مقالات

 

تاریخ کے غم انگیز لمحے

سید شاہد جمال رضوی گوپال پوری

ذرا نگاہ تصور سے مدینۂ منورہ کی سمت دیکھئے :
ایک بیٹی ، اکلوتی بیٹی اپنے عزیز باپ کی عظیم مصیبت پر زار و قطار رو رہی ہے، اس کا پورا وجود غم و اندوہ میں ڈوبا ہوا ہے ، اسے نہ اپنا ہوش ہے اور نہ ہی اپنے اطراف و اکناف کا .....وہ تو صرف اس بات سے محزون و مغموم ہے کہ اس کا وہ باپ دنیا سے رخصت ہوچکاہے جو اسے جان سے زیادہ عزیز تھا ......یوں بھی جب کسی کا کوئی عزیز اس دار فانی سے دار بقا کی طرف کوچ کرجاتاہے تو اس کا وجود خاموشی کی تصویر اور غم کا فسانہ بن کراشکوں کے حصار میں بے قرار دل اور بے چین و مضطرف روح کے ساتھ اپنی یادوں اور یادداشتوں پر غور و فکر کرتاہے تو ایک ہوک سی اٹھتی ہے ، آنکھوں سے نمکین پانی کا دریا جاری ہوجاتاہے ،اس وقت ایسا لگتاہے جیسے خاموشی ، اداسی ، بے نوائی اور درد و الم اسی کے لئے معرض وجود میں آئے ہوں ، اندھیرے اور سناٹے اس کے اپنے ہوں ، تیرگی اور ترسندگی اسی کے وجود خاکی کا حصہ ہوں ... .گریہ جس کی پہلی منزل ، آنسو جس کا پہلا مقام ۔
ہاں !اس وقت سناٹے اور بڑھ جاتے ہیں ، اندھیروں میں اضافہ ہوجاتا ہے ، گریہ مزید شدت اختیار کرلیتا ہے جب کسی کا باپ دنیا سے چلا جاتاہے اور کوئی پدرانہ شفقت سے محروم ہوجاتا ہے ۔
آج یہ اکلوتی بیٹی ٹوٹ کر پیار کرنے والے باپ سے جدا ہورہی ہے ، ایسا باپ جو اپنی بیٹی کی ہلکی سے پریشانی پر بہت زیادہ پریشان ہوجاتا تھا ، ماتھے کی ایک لکیر پر بری طرح مضطرب ہوجاتاتھا ، یہ بیٹی بھی اپنے باپ کی ذرا سی اذیت پربے چین ہوجاتی تھی ...۔
آج وہی سایۂ رحمت اس سے جدا ہوچکا تھا ، آج اسے احساس ہورہاتھا کہ وہ لق و دق صحرا میں یک و تنہا کھڑی ہے ، ویرانیاں اس کی گرویدہ ہیں اور اداسیاں اسے اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے ہیں ۔
ابھی یہ بیٹی اس عظیم و جانکاہ غم سے ابھرنے بھی نہ پائی تھی کہ اس کے باپ کے نام نہاد چاہنے والوں نے اس پر ظلم کی انتہا کرتے ہوئے اس سے اس باغ کو چھین لیا جسے اس کے باپ نے بڑے پیار سے عطا فرمایا تھا۔ یہ باغ جو تاریخ میں فدک کے نام سے مشہور ہے اس بیٹی کے لئے بہت زیادہ عزیز تھا اس لئے کہ یہ اس کے باپ کی نشانیوں میں سے ایک اہم نشانی تھی ، اس باغ سے اس کے باپ کی یادیں وابستہ تھیں ، اسے دیکھ کر باپ کی یادیں تازہ ہوجاتی تھیں ۔ جو باغ اتنا اہم ہو اس کے غصب پر تڑپنا اور بے چین ہونا فطری بات ہے ، اس لئے وہ تڑپ اٹھی ،ایک طرف فدک کے غصب ہونے کی وجہ سے تو دوسری طرف باپ کی امت کے دوغلے کردار کی وجہ سے ... دل بے چین ہوا توآنسو غم کا فسانہ بن کر خود بخود آنکھوں سے بہنے لگے۔
ہائے افسوس!اگر غم و اندوہ کا یہ سلسلہ یہی پر روک دیا جاتا تو یہ بیٹی آنسوؤں کے سہارے اس غم کو جھیلنے کی کوشش کرتی لیکن حالات صرف انہیں سختیوں اور مصائب و آلام تک محدود نہ رہے بلکہ اس ذات کو ایک دوسرے سانحہ کا سامنا کرنا جس کی تاثیر نفس طاہرہ میں حزن و الم اور مصیبت و اذیت کے اعتبار سے پہلے دونوں سانحات سے قطعی کم نہ تھی ۔
جی ہاں!خاندان رسالت کی قدیمی شرافت جو ان کے پاس ابتدائے تاریخ سے تھی ، اسے سلب کر لی گئی یعنی امت کی سیادت اور ملت کی زعامت و رہبری کا حق اس بیٹی کے شوہر سے چھین لیاگیا۔
یہ وہ مصائب و آلام تھے جو پے در پے چند دنوں میں اس بیٹی پر ڈھائے گئے،اگر اس کے علاوہ کوئی دوسرا انسان ہوتا تواس کا وجود ٹوٹ پھوٹ جاتا ، اس کا شیرازہ بکھر جاتا لیکن یہ بضعة النبی تھی ، آئینہ جمال رسالت تھی، اس کے دل میں رسالت کا دل دھڑکتا تھا ، وہ خیبر شکن کی شریک حیات تھی اس لئے اس نے دین اسلام کی شرافتوں اور ابدی عظمتوں کی حفاظت کے لئے صنف نازک کی فرد ہونے کے باوجود مجاہدت کی ٹھان لی ۔یہ ذات کوئی اور نہیں بلکہ رسول کی اکلوتی بیٹی صدیقۂ طاہرہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا ہیں۔
جس وقت آپ نے انقلاب کے لئے قدم اٹھایا تو اس وقت آپ کو حالات کی سختی کا یقین تھا لیکن پھر بھی موقف کی سختی آپ کے پیمانۂ صبر کو معمولی خوف و دہشت سے چھلکا نہیں سکی ، آپ کے حقیقی خیالات میں کسی قسم کا تردد پیدا نہیں ہوا اور قلق و اضطراب کے افکار آپ کی راہ انقلاب میں حائل نہیں ہوسکے ۔اس لئے کہ یہ بی بی استعداد کامل اور ثبات قدم کی اس بلندی پر ہیں جو اس کو ہر سخت اقدام اور دفاعی اسلوب پر جرائت دلا رہی ہے ،اسی لئے اس نے اس راستہ کو اختیار کیا جس پر چلنا ایک عورت کے لئے انتہائی دشوار تھا کیونکہ عورت کی طبیعت ضعیف ہوتی ہے اور موقف انتہائی شدائد و مصائب کا حامل ہے جو ایک ادبی جرائت بیانی کا طالب ہے اور ایک ایسی قدرت چاہتا ہے جس سے انقلابی مفاہیم الفاظ میں ڈھال دئیے جائیں اور حالات حاضرہ پر ایسی تنقید کی جائے کہ جس میں حیات کے مفاہیم اور دوام کے خطوط نمایاں ہوجائیں تاکہ ہر حرف ایک مستقل سپاہی اور ہر کلمہ تاریخ عقیدہ کی صحیح سند بن جائے ۔
اسی لئے اس بی بی نے اس راستہ کو اختیار کیا جو اس کی طبیعت کے موافق اور حق کی اعانت و نصرت پر کمربستہ شخصیت کے مناسب ہو ۔اس کے ساتھ اس کے کچھ اقرباء اور قوم کی بعض عورتیں بھی ہیں جس طرح بکھرے ہوئے ستارے ، جنہیں یکجا کرنے والا کوئی نہ تھا لیکن سب اس جذبۂ دفاع و انتقام میں برابر تھیں۔
یہ بی بی وہ تمام کلمات اپنے ذہن میں لا رہی ہے جنہیں عدالت میں پیش کرنا ہے اور یہ تصور اس کے قوت قلب و سکون دل میں برابر اضافہ کررہاہے ، حق کی طاقت اس کے دل میں بڑھتی جارہی ہے اور ارادوں کی پختگی اور چھنے ہوئے حقوق سے دفاع کے جذبات اور سختی موقف سے مقابلہ کے لئے عزائم میں زیادتی پیدا ہوتی جارہی ہے ۔
ایسا معلوم ہوتاہے کہ اس بی بی نے اس سخت وقت میں اپنے شوہر کا دل عاریةً لے لیاہے تاکہ سنگین حالات کا مقابلہ کر سکے اوران سخت ترین مصائب کا سامنا کرسکے جن سے چٹان بھی ریزہ ریزہ ہوجائیں اورپہاڑوں میں زلزلہ پیدا ہوجائے۔
ان ہولناک حالات میں یہ بی بی اس شان سے کھڑی ہے کہ حزن و اندوہ کا بادل اس کے سرپر سایہ فگن ہے ، اس کے جسم اطہر کا رنگ متغیر ہے ، چہرے پر غضب کے آثار نمودار ہیں ، دل محزون اور جسم نڈھال ہے ، اس کے اعضاء و جوارح ضعیف ہوچکے ہیں لیکن اللہ اللہ نفس طاہرہ میں گہرے افکار کی درخشندگی اور اطمینان قلب کی زیادتی ہے ۔
یہ تمام باتیں اس لئے نہیں تھیں کہ اس بی بی کو کسی نام کی امید ہے یا کسی اچھے نتیجے کی توقع ...بلکہ یہ نورانیت تو اپنے افکار کی پسندیدگی اور انقلاب کی مسرت سے ہے اور یہ اطمینان اپنے مقصد کی کامیابی کی امید سے ہے ۔ نہ اس انداز کی کامیابی جسے دنیا سمجھتی ہے بلکہ دوسرے رنگ کی ۔اس لئے کہ بسا اوقات ایسا ہوتاہے کہ وقتی شکست بڑی کامیابی کا مقدمہ بن جاتی ہے جیسا کہ ہوا ۔ چنانچہ آج ساری امت اس مقدمہ میں انقلاب کی تعریف کررہی ہے بلکہ اس بی بی کے ثبات و شجاعت سے قوت قلب کے درس حاصل کررہی ہے ۔
میدان عمل کی طرف جاتے ہوئے یہ بی بی اپنے ماضی کی طرف متوجہ ہوتی ہیں۔آہ !کتنا درخشاں تھا ماضی ، اس وقت سعادت کی موجیں اس کی زندگی سے کھیل رہی تھیں ، اس وقت جب ان کے والد گرامی زندہ تھے ، ان کا گھر قدیمی حکومت کا مرکز اور مستقل شرافتوں کا ستون محکم بنا ہوا تھا ۔ہاں !جب ماضی کے دریچے کھلے تو باپ کی محبت و شفقت خود بخود یاداشت کی سطح پر ابھرنے لگی ، وہ وقت یاد آیا جب اس کا باپ اسے اپنے سینے سے لگائے ہوئے عاقلانہ محبتوں سے اس کی تربیت کررہاتھا اور اس کے مقدس لبوں کے بوسے لے رہاتھا ،یہی تو تھی اس کی روحانی اور معنوی غذا ۔
لیکن جب اپنی موجودہ حالت پر نظر پڑی تو معلوم ہوا کہ اب زمانہ بدل چکاہے ، اب وہ گھر جو فانوس نور وحدت اور رمز نبوت تھا ، جس کی شعاعیں عرش سے باتیں کررہی تھیں .... وہ کچھ اوباشوں کے درمیان گھرا ہواہے اور اس کا وہ ابن عم جو اسلام کی دوسری عظیم شخصیت ہے ، جو باب علم ، وزیر مخلص اور ہارون رسالت ہے ، وہ خلافت رسول سے محروم ہوجاتاہے اور اسکی وہ فضیلتیں جن کے زمین و آسمان شاہد ہیں ، انہیں ناقابل توجہ بنا دیاجاتاہے اور اسے مسلمہ حق سے محروم کردیاجاتاہے ۔
ظاہر ہے یہ حالات ایک عورت کے لئے حوصلہ شکن ہوتے ہیں ، لاکھ مضبوط ارادے کی عورت ہو ، ان حالات میں اس کی آنکھوں سے آنسو ضرور نکلیں گے۔ اس عظیم بیٹی نے اپنے مصائب و آلام پر گریہ کیا اور خوب گریہ کیا لیکن اس کا یہ گریہ دوسروں سے مختلف تھا ، دوسروں کا گریہ چہرے سے نمایاں ہوجاتاہے اور سامنے والا ماتھے کی شکن اور بھیگی ہوئی آنکھ سے اندازہ لگا لیتاہے لیکن اس گریہ میں تو دل کے شعلے ، نفس کا اضطراب ، قلب کی گہرائی میں حسرتوں کی فراوانی سب کچھ موجود تھے ، نتیجے میں اس کی آنکھوں سے آنسوئوں کے قطرے ٹپکے، جسے سب نے دیکھا لیکن دل کی گہرائی میں موجود یاس و حسرت اور غم و اندوہ کی فراوانی کو کوئی نہ دیکھ سکا ۔
پے در پے ڈھائے گئے یہ مصائب وآلام اس بی بی کے دل کا ناسور بن گئے، وہ آہستہ آہستہ ان غموں کے بوجھ سے نڈھال ہونے لگی ، کم سنی میں بھی اس کے وجود ذی جود کو ضعف و نقاہت نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ...اور پھر وہ صرف ١٨ سال کی عمر میں ایک ضعیفہ نظر آنے لگی ۔
٧٥یا ٩٥ دنوں کے ان مصائب و آلام کو '' ایام فاطمیہ '' یا '' فاطمی حسرت و یاس '' سے تعبیر کیاجاسکتاہے ۔
اس حسر ت و یاس نے...بی بی کے دل کی گہرائیوں سے نکلے ہوئے آہ و فغاں نے تاریخ کے سینے پر ایک نہ مٹنے والا نشان چھوڑ دیاہے ، تاریخ کا سینہ شکستہ پہلو کی فریاد سے زخمی ہے ، بری طرح زخمی ہے ،جو ہمارے لئے درس عبرت فراہم کررہاہے اور ہمارے لئے متعدد سوالات کے دروازے کھول رہاہے :
کیا حضرت فاطمہ (س)،رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ کی تنہا نشانی نہیں تھیں ؟
کیا حضرت فاطمہ (س)،خاتم الانبیاء کی اکلوتی بیٹی اور یادگار نہیں تھیں؟
کیا ان کا سینہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ کی بوسہ گاہ نہیں تھا ؟
کیا رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ اس عظیم بی بی کے گھر سے عبور کرتے ہوئے اہل خانہ کو سلام نہیں کرتے تھے ؟
کیا ذوی القربی کی مودت کے سلسلے میں قرآن نے خصوصی تاکید نہیں کی تھی؟
کیارسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ نے فاطمہ (س) کی رضایت کو اپنی رضایت اور فاطمہ کی ناراضگی کو اپنی ناراضگی سے تعبیر نہیں کیاتھا ؟
جب ایسا ہے .....اور یقینا ایسا ہی تو پھر ....:
حریم فاطمہ کی اس طرح بے حرمتی کیوںکی گئی ؟
اکلوٹی بیٹی پر مصائب و آلام کے پہاڑ کیوں توڑے گئے ؟
وفات رسول کے بعد اچانک مدینہ کی فضا مسموم کیوں ہوگئی ؟
آل محمد صلی اللہ علیہ و آلہ پر ظلم و ستم کیوں روارکھاگیا ؟
رسول کی میوۂ دل کو ان کے حق سے محروم کیوں رکھاگیا؟
اس کے پہلو ،در و دیوار کے فشار سے زخمی کیوں ہوئے ؟
اس کابیٹا شکم میں شہادت سے سرفراز کیوں ہوا ؟
اس دروازے پر آگ کیوں لگائی گئی جہاں آسمان کے فرشتے نازل ہوتے تھے؟
اسلام کے عظیم مجاہد کے گلے میں رسّی کا پھندا کیوں ڈالا گیا؟
یہ اور ان جیسے بہت سے سوالات نے تاریخ کے ان لمحوں کو یادگار بنا دیاہے ، آج بھی جب تاریخ کے ان یادگار لمحوں میں موجود سوالات ذہنوں میں ابھرتے ہیں تو تاریخ کا ایک طالب یہ سوچنے پر مجبو رہوجاتاہے کہ :
ان واقعات اور حادثات کے علل و اسباب کیا تھے ؟
دروازے پر آگ اور لکڑی جمع کرنے والے کون لوگ تھے ؟
سنگ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کس نے دروازے پر آگ لگائی؟
اس بیٹے کو کس نے شہید کیا جس نے ابھی دنیا کی بہاریں بھی نہیں دیکھی تھی؟
اس بی بی کا حق غصب کرنے والے کون تھے...اور اس مسلمہ حق کو کیوں غصب کیاگیا؟
اسلام کے عظیم مجاہد اور کفار و مشرکین سے مردانہ وار جنگ کرنے والے دلیر انسان کے گلے میں رسّی کا پھندا کس نے ڈالا ...۔
اور پھر جب ان سوالات کے جوابات کی طرف نگاہ پڑتی ہے تو تاریخ کا طالب علم حواس باختہ ہوجاتاہے ...دانتوں میں انگشت حیرت دبانے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
وہ سوچنے لگتا ہے کہ کیا یہ مصائب و آلام ان لوگوں نے روا رکھے جو رسول کے ساتھ زندگی گزارتے تھے ؟
یہ مظالم ان لوگوں نے ڈھائے جن کو رسول نے انسانیت و شرافت کا سلیقہ سکھایاتھا ؟
اور پھر جیسے جیسے و ہ مصائب کی داستاں پڑھتا ہے اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے ہیں، ....اور وہ اس داستان غم کی تفصیل معلوم کرنے کے لئے بے چین ہوجاتاہے ۔

مقالات کی طرف جائیے