مقالات

 

دانش و تحقیق کا روشن منارہ، علامہ امینی طاب ثراہ؛ دوسری قسط

سید شاہد جمال رضوی گوپال پوری

دوسرا حیرت انگیز واقعہ
کتاب کی فراہمی کی مشکل کے سلسلے میں ایک دوسرا واقعہ بھی منقول ہے جو پہلے والے واقعہ سے کم حیرت انگیز نہیں ہے ، خلاصہ یہ ہے کہ علامہ امینی کو زمخشری کی کتاب ''ربیع الابرار'' کی شدید ضرورت تھی ، یہ کتاب طباعت سے پہلے بہت نادر و نایاب تھی اور اس کے تین ہی خطی نسخے موجود تھے ، ایک نسخہ یمن میں موجود امام یحیی کے پاس تھا ، دوسرا شام کے کتب خانہ ٔ ظاہریہ میں اور تیسرا نجف اشرف کے ایک آیة اللہ کے پاس تھا ، جن کے انتقال کے بعد ان کا کتب خانہ ان کے فرزندتک منتقل ہوگیاتھا ۔
علامہ امینی اس عالم کے گھر پہونچے ، علامہ نے ان کے فرزند سے صرف تین دن کے لئے اس کتاب کو عاریةً مانگا لیکن انہوںنے دینے سے انکار کردیا ، علامہ نے خواہش کی کہ صرف دو دن کے لئے دے دیں لیکن انہوں نے اس سے بھی منع کردیا ، حتی ایک دن کے لئے دینے سے منع کردیا۔ علامہ کا بیان ہے : میں نے ان سے کہا :صرف تین گھنٹے کے لئے عاریةً دے دیں لیکن انہوںنے اس کی بھی ممانعت کردی ، میں نے کہا : اس بات کی اجازت دے دیں کہ میں آپ ہی کے گھر میں آپ کے سامنے اس کتاب کا مطالعہ کر لوں لیکن انہوں نے یہ بھی قبول نہ کیا ، چنانچہ میں ان سے اور کتاب کے حصول سے پوری طرح مایوس ہوگیا ۔
علامہ کا بیان ہے : اس کے بعد میں مرجع عالی قدر آیة اللہ سید ابوالحسن اصفہانی سے ملاقات کے لئے گیا تاکہ وہ اس کتاب کے لئے میری سفارش کردیں ، لیکن صاحب کتاب نے پھربھی کتاب دینے سے انکار کردیا ، اس کے بعد میں آیة اللہ شیخ محمد حسین کاشف الغطا کے پاس گیا تاکہ ان کے احترام میں وہ کتاب عاریةً مل جائے لیکن پھربھی انہوںنے کتاب دینے سے انکار کردیا ، اس کے بعد تو میں کتاب سے بالکل مایوس ہوگیا ، امیر المومنین کے حرم مطہر گیا اور اس سارے واقعہ کی شکایت کی ، اس کے بعد پریشاں حال اپنے گھر پہونچا ، اس پریشاں حالی میں میری نیند بھی اڑ گئی تھی ،تھوڑی دیرسویاتھا کہ خواب میں امام کو دیکھا ، کتا ب کے سلسلے میں جو رنج و غم اٹھائے تھے اس کی شکایت کی ، امام نے جواب دیا : ان جواب سوالک عند ولدی الحسین '' تمہارے سوال کا جواب میرے فرزند حسین کے پاس ہے ''۔
میں فوراً ہی بیدار ہوا ، وضو کیا اور طلوع فجر کے وقت سید الشہداء امام حسین کے حرم کی زیارت کی غرض سے کربلا کے لئے روانہ ہوگیا ، نماز صبح اور زیارت پڑھنے کے بعد میں نے امام حسین سے ان پریشانیوں کی شکایت کی جو کتاب کے حصول کے سلسلے میں اٹھائی تھیں، پھر وہاں سے حضرت عباس کے حرم کی زیارت کے لئے نکلا ،زیارت کے بعد ان کے اور ان کے عظیم بھائی کے حق کا واسطہ دے کر خدا سے دعا کی اور ایک صحن میں بیٹھ کر سوچ رہا تھا کہ اچانک شیخ محسن ابو الحب جو اس وقت کربلا کے برجستہ خطیب تھے ، میری طرف آئے اور احوال پرسی کے بعد گھرمیں آکر آرام اور ناشتہ کرنے کی دعوت دی ، میں نے ان کی دعوت قبول کرلی ، وہ گرمی کا زمانہ تھا ۔
میں ان کے گھر کے پائیں باغ میں بیٹھا تھا ، تھوڑی دیر آرام کرنے کے بعد ان سے کہا : آپ کا کتب خانہ کہاں ہے ، مجھے اپنے کتب خانے تک راہنمائی کریں ، دیکھا کہ ان کے کتب خانے میں بہت زیادہ اور نفیس کتابیں موجود تھیں، میں ان کی کتابیں دیکھتارہا اچانک مطلوبہ کتاب '' ربیع الابرار '' دستیاب ہوئی،کتاب اٹھائی اور مطالعہ کے بعد معلوم ہوا کہ بالکل وہی کتاب ہے ، ناچاہتے ہوئے بھی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے،میں بلند آواز سے رونے لگا ، شیخ ابوالحب حیران و پریشان میرے پاس آئے اور رونے کی وجہ پوچھی ، میں نے پورا واقعہ ان کے گوش گذار کیا ، پورا واقعہ سننے اور یہ بات کہ امیر المومنین نے یہاں تک آنے کی راہنما ئی فرمائی ہے ، سننے کے بعد شیخ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے ، مجھ سے کہا : یہ خطی نسخہ کمیاب ہے ، قاسم محمد رجب اس کتاب کی خرید و طباعت کے لئے مجھے ایک ہزار دینار() دینا چاہتے تھے لیکن میں نے ان کی فرمائش رد کردی ، پھر شیخ نے اپنا قلم نکال کر اس کتاب پر علامہ امینی کے لئے ہدیہ لکھ دیا اور کہا : یہ دو ائمہ امام علی اور امام حسین ( علیہما السلام ) کا جواب ہے ۔

پسندیدہ اخلاق اور ذاتی خصوصیات کے نمونے :
١۔علامہ امینی نے اپنے آپ کو تدریس ، تالیف اور تحقیق کے لئے وقف کردیا تھا ، اپنی زندگی کے اکثر اوقات مطالعہ ، کتابوں کی جستجو اور اسلام کے علمی میراث سے مستفیض ہونے کی کوشش کرتے تھے ، چنانچہ اسلامی علوم کی مشکلات میں آپ ہی سے سوال کیا جاتاتھا ، آپ فکری سوالات کو حل کرنے کی پناہ گاہ تھے ، تفسیرو حدیث اور تاریخ و رجال کے علوم میں صاحب نظر کی حیثیت حاصل تھی، آپ دانشوروں ، محققوں ، مؤلفوں کی پناہ گاہ تھے ۔
٢۔ وہ ایک متقی ، پرہیز گار اور عابد انسان تھے ، دینی صلابت ، کرامت نفس ، شرح صدر اور بہترین اخلاق کے مالک تھے ، وہ کسی سے بد ظن نہیں رہتے بلکہ دوسروں کے ساتھ حسن ظن سے پیش آتے تھے ، مذہبی اختلاف کے باوجود بھی ، صاحب فضل و مرتبہ کی تعریف و توصیف کرتے تھے ، عالی ہمت تھے ، خوراک و پوشاک میں تواضع کا مظاہرہ کرتے ، دنیا و مافیہا سے قطعی بے نیاز تھے ، صرف آخرت پر نگاہ تھی اور اسی کے لئے جد و جہد کرتے تھے۔
٣۔ ان کو قرآن و دعا اور نماز سے والہانہ عشق تھا ، ان کی عام زندگی بھی مکمل نظام کے مطابق تھی : ناشتہ کے بعد اپنے ذاتی کتب خانے میں جاتے اور تلامذہ کے آنے تک مطالعہ میں مشغول رہتے تھے ، اس کے بعد اذان ظہر تک درس و بحث میں مصروف رہتے تھے اور پھر نماز کے لئے اٹھ جاتے تھے پھر کھانا کھانے اور تھوڑی دیر آرام کرنے کے بعد آدھی رات تک اپنے کتب خانے میں مشغول رہتے تھے ۔
٤۔امیر المومنین حضرت علی ؑ کے حرم مبارک کی بہت زیادہ زیارت کرتے اور مختلف اوقات میں حرم شریف کی زیارت کے لئے جاتے تھے ۔ امام علی اور امام حسین ( علیہما السلام )کے حرم کے درمیان اسّی کیلو میٹر کی مسافت تھی جسے آپ تین دن میں طے کرتے تھے تاکہ راستے میں لوگوں کی تبلیغ و ہدایت ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرسکیں۔
٥۔ اس تبلیغی اور عبادی روش کے ساتھ ساتھ ، اپنی معاشرتی ضروریات کو فراموش نہیں کرتے تھے اور فقراء و مساکین کی ضرورتیں بھی پوری کرتے تھے ، اپنے جاننے والوں اور دینی بھائیوں کے ساتھ نیکی سے پیش آتے اور خود کو ان کی مشکلات میں شریک سمجھتے تھے ، ان کے ساتھ برابر سے پیش آتے تھے ، وہ کبھی کسی سائل کو واپس نہیں کرتے اور حاجتمند کو محروم نہیں کرتے تھے ، فقراء و مساکین کی مشکلات کو حل کرنے کے لئے اپنے آپ کو مشکلات میں ڈال لیتے تھے ۔
٦۔ان کے بعض ظاہری حالات و خصوصیات اس طرح تھے :
وہ بلند قامت ، خوبصورت اور سرخی مائل سفید چہرے کے مالک تھے ، ان کی آوازبہت نرم و نازک تھی ، روحانیوں کا لباس زیب تن کرتے، سفید رنگ کے شیشے اور طلائی رنگ کے فریم کا چشمہ لگاتے تھے، ان کا چہرہ عابدوں اور زاہدوں کے چہرے کی طرح تھا، عربی ، فارسی اور ترکی تینوں زبانوں میں بات کرتے تھے ۔

تقریر و بیان
علامہ امینی کی ذاتی خصوصیات میں ان کا حیرت انگیز طرز بیان بھی شامل ہے ، حتی جب وہ عالم اور معمولی محفلوں سے بھی خطاب کرتے تو ان کا اخلاص ، منطق کی گہرائی اور ان کی شعلہ بیانی محفل پر چھائی رہتی ۔ جب وہ منبر پر جاتے تو ایک قوی اور بے مثال خطیب کی حیثیت سے گرجتے تھے ۔
ان کی تقریر سننے کے لئے ہزاروں بلکہ دسیوں ہزار کا مجمع ہوا کرتا تھا ، ان کی تاریخی تقریروں میں ہمدان ، اصفہان ، مشہد ، کرمانشاہ ، تہران کے علاوہ ہندوستان کے شہر کانپور اور حیدر آباد دکن وغیرہ میں کی گئی تقریریں ناقابل فراموش ہیں ۔

تحقیقی سفر اور اس کی مشکلات
علامہ امینی نے ١٣٨٠ھ میں ہندوستان کی اسلامی میراث اور وہاں کے کتب خانوں میں موجود فکری آثار سے استفادہ کرنے کے لئے ہندوستان کا سفر کیا ۔
اسی مقصد کے حصول کے لئے وہ وہاں چار مہینے مقیم رہے ، کبھی کبھی بعض کتب خانوں میں شب و روز کسی تھکن کے احساس کے بغیر رہ جاتے تھے ، اس جد و جہد میں انہوںنے گذشتہ لوگوں کی علمی میراث سے استفادہ کیا ، ان کو اپنی صحت و سلامتی کی بھی فکر نہیں تھی ۔
وہ کتب خانے میں ہمیشہ رہے اور کتب خانے کے کام کے آخری لمحے تک ہندوستان میںمقیم رہے ، پھر اپنے وطن واپسی تک وہاں سے فراہم کی گئی کتابوں کا مطالعہ کرتے رہے ۔
کتاب و مطالعہ کے علاوہ علامہ نے وہاں دینی ذمہ داری کے پیش نظر اپنے اوپر واجب کرلیاتھا کہ منبروں سے وعظ و نصیحت اور مسلمانوں کی ہدایت کریں ، ان کو قرآن و سنت سے وابستگی کی دعوت دیںحالانکہ ان کا معائنہ کرنے والے ڈاکٹروں نے تدریس کی سختی سے ممانعت کردی تھی اور ان کو خصوصی تاکید کی تھی کہ اپنی صحت و سلامتی کا خیال رکھیںاور اپنے آپ کو مشقت میں نہ ڈالیں۔
پھر اسی مقصد کے حصول کے لئے علامہ ١٣٨٤ھ میں شام گئے ، وہاں چار مہینے مقیم رہے ، اس زمانے میں انہوں نے اس ملک کی فکری دولت اور وہاں کے کتب خانوں میں چھپے ہوئے تاریخی خزانے معلوم کئے، جن بعض کتب خانوں سے علامہ نے خطی نسخے حاصل کئے ان میںبعض یہ ہیں : دار الکتب الوطنیہ (دمشق ) ، کتب خانہ مجمع اللغة العربیة ( دمشق ) ، کتب خانہ الاوقاف الاحمدیة ( حلب ) ، المکتبة الوطنیہ (حلب ) ۔ علامہ امینی ہر کتاب کی تفصیل لکھتے تھے ، ان کتب خانوں میں دستیاب ہونے والے مآخذ و مصادر کی تعداد ایکسو پچاس ( ٥٠ا) تھی ۔
اس کے بعد قدیمی مآخذ و منابع کی معلومات حاصل کرنے کے لئے ١٣٨٨ھ میں ترکی تشریف لے گئے اور بہت سی فکری میراث اور اسلامی مباحث پر مشتمل کتابوں پر دسترسی حاصل کی ، آپ یہاں بھی (بیماری کے باوجود ) صحت و سلامتی سے بے فکر، علمی جد و جہد میں مصروف رہے تاکہ ان کا اہم ترین ہدف یعنی کتاب الغدیر مکمل ہوسکے ، اسی لئے وہ استانبول میں پندرہ دن مقیم رہے ، پھر بورسیہ گئے اور دس دن وہاں مقیم رہے ، وہاں علامہ نے جن کتب خانوں کی چھان بین کی، ان کی تعداد نو تھی ، ان میں سے بعض یہ ہیں :کتب خانہ سلیمانیہ ، کتب خانہ جامع آیاصوفیا ، کتب خانہ جامع نو عثمانیہ ، کتب خانہ اوغلی ، کتب خانہ چلبی وغیرہ ۔
صحت گرنے کی وجہ سے وہاں تمام کتب خانوں کی چھان بین نہ کرسکے اور مطبوعہ و خطی (٥٥) منابع کی جمع آوری پر ہی اکتفا کیا ؛ ان میں سے بعض کتابیں یہ ہیں : صحیح ابن حبان ، صحیح ابن خزیمہ ، مولف محمد بن اسحاق نیشاپوری ، الضعفاء ، مولف محمد بن اسماعیل بخاری ، مسند عبد بن حمید ، مولف امام ابو محمد عبد بن حمید کشی ، المعجم الکبیر طبرانی ، النجم الثاقب فی اشعاق المناقب ، مولف : حسن بن عمر بن حبیب حلبی ، الکامل مولف حافظ عبد اللہ ابن عدی جرجانی ، اللو اء المکنون تالیف : عبد الغنی نابلسی ...وغیرہ ۔

کتب خانہ ٔ امیر المومنین ؑپر ایک نظر
علامہ امینی نے اپنے تبلیغی ہدف کی راہ میں صرف تالیف و تحقیق ، خطابت اور لوگوں کی ہدایت و رہبری پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ عالم اسلام کے گہوارہ ''نجف اشرف '' میں ایک کتب خانہ کی شدید ضرورت محسوس کی ؛ اسی لئے آپ نے ایک کتب خانہ بنانے اور اسے مرتب کرنے کا عزم بالجزم کیا تاکہ جویندگان علم وحقیقت وہاں جمع ہوں اور حتی الامکان کتابوں ، منابع اور خطی نسخوں سے استفادہ کرسکیں۔چنانچہ آپ نے سب سے پہلے نجف اشرف میں اپنے محلے کے بغل میں دو گھر خریدے ، وہ آہستہ آہستہ آس پاس کی زمینیں بھی خرید رہے تھے کہ ایک عظیم کتب خانہ بنانے کی مقدمہ سازی ہوسکے ، جو نجف اشرف کے لائق ہو اور تحقیق و تالیف کے لئے ایک علمی مرکز بھی فراہم ہو ۔
اس طاقت فرسا کام کے سات سال گذرنے کے بعد کتب خانہ کی بنیاد کا پہلا مرحلہ ختم ہوا اور غدیر خم کے دن، اس دن کے تاجدار کے نام کی برکت کے پیش نظر '' کتب خانہ امیر المومنین '' کے نام سے اس کا افتتاح ہوا ۔
کتب خانہ کی افتتاح اور اس کے لئے عراق کے سرکاری مراحل انجام دینے کے بعد علامہ امینی اپنے فرزند''شیخ رضا '' کے ہمراہ ہندوستان روانہ ہوئے تاکہ وہاں دسیوں ہزار کتابوں سے بھرپورعظیم کتب خانوں اور یونیورسٹیوں کا مشاہدہ کرسکیں خاص طور سے علی گڑھ کا جامع کتب خانہ ۔وہاں آپ چار مہینے تک وقیع منابع و مآخذ کی فیلم بنا کر واپس آگئے ۔
اسی مقصد کے پیش نظر آپ نے ایران اور شام کا بھی سفر کیا ۔
علامہ امینی نے تقریباًایک ہزار آٹھ سو ( ١٨٠٠) بڑے صفحا ت پر ان کتابوں سے نسخہ برداری کی جو تاریخی منابع میں اہمیت کی حامل ہیں اور جن سے بہت زیادہ استناد کیا جاتاہے ۔ علامہ نے تمام خطی کتابوں کو میکروفیلم کے ذریعہ سی ڈیوں میں تصویر برداری کی پھر انہیں ایک واضح صفحہ پر ظاہر کیا تاکہ اس پر اصل کا گمان ہو۔

مقالات کی طرف جائیے