مقالات

 

دانش و تحقیق کا روشن منارہ، علامہ امینی طاب ثراہ؛ پہلی قسط

سید شاہد جمال رضوی گوپال پوری

خاندانی پس منظر
آپ کا نام شیخ عبد الحسین امینی نجفی تھا ، چوتھی پشت تک آپ کا شجرہ یوں ہے :عبد الحسین بن شیخ احمد بن شیخ نجف علی بن شیخ عبد اللہ ( سرست ) بن الحاج محمد بن اللہ یار ۔
آپ کے دادا شیخ نجف علی پر آپ کے خاندان کا نام پڑا کیونکہ ان کا لقب '' امین الشرع '' تھا ، وہ اپنے وقت کے عظیم علماء میں شمار کئے جاتے تھے ۔ امین الشرع شیخ نجف علی ١٢٥٧ھ؁ میں پیدا ہوئے ۔ ابتدائی زندگی تبریز کے ایک دیہات '' سردھا'' میں گذری ، پھر وہ تبریز آگئے ۔ وہاں زندگی کی آخری سانسوں تک قیام پذیر رہے ، وہیں دینی علوم کا اکتساب کیا ۔ وہیں شعری و ادبی صلاحیتیں پروان چڑھیں ، ان کے زیادہ تر شعری آثار مدح ائمہ معصومین میں ہیں ۔ مکارم اخلاق ، تقوی اور صلاح و سواد سے آراستہ تھے ۔ واثق تخلص تھا ۔
انہوں نے ٨٣سال عمر پائی اور شب جمعہ ٧ جمادی الاولی ١٣٤٠ھ ؁وقت نماز صبح سے ایک ساعت قبل وفات پائی اور تبریز ہی میں دفن کئے گئے ۔
علامہ امینی اپنے جد امجد کے بارے میں فرماتے ہیں کہ بارہ سال بعد جب ان کی لاش نجف اشرف منتقل کرنے کے لئے کھودی گئی تو جسد اطہر بالکل صحیح و سالم تھا ، یہاں تک کہ آپ کے بالوں پر بھی کوئی اثر نہ ہوا تھا ۔انہیں وادی السلام نجف اشرف میں دفن کیاگیا ۔
علامہ کے والد شیخ احمد امینی ١٢٨٧ھ میں آبائی دیہات ''سردھا '' میں پیداہوئے اور سترہ سال کی عمر میں ١٣٠٤ھ؁ تبریز مہاجرت فرمائی ، وہ اپنے وقت کے علماء و فضلاء میں شمار کئے جاتے تھے ، زہد و تقوی سے آراستہ تھے ، اس قدر خلیق تھے کہ مذہبی مسائل کے علاوہ کسی نے انہیں غصے کی حالت میں نہیں دیکھا ، ان کے حسن اخلاق پر لوگوں کو حیرت ہوتی تھی ، علمی کمال کے باوجود ہمیشہ شہرت سے دور رہے ۔ تصنع ، ریاکاری اور ظاہرداری ان میں نام کو نہ تھی ، آیة اللہ سید میرزا ابوالحسن تبریزی ( وفات ١٣٥٧ھ؁ ) جو مراجع عظام میں شمار کئے جاتے تھے ، شیخ احمد کے بارے میں فرماتے ہیں :
شیخ میرزا احمد امینی از کسانی ا ست کہ در زہد و تقوایش شکی نیست و بدون تردید فردی مجتہد ست منتہا از خوف تظاھر بہ ریا از ترس شھر ت طلبی ہمیشہ فضائل خویش را مخفی می نماید '' شیخ میرزا احمد امینی ان افراد میں سے ہیں جن کے زہد و تقوی میں ذرا بھی شک و شبہ نہیں اور بلا تردید وہ ایک مجتہد ہیں ، لیکن ریاکاری کے اظہار اور شہرت طلبی کے خوف کی وجہ سے ہمیشہ اپنے فضائل کو پوشیدہ رکھتے ہیں ''۔
شیخ احمد نے ابتدائی تعلیم گھر پر اپنے والد شیخ نجف علی سے حاصل کی پھر وہاں کے دیگر اساتذہ سے اکتساب فیض کیا اور خاص طور سے میرزا اسد اللہ بن محسن تبریزی سے استفادہ کیا جو اپنے وقت کے معقول و منقول کے میدان میں سند شمار کئے جاتے تھے ۔
ان کے علمی آثار میں حاشیہ مکاسب اور حاشیہ شرح لمعہ خاص طور سے لائق ذکر ہیں ۔ انہیں مندرجہ ذیل علماء نے اجازہ مرحمت فرمایا تھا :
١۔ آیة اللہ میرزا علی شیرازی ( وفات ١٣٥٥ھ) ؛
٢۔ آیة اللہ ابو الحسن اصفہانی ( وفات ١٣٦٥ھ ) ؛
٣۔ آیة اللہ شیخ محمد حسین غروی اصفہانی ( وفات ١٣٦١ھ ) ؛
٤۔ آیة اللہ سید حسین طباطبائی بروجردی ( وفات ١٣٨٠ھ ) ؛
٥۔ آیة اللہ الشیخ میرزا علی ایروانی ( وفات ١٣٥٤ھ ) ؛
٦۔ آیة شیخ میرزا رضی بن محمد حسن زنوزی تبریزی ( وفات ١٣٦٠ھ ) ؛
٧۔ آیة اللہ شیخ میرزا احمد تبریزی قراچہ داغی ؛
٨۔ آیة شیخ میرزا افتتاح شہیدی ( وفات ١٣٧٢ھ ) ؛
شیخ میرزا خلیل آقا بن میرزا احسن ( وفات ١٣٦٨ھ ) ؛
آپ نے بھی اپنے والد کی طرح ٨٣ سال کی عمر میں ٢٩ ربیع الاول ١٣٧٠ھ تہران میں وفات پائی اور قم کے قبرستان نو میں دفن کئے گئے ۔

علامہ امینی کی ولادت اور ابتدائی تعلیم و تربیت
نازش آفریں جدو پدر کے چشم و چراغ علامہ عبد الحسین امینی نجفی ١٣٢٠ھ میں شہر تبریز میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اولاً اپنے والد ماجد میرزا احمد بن علی سے حاصل کی ، انہوں نے اس لعل گراں بہا کی پرورش و پرداخت اور تعلیم و تدریس میں ہر ممکن سعی کی پھر اس شہر کے مدرسہ'' طالبسیہ '' میں رسمی تعلیم کے لئے داخل کردیا ۔آپ نے دورۂ سطحی تک دینی علوم اسی مدرسہ میں حاصل کئے ، وہاں جن علماء کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کیا یا جن دوسرے علمی مراکز میں آیات عظام کے حضور علم حاصل کیا، ان کے اسماء یہ ہیں :
١۔ آیة اللہ سید محمد بن عبد الکریم موسوی ( وفات ١٣٦٣ھ )؛ یہ تبریز میں مرجع تقلید تھے ۔
٢۔ آیة اللہ سید مرتضی بن احمد بن محمد حسینی خسروشاہی( وفات ١٣٧٦ھ ) ؛ یہ علم کے علمبردار ، فقہ کے ماہر اور تبریز کے بزرگ علماء میں سے تھے ۔
٣۔ آیة اللہ شیخ حسین بن عبد علی توتونچی ( وفات ١٣٦٠ھ)؛ یہ فقہ و اصول اور کلام کے برجستہ عالم تھے ، علمی اور فقہی میدان میں عظیم مرتبہ حاصل تھا ۔
٤۔ علامہ شیخ میرزا علی اصغر ملکی ؛ یہ عظیم فقیہ اور بلند مرتبہ ادیب تھے ۔

نجف اشرف کی طرف روانگی
اپنا دورۂ سطح علوم دینی پورا کر کے علامہ نے نجف اشرف کا رخ کیا ، آپ کا یہ عنفوان شباب تھا تاکہ اعلی تعلیم ( درس خارج ) فقہ و اصول ،حدیث اور علوم حدیث کے اساتذہ کے سامنے جاری رکھیں اور باب مدینة العلم سے معنوی و روحانی علوم بھی حاصل کر سکیں ؛ اسی لئے انہوں نے علمائے فقہ و اصول کے درس میں شرکت کی اور ان کے سامنے زانوئے ادب تہہ کیا ؛ ان علماء میں بعض یہ ہیں :
١۔ آیة اللہ سید محمد بن محمد باقر حسینی فیروز آبادی ( وفات ١٣٥٤ )
٢۔ آیة اللہ سید ابو تراب بن ابو القاسم خوانساری (متوفی ١٣٤٦ )
٣۔ آیة اللہ میرزا علی بن عبد الحسین ایروانی (متوفی ١٣٥٤)
٤۔ آیة اللہ میرزا ابو الحسن بن عبد الحسین مشکینی (متوفی ١٣٥٧)
علامہ امینی نجف میں دروس میں شرکت کرنے ، طلاب علوم دینی سے مباحثہ کرنے اور علوم و معارفِ شریعت سے مکمل طور پر مستفیض ہونے کے بعد ایک طویل مدت کے بعد اپنے وطن تبریز واپس آئے اور وہاں ایک مدت تک وعظ و نصیحت ، تدریس اور علمی مباحثے میں مشغول رہے ،اسی زمانے میں آپ نے سورۂ حمد کی تفسیر مکمل کی اور اس تفسیر کی تدریس کی ۔
تبریز میں علامہ کا قیام بہت طولانی نہ تھا ، وہ ہمیشہ زیادہ علوم ومعارف حاصل کرنے کے مشتاق رہتے تھے ، ان کی روح ہمیشہ نجف اشرف ہی میں لگی رہی ، وہ مقدس شہر جو علم و دانش کا سرچشمہ تھا ، چنانچہ ان کا یہی اشتیاق اور والہانہ پن تھا جس نے دوبارہ نجف اشرف میں قیام پر مجبور کیا تاکہ نجف اشرف میںاپنی علمی تشنگی کو دور کرسکیں۔

اجازۂ اجتہاد و روایت
نجف اشرف میں واپس آنے کے بعد آپ نے دوبارہ حوزۂ علمیہ نجف کے دروس خارج میں شرکت کی اور بزرگ علماء سے علم حاصل کرنے میں مشغول ہوگئے تاکہ درجہ ٔ اجتہاد پر فائز ہوسکیں، چنانچہ بہت سے علماء نے ان کو اجتہاد کے اجازے مرحمت فرمائے ، جن میں بعض یہ ہیں :
١۔ آیة اللہ سید میرزا علی بن مجدد شیرازی ( متوفی ١٣٥٥ ) ؛
٢۔ آیة اللہ شیخ میرزا حسین نائینی نجفی ( متوفی ١٣٥٥ ) ؛
٣۔ آیة اللہ شیخ عبد الکریم بن ملا محمد جعفر یزدی حائری (متوفی ١٣٥٥ ) ؛
٤۔ آیة اللہ سید ابو الحسن بن سید محمد موسوی اصفہانی (متوفی ١٣٦٥ ) ؛
٥۔ آیة اللہ شیخ محمد حسین بن محمد حسن اصفہانی نجفی معروف بہ کمپانی ( متوفی ١٣٦١ ) ؛
٦۔ آیة اللہ شیخ محمد حسین بن علی آل کاشف الغطاء (متوفی ١٣٧٣ ) ؛
جس طرح فقہ و اصول کے اساتذہ نے ان کو اجتہاد کے اجازے دئے اور ان کے اجتہاد کا اقرار کیا ، اسی طرح بعض علمائے نجف نے اجازۂ روایت بھی عطافرمایا ، اس طرح وہ حدیث کے راویوں کے صف میں داخل ہوگئے ، انہوں نے اپنے اجازوں کو اپنی تحریر و عبارت میں مرتب کیا جو روایت و درایت حدیث کے سلسلے میں علامہ کی صلاحیت پر واضح دلیل ہے ۔ ان علماء میں سے بعض یہ ہیں :
١۔ آیة اللہ سید ابو الحسن موسوی اصفہانی ؛
٢۔ آیة اللہ سید میرزا علی حسینی شیرازی ؛
٣۔ آیة اللہ شیخ علی اصغر ملکی تبریزی ؛

تحصیل علم کے سلسلے میں بے پناہ اشتیاق اور والہانہ پن
علامہ تحصیل علم اور علمی مباحث کے بے پناہ مشتاق رہتے تھے ، اس راہ میں وہ حتی المقدور کوشش سے فروگذاشت نہیں کرتے تھے ، دقیق مطالب کو واضح کرنے کے بہت زیادہ حریص تھے ۔ بے پناہ صبر و حوصلہ کے ساتھ ساتھ تھکن سے عاری ان کی یہ کوشش ،ذخیرہ ٔ علم اور علمی مباحث کے متعلق بحث و مناظرہ کے لئے تھی ۔
اس دعوی کی واضح دلیل یہ ہے : انہوں نے کتاب الغدیر کی تدوین و ترتیب کے وقت نجف اشرف کے اکثر کتب خانوں کی کتابوں اور علماء کی تحریروں کا مطالعہ کیا ۔
اس کے لئے آپ نے کربلا ، بغداد ، کاظمین ، سامرا ، ایران ، ہندوستان ، شام اور ترکی کا سفر کیا تاکہ علمی جستجو اور ضروری معلومات فراہم کرسکیں ،نیز اہم ترین علمی مآخذ تک رسائی حاصل کریں تاکہ الغدیر کی تدوین وتالیف میں ان سے استفادہ کرسکیں اور موضوع بحث معلومات کا نوٹ بنا سکیں ۔
دنیا کی کتابوں اور کتب خانوں کے سلسلے میں ان کے بے پناہ اشتیاق اور والہانہ پن کے متعلق ، انہیں سے منقول ہے کہ وہ علمی اہداف تک رسائی حاصل کرنے کی راہ میں کسی طرح کی مشکلات اور مصائب پر توجہ نہیں دیتے تھے ؛ اسی لئے ان کی زندگی میں مطالعہ کتب اور ان کے مطالب سے نتیجہ گیری کرنے سے زیادہ کوئی اور چیز لذت بخش نہیں تھی ، وہ زندگی کے اہم ترین لذائذ سے بھی منھ موڑ چکے تھے، اپنی عمومی صحت اور اہل و عیال کی حالت کے لئے بھی خصوصی اہتمام نہیں فرماتے تھے ۔
انہیں سے منقول ہے :مسلسل کئی گھنٹے گذر جاتے تھے اور وہ اپنے کھانے کی طرف متوجہ نہیں ہوتے تھے اور اپنے روزانہ کا کھا نا بھی تناول نہیں کرتے تھے ،ہاں ! جب دسترخوان پر بیٹھے ہوئے ان کے اہل و عیال کئی مرتبہ آواز دیتے تھے تب آکر کھانا تناول فرماتے ۔وہ کتابوں اور کاپیوں میں اتنے مستغرق رہتے کہ ان کے لئے یہ بات اہم نہیں ہوتی کہ کھانا ٹھنڈا ہوگیاہے یا جو کھانا کھا رہے ہیں وہ کل کا ہے ، بلکہ ان کے لئے یہ بھی اہم نہیں ہوتاتھا کہ کیاکھارہے ہیں اور کیا پی رہے ہیں یہاں تک کہ کھانا کھاتے ہوئے بھی روایات اور واقعات کے سلسلے میں غور و فکر کے سمندر میں غوطہ زن رہتے تھے ۔
وہ خطی نسخوں سے منقول مطالب پر اعتماد نہیں کرتے تھے بلکہ اپنے اوپر ضروری سمجھتے تھے کہ ان علمی مآخذکوخود ہی دیکھیں تاکہ اس کے ذریعہ عذرتراشیاں ختم ، شک و تردید باطل اور اہل تشکیک کے تمام دعوئوں کا قلع قمع کیاجاسکے ۔
عظیم مجاہدین بھی اپنے کاندھے پر ایسا سنگین عملی بوجھ اٹھانے سے قاصر ہیں ؛ اس لئے کہ واضح بات ہے کہ علمی مآخذ و منابع دنیا کے مختلف گوشوں کے کتب خانوں میں بکھرے پڑے ہیں ، لیکن یہ مشکل بھی شیخ کے لئے چنداں اہمیت کی حامل نہیں تھی ، اسی لئے ضروری منابع و مآخذ کے حصول اور اسلام کے فکری میراث سے فیضیاب ہونے کے لئے دنیا کے دور دراز علاقوں کا سفر کیا ۔
اس سلسلے میں ان سے منقول ہے کہ انہوںنے ہندوستان کا سفر کیا اور کافی دنوں تک وہاں کے عظیم کتب خانوں کی چھان بین کی ، کتابوں سے ضروری نوٹ بنائے اوران کتابوں کا تجزیہ و تحلیل کیا جو صرف ہندوستان ہی میں دستیاب ہوسکتی تھیں۔

ایک اہم واقعہ :
علامہ امینی کے بعض قریبی افراد سے ایک واقعہ منقول ہے جو بحث و تحقیق کے سلسلے میں ان کی بے پناہ جد و جہد کی نشاندہی کر تاہے ، اس کا خلاصہ یہ ہے :
ایک دن علامہ گریہ کررہے تھے ؛ اس لئے کہ ان کی ضرورت کی بعض اہم کتابیں دستیاب نہیں ہوپائی تھیں، علامہ کا طریقہ یہ تھا کہ وہ مصادر و مآخذ کے لئے امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام سے متوسل ہوتے تھے ۔ ایک دن امیر المومنین سے متوسل ہوئے اور کہا : یہ کتاب '' الغدیر '' آپ کی کتاب ہے ، غدیر آپ کا ہے ، لہذا آپ کو اس مقام و مرتبہ کا واسطہ جو خدا کی بارگاہ میں ہے ، جن کتابوں کی مجھے ضرورت ہے اسے فراہم کرنے میں مدد کریں ۔ علامہ امینی کابیان ہے : مختصر سی نیند کے بعد میں بیدار ہوا ، احساس ہوا کہ کوئی دق الباب کررہاہے ، میں نے دروازہ کھولا دیکھا کہ میرا پڑوسی ''بنیا'' ہے ، اس نے کہا : میں نے ایک نیا گھر خریدا ہے جو میرے گھر سے بہت بڑا ہے ، جب ہم گھر کے وسائل کو وہاں منتقل کر رہے تھے تو دیکھا کہ ایک پرانے گوشہ میں یہ کتاب پڑی ہے ، میری زوجہ نے کہا : یہ کتاب آپ کے کام کی نہیں، اسے شیخ امینی کو ہدیہ کردیں ۔ علامہ نے وہ کتاب دیکھی ، معلوم ہوا کہ یہ وہی کتاب ہے جس کی تلاش میں وہ مہینوں سے سرگرداں تھے ۔

مقالات کی طرف جائیے