مقالات

 

جناب فاطمہ زہرا (س)اسوۂ کامل ؛ علامہ اقبال کی نظر میں

سید شاہد جمال رضوی گوپال پوری

جناب فاطمہ زہراسلام اللہ علیہا کی مدت حیات ایک عام عورت کے بھرپور نشو و نما کی عمر ہے ، اٹھارہ برس کی عمر ہی کیا ...؟ یہ عمر تو تجربات حاصل کرنے ، اپنے گردو بیش کا جائزہ لینے اور زندگی کی سمت متعین کرنے کی ہوتی ہے لیکن جناب فاطمہ(س) کی یہ مختصر ترین مدت حیات اپنی صنف کے لئے افادیت سے بھرپور ، جامعیت سے آراستہ ، مکمل ترین اور معجزانہ جلال و جمال کا حامل ہے ، صنف نسواں کے لئے جس حیثیت سے بھی نمونۂ عمل تلاش کیاجائے آپ مشعل تعلیم لئے ہوئے نظر آئیں گی ، بیٹی ، زوجہ اور ماں میں سے صنف نازک کے جس رخ سے بھی جناب سیدہ کی حیات و خدمات کا جائزہ کیاجائے آپ ایک مکمل عورت نظر آئیں گی ، آپ نے ٩برس تک بیٹی کی حیثیت سے زندگی گزاری ، ایک برس تک صرف زوجہ کی حیثیت سے بسر کی اور ٨ برس تک زوجہ اور ماں کی حیثیت سے زندگی کے سرد و گرم جھیلے۔بیٹی کی حیثیت سے جائزہ لیجئے تو آپ نے اس طرح رسول خداصلی اللہ علیہ و آلہ کے ہمراہ اسلام کا دفاع کیا کہ آپ نے ''ام ابیھا'' کا لقب عنایت فرمایا ، زوجہ کی حیثیت سے اس خوبی سے امیر المومنین کا ساتھ دیا کہ اولین مدافعۂ ولایت قرار پائیں اور سیدۂ نساء عالمین کی عملی تفسیر بن کر سامنے آئیں اور ماں کی حیثیت سے تحفظ اسلام کا ابد آثار اقدام یوں کیا کہ حسنین جیسے نازش آفریں فرزندوں کی تربیت و پرداخت کی ۔
شخصیت زہراء کی متذکرہ جامعیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے بڑے بڑے علماء اور دانشوروں نے ان کے حضور اپنی عقیدت کا نذرانہ پیش کیاہے ، انہیں میں مشرق کے عظیم شاعر '' علامہ اقبال '' بھی ہیں جو در عظمت زہراء پر ہدیۂ عقیدت لئے حاضر نظر آتے ہیںاور صدیقہ طاہرہ کی متذکرہ تینوں خصوصیات کو پیش نظر رکھتے ہوئے انہیں صنف نازک کے لئے اسوۂ کامل بتاتے ہیں۔
ارباب علم و ادب جانتے ہیں کہ علامہ اقبال انتہائی دیدہ ور اور ژرف نگاہ شاعر تھے ، ان کی مثال اس جوہری کے جیسی ہے جو ہزاروں خس و خاشاک میں بھی ہیرے موتی کی پرکھ کرلیتاہے ،علامہ اقبال نے اپنی دور بینی اور حق طلبی کے جذبہ کے زیر اثر خس و خاشاک کے ڈھیر میں بھی گوہر مراد ڈھونڈھنے کا بے نظیر ہنر دکھایاہے ، آپ کی شاعری کا خاصہ یہ ہے کہ آپ نے تاریخ عالم و آدم کی منفی شخصیتوں اور افسانوی کرداروں میں بھی انسانیت ساز گوشے تلاش کرنے کی کوشش کی ہے اور اس میں پوری طرح کامیاب و کامران نظر آئے ہیں ، ابلیس کی مجلس شوریٰ اور لیلیٰ مجنون جیسے افسانوی کرداروں پر کہی گئی نظمیں اس کی زندہ مثال ہیں ۔
ظاہر ہے جس جوہری کی نگاہ اتنی تیز ہو ، جو منفی اور افسانوی کرداروں میں بھی انسان سازی کے قابل قدر نکات نکال لے ایسا شخص جب ایسے دروازے پر حاضری دے گا جو تاریخ بشریت کے لئے مکمل اسوہ اور نمونۂ عمل ہیں ، جہاں کی زندگی کا ہر ہرلمحہ بلکہ ہر سانس ایک لائق تقلید تاریخ کی حیثیت رکھتی ہے ، وہاں جاکر وہ پیغامات و نصائح اور حقائق و معارف کے کیسے کیسے مونگے موتی تلاش کرے گا..؟ دوسرے لفظوں میں یہ کہاجائے کہ فراست و بصیرت کی دولت سے مالامال، زہر ہلاہل میں بھی تریاق کے عناصر حاصل کرنے والے حکیم امت کے لئے یہ فریضہ نہایت آسان ہے کہ وہ چشمۂ آب حیات سے اپنی شاعری کے جام و سبو بھر دے اور خواب غفلت میں پڑے ہوئے انسانوں کو پھر سے انسانیت و شرافت کے عظیم درس سے مالامال کردے ۔
علامہ اقبال حق کی تلاش میں در اہل بیت پر حاضر ہوئے ،جہاں وحی الٰہی کا نزول ہوتاتھا ، جہاں آسمانی ملائک آکر گدائی کرتے تھے ، جہاں بڑے بڑے سورما اپنی جبین نیاز جھکانے کو باعث افتخار سمجھتے تھے ...ظاہر ہے علامہ اقبال جیسے دیدہ ور اور ژرف نگاہ شاعر سے یہ فضیلتیں کہاں پنہاں ہوسکتی تھیں ، اسی لئے آل محمد صلی اللہ علیہ و آلہ کی مدحت سرائی میں علامہ اقبال کا تخلیقی شعور اور عقیدت و احترام کا جذبہ اپنے عروج پر نظر آتاہے ، آپ نے اہل بیت اطہار کی مدحت سرائی کا ایسا انوکھا انداز اپنایا ہے کہ دنیا کے دوسرے علماء و شعراء آپ کے سامنے پانی بھرتے نظر آتے ہیں ۔
جناب زہراء(س) کی مدحت سرائی میں بھی علامہ اقبال کا جذبۂ عقیدت اپنے کمال پر نظر آتاہے ، آپ نے خاتون جنت کی تعریف و توصیف میں نہ بخل سے کام لیا اور نہ ہی افراط و تفریط کے ذریعہ لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی بلکہ آیات و روایات کے معیار پر فضائل و مناقب کا واقعی عکس دکھانے کی کوشش کی ہے ؛ لیجئے حضرت صدیقہ طاہرہ کے متعلق ''رموز بے خودی '' کے بعض اشعار ملاحظہ فرمائیے :
مریم از یک نسبت عیسیٰ عزیز
از سہ نسبت حضرت زہرا عزیز

نورچشم رحمة للعالمین
آں امام الاولین و آخرین

آنکہ جاں در پیکر گیتی دمید
روزگار تازہ آئین آفرید

بانوے آن تاج دار ھل اتی
مرتضیٰ ، مشکل کشا، شیر خدا

پادشاہ وکلبہ ای ایوان او
یک حسام و یک زرہ سامان او

مادر آن مرکز پرکار عشق
مادر آں کارواں سالار عشق

آن یکی شمع شبستان حرم
حافظ جمعیت خیر الامم

تا نشینند آتش پیکار و کین
پشت با زد بر سر تاج و نگین

و آن دگر مولای ابرار جھان
قوت بازوی احرار جھان

در نوای زندگی سوز از حسین
اھل حق حریت آموز از حسین

سیرت فرزندھا از امھات
جوھر صدق و صفا از امھات

مزرع تسلیم را حاصل بتول
مادران را اسوۂ کامل بتول
ترجمہ :
''حضرت مریم کا مرتبہ و مقام صرف ایک نسبت سے ثابت ہے کہ وہ جناب عیسیٰ کی والدۂ ماجدہ ہیں لیکن حضرت زہراء کی عزت و توقیر تین نسبتوں سے ثابت ہے ، ایک تو آپ رحمة للعالمین ، اولین و آخرین کے قائد و رہبر کی آنکھوں کا نور اور لخت جگر ہیں، جس نے کائنات کے پیکر میں روح پھونکی اور ایک نئے نظام اور دین سے معمور زمانے کی تخلیق فرمائی ۔
آپ کی دوسری نسبت یہ ہے کہ آپ اس عظیم انسان کی رفیقۂ حیات ہیں جو مرتضیٰ بھی ہے ، مشکل کشاء بھی ہے اور شیرخدا بھی، حضرت علی دنیا کے وہ واحد بادشاہ ہیں جن کا ایوان ایک جھونپڑی ہے اور ان کا پورا ساز و سامان ایک شمشیر اور ایک زرہ ہے ۔
حضرت زہراء کی عزت و عظمت کی تیسری نسبت یہ ہے کہ آپ حسنین کریمین کی والدہ ماجدہ ہیں جن میں سے ایک رونق عشق اور مرکز رعنائی عشق ہے اور دوسرا اسی قافلہ الٰہی کا سالار اور میر کارواں ہے ۔ (امام حسن ) شبستان حرم کی شمع اور بہترین امت کے اجتماع و اتحاد کے حافظ ہیں اس لئے کہ جنگ اور دشمنی کی آگ کو بجھانے کے لئے آپ نے حکومت کو لات مار دی ۔ اور دوسرے (امام حسین ) دنیا کے نیک سیرت لوگوں کے مولا اور دنیا کے حریت پسندوں کی قوت بازو ہیں ، زندگی کی نوا میں سوز ہے تو حسین سے ہے اور اہل حق نے اگر حریت سیکھی ہے تو حصین بن علی سے سیکھی ہے ۔
فرزندوں کی سیرت اور روش زندگی مائوں سے ورثے میں ملتی ہے ؛ صدق و خلوص کا جوہر مائوں سے ملتاہے ، تسلیم اور عبودیت کی کھیتی کا ماحصل جناب بتول ہیں اور مائوں کے لئے اسوۂ کامل حضرت بتول ہیں''۔(کلیات اقبال ،مطبوعہ نسائی لاہور ص١٠٣)
متذکرہ اشعار میں علامہ اقبال نے اپنی تخلیقی بصیرت کا ثبوت دیتے ہوئے جناب فاطمہ زہراء کے کردار کو تمام عورتوں کے لئے مثال اور نصب العین قرار دیاہے، بیٹی ، زوجہ اور ماں تینوں حیثیت سے جناب فاطمہ نے جو زندگی بسر کی ہے وہ دنیا کی تمام عورتوں کے لئے نمونۂ عمل ہے ۔ظاہرہے متذکرہ تینوں جہتوں پر تفصیلی گفتگو کے لئے کئی صفحات درکار ہیں ، یہاں صرف بعض باتیں بطور اشارہ قارئین کی خدمت میں پیش کی جارہی ہیں:
١۔پہلے شعر میں علامہ اقبال نے جناب سیدہ سلام اللہ علیہا کو جناب مریم سے افضل و برتر قرار دیاہے ،پھر بعد کے اشعار میں اس افضلیت و برتری کی دلیلیں پیش کی ہیں ، حقیقت یہ ہے کہ جناب زہرا(س) صرف جناب مریم سے ہی نہیں بلکہ دنیا کی تمام عورتوں سے افضل ہیں ، رسول خداصلی اللہ علیہ و آلہ نے اپنی متعدد حدیثوں میں صراحت کے ساتھ اس بات کو بیان فرمایاہے جنہیں شیعہ و سنی دونوں کتابوں میں ملاحظہ کیاجاسکتاہے ؛ ابن عساکر مقاتل کے طریق سے ، انہوں نے ضحاک سے ، انہوں نے ابن عباس سے اور انہوں نے رسول خداصلی اللہ علیہ و آلہ سے نقل کیاہے کہ دنیا میں چار عورتیں سب سے بہتر و برتر اور افضل ہیں : مریم بنت عمران ، آسیہ بنت مزاحم ، خدیجہ بنت خویلد اور فاطمہ بنت محمد اور ان سب میں سب سے بہتر حضرت فاطمہ بنت محمد ہیں ۔( تفسیر روح المعانی ، آلوسی ج٢ ص ١٤٩)
٢۔ علامہ اقبال نے اپنے شعر میں صرف جناب مریم سے شہزادیٔ کونین کا مقایسہ کیاہے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت مریم باعظمت اور پاکیزہ خاتون ہیں ، آپ کو قرآن مجید نے اسوہ اور نمونۂ عمل قرار دیاہے ، حقیقت یہ ہے کہ آپ کی زندگی و بندگی کا ہر لمحہ عورتوں کے لئے لائق تقلید و عمل ہے ۔جب ایسی باعظمت اور نمونۂ عمل خاتون سے شہزادیٔ کونین کی برتری ثابت ہوجائے گی تو دنیا کی تمام عورتوں سے ان کی برتری و افضلیت ثابت ہوجائے گی، اسی لئے علامہ اقبال نے تقابل کے لئے جناب مریم کا انتخاب فرمایا۔یہاں بھی علامہ اقبال کی بصیرت ہمارے لئے لمحۂ فکریہ دے رہی ہے کہ انہوںنے ہماری روشوں کے برخلاف تقابل کا بہترین طریقہ انتخاب فرمایاہے ۔ عام طور سے ہمارے معاشرے میں رائج ہے کہ ہم کسی کا کسی سے تقابل کردیتے ہیں ، نہ معصوم دیکھتے ہیں اور نہ ہی غیر معصوم،حالانکہ ایک معصوم کا غیر معصوم سے تقابل کرنا قطعی صحیح نہیں ہے ۔ اس کے علاوہ ہمارا طریقہ یہ ہے کہ ہم معصومین کے درمیان تقابل کرکے اپنی مدنظر شخصیت کو بڑھانے کے لئے دوسرے معصوم کو نیچا دکھاکر کہتے ہیں کہ یہ بہت عظیم ہیں اور اس سے ہمیں خوشی ہوتی ہے جب کہ علامہ اقبال نے جناب مریم کی فضیلت کا انکار نہیں کیاہے ، ان کی قرآنی حیثیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس بات کی صراحت کی ہے وہ اسوۂ قرآنی ہیں لیکن شہزادیٔ کونین حضرت فاطمہ زہرا(س) ان سے بہتر اسوہ اور نمونۂ عمل ہیں۔
٣۔ عظیم بیٹی :علامہ اقبال نے اپنے اشعار میں جناب زہراء کو کائنات کی عظیم بیٹی قرار دیاہے ،تاریخوں سے اس کا ثبوت بھی فراہم ہوتاہے ، آپ نے کمسنی کے باوجود اپنے عظیم المرتبت باپ کا بھرپور ساتھ دیااور ان کے شانہ بشانہ تمام مصائب و آلام کا مقابلہ کیا، ان کے مذہبی اور دینی کاموں میں اس قدر حساسیت کا مظاہرہ فرمایاکہ آنحضرت نے بارہا ''فداھا ابوھا'' اور '' فاطمة بضعة منی ''کہا ۔ رسول خدا(ص)اکثر کفار و مشرکین کی ستم رانیاں سہنے کے بعد گرد آلود اور مجروح حالت میں گھر تشریف لاتے تھے تو جناب سیدہ بڑے پیار اور شفقت سے بابا کے زخموں کو مرہم لگاتی تھیں اور ان کے جسم مبارک سے گر د و غبار کو صاف کرتی تھیں ، رسول خدا(ص) آپ کی مادرانہ شفقت و مہربانی کو دیکھتے ہوئے بے ساختہ فرماتے تھے :فاطمة ام ابیھا ''فاطمہ اپنے باپ کی ماں ہے''۔ظاہر ہے ایسی شفیق اور عظیم بیٹی ، کائنات کی تمام بیٹیوں کے لئے اسوہ اور نمونۂ عمل بن سکتی ہیں ۔
٤۔بے مثال شریک حیات:علامہ اقبال نے جناب زہراء کی ازدواجی زندگی کو بے مثال قرار دیتے ہوئے شہزادیٔ کونین کے شوہرنامدار کی بعض خصوصیتیں بطور نمونہ پیش کی ہیں جن میں تاجدار ھل اتیٰ ، مرتضیٰ ، مشکل کشاء اور شیراخدا سر فہرست ہیں ، آپ کو کائنات کے عظیم انسان کی زوجہ ہونے کا شرف حاصل تھا اسی لئے آپ نے بھی بے مثال شریک حیات بن کر دکھا، چنانچہ حیدر کرار جب میدان جنگ میں دشمنوں کا خاتمہ کرکے خون آلود تلوار گھر لاتے تھے تو جناب زہراء اس خون آلود ذوالفقار کو دھو کر پھر سے اس کی چمک دمک لوٹاتیں ۔ ایک اچھی شریک حیات وہ ہوتی ہے جو اپنے شوہر کی خواہش زبان پر آنے سے پہلے اس کی خواہش پوری کردے ، اس کے دردوں کا درماں کرے اور اس کے غم و اندوہ اور حزن و ملال کوبرطرف کرنے کی کوشش کرے ۔ یہ ساری باتیں جناب زہراء میں بدرجۂ اتم موجود تھیں ،جس کا اندازہ حضرت علی کے اس فقرے سے لگایا جاسکتاہے ، آپ فرماتے ہیں: لقد کنت انظر الیھا فتنکشف عنی الھموم والاحزان '' میں جب بھی ان کے چہرے کی طرف دیکھتا تھا میرے تمام غم و اندوہ دور ہوجاتے تھے ''۔(٢)
٥۔ بہترین اور نمونۂ عمل ماں :ایک ماں صرف اپنے گھر میں مرکزی حیثیت کی حامل نہیں ہوتی بلکہ معاشرے کی تربیت میں بھی مائوں کا بڑا گرانقدرد.ْ؛[ کردار ہوتاہے ، اسی لئے تو نپیولین بوٹا پارٹ نے کہاتھا:مجھے بہترین مائیں دو میں تمہیں ایک عظیم قوم دوں گا ''۔لیکن ظاہر ہے بہترین مائیں تلاش کرنا بھی سب سے اہم اور دشوار گزار مسئلہ ہے ، بہترین مائیں اسی وقت مل سکتی ہیں جب ان کی تربیت بہترین ماں کے انداز میں کی جائے اور اس تربیت کے لئے اسوہ اور نمونۂ عمل کا ہونا بہت ضروری ہے ، اگر مائوں کے پاس امومت کے حوالے سے بہترین اسوہ اور نمونۂ عمل ہو تو وہ بہترین مائیں بن کر اپنی قوم کو عظیم اور قابل قدر بناسکتی ہیں ۔ علامہ اقبال نے کائنات کے ہر دور کی مائوں کے لئے بہترین اور قابل قدر اسوہ اور نمونۂ عمل کی نشاندہی کی ہے ، آپ کسی قید و شرط کے بغیر فرماتے ہیں: ''مادران را اسوۂ کامل بتول ''۔جناب سیدہ تمام مائوں کے لئے اسوہ اور نمونۂ عمل اس لئے ہیں کیونکہ آپ نے دو نازش آفریں فرزندوں کی تربیت کی ، جن میں سے ایک امام حسن مجتبیٰ ہیں جن کے بارے میں علامہ اقبال کہتے ہیں کہ اسلامی تاریخ کی یہ وہ درخشاں ترین شخصیت ہے جس نے ملت اسلامیہ کا شیرازہ ایک نازک دور میں بکھرنے سے بچا لیااور یہ ثابت کردیا کہ امت کی شیرازہ بندی میں امام کی حیثیت نظام کائنات میں سورج کی مانند ہوتی ہے ۔
دوسرے فرزند امام حسین ہیں جنہوں نے اپنی ماں کی تربیت کا مظاہرہ میدان کربلا میں کیا اور ہر دور کے مفکرین کو یہ بتادیا کہ اگر تربیت اچھی ہوتو خون تلواروں پر کامیابی و کامرانی حاصل کرسکتاہے ، دین کی راہ میں اپنے گود کے پالوں کو قربان کر کے چہرہ پر اضمحلال طاری نہیں ہوتا بلکہ اور بھی درخشاں ہوتاجاتاہے ۔
علامہ اقبال کی نظر میں عورت کے بطن سے اگر ایک ایسا آدمی پیدا ہوجائے جو حق پرستی اور حق کی خدمت کو اپنی زندگی کا نصب العین اور مقصد قرار دے تو اس عورت نے گویا اپنی زندگی کے منشاء کو پورا کردیا، اسی لئے علامہ اقبال نے تمام مسلمان عورتوں سے اپنی آغوش میں شبیر جیسا بیٹاتربیت کرنے کی گزارش کی ہے :
بتولے باش و پنہاں شو ازیں عصر
کہ در آغوش شبیرے بگیری

مقالات کی طرف جائیے