مقالات

 

امام محمد تقی علیہ السلام کی مختصر سوانح حیات

سید عابد رضا نوشاد رضوی

نام و نسب
حضرت امام محمد تقی علیہ السلام آسمان عصمت کے گیارھویں درخشاں ستارے اور ہمارے نویں امام ہیں۔ آپ کے والد بزرگوار حضرت امام علی رضاعلیہ السلام اور والدۀ ماجدہ حضرت سبیکہ علیھا السلام ہیں جن کا تعلق پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کی زوجہ حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنھا سے ہے۔ آپ کی والدہ کے ناموں میں "ریحانہ" اور "خیزران" بھی شامل ہیں۔ آپ فضائل و کمالات کے اعتبار سے اپنے زمانہ کی بلند مرتبہ خاتون تھیں ۔ (۱)یہاں تک کہ خود امام علی رضا علیہ السلام نے اپنی زبان عصمت سے انہیں با فضیلت اور پاکدامن خاتون کہا ہے۔(۲)
امام کے دو بیٹے تھے: ۱- امام علی نقی علیہ السلام جو ہمارے دسویں امام ہیں۔
۲- حضرت موسیٰ مبرقع علیہ السلام جن سے رضوی سادات کی نسل چلی جو آج دنیا کے گوشے گوشے میں موجود ہے۔

القاب اور کنیت
جواد، تقی، مرتضی، قانع، رضی، مختار، باب المراد وغیرہ آپ کے مشہور القاب ہیں۔ اور "ابو جعفر "آپ کی کنیت ہے۔ چونکہ آپ کی کنیت اور پانچویں امام حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کی کنیت ایک جیسی ہے لہذا فرق کے لئے آپ کی کنیت کے آگے "ثانی" کا اضافہ کر تے ہوئے "ابو جعفر ثانی" لکھا جاتا ہے۔

ولادت
امام محمد تقی علیہ السلام ۱۰ رجب المرجب ۱۹۵ھ کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔ امام رضا علیہ السلام نے پہلے ہی امام کی ولادت کی خوشخبری سنا دی تھی۔ چنانچہ آپ نے اپنی ہمشیرہ جناب حکیمہ علیھا السلام سے فرمایا: آج خیزران کا بابرکت بیٹا دنیا میں آئےگا لہذا اب سات دن تک ان کے ساتھ رہئےگا۔ حکیمہ خآتون کہتی ہیں: جب امام محمد تقی علیہ السلام پیدا ہوئے تو ایک ایسا نور ساطع ہوا جس سے پوارا حجرہ روشن ہوگیا ۔(۳) دنیا میں آنے کے بعد آپ کی زبان اقدس پر یہ جملے ظاہر ہوئے:" اَشْهَدُ اَنْ لا اِلهَ اِلاّ اللّه وَاَنَّ مُحَمَّدا رَسُولُ اللّه "۔ ولادت کے تیسرے روز جب آپ کو چھینک آئی تو فرمایا:" اَلْحَمْدُ للّه ِ وَصَلّی اللّه عَلی مُحَمَّدٍ وَعَلَی الاَئِمّهِ الرّاشِدین "۔ جناب حکیمہ نے جب امام محمد تقی علیہ السلام کے لبہائے مبارک سے یہ جملے سنے تو آپ امام رضا علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور فرمایا : میں اس بچے میں عجیب و غریب اور حیرت خیز چیزوں کا مشاہدہ کر رہی ہوں۔ امام نے فرمایا:" یا حَکیمهُ، ماتَرَوْنَ مِنْ عَجائِبِه اَکْثَرُ "۔ اے حکیمہ! آئندہ مزید حیرت انگیز باتوں کا مشاہدہ کیجئےگا۔(۴)
امام محمد تقی علیہ السلام، اس زمانے مین بابرکت مولود اور خوش قدم بچہ کے عنوان سے مشہور تھے، جس کا اصل سبب امام علی رضا علیہ السلام کا وہ ارشاد تھا جسے ابو یحیی صنعانی نے نقل کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں: ایک روز میں امام رضا علیہ السلام کی خدمت میں حاضر تھا۔ اسی دوران آپ کے فرزند ابو جعفر کو لایا گیا جو ابھی بہت چھوٹے تھے، امام نے فرمایا: اس نو مولود بچہ سے زیادہ ہمارے شیعوں کے لئےباعث برکت کوئی بچہ پیدا نہیں ہوا ہے۔ مکہ میں بھی کچھ لوگوں کے درمیان آپ نے یہی فرمایا ۔(۵)(۶)

عصر امامت
امام تقریبا سات برس اپنے والد بزرگوار کے ہمراہ رہے۔ اس کمسنی میں آپ کو اپنے بابا کی مظلومانہ شہادت سے روبرو ہونا پڑا۔ اپنے بابا کی جانگداز شہادت کے بعد آپ امامت کے ظاہری منصب پر فائز ہوئے ۔ اتنی کمسنی میں منصب امامت کی باگ ڈور سنبھالنے والے آپ واحد امام ہیں۔ یہ مسئلہ ایسا تھا جس کے بموجب آٹھویں امام کے بعض صحابہ تک شک و تردید میں مبتلا ہوگئے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ حضرت امام علی رضا اور خود امام محمد تقی علیھما السلام نے اس سلسلہ میں روشنی ڈالی اور شبھات کا جواب دیا۔ خالص اسلامی اور شیعی عقیدہ کی بنیاد پر امامت میں سن اور عمر کی شرط نہیں ہوتی۔ امامت بھی نبوت کی طرح الہی عہدہ ہے لہذا اس کا اختیار بھی اللہ کے ہاتھوں میں ہے۔ وہ جس عمر میں چاہے ، اپنے عہدے، مورد نظر بندوں کے سپرد کر سکتا ہے۔ قرآن مجید میں اس کی مثالیں موجود ہیں:
1. حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سلسلہ میں قرآن مجید میں موجود ہے کہ جب آپ ماں کی گود میں ہوا کرتے تھے اسوقت فرمایا: ۔ "میں اللہ کا بندہ ہوں، اس نے مجھے کتاب عطا کی ہے اورمجھے نبی قرار دیا ہے"۔(۷)
2. حضرت یحیی علیہ السلام کے سلسلہ میں بھی صاف طور پر قرآن میں موجود ہے کہ اللہ نے انہیں بچپن میں ہی نبوت عطا کی۔ ارشاد ہوتا ہے: "ہم نے انہیں [یحیی] کو بچپنے میں منصب نبوت عطا کیا"۔(۸)
لہذا جس طرح اللہ نے حضرت عیسی اور حضرت یحیی علیھما السلام کو بچپنے میں نبی بنایا اسی طرح امام محمد تقی علیہ السلام کو بچپنے میں امام بنایا۔ اگر چہ نویں امام کافی کم عمری میں ظاہری منصب امامت پر فائز ہوئے تا ہم آپ کی امامت کا سترہ برس پر مشتمل دور بہت سے دیگر معصومین علیھم السلام کی مدّت امامت سے قدرے طولانی ہے۔ مامون اور معتصم آپ کے ہمعصر عباسی خلفا تھے۔
امام علی رضا علیہ السلام کی شہادت کے بعد مامون خراسان سے بغداد گیا ۔ وہ امام محمد تقی علیہ السلام کے علمی و معنوی فضائل سے خوب آگاہ تھا لہذا اس نے امام کو مدینہ سے بغداد آنے کی دعوت دی۔ اس کا اصل مقصد یہ تھا کہ امام کی فعالیتوں پر نظر رکھ سکے ۔ وہ امام کی شادی اپنی بیٹی ام الفضل سے کرنا چاہتا تھا، یہ چال بھی اس کے اس مقصد کا ہی حصہ تھی، اس کے علاوہ اس کا دوسرا مقصد یہ تھا کہ اپنے خلاف اٹھنے والی علوی تحریکوں کو خاموش کر سکے۔ اس کے قریبیوں کو اس شادی پر اعتراض تھا لہذا اس نے ایک مناظراتی نشست منعقد کروائی جس میں امام نے مختلف علماء و دانشوروں کے سوالات کے جوابات دئے ، سب کے سب مبہوت ہوکر رہ گئے۔ اس کے بعد مامون نے اپنی بیٹی کی شادی امام سے کردی۔
ظاہر ہے یہ شادی امام کی رضایت پر مبتنی نہ تھی بلکہ مامون نے امام کو اس بات پر مجبور کیا تھا ،یہاں تک کہ انہیں قتل کی دھمکی تک دی تھی۔ اگر چہ امام کی لغت زندگی میں خوف نام کا کوئی لفظ نہیں ہوتا لیکن کبھی وقت ایسا ہوتا ہے جس میں شہادت سے زیادہ امام کے زندہ رہنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ مصلحت خدا یہی تھی کہ امام زندہ رہیں۔ دوسرے یہ کہ اگر امام شادی نہ کرتے تو آپ کو تو شہید کیا ہی جاتا ، شیعوں کو بھی تباہ و برباد کر دیا جاتا۔ ہمارے معصومیں علیھم السلام کا ہمیشہ ایک اہم مقصد شیعوں کو تحفظ فراہم کرنا تھا۔ ظاہر ہے کہ مامون کی بیٹی سے شادی کی صورت میں ، شیعوں کے خلاف اس کی سازشوں میں قدرے کمی آ سکتی تھی جو کہ آئی بھی۔
امام محمد تقی علیہ السلام کی دوسری زوجہ حضرت سمانہ علیھا السلام تھیں۔ آپ دسویں امام حضرت امام علی نقی علیہ السلام کی والدۀ ماجدہ ہیں۔ آپ نہایت عفیف اور با فضیلت خاتون تھیں۔

امام کےعلم و اخلاق کے چند گوشے
امام محمد تقی علیہ السلام اعلیٰ اخلاقی فضائل و کمالات کے حامل تھے۔ بے مثال زہد و تقویٰ، عبادت و بندگی،علم و حلم،حسن خلق، جود و سخا، عفو و درگذر جیسی دیگر تمام خصوصیات آپ کے کردار کی آئینہ دار نظر آتی ہیں۔ آپ کی عظمت و فضیلت کا اظہار و اعتراف علمائے شیعہ ہی نہیں بلکہ اہل سنت کے بڑے بڑے علماء نے بھی کیا ہے:
ابن جوزی کہتے ہیں: "آپ علم و تقویٰ اور زہد و بخشش میں اپنے پدر بزرگوار کے راستہ پر تھے"۔(۹)
ابن حجر ہیثمی کہتے ہیں: "…آپ کمسنی میں ہی علم و دانش اور حلم و بردباری میں تمام دیگر دانشوروں پر برتری رکھتے تھے"۔(۱۰)
شبلنجی کہتے ہیں: "… آپ نے کمسنی میں ہی اپنے فضل و علم اور کمال عقل کا مظاہرہ کیا اور اپنے برہان کو لوگوں پر واضح کر دیا"۔(۱۱)
آپ کی ذات ستودہ صفات پر بطور کامل روشنی ڈالنا اور آپ کے تمام کمالات کو شمار کرنا یقیناً نا ممکن ہے، بس نمونہ کے طور پر چند مثالیں معروض ذیل ہیں:

علم و دانش
امام جواد علیہ السلام علم کہ میدان میں سرآمد روزگار تھے۔ آپ کا وجود علوم الہیہ کا مخزن تھا ۔ آپ خدا داد علمی صلاحیتوں کے ایسے مالک تھے کہ انتہائی کمسنی میں آپ نے زمانے کے بڑے بڑے عالموں سے مناظرہ کیا اور انہیں اپنے مستحکم دلائل و برہان کے ذریعہ مبہوت و لاجواب کر دیا۔ جن میں سر فہرست یحیی بن اکثم کے ساتھ ہونے والا مناظرہ ہے جسے تاریخ نے اپنے دامن میں محفوظ کر لیا ۔ (۱۲)خود مامون کو اعتراف کرنا پڑا:"اس خاندان سے تعلق رکھنے والوں کے لئے کمسنی ، عقل کے کمال میں رکاوٹ نہیں ہوتی "۔ (۱۳)دوست و دشمن آپ کےبے نظیر علم و فضل کے قائل تھے۔ بڑے بڑے راوی، محدثین، فقہاء و علماء نے اس کمسن امام کے حضور زانوئے ادب تہہ کئے اور اس منبع علوم سے فیضیاب ہوئے۔ علمی آثار و مکتوبات پر تاریخ کی بے انتہا جفاکاریوں کے باوجود،موجودہ کتب احادیث و تفاسیر میں عقائد، تفسیر، فقہ اور دیگر موضوعات کے سلسلہ میں آپ سے بکثرت روایات نقل ہوئی ہیں۔
على بن مهزيار، محمد بن ابى عمير، احمد بن محمد بن ابى نصر بزنطى، زكريا بن آدم، محمد بن اسماعيل،فضل بن شاذان، حضرت عبد العظیم حسنی، حبيب بن اوس طائى، حسن بن محبوب، على بن اسباط، عبدالله بن الصلت، سعد بن سعد القمى، حسن بن سعيد اهوازى، دعبل خزاعی جیسی بہت سی دیگر عظیم ہستیوں کو آپ کی شاگردی کا شرف و افتخار حاصل ہے۔

جود و کرم
امام علی رضا علیہ السلام نے آپ کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: مرکزی دروازہ سے رفت و آمد کیا کیجئے۔ اپنے ساتھ سونے چاندی رکھا کیجئے اور اپنے چچا حضرات کو ۵۰ دینار سے کم نہ دیا کیجئے، انفاق کیجئے اور فقر و تنگدستی کا خوف نہ رکھئے اس لئے کہ اللہ کی قدرت آپ کے ساتھ ہے۔ امام محمد تقی علیہ السلام اپنے بابا کی نصیحت پر ہی عمل کیا کرتے تھے۔(۱۴)

لوگوں کے ساتھ نیکی
لوگوں کے ساتھ نیکی کرنا ائمہ معصومین علیھم السلام کی زندگی کا اہم جزو ہے۔ امام محمد تقی الجواد علیہ السلام بھی اس میدان میں پیش پیش نظر آتے ہیں۔ آپ کی نظر میں کسی ضرورتمند کے ساتھ نیکی کرناجتنا اس ضرورتمند انسان کے لئے مفید ہے اس سے زیادہ خود نیکی کرنے والے کے لئے فائدہ مند ہے۔ آپ فرماتے ہیں: نیکی کرنے والوں کو نیکی کرنے کی ضرورت محتاجوں اور ضرورتمند انسانوں سے زیادہ ہے، کیونکہ اس عمل کے ذریعہ نیک افراد اپنے پروانۀ اعمال میں جزائے آخرت اور نیک نامی و افتخار کو محفوظ کر لیتے ہیں۔ جو بھی محتاجوں کی خدمت اور ان کے ساتھ نیکی کرتا ہے درحقیقت وہ پہلے اپنے حق میں نیکی کرتا ہے، لہذا اسے ایسے عمل کے شکریہ اور قدردانی کی توقع دوسرے سے نہیں رکھنا چاہئے جسے اس نے اپنے لئے انجام دیا ہے۔(۱۵)

عقدہ کشائی
روایت میں آیا ہے کہ خراسان کے سجستان کا ایک شخص سفر حج کے دوران امام کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ میں اپنے شہر کے گورنر کا مقروض ہوں، وہ آپ اہل بیت کا دوستدار ہے، آپ ایک مکتوب اس کے نام تحریر کردیجئے تاکہ میرا ٹیکس معاف کر دے۔ امام نے ایک کاغذ اٹھایا اور اس پر تحریر فرمایا: "نامہ بر کا کہنا ہے کہ تم خوش عقیدہ انسان ہو ،لہذا اس کے ساتھ نیکی کرو" ۔ والی شہر حسين بن عبدالله نيشابورى کو خط کے بارے میں پہلے ہی خبر ہو گئی تھی لہذا وہ سجستان میں اس کے استقبال کو پہنچا، اس کی مشکلات کو جانا ، ٹیکس معاف کیا اور اسکی مناسب مدد بھی کی۔(۱۶)

صبر و بردباری
نویں امام مصائب و آلام کے مقابلہ میں انتہائی صبر کرنے والے تھے۔ آپ کبھی مضطرب نہیں ہوتے تھے بلکہ اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے حلم و بردباری کی راہ پر باقی رہتے تھے۔ بد اخلاق اور کج دہن زوجہ کے مقابلہ میں صبر و بردباری، ظالم و جابر حاکموں کے مقابلہ میں اللہ پر بھروسہ اور اپنے بابا کی شہادت جیسے دردناک واقعات پر تحمّل کا مظاہرہ، آپ کی اس عظیم صفت کی چند مثالیں ہیں۔ آپ صبر و شکیبائی کو نیک انسانوں کی ایک اہم صفت جانتے تھے۔(۱۷)
امام کے چند ارشادات
1.امام فرماتے ہیں: مومن کو تین خصلتوں کی ضرورت ہے: اللہ عزّ و جلّ کی طرف سے توفیق، اپنے وجود میں ایک واعظ و ناصح، اور نصیحت کرنے والے کی نصیحت کو قبول کرنا۔(۱۸)
2.آپ فرماتے ہیں: جو شخص وقت کے تقاضوں سے نا آگاہ ہوگا، حوادث زمانہ اسے لے ڈوبیں گے۔(۱۹)
3.امام کا ارشاد ہے: اپنے [اچھے] دوست و احباب سے ملنا ،دل کی نورانیت اور عقل کے کمال کا سبب ہے، چاہے یہ ملاقات تھوڑی دیر کی ہی کیوں نہ ہو۔(۲۰)
4.امام جواد فرماتے ہیں: برے اور شرپسند شخص کے ساتھ نشست و برخاست نہ رکھو، اس لئے کہ وہ کھنچی ہوئی تلوار کی طرح ہوتا ہے جو دیکھنے میں تو اچھی لگتی ہے مگر اس کا اثر اور نتیجہ برا ہوتا ہے۔(۲۱)
5.آپ فرماتے ہیں: اخلاص سب سے بڑی عبادت ہے۔(۲۲)
6.امام فرماتے ہیں: اگر جاہل خاموش رہے تو لوگوں میں اختلاف نہ ہو۔(۲۳)
7.آپ کا ارشاد ہے: جو شخص کسی برے عمل کی تائید کرے، وہ اس عمل میں شامل ہوتا ہے۔(۲۴)
8.آپ فرماتے ہیں: جس نعمت پر شکر ادا نہ کیا جائے وہ ایسی خطا کی طرح ہوتی ہے جسے بخشا نہ جائے۔(۲۵)
9.امام محمد تقی علیہ السلام فرماتے ہیں: انسان موت سے زیادہ گناہوں کے ذریعہ مرتا ہے اور زندگی سے زیادہ نیکیوں کے ذریعہ جیتا ہے۔ (۲۶)
10.امام فرماتے ہیں: تین کام نیک افراد کے اعمال میں شامل ہیں: واجبات کی انجام دہی اور قیام، محرّمات سے گریز و پرہیز، دین کے سلسلہ میں غفلت سے دوری۔ (۲۷)
اللہ تبارک و تعالیٰ بحق محمد و آل محمد علیہم السلام ہمیں سیرت معصومین علیہم السلام پر عمل کرنے کی توفیق عنایت کرے۔ آمین

حوالے
۱ ۔ اثبات الوصیۃ ، مسعودی ص ۲۰۹
۲۔ بحار الانوار، علامہ مجلسی، ج۵۰ ص۱۵۰
۳۔ منتهی الامال، ج۱، ص۲۱۸
۴۔ اعلام الهدایه، ص۲۸٫
۵۔ اصول کافی، ج۱، ص۳۲۱؛ الارشاد، شیخ مفید، ص۳۱۹؛ اعلام الوری، طبرسی، ص۳۴۷؛ کشف الغمه، اربلی، ج۳، ص۱۴۳٫
۶۔ فروع کافی، دارالکتب الاسلامیه، ج۶، ص۳۶۱؛ الامام الجواد من المهد الی اللحد، سیدکاظم قزوینی، مؤسسه البلاغ، ص۳۳۷٫
۷۔ سورہ مریم/۳۱
۸۔ سورہ مریم/۱۲
۹۔ تذکره الخواص، ص ۳۵۹٫
۱۰۔ الصواعق المحرقه، ص ۲۰۵٫
۱۱۔ نور الابصار، ص ۱۶۱٫
۱۲۔ رجوع کیجئے: بحار الأنوار، علامہ مجلسی،ج 50، ص 75 - 76
۱۳۔ اعلام الوری، فضل بن حسن طبرسی، ص۳۵۳
۱۴۔ کافی، شیخ کلینی، ج۴ ص۴۳
۱۵۔ اربلی، کشف الغمۃ،ص۱۹۲
۱۶ ۔ کافی، شیخ کلینی، ج۵ ص ۱۱۱
۱۷۔ اربلی، کشف الغمۃ،ج۳ ص۱۹۵
۱۸۔ بحار الانوار،ج۷۵ ص۵۸
۱۹ ۔ دیلمی اعلام الدین،ص۳۰۹
۲۰۔ امالی، شیخ مفید، ص۳۲۸؛ امالی، شیخ طوسی،ص۹۴
۲۱ ۔ بحار الانوار،ج۷۱ ص۱۹۸؛ مستدرک الوسائل، محدث نوری،ج۸ص۳۵۱
۲۲ ۔ تفسیر الامام حسن العسکری،ص۳۲۹
۲۳۔ کشف الغمۃ،ج۲ ص ۳۴۹
۲۴۔ کشف الغمۃ،ج۲ ص ۳۴۹
۲۵۔ بحار الانوار،ج۷۵ص۳۶۳
۲۶۔ کشف الغمۃ۔ج۲ ص۳۵۰
۲۷۔ کشف الغمۃ۔ج۲ ص ۳۴۹

مقالات کی طرف جائیے