مقالات

 

صدر المفسرین آیۃ اللہ سید راحت حسین صاحبؒ گوپال پوری

سید شاہد جمال رضوی گوپال پوری

ولادت اور ابتدائی تعلیم
علم و دانش اور تحقیق و تدقیق کا یہ درخشاں آفتاب ٥رجب المرجب ١٢٩٧ھ؁ بمطابق ١٣جون ١٨٨٠ ء؁ میں سر زمین گوپال پور ( سیوان ،بہار) سے طلوع ہوا ،تاریخی نام ''سید حیدر رضا ''اور والد کا نام ''سید طاہر حسین ''تھا ۔آپ نے اپنے ماموں زاد بھائی جناب مولوی سید سخاوت حسین صاحب اور اپنے چچازاد بھائی جناب مولوی سید امیر حسن صاحب سے اردو و فارسی کی ابتدائی تعلیم حاصل کی ،رسم مکتب پانچ سال کی عمر میں ہوئی ۔
وطن میں ابتدائی تعلیم کے بعد آپ کھجوہ تشریف لے گئے جہاں فخر الحکماء سید علی اظہر صاحب مرحوم کے والد ماجد ''سید حسن باخدا مرحوم ''سے میزان الصرف کا درس لیا ۔پھر یہاں کے سلسلۂ تعلیم کو ناکافی پا کر ١٧شوال ١٣١٢ ھ؁ کو مظفر پور گئے اور مدرسۂ ایمانیہ میں داخلہ لے لیا، وہاں آپ نے مولوی سید خالق بخش صاحب سے شرح مأة عامل اور مولانا سید محمد مہدی صاحب بھیک پوری مدرس اعلیٰ سے ابواب الجنان ،شرح جامی اور شرح تہذیب پڑھی ۔مولانا سید عابد حسین صاحب بھیک پوری اس وقت کمرہ محلہ کی مسجد میں امام جمعہ وجماعت تھے ،آپ نے ان سے مبیذی ،شرائع الاسلام اور معالم الاصول کا درس لیا ،برہم پورہ میں امام جماعت کے فرائض انجام دے رہے مولانا سید نظر حسن صاحب بھیک پوری سے ملا محسن اور مختصر المعانی کے ساتھ ساتھ شرح لمعہ کتاب الحج تک پڑھی ۔
مدرسۂ ایمانیہ کے قیام کے دوران قرأت وحساب کا بھی درس لیا ،آپ کو کتابوں سے کافی لگاؤ تھا چنانچہ اس دوران کتب تفاسیر و احادیث کا مطالعہ بھی کرتے رہے ،آپ نے کتاب حق الیقین علامہ مجلسی کامکرر مطالعہ فرمایا،یہ سن کر یقینا حیرت ہوگی کہ طب کی فارسی کتابوں کا مطالعہ اتنے انہماک سے کرتے تھے کہ چند ہی دنوں میں معمولی امراض کے نسخے تجویز کرنے پر قادر ہوگئے ۔

اعلیٰ تعلیم
خداوندعالم نے آپ کی روح میں کسب علم و دانش کا جو جذبہ ودیعت فرمایاتھا اس نے زیادہ دن تک سکون و اطمینان سے بیٹھنے نہ دیا چنانچہ مزید تحصیل علم کے لئے اوائل ماہ ذیقعدہ ١٣١٩ ھ میں لکھنؤ کاسفر کیا اور مدرسۂ حسین آباد ( جو اب سلطان المدارس کے نام سے معروف ہے ) میں داخلہ لے لیا چونکہ امتحان کا زمانہ قریب تھا اور تدریس کا سلسلہ ختم ہو چکا تھا اور امتحان میں شرح لمعہ ( طہارت ) بھی داخل تھی ،آپ نے چند دنوں کی ذاتی محنت سے شرح لمعہ کا امتحان دیا اور اول نمبر سے پاس ہوئے ۔یہاں کافی دنوں تک تحصیلات کا سلسلہ جاری رہا، آپ کے اساتذہ میں جناب مولانا سید محمد باقر صاحب اور جناب مولانا عابد حسین صاحب طاب ثراہماقابل ذکر ہیں ،یہاں کے تعلیمی نصاب کے علاوہ آپ نے طب کا بھی خصوصی درس لیا اور اس سلسلے میں جناب حکیم سید امیر حسن صاحب سے کافی کسب فیض کیا ۔
دوران تحصیل درسیات کے مباحثہ کے ساتھ ساتھ تدریس کابھی سلسلہ جاری رکھا چنانچہ ابتدائی کتابوں کے علاوہ مختصر المعانی اور شرائع الاسلام کافی دنوں تک پڑھائی اور طب میں اقصرائی ،سدیدی اور مفردات نفیسی کا درس دیا ۔فراغت کے بعد کچھ دنوں تک سلطان المدارس کے مدرس بھی رہے ۔

عراق کا تعلیمی سفر
اپنے خسر معظم مولاناسید نثار حسین کی تحریک و تشجیع سے ماہ ذیقعدہ ١٣٢٤ ھ؁ میں اعلیٰ تعلیم کے لئے مرکز علم و ادب بارگاہ مولائے کائنات ''نجف اشرف ''عراق تشریف لے گئے ۔اور ہندوستان میں فقہ و اصول پر دسترس کے باوجود وہاں کے تدریسی اور علمی معیار کو پیش نظر رکھتے ہوئے آپ نے پھر سے فقہ و اصول کا درس لیا ۔
ظاہر ہے باب مدینة العلم کے دیار کی ہواؤں اور فضاؤں میں علم و ایقان کی مسحور کن خوشبو رچی بسی ہے ،وہاں کے علمی ماحول کا فیضان بالکل عام ہے ،ہر شخص اپنے کشکول کی ظرفیت کے مطابق کسب علم و فیض کر سکتاہے یہاں کی عطا و بخشش میں کمی نہیں ہے بلکہ یہاں یہ دیکھا جاتاہے کہ ظرف حصول کتنا وسیع ہے ۔ مولانا مرحوم جیسا جویائے علم و فن جب اس علمی ،ادبی اور مذہبی ماحول میں پہونچا تو ان کی خوشی دیدنی تھی ،ایسا لگا جیسے انہیں دنیا جہاں کی دولت نصیب ہوگئی ہو چنانچہ آپ نے اس ماحول کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے شب و روز محنت کی اور کسب علم میں اس قدر منہمک ہوئے کہ آپ بھی اس علمی ماحول کا حصہ بن گئے ۔
آپ کے فضل و کمال ،معقول و منقول کی جامعیت اور تحقیق و تدقیق کی استقامت کے پیش نظر آپ کے تمام اساتذۂ کرام خاص طور سے آیة اللہ محمد علی رشتی ،سرکار طباطبائی اور آقائے شریعت اصفہانی آپ کی بہت زیادہ قدر کرتے تھے اوربہت زیادہ محبت روا رکھتے تھے ،آپ نے بھی علم و فن کے ان مونگے موتیوں کی عنایات کو دیکھ کر موقع بموقع ان سے اکتساب فیض کیا ۔کچھ دنوں بعد سرکار طباطبائی کی نظر میں اتنے معتبر ہوگئے کہ آپ نے ہندوستانی طلاب کے جملہ امور کی ذمہ داری آپ ہی کے سپرد کر دی ۔اساتذۂ کرام کی نظر میں آپ کی قدر و منزلت کا اندازہ رسالۂ جن و جان میں موجود آقائے شریعت کی تقریظ سے لگایاجاسکتاہے ،آقائے شریعت نے اس میں آپ کی بہت زیادہ مدح و ثنا کی ہے ۔
نجف اشرف میں آپ نے جن آیات عظام سے کسب علم کیا ان میں سے بعض یہ ہیں :
١۔ آقائے شیخ علی گونابادی
٢۔ آقائے ملا رضا
٣۔ آقائے مرزا محمد علی رشتی
٤۔ آقائے سید محمد یزدی
٥۔ آقائے سید حسین رشتی
٦۔ آقائے سید حسین بروجردی
٧۔ آقائے شیخ محمد ابراہیم
٨۔ آقائے سید احمد سبط الشیخ
٩۔ آقائے سید ابوالحسن اصفہانی
١٠۔ آقائے سید کاظم خراسانی (آخوند خراسانی )
١١۔ آقائے سید کاظم یزدی (صاحب عروة الوثقی)
نجف اشرف کے قیام کے دوران ١٣٢٩ھ؁ میں اپنے والد کے انتقال کی خبر پاکر وطن واپس آئے اور ایک سال کے بعد پھر نجف اشرف کی طرف لوٹ گئے۔مجموعی طور پر نوسال تک نجف میں قیام رہا۔
باب مدینة العلم کے فیوض و برکات سے ان نو سالوںمیں آپ نے منطق و فلسفہ ،کلام و ہیئت ،تفسیر و حدیث و درایت اور فقہ و اصول پر مکمل مہارت حاصل کر لی ،ان علوم کی جامعیت میں آپ خوداپنی نظیر تھے ۔

عراق سے واپسی اور ہندوستان کی سرگرمیاں
١٩١٤ئ میں جب عراق پر انگریزوں کا حملہ ہوا تو کافی افراتفری ہوئی ،سب نے اپنی حفاظت کے لئے ادھر ادھر کی راہ لی ،علمائے عراق بھی دوسرے ملکوں میں پناہ گزیں ہوئے ،اکثر تو جاںبحق ہوگئے ۔مولانا مرحوم بھی بہزار دقت اپنے اہل عیال کے ہمراہ ماہ صفر ١٣٣٤ھ؁ بمطابق ١٩١٥ ء؁ میں وطن واپس ہوئے ۔
عراق سے واپس آکر آپ کا قیام حسین آباد ضلع مونگیر ( شیخ پورہ ) میں رہا،وہاں کے ایک زمیندار نے ایک کتابخانہ تعمیر کروایاتھا، مولانا مرحوم وہیں سکونت اختیار کرکے تحقیق و مطالعہ میں منہمک ہوگئے ،تصنیف و تالیف اور مطالعۂ کتب یہی دو چیزیں آپ کی زندگی کا محور تھیں چنانچہ حسین آباد میں بھی آپ کا یہ مشغلہ جاری و ساری رہا۔ اس کے علاوہ آپ نے وہاں نماز جمعہ قائم کر کے لوگوں میں تبلیغ دین کا زمینہ بھی فراہم کیا ،آپ کے طرز تبلیغ اور انداز خطاب سے متاثر ہوکر حسین آباد کے علاوہ قرب و جوار کے لوگ بھی مسائل شرعیہ دریافت کرنے اور آپ کے مواعظۂ حسنہ سے کسب فیض کرنے کے لئے تشریف لاتے تھے ۔
تقریباً ١٥سال تک وہاں خدمت دین انجام دینے کے بعد ١٩٤٠ ء؁میں اپنے وطن مالوف گوپال پور آگئے اور وہاں کی اقامت کے دوران تحقیق و تالیف کا سلسلہ جاری رکھا ۔
استاذالواعظین علامہ سید عدیل اختر صاحب طاب ثراہ ( پرنسپل مدرسة الواعظین ) نے ٨شوال ١٣٧٠ ھ بمطابق ١٣ جولائی ١٩٥١ء کو انتقال فرمایا ،چند مہینوں بعد آیة اللہ راحت حسین صاحب مدرسة الواعظین کے پرنسپل اور متولی و منتظم کے عہدے کے لئے منتخب کئے گئے اور تقریباً آپ نے پانچ سال تک یہ خدمت انجام دی ۔

آپ کے تلامذہ
آپ کے شاگردوں کا حلقہ کافی وسیع ہے ،لکھنؤ ،عراق اور پھر ہندوستان میں آپ کے شاگردوں کا سرسری جائزہ بھی لیاجائے تو دسیوں صفحات سیاہ ہوجائیں گے ۔
قیام عراق کے دوران جن بزرگ علماء نے آپ سے کسب علم کیا ان میں سر فہرست یہ ہیں :
١۔آقا سید محمد رضا صا حب شاہ عبدالعظیمی
٢۔مولانا آقا سید جواد عرب نجفی
٣۔جناب آقائے شیخ عبد الغنی آملی ذو النورین (صاحب وسائل کے پسری اور شہید ثانی کے دختری فرزند )
٤۔ شیخ محمد آملی
ان چاروں فارغ التحصیل بزرگوں نے مولانا مرحوم سے ''تصریح شرح تصریح الافلاک ''کا درس لیا۔ وہاں جن ہندوستانی اور کشمیری طلاب نے معالم الاصول ،شرح لمعہ اور رسائل و مکاسب کا درس لیا ان کی تعداد بھی کم نہیں ہے ۔ہندوستان واپس آنے کے بعد تو ان کے تلامذہ کا دائرہ بہت زیادہ وسیع ہوگیا تھا ۔

اجتہاد و مرجعیت پر ایک نظر
دنیا میں لوگ پیدا ہوتے ہیں اور پھر موت کی آغوش میں ہمیشہ کی نیند سوجاتے ہیں ،اسی طرح دنیا کا کاروبار چلتا رہتاہے ۔لو گوں کے آنے جانے کا سلسلہ تو لگاہی رہتاہے مگر کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنا نقش چھوڑ جاتے ہیں ۔صدر المفسرین ،حجة الاسلام آیة اللہ فی الانام مولانا سید راحت حسین صاحب اعلی اللہ مقامہ کی ہستی انہیں لوگوں میں سے ایک ہے ۔
منطق و فلسفہ ،کلام و ہیئت ،تفسیر و حدیث اور فقہ و اصول کی جامعیت میں آپ اجتہاد و مرجعیت کی نازش آفریں فرد تھے ۔آپ نے وسائل زندگی کی کمی اور ہزار ہا مصائب و آلام کے باوجود اپنے علم و ایقان اور اجتہاد کو اس منزل کمال پر پہونچایا کہ لوگوں نے آپ کے اجتہاد سے کسب فیض کرتے ہوئے مسائل شرعیہ میں آپ کی تقلید کی ۔شاید اکثر لوگوں کو یہ معلوم نہ ہوکہ آپ کا رسالۂ عملیہ بھی تھا ،جس میں دینی مسائل کے متعلق آپ کے نظریات اور فتاوے مذکور ہیں ،آپ کے رسالۂ عملیہ کانام ''توشۂ آخرت ''ہے جو ١٣٥٣ھ؁ میں پٹنہ سیٹی سے شائع ہوا ،اس کے مقدمہ سے اس بات کی وضاحت ہوتی ہے کہ آپ کے فتوؤں پر بھی باقاعدہ عمل کیاجاتاتھا۔یہ عبارت ملاحظہ فرمائیے :
''....اور مقامات اختلاف رائے میں اس ناچیز نے اپنی رائے بھی حاشیہ پر ذکر کر دیاہے ،پس جو حضرات اس ناچیز کی رائے پر عمل کرنا چاہیں ان کو چاہیے کہ جن حکموں پر میرا حاشیہ نہیں اون کو میری رائے کے مطابق سمجھیں اور جن حکموں پر میں نے حاشیہ لکھ دیاہے اون کے متعلق حاشیہ کے مضمون پر عمل کریں''۔واللہ الموفق والسلام:راحت حسین رضوی گوپال پوری
آپ کو نو اساتذہ کرام اور مجتہدین عظام نے اجتہاد کے اجازے مرحمت فرمائے تھے ،جن میں آیة اللہ سید محمدکاظم آخوند خراسانی ،آقائے بروجردی ،اور آقائے سید ابوالحسن اصفہانی طاب ثراہم سر فہرست ہیں ۔باقی حضرات سے اجازے نہ مل سکے اس کی علت عراق کے نا گفتہ بہ حالات تھے۔
یہ حقیقت ہے کہ ہندوستان میں آپ کی مرجعیت عمومی حیثیت حاصل نہ کرسکی ۔چونکہ آپ کی زندگی کا زیادہ تر حصہ پسماندہ علاقوں میں گذرا اور آپ کی اکثر و بیشتر تصانیف اردو زبان میں منظر عام پر آئیں، ان دو عوامل و اسباب نے آپ کو شہرت و مقام کی اس بلندی تک نہ پہونچنے دیا جن کے آپ واقعی اور حقیقی مستحق تھے۔
آپ کی زندگی کے مطالعہ سے معلوم ہوتاہے کہ ایران و عراق کے بعض علماء نے آپ سے اجازۂ روایت لئے ہیں ،آیة اللہ مرعشی انہیں میں سے ایک ہیں ۔''الناصر پٹنہ ''کی خصوصی اشاعت میں وہ تصویر شائع ہوئی ہے جس میں حجة الاسلام سید محمود مرعشی نے مولانا ناصر زیدی کو مولانا مرحوم کا دیاہوا اجازہ دکھایا ہے :
ع:ڈھونڈھوگے اگر ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم

گرانقدر تصنیفات
آیة اللہ راحت حسین صاحب طاب ثراہ ایک کامیاب مبلغ ،مفسر ،استاد اور مجتہد ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی سریع القلم محقق اور مصنف بھی تھے ،آپ کو طالب علمی کے دور سے لکھنے کا بہت زیادہ ذوق تھا ،اسی لئے قلم کی روانی اور فکر کی جولانی نے جس موضوع کو اختیار کیا صفحۂ قرطاس پر سیاہ لکیریں ابھرنے لگیں ۔یہی وجہ ہے کہ مولانا مرحوم کے نگارشات میں موضوعات کا تنوع پوری طرح نمایاں نظر آتاہے ،آپ نے تھوڑاہی سہی مگرہر موضوع پر کام کیاہے ۔تفسیر ہو یافقہ و اصول، حدیث ہو یا درایت ،اخلاقیات ہوں یا منطق وفلسفہ ہر موضوع پر آپ کے قلمی جواہر پارے دیکھے جاسکتے ہیں:
اٹھائے کچھ ورق لالہ نے کچھ نرگس نے کچھ گل نے
چمن میں ہر طرف بکھری ہوئی ہے داستاں میری
ان متنوع موضوعات پر آپ کی یکساں مہارت کی وجہ سے عراق و ایران کے ایک سفر کے دوران آیة اللہ العظمی سید حسین بروجردی نے آپ سے فرمائش کی کہ اپنی کچھ تصنیفات کو عربی میں منتقل کیجئے تاکہ ایران و عراق کے لوگ بھی مستفید ہو ں اور یہاں کے علماء کو آپ کی جلالت قدر کا اندازہ ہو ۔وطن واپس آکر آپ نے اپنی تصنیفات میں سے بارہ ایسے رسالوں کو جن کا فقہ استدلالی سے تعلق تھا ،عربی قالب میں ڈھالا اور ''الاثنا عشریة ''کے نام سے یکجا شائع کیا ۔
آپ کے جو قلمی جواہر پارے منظر عام پر آئے یا جنہیں مختلف ذرائع سے معلوم کیاجاسکا ان کی فہرست اس طرح ہے :
١۔ تفسیر انوار القرآن
آپ سے قبل بھی ترجمہ و تفسیر قرآن پر کام ہوا تھا لیکن صاحب نظر جب اس تفسیر کودیکھے گا تو برجستہ یہ کہنے پر مجبور ہوجائے گاکہ تفسیری نہج پر اتناجامع کام پہلی مرتبہ ہواہے ۔اردو زبان میں یہ تفسیر پہلے مولانا سید اظہار الحسنین صاحب عشروی ( مدرس اعلی مدرسۂ اسلامیہ کجھو ہ ) کے زیر اہتمام اصلاح پریس سے ماہانہ رسالۂ الشمس کے نام سے چھپتی تھی ،جب مولانا مرحوم وطن آکر رہ گئے توایک بندۂ مومن نے دستی پریس آپ کو ہدیہ کیا اور تفسیر کے صفحات (٤٠صفحے ) اسی طرح ماہانہ چھپتے رہے ۔مقدمات انوار القرآن ،تفسیر سورۂ فاتحہ ،سورۂ بقرہ اور آل عمران کی کچھ آیتیں شائع ہوئیں ۔معلوم نہیں کتنا حصہ غیر مطبوعہ ہے ۔
٢۔مرشد امت (چار جلدیں)
مسلۂ ''سیکون بعدی اثنا عشر خلیفة و کلھم من قریش ''سے متعلق یہ مناظراتی کتاب تحقیق و تتبع کی داد دیتی ہے ، فضائل اہل بیت اور مطاعن صحابہ و خلفائے ثلاثہ پر مشتمل یہ کتاب مولانا مرحوم کی نظروں میں بے حد اہمیت کی حامل تھی ،ادارۂ اصلاح کجھوہ نے مولانا مرحوم سے یہ کتاب چھاپنے کے لئے مانگی اور کئی برس تک اپنے پاس رکھ کر واپس کردی۔الحمد للہ اس پر کام ہو رہاہے، جلد ہی منظر عام پر آنے کی توقع ہے ۔
٣۔سبیل الہدی فی فضائل العلم و العلما ء ( اردو ،مطبوعہ ١٣١٨ ہجری)
٤۔ مختصر القواعد( عربی مطبوعہ١٣٢٢ ہجری)
٥۔ تفسیر جن و جان علی ماعلمہ الرحمن بجواب تفسیر جن و جان علی ما فی القرآن مصنفہ احمد خان دہلوی
٦۔ تحقیق صبح صادق المسمی بہ البراح ( عربی )
٧۔شرح میراث تبصرہ (عربی ناتمام)
٨۔حواشی رسائل اربعہ ( عربی ناتمام )
٩۔تحقیق نجاست عرق جنب بحرام (عربی )
١٠۔اجتہاد و تقلید (عربی )
١١۔رسالۂ زکوة ( عربی )
١٢۔رسالۂ شکیات نماز ( عربی )
١٣۔ہدایة العقول الی مطالب الاصول ( عربی )
١٤۔حواشی متفرقہ بر کتاب الصوم
١٥۔قاطع لجاج در میراث ازدواج (اردو )
١٦۔افحام الحامد
١٧۔محفل افروز والقام حجر در بیان نوروز (اردو)
١٨۔تحریف قرآن ( اردو )
١٩۔تحقیق تیمم جنب معذور از غسل (عربی )
٢٠۔ثمرۂ اعمال ( اردو )
٢١۔بغیة الطالبین شرح معالم الدین در اصول فقہ (فارسی )
٢٢۔تحقیق بداء (اردو)
٢٣۔پردۂ نسواں المسمی بہ کاشف(اردو)
٢٤۔پردہ ٔ نسواںالمسمی بہ معلم شرافت(اردو)
٢٥۔غناواسلام(اردو)
٢٦۔رسالہ در انساب سادات گوپال پور و پالی و کجھوہ (اردو)
٢٧۔مرأ ة قادیانی و سوانح عمری غلام احمد قادیانی مدعی نبوت و امامت (اردو )
٢٨۔مسائل متفرقہ اصولیہ و فقہیہ و شرح بعض احادیث و مناظرہ (عربی و اردو )
٢٩۔رسالہ ٔ در حرمت نوکری کفار بادلۂ اربعہ شریعہ (اردو )
٣٠۔ شکیات نماز ( اردو )
٣١۔رسالۂ طہارت و صلوٰة علمیہ (اردو )
٣٢۔رسالۂ طہارت (اردو)
٣٣۔رسالہ اصول فقہ (ناتمام )
٣٤۔رسالۂ سفر نامہ خراسان
٣٥۔تحقیق متعہ (اردو )
٣٦۔بسط الیدین
نماز میں ہاتھ باندھنے کے عدم جواز اور ہاتھ کھولنے کے جواز بلکہ وجوب کے متعلق ایک رسالہ (اردو )
٣٧۔تعدیة النکاح (عربی )
٣٨۔الانتصار فی حرمة الادبار (اردو )
٣٩۔جواز بکاء بر سید الشہداء (اردو)
٤٠۔امام حسین اور یزید کی شخصیت دنیا کے مذاہب میں (اردو)
٤١۔عصمت انبیاء (اردو )
٤٢۔زندگی کے آخری دور میں آپ علم رجال پر ایک مفصل تحقیقی کتاب عربی میں تصنیف فرما رہے تھے ،جو نامکمل رہ گئی ۔
٤٣۔رسالہ ٔ رافع التباس (اردو)

فرزندان
١۔ حجة الاسلام مولانا سید علی صاحب طاب ثراہ ( صدر الافاضل )
٢۔حجة الاسلام مولانا سید محمد محسن صاحب مرحوم
٣۔مولوی محمد صاحب مرحوم
٤۔ مولوی نور اللہ صاحب مرحوم

وفات
مدرسة الواعظین کے قیام کے دوران آپ کو ذیابیطس (شوگر ) کا مرض لاحق ہوگیا جس سے مجبور ہوکر وطن واپس آگئے اور چند مہینوں بعد ٢٦رمضان ١٣٧٦ھ بمطابق ٢٦اپریل ١٩٥٧ ء کو جمعہ کے دن رحلت فرمائی ۔آپ کی آخری آرامگاہ شہر خموشاں گوپال پور قرار پائی ، آپ کی قبر بطور یادگار موجود ہے اور اس پر تعمیر نو کا کام چل رہاہے ۔

مصادر
١۔ خورشید خاور :مؤلف: مولانا سید سعید اختر صاحب گوپال پوری
٢۔ مطلع انوار (فارسی ):مؤلف: مولانا سیدمرتضی حسین صدر الافاضل ؛مترجم :ڈاکٹر محمد ہاشم
٣۔توشۂ آخرت:رسالۂ عملیہ آیة اللہ سید راحت حسین صاحب
٤۔ دیباچۂ توشۂ آخرت :مرتبہ :مولانا سید رسول احمد صاحب گوپال پوری
٦۔ الناصرپٹنہ ( خصوصی اشاعت )
٨ ۔مختلف افراد سے انٹرویو
٩۔ ذاتی معلومات

مقالات کی طرف جائیے