مقالات

 

خطبۂ امیر المومنین علیہ السلام بروز غدیر

سید شاہد جمال رضوی گوپال پوری


مقدمہ
حضرت علی علیہ السلام قرآن ناطق تھے ، آپ قرآن کے جامد حروف کی روح تازہ اور خاموش الفاظ کا متحرک مفہوم تھے ،اسی لئے قرآن جیسی ابد آثار کتاب کی طرح حضرت کی زبان مبارک سے نکلے ہوئے الفاظ بھی بہت شیریں ، انتہائی روان اور ترنم سے بھرپور معلوم ہوتے ہیں ، کلمات کی ترکیب میں موزونیت پائی جاتی ہے ، آپ کے کلام کا امتیاز یہ ہے کہ ان الفاظ اور عبارتوں میں آہنگ ، نغمگی اور ترنم کے ساتھ ساتھ معانی کا دریااور مفاہیم کا ٹھاٹھیں مارتاہوا سمندر موجزن ہے ، جس کا ایک نمونہ '' نہج البلاغہ '' کی صورت میں ہمارے پاس موجود ہے۔
زیر نظر خطبۂ غدیر بھی آپ کے کلام بلاغت نظام کا ایک حصہ ہے ، یہ ایسا عظیم الشان ، گرانقدر اور علم و معرفت کا بیش بہا خزینہ ہے جو معصومین علیہم السلام کے دلوں اور اولیائے خدا کے سینوں میں محفوظ رہ کر ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوتا رہا، یہ نایاب خطبہ صفحۂ قرطاس پر بہت بعد میں آیا اور کتابوں کی زینت بہت بعد میں بنا پہلے یہ بعض اصحاب و انصار کی بزم میں جام کوثر کی طرح گردش کرتارہا۔پھر خداوندعالم نے مصلحت کے پیش نظر اس عظیم خطبہ کے انکشاف کے لئے ایک معصوم کو ذریعہ قرار دیا ، چنانچہ امام ضامن ثامن علیہ السلام نے اپنے سن رسیدہ اور بزرگ صحابی فیاض بن محمد طرموسی کی موجودگی میںاپنے مخلص دوستوں کے درمیان جشن غدیر میں بیان فرمایا ۔
فیاض کا بیان ہے : میں غدیر کے دن امام رضا علیہ السلام کے در دولت پر حاضر ہوا ، اس وقت تمام مخلص اور مخصوص اصحاب موجود تھے ، سب کو طعام غدیر کی دعوت تھی ، مولا کے ساتھ ساتھ سب نے روزہ رکھا تھا اور اپنے امام کی دعوت پر افطار کے لئے حاضر ہوئے تھے؛کیا کہنا اس بے تکلف پاک و پاکیزہ ضیافت کا ۔مقدس دن ، پاکیزہ گھر ، طیب و طاہر دسترخوان اور پھر صاحب تطہیر بحیثیت میزبان موجود تھا ، ایسی دعوت تو چشم فلک نے بھی نہ دیکھی تھی ، یہ صرف دعوت نہ تھی بلکہ آبروئے جنت اس خوان نعمت پر کھینچ آئی تھی ،ہمارا جوش گمان کہتاہے کہ رب العالمین خود بھی اس دعوت میں میزبان کی حیثیت سے موجود تھا ۔
امام کے بسم اللہ کہنے پر سب نے غدیری طعام سے استفادہ کیا ، پھر وہاں موجود اصحاب کے عیال و اطفال کے لئے بھی طعام و انعام کے ساتھ غدیری جوڑے اور تحفے بھیجے گئے ، امام نے وہاں موجود لوگوں کو غدیری انگوٹھیاں عطا کیں ۔سبھی خوش تھے ، ہر طرف غدیری رنگ و بو چھایاہواتھا ، نہ کوئی غم اور نہ کوئی مشقت ، ہر طرف خوشیاں ، مسرتیں اور کیف آگیں جذبات کا بسیرا تھا ایسے میں امام رضا علیہ السلام بزم غدیر میں رونق افروز ہوئے ، وارث لسان اللہ نے زبان عصمت کو گردش دیا تو دہن اقدس سے آواز بلند ہوئی :
سنو! میرے بابا حضرت کاظم نے مجھ سے بیان فرمایا ، ان سے میرے دادا حضرت صادق نے ، ان سے حضرت محمد باقر نے اور ان سے میرے جد امام حسین علیہم السلام نے بیان فرمایا کہ امیر المومنین کی حکومت کے دوران ایک سال غدیر اور جمعہ دونوں عیدیں ایک ساتھ جمع ہوگئیں ، مولائے کائنات طلوع آفتاب کے پانچ گھنٹے بعد اپنے گھر سے برآمد ہوئے اور مسجد کوفہ کے منبر پر رونق افروز ہوئے پھر لوگوں کو مخاطب کرکے فرمایا :
بسم اللہ الرحمن الرحیم

حمدو ثنائے الٰہی
تمام تعریفیں اس خدا سے مخصوص ہیں جو تعریف کرنے والوں کی تعریف کا محتاج نہیں ،ہاں !اس نے اپنی بارگاہ میں شکر گزاری کو اپنی حقیقت لاہوتی ، ذاتی بے نیازی اور اپنے خالق ہونے کا اعتراف کرنے کے لئے ذریعہ قرار دیاہے نیز اس نے اس حمد و ثنا کو مخلوقات پر رحمت و عطوفت کی زیادتی و اضافہ کا وسیلہ قرار دیاہے ۔
میں گواہی دیتاہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ، وہ یک و تنہا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ؛یہ گواہی اخلاص کی تمام تربلندیوں کے ساتھ دیتے ہوئے سچی زبان سے اظہار کرتاہوں کہ وہ ایسا خالق ہے جس نے تمام موجودات کو وجودعطا کیاہے اور انہیں شکل و صورت سے نوازا ہے ۔تمام نیک اور بہترین نام خداوندعالم سے مخصوص ہیں اور کوئی بھی چیز اس کے مانند نہیں ۔

رسول خداؐ کی نبوت
میں گواہی دیتاہوں کہ حضرت محمد ۖاللہ کے بندے اور رسول ہیں ، خداوندعالم نے اپنے علم کی بلندی کی بنا پر تمام مخلوقات میں سے منتخب فرمایاہے اور انہیں تمام انبیاء کے درمیان بلند مرتبہ و مقام عطا کیاہے تاکہ وہ خدا کی طرف سے امر و نہی کریں۔اس نے اپنے احکام و دستورات کی تبلیغ کے سلسلے میں محمدؐکو اپنی جگہ قرار دیا اس لئے کہ وہ آنکھوں سے دیکھا نہیں جاسکتا، اسے نہ تو کوئی درک کرسکتاہے اور نہ ہی وہ وہم و گمان میں سما سکتاہے ؛ جی ہاں!وہی خدائے لاشریک اور جبار و قہار ہے ۔
خدا نے حضرت محمدؐکی نبوت کے اقرار کو اپنی وحدانیت کے اقرار کے ساتھ رکھا اور انہیں خاتم الانبیاء کی منزلت عطا فرمائی ، یہ عظیم منصب ان کے علاوہ کسی کو بھی عطا نہیں فرمایا ۔ حضرت محمدؐاس خصوصیت کے لائق بھی تھے اس لئے کہ انہوںنے اپنے آپ کو خداوندعالم سے مخصوص کردیاتھا ۔خداوندعالم نے قرآن کی آیتوں میں یہ حکم دیا کہ مومنین رسول خداؐ پر درود بھیجیں اور بہترین انداز میں احترام و اکرام کریں ۔

ہادیان برحق کی اہمیت
خداوندعالم نے رسول خداؐ کے بعد اپنے بندوں میں سے ایک گروہ کو منتخب فرمایا اور انہیں دوسروں پر برتری عطا کی اور وہ حضرت محمدؐ کے مرتبہ پر فائز ہوئے تاکہ ایسے سچے دعوت کرنے والے ہوں جو مخلوقات کو خدا کی طرف دعوت دیتے ہیں اور لوگوں کو خدا شناسی کی تعلیم دیتے ہیں ۔اس گروہ کی ایک فرد ہمیشہ اور ہر دور رہتی ہے ۔خدانے اس گروہ کو روز ازل سے خلق فرمایاہے ، ان کو ذات احدیت کی حمد و ثنا کرنے والا قرار دیا ہے ، انہیں پروردگار کی تعریف و تمجید اور شکرا ادا کرنے کا طریقہ الہام کیا ؛ اس نے اس گروہ کو ان لوگوں پر حجت قرار دیا جو خداکی ربوبیت اور اس کی عبودیت کا اعتراف کرتے ہیں ۔
پروردگار نے ان ہادیان برحق کو دوسری موجودات کی خلقت پر شاہد قراردیا ، پھرمشیت کے مطابق بعض امور کی سرپرستی ان کے حوالے کی ، ان کو اپنا ترجمان بنایا اور ان کو اپنی مشیت سپرد کی ۔یہ ہادیان برحق وہ ہیں جنہوں نے بارگاہ الٰہی میں بندگی و عبادت کے سلسلے میں کبھی بھی خدا کے قول سے تجاوز نہیں کیا ، بس وہ حکم خدا کے مطابق عمل کرتے ہیں ،وہ کسی کی شفاعت کی ذمہ داری کو اس وقت تک قبول نہیں کرتے جب تک خداوندعالم ان کی شفاعت پر اپنی رضایت کی سند نہ دے دے ۔ ان تمام تر فضائل و مناقب کے باوجود وہ خدا کی بارگاہ میں خضوع اور فروتنی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور خدا کے غیظ و غضب سے خوف زدہ رہتے ہیں ۔ پروردگار کے دستورات کے مطابق حکم کرتے ہیں ، اس کی سنت پر عمل کرتے ہیں ، حدود و قوانین پر اعتماد کرتے ہیں اور اس کے واجبات کو بجا لاتے ہیں ۔

جمعہ اور غدیر ؛ افضل ترین عیدیں
اے لوگو!جان لو کہ خداوندعالم نے تمہارے لئے دو بڑی عیدوں کو ایک دن میں جمع کردیا ہے جن کا حق ایک دوسرے کے وسیلہ کے بغیر کبھی ادا نہیں ہوسکتا ؛ خدا چاہتاہے کہ جمعہ اور غدیر کے بہترین اور خوبصورت اجتماع کو تمہارے لئے مکمل قراردے اور تمہیں رشد و ترقی کے میدان سے آگاہ کرے نیز نور ہدایت کے متلاشیوں کو راہ مستقیم پر کھڑا کردے۔
پروردگار نے روز جمعہ کو صاحبان ایمان کے لئے اجتماع کا دن قرار دیاہے اور سب کو اس میں شرکت کی دعوت دی ہے تاکہ لوگ اس کی جانب متوجہ ہوکر اپنی ایک ہفتہ کی خطائوں کو اپنی زندگی اور دامن روح سے دور کرسکیں اور گزشتہ ایام میں جو ناپسندیدہ اعمال انجام دئیے ہیں انہیں خالصانہ توبہ سے دھو ڈالیں۔اسی دن مومنین کو ایک دوسرے کا دیدار کرنا چاہئے اور پرہیزگاروںکو اپنے خداوندعالم سے ڈرنا چاہئے ،اس دن پروردگار اپنے نیک بندوں کو دوسرے ایام کی بہ نسبت کئی گنا زیادہ اجر و ثواب دیتاہے ۔
لیکن یہ آخری مرحلہ نہیں ہے بلکہ اس نے جن چیزوں کا حکم دیاہے اسے انجام دیناچاہئے اور جن چیزوں سے منع کیاہے ان سے دور رہنا چاہئے نیز جن امور کی زیادہ تاکید کی ہے ان کی خاضعانہ اطاعت و پیروی کرنی چاہئے ۔

دین اور توحید کی قبولیت کی شرط
اے لوگو!جان لو کہ توحید کا عقیدہ اس وقت تک قابل قبول نہیں جب تک رسول خداؐ کی نبوت کا اعتراف نہ کیاجائے اور کوئی بھی عقیدہ اور عمل اس وقت تک مقبول نہیں جب تک اس شخص کی ولایت و سرپرستی کو قبول نہ کیاجائے جسے خداوندعالم نے خود ولی اور سرپرست قرار دیاہے ۔

صاحب ولایت کا تعارف
خداوندعالم کی مکمل اطاعت و فرمانبرداری کے لئے اس کی توفیق کا شامل حال ہونا ضروری ہے ،یا ان لوگوں کی ہمراہی لازم ہے جو '' صاحبان ولایت ''ہیں ، یعنی ان لوگوں کی ہمراہی جن کے بارے میں خدا نے غدیر کے دن آیت نازل فرمائی ہے اور اپنے خاص بندوں کے حق میں اپنے ارادے کا اظہار فرمایا ، اس نے رسول کو حکم دیا کہ اس پیغام کو لوگوں تک پہونچادیں اور اس فرمان کے ابلاغ کے لئے یہ ضمانت دی کہ ہرگز بدخواہوں اور منافقوں سے پریشان نہ ہوں کیونکہ پروردگار ان بدخواہوں اور منافقوں کے گھنائونے منصوبوں سے آپ کو محفوظ رکھے گا ۔اس طرح خداوندعالم نے اس آیت کے ذریعہ اہل شک کے دلوں میں موجود باتوں کو آشکار اور اہل ارتداد کے باطن کا پردہ فاش کردیا ؛ اس طرح مومن و منافق سمجھ گئے کہ پروردگار کا ارادہ کیاہے ۔اہل ایمان، حقیقت ایمان میں ثابت و استوار ہوئے اور اہل نفاق و تردید اپنی جاہلانہ روش میں زیادہ مضبوط و مستحکم ہوگئے اور غیظ و غضب میں آکر اپنے دانت پیسنے لگے اور کف افسوس ملنے لگے ، ایک نے کچھ کہا تو دوسرا چیخنے چلانے لگا ۔ جب صاحب ولایت کا تعارف کیاگیا تو بہت سے لوگوں نے اس ولایت کو زبان سے قبول کیا لیکن اس پر ایمان نہیں لائے ، وہ دل سے راضی نہیں تھے ، البتہ ایک گروہ نے ولایت کو دل و جان اور سچے دل سے قبول بھی کیا اور زبان سے اس کا اظہار و اعلان بھی کیا ۔

اکمال دین ؛ ولایت کے سایہ میں
پروردگار نے ولی کے تعین کی وجہ سے دین کو کامل فرمایا اور اکمال دین کے ذریعہ رسول خداؐ، مومنین اور ان کی پیروی کرنے والوںکی آنکھوں کو روشن و منور کیا ؛ یہی وہ واقعہ(غدیر ) تھا جس کے تم میں سے بعض لوگ عینی گواہ تھے اور بعض دوسرے لوگوں تک اس واقعہ کی خبر پہونچی ؛ خداوندعالم کا یہ نیک کلمہ صابرین کے حق میں تمام ہوا اور خدا نے اس کے ذریعہ فرعون ، ہامان و قارون اور ان کے شیطانی لشکروں کی ساری محنت و زحمت کو تباہ و بربادکردیا۔لیکن بعض لوگ اپنی گمراہی پر ڈٹے رہے اور لوگوں کے کارناموں کو تباہ کرنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا ؛ خدابھی ان کو ان کی حیثیت کے اعتبار سے ذلیل و خوار کرے گا، ان کے کارناموں کو نابود کرے گا اور ان کی علامتوں کو محو کردے گا ۔ اس کے بعد خدا ان کے دلوں کو درد و غم سے بھر دے گا اور بعض دوسروں کو ان سے ملحق کرے گا ...اس طرح وہ سب مل کر دین خدا میں تحریف کریں گے اور احکام الٰہی میں تبدیلی لائیںگے ۔لہذا جلد ہی اپنے وقت پر خداوندعالم دشمنوں پر مسلط ہوگا ، خداہی لطیف اور خبیر ہے ۔
اتنا بیان کرنا ضروری نہیں تھا اس لئے کہ اس سے مختصر الفاظ میں بھی تبلیغ کی جاسکتی تھی ؛ لہذا اے لوگو!خدا کی رحمت تمہارے شامل حال ہو ، خدا نے جس چیز کی تمہیں دعوت دی ہے اور تمہیں تشویق و ترغیب لائی ہے اس کے بارے میں غور و فکر کرو اور اس کا دین اختیار کرکے اس کے راستہ پر گامزن رہو ، خبردار !پراگندہ اور ٹیڑھے میڑھے راستے کو اختیار نہ کرنا ورنہ تم راہ خدا سے دور ہوجائوگے ۔

فضائل روز غدیر
یہ بہت عظیم الشان روز ہے جس کے دامن میں آسودگی لپٹی ہوئی ہے، رفعتوں کے زینے اس میں نصب ہوچکے ہیں اور خدا
کی حجتیں اس میں روشن ہوچکی ہیں۔یہ خدا کی بات کے واضح کرنے کا دن ہے۔ ،یہ محل صراحت سے طلوع حقیقت کا دن ہے۔یہ روز کمال دین ہے ، یہ روز عید بھی ہے اور جس کا عہد لیاگیاہے وہ روز بھی ، یہ گواہی دینے والا اور گواہی دیاہوا روز ہے ، یہ نفاق و انکار کی گرہوں کو کھولنے والا دن ہے ، یہ حقائق ایمان بیان کرنے کا دن ہے ، یہ شیطان کو کچلنے کا دن ہے ، یہ حق کے ثابت ہونے کا دن ہے ، یہ اسی فیصلے کا دن ہے جس کا تم سے وعدہ تھا ، یہ ملاء اعلی ( ملائکہ ) کا دن ہے جس سے تم لوگ روگردان ہو ، یہ رشد و ہدایت کا دن ہے ، یہ بندوں کی آزمائش کا دن ہے ، یہ سیرابی کا راستہ بتلانے کا دن ہے ، یہ سینون کے راز فاش کرنے کا دن ہے ، یہ چھپی ہوئی باتوں کو ظاہر کرنے کا دن ہے ، یہ مخصوص لوگوں کے لئے نص صریح کا دن ہے ، یہ حضرت شیث کا دن ہے ، یہ ادریس کا دن ہے ، یہ حضرت یوشع کا دن ہے ، یہ حضرت شمعون کا دن ہے ، یہ جہنم سے امن و امان کا دن ہے ، یہ گوشۂ دل میں محفوظ خوشیوں کے اظہار کا دن ہے ، یہ پوشیدہ حقیقتوں کے انکشاف کا دن ہے ...۔

دلسوز رہبر کی نصیحتیں
(امام علیہ السلام اسی طرح مسلسل فرماتے رہے کہ یہ دن ایسا ہے ،آپ نے آگے فرمایا :)دیکھو خدا کو حاضر و ناظر جانو ، اس سے ڈرتے رہو ، اس کی آواز پر کان دھرو، اس کے اطاعت گزار بنو ، اس کے سامنے حیلے بازی اور بہانے تراشی سے ڈرو ، اس کو دھوکہ دینے کی لاحاصل کوشش نہ کرو ، اپنے ضمیر کو ٹٹولتے رہو خود فریبی میں مبتلا نہ ہو ، تم توحید کے وسیلہ اور جو طاعت خدا کا حکم دے اس کے وسیلہ سے تقرب الٰہی حاصل کرو ، ہم آغوشاں کفر کے ساتھ ربط و ضبط نہ رکھو ۔ دیکھو کوئی گمراہ تم کو راہ ہدایت سے ہٹانے میں کامیاب نہ ہو ، ان لوگوں کی ہمراہی کے باعث جو خود گمراہ اور گمراہ کرنے والے ہوں ؛ خدا قرآن میں ایک کافر گروہ کے آدمی کی بات بطور مذمت نقل فرماتاہے کہ روز قیامت اس کا کہنا ہوگا:
'' ہم نے اپنے سرداروں اور بزرگوں کی اطاعت کی تھی مگر انہوں نے ہمیں گمراہ کردیا ، اے پروردگار !تو ان کے دوہرے عذاب کا مزہ چکھا اور ان پر بہت بڑی لعنت کر''۔(احزاب ٦٨)
دوسری جگہ ارشاد ہوتاہے :
''تم آتش جہنم میں ایک دوسرے سے جھگڑا کروگے اور بے چارے کمزور لوگ بڑے بڑے جگادریوں سے کہیں گے کہ دنیا میں تو ہم تمہارے ہی پیرو تھے کیا تم آج ہم کو عذاب خدا سے کسی طرح بچا لوگے تو وہ جواب دیں گے : ہم بچا لیتے اگر ہم خود ہدایت یافتہ ہوتے ''۔(غافر٤٧)
اے لوگو!کیا تم جانتے ہو کہ اس آیت میں استکبار کے کیا معنی ہیں ، یہ اس ترک اطاعت کا نام ہے جن کی فرماں برداری کو اللہ نے تم پر واجب کیا تھا ، مگر تم نے نہ مانا اور اس نافرمانی کا نام ہے جن کے ہمراہ چلنے کو اللہ نے لاز قرار دیا تھا مگر نہ چلے ۔ قرآن مجید میں اس قسم کا تذکرہ بکثرت پایاجاتاہے ، کاش !غور و فکر کرنے والا اس بات میں تدبر سے کام لے ، تنبیہ و نصیحت سمجھے ۔

فضائل علیؑ ،بزبان علیؑ
اے ایمان والو!خوب سمجھو ، خدا فرماتاہے :
'' وہ ان لوگوں کو وست رکھتاہے جو اس کی راہ میں صف باندھ کر جہاد کرتے ہیں گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں''۔(صف٤)
کیا تمہیں معلوم ہے کہ سبیل خدا کیا ہے اور اس سے مراد کون ہے ؟ صراط کون ہے ؟ راہ حق کون ہے ؟ یاد رکھو!میں صراط خدا ہوں جو میرے راستے پر مطیع خدا بن کر نہ چلے وہ جہنم میں اتر گیا ، میں سبیل خدا ہوں ، مجھ کو اللہ نے ختم المرسلین کے بعد پیروی کرنے والوں کے لئے نصب فرمایاہے ، میں قسیم جنت و نار ہوں ، فاجروں پر خدا کی حجت ہوں میں نوروں کا نور ہون ، اب بھی وقت ہے خواب غفلت سے بیدار ہوجائو، موت آنے سے پہلے عمل کرو ، خداوندعالم کی مغفرت کے حصول کے لئے ایک دوسرے پر سبقت کا مظاہرہ کرو ؛ فرصت کے اوقات رخصت ہونے سے پہلے پروردگار کی اطاعت و بندگی کرو اور اس میں کوتاہی نہ کرو ، موت ایسی چیز ہے جو تمام لذتوں کو درہم برہم اور نابود کردیتی ہے اور اس کا رخ ہمیشہ تمہاری جانب ہے ، تمہارے لئے اس سے کوئی راہ فرار نہیں ہے ۔
اعمال روز غدیر؛ بزبان حضرت امیر
اجتماع ختم ہونے کے بعد اپنے دوستوں اور اہل و عیال کے ساتھ خدا کے فضل و کرم سے جتنا جود و عطا اور سخاوت کرسکتے ہو کرو ، اپنے درمیان مسرت و شادمانی کا اظہار کرو اور ملاقات میں خوشی ظاہر کرو اور عطیات الٰہی پر اس کی حمد و ثنا کرو ، اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرو خدا تمہاری شیرازہ بندی کرے اور تمہیں متحد کرے ، ایک دوسرے کے ساتھ بھلائی اور نیکی کا برتائو کرو خدا تمہارے اندر الفت و محبت پیدا کرے اور مسلسل خدا کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے رہو جس طریقے سے اس نے عید غدیر کے قبل و بعد مکرر عیدیں رکھ کر تمہارے لئے اجر وثواب کی راہ ہموار کی ہے ؛ غدیر کے دن کسی کے ساتھ بھلائی اور نیکی کرنا مال میں اضافہ کا باعث ہے اور عمر میں بھی اضافہ ہوتاہے ، غدیر کے دن دوسروں کے ساتھ عطوفت اور مہربانی کرنا رحم و لطف پروردگار کا متقاضی ہے ۔
جو تم سے امید و آس لگائے بیٹھے ہیں ان کے ساتھ مزید احسان اور بھلائی کرو اور ان پر اپنے جود و سخا کی بارش کرو ، جو معاشی اعتبار سے کمزور ہیں اپنی اشیاء خورد و نوش میں ان کے ساتھ مواسات کرو اور جتنا کرسکتے ہو بقدر امکان اپنی چیزوں میں کمزوروں کو بھی شریک کرو کیونکہ غدیر کے دن ایک درہم انفاق کرنا ایک لاکھ درہم انفاق کے برابر ہے اور اس سے زیادہ بھی خدا اپنے فضل و کرم سے دے سکتاہے ۔
اس دن روزہ رکھنے کی بہت فضیلت ہے خدا نے اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا ہے اور اس کے بدلے میں بہت بڑی جزاء قرار دی ہے ، یہاں تک کہ اگر کوئی بندہ ابتدائے دنیا سے لے کر اختتام تک صائم النہار اور قائم اللیل رہے اور اپنے روزہ میں مخلص بھی ہو تو اس کے لئے دنیا کے ایام ناکافی ہوں گے یعنی غدیر کے دن روزہ رکھنے کا اتنا ثواب ہے کہ اگر کوئی شخص آغاز دنیا سے لے کر اختتام تک عبادت الٰہی کرتا رہے تو بھی اس کے اجر و ثواب کا مقابلہ نہیں ہوسکتا ۔
اور جو شخص اپنے بھائیوں کی رہنمائی کرے اور ان کی مدد کرے تو میں ضمانت لیتاہوں کہ خدا اس کی حاجت پوری کرے گا اور اگر مر گیا تو نیکی اپنے ساتھ لے کر جائے گا اور اس کی مکمل کفالت کی جائے گی، اس دن جب آپس میں ایک دوسرے سے ملوتو سلام کرنے کے ساتھ ساتھ مصافحہ کرو اور خدا کی نعمتوں کا شکریہ ادا کرو ۔اور یہ بات جو حاضر ہے غیر حاضر تک پہونچائے اور شاہد ، غیر شاہد تک پہونچائے اور غنی فقریر کے ساتھ اور قوی ضعیف کے ساتھ نیکی کرے ؛رسول خداؐنے مجھے اس بات کا حکم دیاہے ۔

حسن ختام
امام علیہ السلام نے اس کے بعد خطبۂ جمعہ شروع کیا اور نماز جمعہ کو نماز عید قرار دیا ۔ نماز کے بعد آپ اپنے فرزندوں اور چاہنے والوں کے ہمراہ امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے گھر تشریف لے گئے اور جو کھانا تیار کیاگیا ہے اسے تناول فرمایا ۔ کھانے کے بعد امیر و فقیر سبھی تحائف لے کر اپنے اپنے گھر واپس چلے گئے۔(١)

خطبہ کے منابع و مآخذ : مصباح المتہجد ص٧٥٢؛ اقبال الاعمال ص٧٧٣؛ المصباح ص٩١٩؛ بحار الانوار ج٩٧ ص ١١٦

مقالات کی طرف جائیے