مقالات

 

صلح امام حسن علیہ السلام

علامہ شہید مرتضیٰ مطہری علیہ الرحمہ

ترجمہ : سید عابد رضا نوشاد رضوی

قدیم الایام سے ہی یہ مسئلہ زیر بحث رہا ہے کہ امام حسنؑ نے معاویہ سے صلح کیوں کی؟ بعض نے کہا کہ بنیادی طور پر امام حسنؑ اور امام حسینؑ مختلف طبیعتوں کے حامل تھے۔ ایک امام طبیعتاً صلح پسند تھے جبکہ دوسرے امام طبیعتاً جنگ پسند تھے۔ دونوں کے شیوے متضاد تھے جبکہ حقیقت اس کے برخلاف ہے۔ ان کے عمل کا اختلاف شرائط و حالات کے اختلاف پر مبنی ہے۔ ان شرائط و حالات پر گفتگو سے پہلے اسلام کے نظریۂ جہاد پر مختصر روشنی ڈالنا ضروری ہے۔
یہ سوال ہی غلط ہے کہ اسلام بنیادی طور پر دین صلح ہے یا دین جنگ۔اگر پیغمبر اکرمؐ کی حیات طیبہ پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوگا کہ آپؐ نے مکہ میں راہ امن و صلح کو اختیار کیا اور مدینہ میں جنگ کی اجازت دی مگر پھر بھی حدیبیہ کے صلح نامہ پر مہر تائید لگائی۔ خود حضرت امیرؑ نے بھی ۲۵ سال سکوت اختیار کرنے کے بعد چند شدید جنگیں لڑیں مگر اس کے باوجود صفین میں صلح کی۔ یہاں یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ امامؑ نے جنگ کو جاری کیوں نہیں رکھا؟ زیادہ سے زیادہ اپنے فرزند حسینؑ کی طرح قتل کردئے جاتے۔ یہ سوال بالکل اس سوال کی طرح ہے کہ پیغمبر اکرمؐ نے آغاز دعوت میں ہی جنگ کیوں نہیں کی؟ زیادہ سے زیادہ اپنے نواسہ حسینؑ کی طرح قتل کردئے جاتے۔
اسلام میں جہاد کی مختلف قسمیں ہیں: ایک "ابتدائی جہاد" ہے۔ ابتدائی جہاد یعنی بالخصوص مشرکوں سے جنگ کا آغاز کرنا تاکہ شرک کا خاتمہ ہوسکے۔ یہ جہاد صرف بالغ، عاقل اور آزاد مَردوں پر واجب ہے۔ اس میں اذنِ امام کی بھی شرط ہے۔ دوسری قسم "دفاعی جہاد" ہے۔ یعنی قلمروِ اسلام میں اگر کوئی جگہ بھی دشمن کے حملہ کا شکار ہو تو تمام مسلمانوں یہاں تک کہ ان لوگوں پر بھی دفاع واجب ہوجائے گا جو اس علاقہ کے باشندے نہیں ہیں۔ تیسری قسم جہاد ہی کی طرح ہے مگر اس کے احکام عام جہادوں سے مختلف ہیں۔ جہاد کی تیسری قسم یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کافروں کے قلمرو میں گذر بسر کررہا ہو اور اس پر کافر حملہ کردیں تو اسے اپنی جان اور ناموس کی حفاظت کی خاطر جنگ کرنا چاہئے۔ اس دفاع میں اگر وہ مارا جائے تو اس کا اجر شہیدوں کی مانند ہوگا۔
ایک اور قسم "اہل بغی سے جنگ" ہے۔ یعنی اگر مسلمانوں کے درمیان داخلی جنگ چھڑ جائے تو ان کے درمیان صلح کرانا ضروری ہے ورنہ ظالم سے جنگ اور مظلوم کا دفاع کرنا چاہئے۔ آخری قسم امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے لئے جنگ کرنا ہے۔
جہاد کی گفتگو کے دوران صلح کے مسئلہ کو بھی بیان کیا جاتا ہے۔ صلح یعنی جنگ بندی اور امن و آشتی کے زندگی پر معاہدہ لیکن اس شرط کے ساتھ کہ اس کی مدت معین ہو اور مسلمین کی مصلحت کے پیش نظر ہو۔ جن حالات و شرائط میں صلح کرنا بہتر ہے وہ یہ ہیں:
مسلمانوں کی قدرت و توانائی کا بقدر کافی نہ ہونا۔ اس صورت میں صبر و تحمل سے کام لیکر قدرت حاصل کرنا چاہئے۔ اسی طرح صلح کسی حمایت کے حصول کی حکمت عملی کا نام بھی ہے۔ مدتِ صلح کے دوران یہ بھی امید رہتی ہے کہ مدمقابل افراد اسلام لے آئیں۔ اگر اس طرح کے حالات و شرائط ختم ہوجائیں تو پھر صلح کا مقام نہیں رہ جاتا لہٰذا ایسی صورت میں صلح جاری رکھنا جائز نہیں۔ ابتدائے اسلام میں صلح قوت و طاقت کی کمی کی بنیاد پر کی گئی اور صلح حدیبیہ مشرکین کے اسلام لے آنے کی امید کے پیش نظر کی گئی۔ لیکن امام حسنؑ اور امام حسینؑ کے زمانہ کے شرائط و حالات کچھ اس طرح کے تھے کہ ان میں ہر ایک اگر دوسرے کی جگہ ہوتا تو وہی کرتا جو دوسرے نے انجام دیا۔
قرآنی نص کے مطابق اسلام دین صلح بھی ہے اور دین جنگ بھی۔ دونوں ہی اسلام کی نظر میں جائز تو ہیں مگر ایک ثابت و دائم اصول کی حیثیت نہیں رکھتے۔ بہت سی جنگیں ایسی ہوتی ہیں جو مقدمۂ صلح بنتی ہیں اور بہت سی صلحیں ایسی ہوتی ہیں جو مقدمۂ جنگ بنتی ہیں۔ صلح اپنے شرائط و نتائج کے تابع ہے۔ خاص شرائط و حالات میں یہ دیکھنا چاہئے کہ ان میں سے کون ہمیں مقصد اسلام سے زیادہ نزدیک کرسکتا ہے۔
یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ اگرچہ اسلام نے جہاد کو جائز قرار دیا ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تمام شرائط و حالات میں اسے لازم بھی سمجھا ہے۔ اس کے برعکس بھی ایسا ہی ہے۔ صلح کے جواز کا مطلب بھی جنگ سے کنارہ کشی اور صلح کی دائمی طرفداری نہیں ہے۔(۱)،(۲) و
ہماری اصل گفتگو امام حسن و امام حسین علیہما السلام کے حالات زمانہ کے فرق کے حوالہ سے ہے۔ ان دونوں زمانوں میں متعدد فرق ہیں۔ ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کیا جارہا ہے:
پہلا فرق یہ ہے کہ امام حسنؑ مسند خلافت پر تھے اور معاویہ نے ایک باغی کے طور پر قیام کیا تھا وہ اپنے عمل کی اسلامی توجیہ بھی کرتا تھا۔ اپنے آپ کو ناحق حکومت کے خلاف اعتراض کرنے والی شخصیت کے عنوان سے پہچنواتا تھا اور چالاک اتنا بڑا تھا کہ اس وقت تک خلافت کا دعویدار نہیں بنا تھا۔ ایسے حالات میں اگر امام حسنؑ کی شہادت ہوجاتی تو اس کا مطلب خلیفۂ مسلمین کی شہادت اور مرکز خلافت کی شکست تھا۔ لیکن امام حسینؑ موجودہ حکومت کے خلاف ایک معترض کا عنوان رکھتے تھے لہٰذا واضح ہوتا ہے کہ دونوں کے حالات ایک دوسرے کے برعکس تھے۔ اگر امام حسنؑ قتل کردئے جاتے تو ان کا قتل خلیفۂ مسلمین کے قتل کے معنی میں تھا اور یہ وہ چیز تھی جس سے خود امام حسینؑ کو گریز تھا لہٰذا آپؑ نے حرمت مکہ کے تحفظ کے لئے مکہ چھوڑ دیا تاکہ یہ مقدس مقام حقیقی جانشینِ پیغمبرؐ کے خون سے رنگیں نہ ہو۔ خود حضرت علیؑ نے بھی عثمان کا دفاع یوں کیا تاکہ مسند خلافت کی حرمت پامال نہ ہو۔(۳)
دوسرا فرق یہ ہے کہ امام حسنؑ کے زمانہ میں اگرچہ کوفی فوج کمزور ہوگئی تھی مگر اتنی نہیں کہ بالکل ختم ہی ہوگئی ہو۔ ہمتیں پست ہوگئی تھیں لیکن اگر امام حسنؑ چاہتے تو ایک عظیم لشکر جمع کرسکتے تھے جو معاویہ کی فوج کی برابری کرسکے مگر نتیجہ کیا ہوتا؟ صفین میں لشکر عراق کمیت و کیفیت کے اعتبار سے کافی بہتر تھا۔ معاویہ موت کے بالکل نزدیک پہنچ چکا تھا مگر ایک نیرنگی و عیّاری نے سارا کام بگاڑ دیا۔ اگر امام حسنؑ بھی جنگ کرتے تو مسلمانوں کے دو بڑے گروہ میں طولانی جنگ چھڑ جاتی۔ دونوں طرف سے ہزاروں ہزار جانیں جاتیں اور اس کا آخری نتیجہ یا تو دونوں فوجوں کے جانی و مالی نقصانات کی صورت میں ظاہر ہوتا یا پھر فوج امام حسنؑ کی شکست اور شہادت امام حسنؑ کی صورت میں۔
لیکن امام حسینؑ کی جماعت کل ۷۲ انسانوں پر مشتمل تھی۔ اتنی مختصر تعداد کے باوجود امام حسینؑ ان سے فرماتے ہیں: تم میں سے جو بھی واپس جانا چاہے جاسکتا ہے۔ میں اکیلا ہی کافی ہوں۔ لیکن انہوں نے استقامت سے کام لیا، نصرت امام سے دستبردار نہ ہوئے، خون کے آخری قطرہ تک شجاعت بھرا دفاع کیا اور سربلندی کے ساتھ مقام شہادت پر فائز ہوئے۔
دیگر مسائل کے حوالہ سے بھی ان دونوں اماموں کے حالات زمانہ میں فرق تھا۔ قیام امام حسینؑ کے تین بنیادی محرّکات امام حسنؑ کے زمانہ میں کسی اور شکل میں تھے۔ پہلا یہ کہ امام حسینؑ سے بیعت طلب کی۔ یزید نے سیدھےطور پر والی مدینہ کو حکم دیا تھا کہ حسینؑ سے مطالعہ بیعت کرے اور بیعت لے کر رہے۔ لیکن امام حسنؑ سے مطالبہ بیعت نہ ہوا اور تاریخ کے مطابق امام حسنؑ کے کسی عزیز نے بھی بیعت نہیں کی۔ مطالعہ بیعت کی وجہ سے امام حسینؑ نے شدید استقامت کی اور ردّ عمل، قیام کربلا کی صورت میں ظاہر ہوا۔ یہ عنصر امام حسنؑ کے دور میں نہیں تھا۔
قیام امام حسینؑ کا دوسرا محرّک اہل کوفہ کی دعوت تھا۔ ایسا کوفہ جو ان کے خطوط کے مطابق امام کے استقبال میں ہر حوالہ سے تیار تھا۔ اگر امام حسینؑ ان اٹھارہ ہزار خطوط سے چشم پوشی کرلیتے تو تاریخ ہمیشہ کے لئے انہیں قصوروار ٹھہرا دیتی اور لکھ دیتی کہ حسینؑ نے ہموار میدان کو چھوڑ دیا اس لئے کہ تاریخ کی نظر میں امام حسینؑ کے لئے میدان پوری طرح ہموار تھا اور ان پر حجت تمام ہوچکی تھی لیکن امام حسنؑ کے زمانہ میں کوفہ کے حالات اس کے برخلاف تھے۔ اس زمانہ کا کوفہ خستہ حال اور متفرّق تھا۔
یہاں حجت بر خلاف تمام ہوئی تھی یعنی حجت امام پر نہیں بلکہ اہل کوفہ پر تمام ہوئی تھی۔ اہل کوفہ اپنے عدم رجحان کا اعلان کرچکے تھے یہی نہیں بلکہ امام حسنؑ کی جان کے درپے بھی تھے۔
قیام سید الشہداءؑ کا تیسرا محرّک امر بالمعروف و نہی عن المنکر تھا۔ اگر اہل کوفہ کے خطوط اور ان کی دعوت کا مسئلہ بھی نہ ہوتا تب بھی امام حسینؑ قیام کرتے اس لئے کہ معاویہ کی ۲۰ برس کی حکومت کے دوران معاویہ اور یزید دونوں ہی کی حقیقت آشکار ہوچکی تھی۔ لیکن امام حسنؑ کے زمانہ کا معاویہ ایک ایسے معترض کے بھیس میں تھا جو خون عثمان کا منتقم بن کر ابھرا تھا۔ اہل کوفہ کی نظر میں وہ ایک برا انسان تو تھا مگر اچھا حکمراں ہوسکتا تھا۔ اس کے علاوہ خود معاویہ نے بھی اپنی مہر لگاکر ایک سفید کاغذ امام حسنؑ کی خدمت میں بھیجا اور کہا کہ جو آپ لکھ دیں وہ منظور ہے۔ آپ چاہتے ہیں کہ احکام دین نافذ ہوں، میں بھی اس کے لئے تیار ہوں۔ ایسی صورت حال میں اگر امام حسنؑ صلح نہ کرتے اور جنگ جاری رکھتے تو جنگ دو تین برس تک چلتی اور ہزاروں جانیں بھی قربان ہوتیں۔ یقیناً تاریخ امام حسنؑ کو مورد الزام ٹھہراتی کہ معاویہ تو بس یہ چاہتا ہے کہ مسند حکومت پر خود بیٹھے، نہ تو وہ یہ چاہتا ہے کہ آپ اسے امیر المؤمنین کہیں اور نہ ہی آپ سے بیعت کا طلبگار ہے۔ آپ کے شیعوں کو بھی امان دے دی ہے، ملک کے بعض علاقوں کا خراج اور پیداوار بھی آپ کو اور آپ کے شیعوں کو دینے کا وعدہ کرلیا ہے، پھر صلح کیوں نہیں کی؟ مگر امام حسنؑ نے صلح کرکے معاویہ کے چہرہ پر پڑی ہوئی نقاب نوچ پھینکی۔ سب پر آشکار ہوگیا کہ معاویہ ایک نیرنگ باز اور مکّار انسان کا نام ہے۔ آخر اس نے بھی اقرار کرہی لیا کہ میں نے صرف حکومت کے لئے جنگ کی ہے دین کے لئے نہیں۔
دوسرا مسئلہ یہ کہ امام حسینؑ نے ایک بات واضح طور پر بیان کردی تھی کہ جو کسی ظالم و جائر حکمراں کو دیکھے کہ وہ حرام خدا کو حلال کررہا ہے اور پھر ایسے ستمگر کے مقابلہ میں خاموشی اختیار کرلے تو وہ گنہگار ہے لیکن امام حسینؑ کے زمانہ میں مسئلہ ایسا نہیں تھا کہ امام اس طرح کا بیان دیتے اس لئے کہ ابھی معاویہ کا حقیقی چہرہ آشکار نہیں ہوا تھا۔ یہاں تک کہ بعد میں کچھ لوگ پشیماں ہوئے اور امام سے معاویہ کے خلاف جنگ کی بات کرنے لگے تو امام نے فرمایا کہ مرگ معاویہ تک صبر کرنا ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر امام حسنؑ بھی زندہ ہوتے تو امام حسینؑ کی طرح ہی قیام کرتے۔
صلح نامہ کی شرائط بھی یوں مرتب کی گئیں کہ اموی ملوکیت کی ساری پول کھل جائے:
۱۔ حکومت معاویہ کے سپرد کی جاتی ہے مگر اس شرط کے ساتھ کہ وہ کتاب خدا، سنت پیغمبر اکرمؐ اور سیرت خلفاء صالح پر عمل کرے۔ یہ وہی بات ہے جو خود حضرت امیر المؤمنینؑ نے بھی کہی تھی کہ اگر ظلم صرف میری ذات پر ہورہا ہو اور دیگر تمام کام صحیح طور پر انجام پارہے ہوں، میں خاموش رہوں گا۔ امام حسنؑ نے بھی فرمایا کہ اگر صرف میں اپنے حق سے محروم ہورہا ہوں اور غاصب و ظالم حکمراں اس بات کا عہد کرتا ہے کہ امور مسلمین کو صحیح طریقہ سے انجام دے تو میں کنارہ کشی کے لئے تیار ہوں۔
۲۔ معاویہ کے بعد حکومت کی باگ ڈور امام حسنؑ کے ہاتھ میں ہوگی اور اگر وہ نہ رہے تو امام حسینؑ کے اختیار میں ہوگی۔ یعنی یہ صلح وقتی ہے اور معاویہ کو اپنے بعد خلیفہ معین کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔
۳۔ معاویہ حضرت علیؑ پر سب و شتم کو ختم کرے اور ان کا ذکر عزت و احترام کے ساتھ کرے۔ یہاں بھی معاویہ کا یہ کردار زیر سوال آجاتا ہے کہ اگر تیرا یہ کام بجا تھا تو ترک کیوں کیا اور اگر بجا نہ تھا تو انجام کیوں دیتا رہا؟ یہ الگ بات کہ معاویہ نے اس شرط کو بھی زیر پا رکھا۔
۴۔ کوفہ کا بیت المال معاویہ کے دایرۂ اختیار سے خارج ہے اور اسے سالانہ بیس لاکھ درہم امام حسنؑ کے حوالہ کرنا ہوں گے۔ امام اس شرط کے ذریعہ شیعوں کی ضرورتوں کو پورا کرنا چاہتے تھے۔
۵۔ جانبدارانہ رویہ اور امتیازی سلوک ختم ہونا چاہئے۔ گذری ہوئی غلطیوں پر کسی کا مؤاخذہ نہ ہو۔ اصحاب و شیعیان علیؑ کو امان رہے اور حکومت کی طرف سے مورد آزار نہ ہوں۔
اس شرط اور تیسری شرط کے ذریعہ امامؑ یہ بیان کرنا چاہتے ہیں کہ ہم ابھی سے تمہارے رویہ کے بارے میں غیر مطمئن ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ ایسا ہی ہوا۔ معاویہ نے کسی ایک شرط پر بھی عمل نہیں کیا۔
ہوسکتا ہے یہ سوال ذہن میں آئے کہ حضرت علیؑ تو فرماتے تھے کہ میں ایک دن کے لئے بھی معاویہ کی حکومت کو برداشت نہیں کرسکتا لیکن امام حسنؑ اسی معاویہ کی حکومت پر راضی ہوگئے؟ جواب یہ ہے کہ دونوں میں فرق ہے۔ حضرت علیؑ اس بات پر راضی نہ تھے کہ معاویہ جیسا انسان ایک دن بھی آپ کے نائب اور آپ کی طرف سے منصوب شخص کی شکل میں حکومت کرے جبکہ امام حسنؑ کا مسئلہ اس سے مختلف ہے آپ معاویہ کو اپنا نائب نہیں بنا رہے تھے بلکہ خود الگ ہورہے تھے۔ بہ عبارت دیگر صلح امام حسنؑ الگ ہونے کے معنی میں تھی مسئول و ذمہ دار ہونے کے معنی میں نہیں۔ اس صلح کی قرارداد میں کہیں بھی جانشینی پیغمبر اور خلافتِ رسولؐ کا نام نہیں آیا ہے بلکہ ساری بات یہ ہے کہ میں برکنار ہورہا ہوں، اب ذمہ داری تیری ہے مگر اس شرط کے ساتھ کہ کام صحیح ڈھنگ سے انجام دے۔ حضرت امیرؑ فرماتے تھے مجھے یہ ہرگز گوارا نہیں کہ معاویہ میری جانب سے کہیں کا حاکم ہو۔

حوالے:
۱۔سیری در سیرۂ ائمہ اطہارؑ، ۵۱۔۷۰
۲۔ہو سکتا ہے یہ اعتراض ذہن میں آئے کہ صلح امام حسنؑ کے جواز یا عدم جواز کے سلسلہ میں فقہ شیعہ کا استناد کیونکر صحیح ہوسکتا ہے؟ اس لئے کہ امام کے عمل کا استناد فقہ سے نہیں بلکہ فقہ کا استناد عمل امام سے ہوتا ہے۔ جواب یہ ہے کہ ہماری مراد یہ نہیں تھی کہ امام حسنؑ نے شیعہ فقہ کی پیروی کی یا نہیں بلکہ مقصد یہ تھا کہ یہ فقہی کلیات، منطق سے مطابقت رکھتی ہیں یا نہیں اور پھر یہ نتیجہ نکالا جاسکے کہ جن شرائط و حالات میں جہاد کو جائز قرار دیا گیا ہے اور جن شرائط و حالات میں صلح کو صحیح مانا گیا ہے دونوں ہی عقل و منطق پر کھرے اترتے ہیں اور اس کے بعد صلح امام حسنؑ کی تحلیل کی جاسکے۔ سیری در سیرۂ ائمہ اطہارؑ، ۷۱۔ ۷۳
۳ ۔ مسند خلافت کا احترام خلیفہ کی شخصیت پر منحصر ہے لہٰذا حضرت علیؑ کے ذریعہ عثمان کے دفاع کی توجیہ میں یہ کہنا ہی مناسب ہے کہ امام کا یہ قدم صرف اسلام و مسلمین کی مصلحتوں کے پیش نظر تھا (مترجم)

مقالات کی طرف جائیے