مقالات

 

خطبۂ غدیر؛ پہلی قسط

ادیب عصر مولانا سید علی اختر رضوی شعور گوپال پوری


١۔حمد و ثنائے الٰہی
تمام ستائش اسی خداسے مخصوص ہے جواپنی وحدانیت میں بلند اوراپنی ا نفرادیت میں قریب ہے،اس کااقتدار سب پرغالب ہے ،اپنے اصول وارکان میں عظیم ہے ، تمام چیزوں پراس کے علم کااحاطہ ہے اورتمام مخلوقات پراپنی قدرت سے غالب ہے ، برہان کے اعتبارسے عظیم ورفیع ہے، ہمیشہ سے صاحب عظمت وبزرگی ہے اورہمیشہ ایساہی رہے گا۔تمام بلند چیزیں ا سی نے پیداکی ہیں اورتمام بچھائی جانے والی چیزیں اسی کاکرشمہ ہیں ،تمام زمینوں اورآسمانوں کاجبارہے ،تمام عیوب سے بری، بہت پاک وپاکیزہ ،روح اورفرشتوں کاپروردگار،جن کوپیداکیاان پراحسان کرنے والااورجن کی پرورش کی ان پربہت بخشش کرنے والاہے ،وہ ہرآنکھ کودیکھتاہے حالانکہ آنکھیں اسے نہیں دیکھ سکتیں ،کرم کرنے والابردبار،متناسب کام کرنے والا،ہرشی پراس کی رحمت پھیلی ہوئی ہے اوران پراپنی نعمتوں سے احسان کیاہے ،وہ انتقام لینے میں جلدی نہیں کرتااورنہ ان لوگوں پرلپکتاہے جوعذاب کے مستحق ہیں۔پوشیدہ باتوںکو اچھی طرح سمجھتاہے اوردلوں کی باتوں کوجانتاہے ،اس پرمخفی باتیں بھی پوشیدہ نہیں ہیں اورنہ مخفی امور میں اشتباہ ہوتاہے ،ہرچیز پرپوری طرح اس کااحاطہ ہے اورہرشئی پراس کاغلبہ ہے ، ہرچیز میں اسی کی توانائی کارفرماہے اوراسی کی قدرت جاری وساری ہے ،کوئی شئی اس کے مانندنہیں ،ہرشئی کی پرورش کرنے والاہے جبکہ وہ قابل ذکربھی نہ تھی،وہ دائم ہے ، انصاف کے ساتھ قائم ہے ،کوئی معبودنہیں سوائے اس کے جومقتدراورحکیم ہے ،وہ اس سے کہیں بلند وبرترہے کہ آنکھیں اس کاادراک کرسکیں حالانکہ وہ سبھی دیکھنے والوں کودیکھتاہے ،وہ باریک بین اورباخبرہے کوئی بھی اس کے اوصاف کو اس طرح بیان نہیں کرسکتاکہ آنکھوں دیکھی کہاجاسکے ،اورنہ کوئی ا سکی کیفیت کاپوشیدہ یااعلانیہ ادراک کرسکتاہے ،لیکن بس وہی اوصاف بیان کئے جاسکتے کہ جن کی نشان دہی کی ہے اس خدائے برترنے اپنی ذات کی طرف ۔
اورمیں اس بات کی گواہی دیتاہوں کہ اس کی تقدیس سے سارازمانہ بھراپڑاہے اوروہی وہ ذات ہے کہ اس کانور انتہائے کائنات کا احاطہ کئے ہوئے ہے ،اسی کاحکم کسی مشورہ دینے والے کی رائے کے بغیرنافذہے، تقدیراوراندازے میں اس کاکوئی شریک نہیں ،نہ تدبیروانتظام میں کوئی فرق ہے ،جس چیز کی صورت گری کی وہ بالکل بے نمونہ اوراچھوتی ،جسے خلق کیااس میں کسی کی مددشامل نہیں ،نہ زحمت اٹھانی پڑی نہ حیلہ کرناپڑا،جسے پیداکرنے کاارادہ کیاوہ ہوگئی ،وجود میں آگئی۔وہ وہی معبود ہے جس کے سواکوئی خدانہیں ،بس وہی ہے جواپنی صنعت اورکاریگری میں پختہ ہے ،بڑااچھا اور متناسب کاریگرہے جوذرابھی ظلم نہیں کرتااورایسابزرگ ہے کہ سارے معاملات کی بازگشت اسی کی طرف ہے ۔
اورمیں اس بات کی گواہی دیتاہوں کہ اس کی قدرت کے سامنے ہرچیزپست اور اس کی ہیبت کے آگے ہرشئی سرنگوں ہے ،سبھی فرشتوں کامالک وآقاہے اورتمام آسمانوں کوگردش دینے والاہے ،اس کی تسخیرمیں سورج اورچاند ہیں جواپنے معین وقت میں چلتے پھرتے رہتے ہیں ،وہ رات کودن پرمسلط کردیتاہے اوردن کورات پر،یہ ایک دوسرے کے پیچھے لگے ہوئے ہیں ،وہ ہرظالم اورعناد پسندکاسرکچلنے والاہے اور ہر سرکش شیطان کو ملیامیٹ کرنے والا ہے ،اس کاکوئی حریف اورمد مقابل نہیں ،وہ اکیلاہے ،بے نیاز ہے ، نہ اس کی کوئی اولاد ہے نہ وہ کسی کی اولاد ہے اورکوئی اس کاہمسرنہیں ۔وہی معبود ہے ، ایک ہے اوربزرگ پروردگارہے ،جوکچھ چاہتاہے ہوجاتاہے ،وہ فیصلہ کن ارادہ کرتاہے اس کاعلم احاطہ کرلیتاہے ،وہ مارتاہے اورزندہ کرتاہے ،وہی فقیربناتاہے ،وہی مالدار کرتاہے ،وہی ہنساتاہے اور وہی رلاتاہے ،وہی قریب کرتاہے اوروہی دورکرتاہے ،وہی روک لیتاہے اوروہی عطاکرتاہے ،اسی کوتمام اختیارات حاصل ہیںاوراسی کے لئے تمام ستائش زیباہے ،ہرقسم کی بھلائیاں اسی کے ہاتھ میں ہیں اوروہ ہرچیز پرقادرہے ،وہ رات کودن میں پرودیتاہے اوردن کورات میں۔نہیں ہے کوئی معبود لیکن بس وہی مقتدراوربخشنے والاہے ،دعائیں قبول کرنے والاااوردل کھول کرعطیات بخشنے والاہے ، وہ سانسوںکاحساب رکھتاہے ،تمام جنات اورانسانوں کاپالنہار ہے ، اس کے لئے کوئی چیز مشکل نہیں ،نہ فریادیوں سے تنگ اورپریشان ہوتاہے،نہ ہی رونے دھونے والے اسے الجھن میں ڈال سکتے ہیں،صالح لوگوں کوپناہ دیتاہے، کامران لوگوں کو توفیقات عطاکرتاہے ،تمام دنیائوں کاسرداراورسرپرست ہے جس کوبھی خدانے پیداکیااس پرخدا کا حق ہے کہ اس کاشکراداکرے اوراسکی حمدکرتارہے ، تنگیوں ،آسائشوں،پریشانیوں اور آسانیوں میں ۔
میں اس کی ذات ،اس کے فرشتوں ،اس کی کتابوں اوراس کے رسولوں پرایمان رکھتاہوں ،میں نے اس کاحکم سنااوراس کی اطاعت کی اور جس میں اس کی رضاہے اسے بجالانے پرتیارہوں ،اس کی طاعت کی طرف رغبت اوراس کے عذاب کے خوف سے اس کے تمام فیصلوں کوتسلیم کرتاہوں ،کیوں کہ اس کے مکروتدبیرسے نڈرنہیں ہواجاسکتا، نہ اس بات سے ڈراجاسکتاہے کہ وہ جور وجفاکرے گا۔
میں اس کے عبد ہونے کااقرار کرتاہوں اورگواہی دیتاہوں کہ وہی پالنہارہے ، اور جوکچھ مجھ پروحی کرتاہے میں اس کی تبلیغ کرتاہوں، اس خوف سے کہ اگرایسانہ کروں تومجھ پر کوئی دردناک بلانازل ہوگی جس کاکوئی دفع کرنے والانہیں چاہے وہ کیساہی حیلہ گرہو۔

٢۔ولایت کے متعلق خداکا خصوصی حکم
نہیں ہے کوئی معبود سوائے اس کے کیوں کہ اس نے مجھے خبردارکیاہے کہ اگروہ پیغام نہ پہنچاؤں جسے پہلے ہی نازل کیاجاچکاہے تو گویامیں نے کوئی رسالت کاکام ہی انجام نہ دیاہے ،جب کہ اس بزرگ وبرترذات نے ضمانت لی ہے کہ وہ
میراتحفظ فرمائے گا ۔اوروہی اللہ میرے لئے کافی ہے اوروہ کریم ہے ،تواس نے وحی فرمائی ہے:
''اے رسول! آپ وہ پیغام پہونچادیجئے جوعلی کے بارے میں آپ پرپروردگارکی طرف سے نازل کیاجاچکاہے اوراگرآپ نے یہ کام نہ کیاتوگویاکوئی کارتبلیغ انجام ہی نہیںدیا ،خداآپ کولوگوں کے شرسے محفوظ رکھے گا''۔
اے لوگو!اس نے جوکچھ مجھ پرنازل فرمایااسے پہنچانے میں میری طرف سے کبھی کوتاہی نہیں ہوئی اوراب میں اس آیت کے بارے میں تم لوگوں کے سامنے واضح طریقے سے بیان کرتاہوں کہ جبرئیل میرے پاس تین بارمتواترآئے اوررب کی طرف سے جوخود سلام ہے یہ حکم سلام کے ساتھ لائے کہ میں اس مشہد پرکھڑاہوجاؤں اور ہر گورے اورکالے کوخبردارکروں کہ بے شک علی ابن ابی طالب میرے بھائی ،وصی اور میرے خلیفہ ہیں اورمیرے بعدلوگوں کے امام ہیں ،ان کی منزلت مجھ سے وہی ہے جو ہارون کوموسی سے تھی بس فرق یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا،اوروہی خداورسول کے بعد تمہارے ولی اورسرپرست ہیں ،اورخدائے بزرگ نے مجھ پراپنی کتاب میں آیت نازل کی ہے:
''بے شک تمہاراولی اورسرپرست اللہ ہے اوراس کارسول ہے اوروہ لوگ جوایمان لائے اوروہ نماز قائم کرتے ہیں اورحالت رکوع میںزکات دیتے ہیں ''۔اورعلی ابن ابی طالب نے نماز قائم کی اورحالت رکوع میں زکوة دی ،ہرحال میں صرف خداکی خوشنودی ان کے مد نظرتھی اورمیں نے جبرئیل سے سوال کیاکہ مجھے تم لوگوں تک اس پیغام کے پہونچانے سے باز رکھاجائے ۔
اے لوگو!صرف اس لئے کہ میں جانتاہوں پرہیزگارکم ہیں ،منافقوں کی تعداد زیادہ ہے ،پاپی لوگ عیاری کرنے پرتیار بیٹھے ہیں اورمذاق اڑانے والے اسلام کے خلاف چالیں چلنے پرآمادہ ہیں،خدانے ایسے لوگوں کی اپنی کتاب میں صفت بھی بیان کردی ہے:''وہ اپنی زبانوں سے وہ کچھ باتیں کہتے ہیں جوان کے دلوں میں نہیں ہوتا'' ۔ اور وہ اسے معمولی بات سمجھتے ہیں حالانکہ خداکے نزدیک یہ بڑی بات ہے ۔
ان منافقوں نے اکثربہت زیادہ تکلیف بھی دی ہے یہاں تک کہ انہوں نے میرا نام ہی ''کان ''رکھ دیاہے ،میرے بارے میں یہ گمان رکھتے ہیں میں ایساہی کان کاکچاہوں کیوں کہ علی کواپنے سے بہت زیادہ قریب رکھتاہوں اوران پربہت زیادہ توجہات کامظاہرہ کرتاہوں ،چنانچہ خدانے مجھ پرآیت نازل کی :''اورا ن میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جورسول کواذیت دیتے ہیںاور کہتے ہیںکہ وہ توبس کان کے کچے ہیں ، آپ کہہ دیجئے :وہ توبھلائی کے لئے آیاہے''۔ میں ان کے نام بتاناچاہوں توبتاسکتاہوں ،ان کی طرف اشارہ بھی کرسکتاہوں ،اگرچاہوں توپتہ بھی بتاسکتاہوں لیکن خدا کی قسم! میں نے ان کے معاملات میں اخلاق کریمانہ کابرتاؤ کیاہے ،ان تمام باتوں کے باوجودخداوند عالم سوائے اس کے کسی دوسری با ت پرراضی نہیں کہ جوکچھ اس نے میرے اوپرنازل کیاہے وہ پیغام پہونچادوں۔
''اس کے بعد آپ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی :
''اے رسول! جوکچھ تمہارے رب کی طرف سے نازل کیاجاچکاہے اسے پہونچا دو اگر تم نے ایسانہ کیاتورسالت کاکوئی کام انجام ہی نہیں دیااورخداتمہیں لوگوں کے شرسے محفو ظ رکھے گا''۔

مقالات کی طرف جائیے