مقالات

 

غدیر میں کیا ہوا ؟

حجۃ الاسلام آقای احمد زمانی

ترجمہ : سید حیدرعباس زیدی
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کی عمر کے آخری ایام اس طریقے سے گزر رہے تھے جیسے لوگوں کے سروں سے رحمتوں کے بادل دھیرے دھیرے اپنی جگہ چھوڑ رہے ہوں ۔رسول گرامی ہزاروں افراد کے ساتھ خانہ ٔخدا میں خدا کی میزبانی اور اسکی ضیافتوں سے لطف اندوز ہوکرمدینۂ منورہ واپس آ رہے تھے ،راستے میں جب جحفہ نامی جگہ پر پہونچے جسے میقات حج میں شمار کیا جاتا ہے ، تو امین وحی حضرت جبرئیل نے توحید کے بعد سب سے اہم پیغام کو رسول اسلامؐ تک پہونچایا جس کی اہمیت رسول کی ٢٣ سال کی تبلیغ سے زیادہ تھی تاکہ وہ پیغام ولایت کی میٹھاس کو آخری بارلوگوں کی سماعتوں کے حوالے کر کے اپنی حجت حاضرین اور آنے والی نسلوں کے اوپر تمام کریں ۔(١)
روز جمعہ کو مکان میقات جحفہ میں ضیافت خدا سے لطف اندوز ہوکر پلٹتے ہوئے حاجیوں کو اچانک بلال کی دلکش آواز میں رسول خدا کا فرمان ملا کہ اس مقام پر سب لوگ قیام کریں اور تمام حاجی جمع ہو جائیں۔(٢)
ظہر کا وقت قریب تھا، بلال نے اذان شروع کی اور رسول اسلام نے اپنے اوپر ہونے والی وحی کو زیر لب دہرانا شروع کیا :
اے پیغمبر! تمہارے رب کی جانب سے جو چیزنازل ہو چکی ہے اس کولوگوں تک پہونچا دو، اگر تم نے اس امر کو انجام نہ دیا توگویا رسالت خدا کو انجام نہ دیا، خدا تمہیں تمام احتمالی خطرات سے محفوظ رکھے گا اور بیشک خدا کٹھ حجت کافروں کی ہدایت نہیں کرتا ۔(٣)
نماز ظہر تمام ہوئی (٤)حاجی ابھی نماز کی صفوں میں صف بستہ تھے کہ ایک مقام پر اونٹوں کے کجاووں کے ذریعے ایک تاریخی منبر بنایا گیا، پیغمبر خلاف دستور منبر پر کھڑے ہوئے ،آج کھڑے ہونے کا انداز بھی کچھ بدلا سا نظر آ رہا تھا، اس لئے کہ پیغمبر کو آج اس امر کی تبلیغ کرنی تھی جس کی اہمیت ٢٣ سال کی تبلیغ اسلام سے بھی زیادہ تھی ۔
پیغمبر چاہتے تھے کہ اپنے آخری حج میں لوگوں تک یہ بات پہونچا دیں کہ وجود رسالت کی خلا کو وجود امامت پُرکرے گی ،آج وصی رسالت کا اعلان کرنا ہے کہ زمین کبھی بھی حجت خدا سے خالی نہیں رہ سکتی ،پیغمبر یہ اعلان کرنا چاہتے ہیں کہ اے لوگو! تم لوگ میرے وصی کے پرچم کے سایے میں رہوگے تو سعادت جاویدانی سے بہرہ مند ہوگے ،میرا وصی تمہارا دینی ،سیاسی ،الٰہی اور اجتماعی علمدار ہوگا اور تمہیں ساحل نجات تک پہونچائے گا ۔
رسالت کے ہاتھوں امامت کی تاجپوشی:پیغمبر اسلام نے کافی دنوں تک اعلان وصایت علی ابن ابی طالب کو لوگوں کے فتنوں اور مکر و فریب کی وجہ سے پوشیدہ رکھا تھالیکن آج جب خود خدا نے ''وَ اللّٰہُ ےَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ'' کی صورت میں ضمانت لے لی تو پیغمبر نے بڑے ہی سکون و اطمینان کے ساتھ اس عظیم اور پربرکت امرکے اعلان کا مصمم ارادہ کر لیا، حالت قیام میں اس جم غفیر میں سکوت کو توڑتے ہوئے اپنی گفتگو کا اسطرح آغاز کیا :ایھا الناس انی قد نبانی اللطیف الخبیر۔۔۔اے لوگو !نعمتوں کا بخشنے والا اور دقائق خلقت سے آگاہ پروردگار نے مجھے اس بات کی خبر دی ہے کہ ہر پیغمبر نے اپنے گذشتہ پیغمبر کی آدھی عمر پائی ہے اور مجھے اس بات کا اندیشہ ہے کہ بہت جلد میں بھی خالق حقیقی کی دعوت پر لبیک کہوں گا کہ جسکے ہم سب مسئول ہیں ،کیا میں نے اپنی رسالت کو تم تک نہیں پہونچایا ؟۔
سب نے جواب دیا :خدا کی قسم ! ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے اپنی رسالت کوبحسن و خوبی انجام دیا ،ہمیں وعظ و نصیحت کی اور خدا کی راہ میں جہاد کیا ۔خدا آپ کو جزائے خیر عطا کرے ۔
پیغمبر ۖنے فرمایا :کیا تم سب اس بات پر گواہی دیتے ہو کہ خدا وندعالم تنہا معبود ہے اور اسکے سوا کوئی اور لائق پرستش نہیں ہے محمد اللہ کا بندہ اور اسکا رسول ہے اور موت ،جنت و جہنم اور مرنے کے بعد زندہ ہونا حتمی امورہیں ؟سب نے جواب دیا: جو کچھ آپ ۖنے فرمایا ہم اسکی گواہی دیتے ہیں اور ان سب چیزوں کا ایمان کے ساتھ اقرار کرتے ہیں ۔رسول اسلام ۖنے فرمایا :بار الٰہا ! تو ان کی شہادتوں پر گواہ رہنا ۔
پھر پیغمبر ۖنے اسطرح اپنی گفتگو آگے بڑھائی :اے لوگو! خداوند عالم میرا ولی اور سرپرست ہے اور میں تم سب اور تمام مومنوں کا سرپرست ہوں پس میں جس کا بھی ولی ہوں علی ابن ابی طالب اسکے ولی اور مولا ہیں ،بار الٰہا!جو بھی علی کو دوست رکھے تو اسے دوست رکھ اور جو علی کا دشمن ہو تو بھی اس کا دشمن بن جا۔(٥)

واقعۂ غدیر اور اس کے راوی:
غدیر کی روایت ،رسول اسلام کا خطبہ غدیر اور تاج پوشی مولائے متقیان بہ عنوان وصی رسول ،علم حدیث کی رو سے متواتر ہے ۔اکثر تفسیری اور تاریخی کتابوں( اعم از سنی و شیعہ )میں اس واقعہ کا ذکر ملتا ہے ،ابو سعید خدری اور عبد اللہ ابن عباس جیسے راویوں نے اس روایت کو الگ الگ گیارہ طریقوں سے نقل کیا ہے ،براء بن عاذب نے اس روایت کو تین مختلف سندوں کے ساتھ نقل کیا ہے ۔
ان کے علاوہ دوسرے افراد جیسے جابر بن عبد اللہ انصاری ،عمار یاسر ، سلمان فارسی ،عمر بن خطاب، زید بن ارقم اور ان کی زوجہ نے اس حدیث کو اپنی سندوں کے ساتھ نقل کیا ہے۔ (٦)
بزرگ عالم دین اور پاسدار ولایت حضرت علامہ امینی نے اپنی مشہور و معروف کتاب الغدیر میں اس طرح ذکر کیا ہے :حدیث غدیر کو ١١١/اصحاب اور ٨٤/ تابعین نے نقل کیا ہے اسکے بعد علامہ امینی ٣٦٠ کتابوں اور مولفین کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ حدیث غدیر قطعی طور پر متواتر ہے اور جو بھی اس کے تواتر میں شک کرے گا تو وہ کسی بھی روایت متواتر کو قبول نہیں کر سکتا ۔ (٧)

امت؛ امامت کے سایہ میں:
مولائے متقیان حضرت علی ابن ابی طالب کی ولایت و وصایت کے اعلان نے خالص اسلام کے طرفداروں کو نہ صرف یہ کہ مسرور بلکہ واقعی مسلمانوں کو ناخالصوں سے اور طالبان حقیقت کو طالبان دنیا سے الگ کر دیا تھا ۔اس اعلان کے بعد خدا نے دو اہم پیغام جبرئیل کے ذریعے پیغمبر اسلام تک پہونچائے :آج کے دن سیاہ دل اور حقیقی اسلام کے چھپانے والے کافر مایوس ہو گئے، آپ ان کی حرکتوں سے وحشت نہ کریں بلکہ صرف مجھ سے ڈریں ،آج کے دن میں نے تمہارے لئے تمہارے دین کو کامل ، نعمتوں کو تمام کر دیا اور دین اسلام سے راضی ہو گیا ۔(٨)
پیغمبر اسلام کے اعلان کے بعد امامت و ولایت کے پروانے شمع امامت کے گرد جمع ہونا شروع ہو گئے اور اپنے امور کی انجام دہی اس طریقے سے کی کہ انکے سارے امور کا مقصد و محور صرف اور صرف ولایت و امامت ہو ،لوگوں نے علی کو ویسا ہی پایا جیسا کہ رسول نے انکا تعارف کرایا تھاعلی مع الحق و الحق مع علی یدور معہ حیثما دار''علی حق کے ساتھ ہیں اور حق علی کے ساتھ ہے جس طرف علی ہوتے ہیں حق اسی طرف ہوتا ہے'' ۔(٩)اس اعتبار سے روز غدیر روز عزت،روز ابلاغ حق اور روز عظمت اسلام ہے۔غدیر کے دن امامت ،نبوت کے لیے عزت و امید کا سبب قرار پائی ،لوگ اس دن علی کا ہاتھ پکڑ کر دل کی گہرائیوں سے کہہ رہے تھے بخ بخ لک یابن ابیطالب لقد اصبحت مولای و مولا کل مومن و مومنة مبارک ہو مبارک ہو اے ابوطالب کے فرزند! آپ میرے اور تمام مومنین و مومنات کے مولا ہو گئے ۔(١٠)
عرب کے مشہور و معروف شاعر حسان بن ثابت نے رسول اسلام سے اجازت لے کر غدیر میں بکھرے ہوئے واقعات کے موتیوں کو اٹھا کر اپنے اشعار کی تسبیح میں کچھ ایسے سجایا :
اشعار کا ترجمہ :
''پیغمبر اسلام کا اعلان غدیر خم میں کتنا حسین تھا، آپ نے فرمایا: تمہارا مولا اور سرپرست کون ہے؟ سب نے فوراً جواب: دیا آپ کا خدا ہمارا مولا اور آپ ہمارے سرپرست اور ولی امر ہیں ہم کبھی آپ کے حکم کی نافرمانی نہیں کریں گے اس وقت رسول نے حضرت علی سے فرمایا :اٹھو اے علی !میں نے تمہیں منتخب کیا تاکہ تم میرے بعد امام و رہبر قرار پائو اسکے بعد آپ نے فرمایا: میں جس کا مولا ہوں یہ (علی)بھی اس کا مولا ہے لہذا تم سب صد ق دل سے اسکی پیروی اور اتباع کرنا ،خدایا! تو اسے دوست رکھ جو اسے دوست رکھے اور اسے دشمن شمار کر جو اس سے دشمنی رکھے ''۔(١١)
رسول اسلام نے حسان بن ثابت کے ان اشعار کے بعد انکی تعظیم و تکریم کی اور خدا سے انکے لیے دعائے خیر طلب کی کیونکہ انہوں نے اپنے اشعار کے ذریعے رسول کے کلام کی حمایت کی لوگوں کو اشعار کے ذریعے رسول کی حمایت کی دعوت دی۔حسان بن ثابت کے یہ اشعار تاریخ نے سنہری حرفوں سے درج کر لیے اور یہ اشعار انکے لئے سند عزت و افتخار بن گئے ۔(١٢)

عید غدیر سنت جاوید :
رسول اسلام اس بات کو پسند کرتے تھے کہ روز غدیر جو ولایت کی تاجپوشی اور اسکے جشن کا دن ہے ہمیشہ کے لیے باقی رہے اور ہر زمانے کے مسلمان اس سنت حسنہ کو زندہ و جاوید رکھیں ۔علی ابن ابی طالب اور تذکرہ روز غدیر ضامن بقائے رسالت اور اسلام ناب محمدی ہے متعدد تاریخی کتابوں میں یہ تذکرہ ملتا ہے کہ غدیر کے دن علی کی وصایت و ولایت کا اعلان کرنے کے بعد رسول اسلام اپنے مخصوص خیمے میں تشریف فرما ہوئے اور حکم دیا کہ امیر المومنین ایک دوسرے خیمے میں تنہا تشریف فرما ہوں اسکے بعد لوگوں کو حکم دیا کہ ایک ایک کر کے علی کے خیمے میں جائیں اور اپنے مستقبل کے رہبر و رہنما کو تبریک و تہنیت پیش کریں جب تمام مردوں نے اس امر کو انجام دے دیا تو رسول خدا نے عورتوں کو حکم دیا کہ وہ خیمے میں جائیں اور امیر المومنین کو تبریک و تہنیت پیش کریں ۔(١٣)
رسول خدا کے اس فرمان تبریک و تہنیت کو دوسرے لفظوں میں بیعت کہا جا سکتا ہے یعنی رسول اسلام نے اپنی زندگی میں ہی تمام بزرگ اصحاب سے علی کی ولایت کی بیعت لے لی تھی ۔
صادق آل محمد امام جعفر صادق اپنے اصحاب کے درمیان تشریف فرماتھے اثنائے گفتگو عید غدیر کا تذکرہ ہوا امام نے اپنے جد پیغمبر خدا کی روایت کو نقل کیا :
یوم الغدیر افضل اعیاد امتی و ھو الیوم الذی امرنی اللہ تعالی ذکرہ فیہ بنصب اخی علی ابن ابی طالب علما لامتی یھتدون بہ من بعدی و ھو الیوم الذی اکمل اللہ فیہ الدین و اتم علی امتی فیہ النعمة و رضی لھم الاسلام دینا''میری امت کی بہترین عید، عید غدیر ہے یہ وہ دن ہے جب خدا نے مجھے اس بات کا حکم دیا کہ علی کو لوگوں کے رہبر و پیشوا کی جہت سے منسوب کروں تاکہ لوگ میرے بعد علی کے وسیلے سے راہ نجات سے بہرہ مند ہوں اور عید غدیر وہ دن ہے جب خدا نے علی کے اعلان امامت و وصایت کے توسط سے اپنے دین کو کامل اور نعمتوں کو میری امت پر تمام کر دیا اور دین اسلام سے راضی ہو گیا ۔(١٤)

امام رضاعلیہ السلام اور عید غدیر:
فیاض بن محمد طوسی کہ جنکی عمر ٩٠ سال تھی وہ ٢٥٩ .ھ میں ایک مجمع میں اس طرح بیان کر رہے تھے کہ عید غدیر کے دن ایک گروہ کے ساتھ امام علی بن موسیٰ رضا کی خدمت میں تھے آپ نے ہم تمام افراد کو عید غدیر کی مناسبت سے افطار پر روک لیا تھا اور ہمارے گھر والوں کے لئے بھی کھانا ،لباس اور انگوٹھی وغیرہ بطور ھدیہ عطا کیا پھر آپ نے روز غدیر کے سلسلے میں گفتگو کی اور اپنے والد اور اجداد سے منقول ایک روایت بیان فرمائی :ایک بار امام علی کے زمانے میں عید غدیر روز جمعہ کو واقع ہوئی آپ نے اس دن نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد ایک مفصل تقریر کی اور لوگوں کو اس دن کو جشن منانے کی بہت زیادہ تشو یق و ترغیب کرائی اسکے بعد امام رضا نے اس پورے خطبے کو ہمارے لئے بیان کیا ۔(١٥)
لہٰذا عید غدیر کو جشن منانا اور ایک دوسرے کو مبارک باد دینا پیغمبر اسلام ۖاور ائمۂ طاہرین کی سنت حسنہ ہے دوسری طرف بنی امیہ اور بنی عباس کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ روز غدیر کو لوگ فراموش کر دیں اور اس دن کسی قسم کے جشن و مسرت کا انعقاد نہ کیا جا سکے اور یہ اقدام صرف اس لیے تھا کہ جشن غدیر سے شرعی طور پر اہل بیت علیہم السلام کی حکومت ثابت ہوتی ہے ۔
اسی بنیاد پر ٣٥٠ .ھ تک یہ روز مسلمانوں کے درمیان مخفی رہا جب آل بویہ بر سر اقتدار آئے تو انہوں نے رسمی طور پر عید غدیر کے دن جشن منانے کا اعلان کیا ۔٣٥٢ ھ ق میں معز الدولہ نے عید غدیر کے جشن اور عاشورا کی سوگواری کو اپنے دربار میں برپا کیا حکومت آل بویہ کی وجہ سے یہ مناسبت عالم اسلام کے گوشہ و کنار میں پھیلتی چلی گئی ۔(١٦)
بہر حال روز عید سعید غدیر نے کافی نشیب و فراز دیکھے اور اسے دبانے کی کوششیں بھی ہوئیں جو اس مناسبت کی اصلیت اور مشروعیت پر خود ایک دلیل ہے ۔
جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا واقعہ غدیر کو یاد دلانے کے لئے اور اسے زندہ رکھنے کے لئے رسول اسلام کی رحلت کے بعد شہدائے احد کی قبور پر جاکر محمد بن لبید سے مخاطب ہو کر فرماتی ہیں:''تعجب ہے !کہ تم نے غدیر جیسے عظیم واقعہ کو فراموش کر دیا ؟قسم خدا کی میں نے خود سنا ہے کہ رسول اسلام نے فرمایا :تم میں سب سے بہترین علی بن ابی طالب ہے کہ جسے میں نے اپنا جانشین قرار دیا ہے علی میرے بعد تم سب کا امام اور میرا حقیقی خلیفہ ہے ۔(١٧)
آج بھی عید غدیر کے دن خوشیاں منانے اورایک دوسرے کو مبارک باد دینے کا مطلب شعائر اسلامی کو زندہ رکھنا ہے، اس عید کو برپا کرنے سے پیغمبر اور آئمہ اطہار خوشحال ہوتے ہیں لہذا ضروری ہے کہ پوری دنیا میں جہاں جہاں شیعیان حیدر کرار ہیں وہاں پرچم غدیر بلند ہو ،لوگ ایک دوسرے سے ملاقات کریں اور انہیں مبارک باد دیں ۔

حوالجات
١۔الکامل التاریخ ابن اثیر ج ٢ ص ٦٣۔
ٍ٢۔معجم معالم الحجاز ،عاتق بن غیاث البلادی ج ٢ ص ١٢٤
٣۔سورہ مائدہ آیت ٦٧
٤۔کیونکہ پیغمبر خدا سفر میں تھے لہذا نماز جمعہ کا اقامہ نہیں کیا اور نماز ظہر ادا کی
٥۔اصول کافی ج ١ ص ٢٩٥۔
٦۔المیزان ،ج ٦ ص ٦١۔
٧۔الغدیر ،ج ١ ص ١٥١۔
٨۔سورہ مائدہ آیت ٣۔
٩۔شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ،ج ١٨ ص ٧٢۔
۱٠۔بحار الانوار ،ج ٢١ ص ٣٨٨۔
١١۔مناقب آل ابی طالب ،ج ٣ ص ٣٧۔
١٢۔بحار الانوار ،ج ٢١ ص ٣٨٨۔
١٣۔الغدیر ، ج ١ ص ٢٧١۔
١٤۔بحار الانوار ،ج ٩٧ص ١١٠۔
١٥۔بحار الانوار ،ج٩٤ ص ١١٢۔
١٦۔کامل ابن اثیر ،ج ٨ ص ٥٤٩۔
١٧۔اسمی المناقب ،علامہ شمس الدین جزری ،ص ٣٢۔

مقالات کی طرف جائیے