو اسے چاہئے کہ میرے بعد علی اور اس کے ولی سے محبت کرے (ان کی ولایت کو قبول کرے )اور میرے بعد میرے اہل بیت کی پیروی کرے، اس لئے کہ وہ میری عترت ہیں ، میری ہی طینت سے خلق کئے گئے ہیں اور میرا علم و فہم انہیں عطا کیاگیا ہے ، اب اس کے بعد میری امت کے اس گروہ پر تف ہے جو ان کی فضیلت کی تکذیب کرے اور ان سے میرا رابطہ منقطع کرنے کی کوشش کرے
حلیۃ الاولیاء ، ابو نعیم اصفہانی ج۱ ص ۷۶
امام صادق فرماتے ہیں: اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے : نماز ، زکات ، روزہ ، حج اور ولایت ؛اور جس طرح ولایت کی دعوت دی گئی ہے کسی دوسری چیز کی دعوت نہیں دی گئی لیکن لوگوں نے چار پر عمل کیا اور ولایت کو چھوڑ دیا
کافی ، کلینی ج٢ ص ١٨