مقالات

 

کتاب ِحجر بن عدی کندی کا اجمالی تعارف

ابن شعور گوپال پوری

اسم کتاب : مایہ ناز صحابی ؛ حجر بن عدی کندی
مولف و محقق: سید شاہد جمال رضوی گوپال پوری
پیش کش: شعور ولایت فاؤنڈیشن ، لکھنؤ
ناشر : قرآن و عترت فاؤنڈیش، ممبئی
یہ کتاب رمضان المبارک کے مہینہ میں قرآن وعترت فائونڈیشن ممبئی(علمی مرکز قم المقدسہ ایران )سے شائع ہوئی ہے اور اسے شعور ولایت فاؤنڈیشن (لکھنؤ) نے پیش کیا ہے ۔
اس کتاب کے مؤلف و محقق مولانا سید شاہد جمال رضوی گوپال پوری ہیں جنہوں نے وقت کی اہم ترین ضرورت کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ کتاب تالیف و تحقیق کی ہے ۔کتاب تقریباً١٢٢ صفحات پر مشتمل ہے جس میں جناب حجربن عدی کندی کے حالات زندگی کو تفصیل سے بیان کیاگیاہے ۔
ارباب نظر جانتے ہیں کہ جناب حجر بن عدی کندی ، باوفا اور مایہ ناز صحابی رسول تھے ، رسول خدا(ص)کی مختصر رفاقت و صحبت کے باوجود آپ نے بڑی گرانقدر خدمتیں انجام دی ہیں ۔ لیکن اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ آپ نے آنحضرت کے بعد بھی ان کے احکام و فرامین کو دل و جان سے قبول کیا اور آخری سانسوں تک اس پر عمل پیرا رہے، زہد و تقویٰ ہو یا کثرت روزہ و نماز ، خداوندعالم سے راز و نیاز ہو دعا و مناجات ، میدان جہاد میں شجاعت و مردانگی ہو یا معاشرے کی فلاح و بہبودی کے لئے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ... آپ نے ہر جگہ اور ہر میدان میں بہترین کارکردگی کا ثبوت دیاہے ۔
حضرت حجر بن عدی ، فنائے محض اور کمال عبودیت کا شاداب ترین مظہر تھے وہ خڈا کے علاوہ کسی بھی چیز اور کسی بھی انسان کی قطعی پرواہ نہیں کرتے تھے ، کمال قرب ان کے وجود پر اس طرح محیط تھا کہ دشمن کی ستم رانیاں اپنی طرف متوجہ نہیں کرپاتی تھیں ، وہ عظمت و جلال الہیٰ میں پوری طرح مستغرق تھے ۔ جس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ آپ اپنی شہادت کی رات دشمنوں سے خوف زدہ ہونے کے بجائے خداوندعالم سے راز ونیاز اور دعا و مناجات میں مشغول تھے ، آپ کو اپنے سر پر چمکتی ہوئی تلواروں اور نیزوں کا خوف نہیں تھا بلکہ اس خوف ناک رات میں بھی لقائے الہی کی تڑپ تھی ، خداوندعالم سے ملنے کی بے چینی تھی ۔ جس کا اعتراف دشمنوں نے بھی کیا ہے۔
حضرت حجر ایک صاف دل اور صداقت پسند انسان تھے ، ان کے دل و دماغ میں ولایت و اطاعت کی خوشبو اس طرح رچی بسی تھی کہ آپ نے اس کے لئے اپنا سب کچھ قربان کردیا اور ایک لمحے کے لئے بھی اپنے امام برحق کی بیعت سے منحرف نہیں ہوئے ۔
ایسی عظیم اور گرانقدر شخصیت کی زندگی و بندگی سے کسب فیض کرنا چاہئے ، اس کی ولایت مدار خوبیوں سے بھرپور استفادہ کرنا چاہئے لیکن افسوس وہ شمع جس نے حق و صداقت کے اجالے قریوں قریوں ، شہروں شہروں پھیلائے ، وہ تلوار جس نے کفر و نفاق کی جڑیں کاٹیں ، وہ بلبل جس نے اپنے آہنگ ترنم سے ولایت و امامت اور معنویت کی جوت جگائی ، ایسی عظیم اور تاریخ ساز شخصیت کو حکومت کے ظالم ہاتھوں نے ہم سے چھین لیا۔
ہائے یہ گنج گراں مایہ طاغوت نے ہم سے چھین لیا
لیکن اس سے زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ برسوں پہلے جس عظیم اور حماسی شخصیت کو ولایت کی راہ میں شہید کیاگیا تھا آج جب وہ اپنی قبر کی پر سکون فضا میں آرام کررہاتھا، استعمار و استکبار نے اسے پھر سے اسی دشمنی میں باہر نکالااور ان کی نبش قبر کرکے ان کے جسم اطہر کی بے حرمتی کی اور اس عمل سے ہزاروں لاکھوں دل و دماغ مجروح ہوئے ۔
ظاہر ہے ایسی عظیم جنایت کے بعد ضروری تھا کہ جناب حجر بن عدی کے حالات زندگی پر مشتمل ایک مختصر لیکن مفید کتاب شائع ہوتاکہ لوگ اس مایہ ناز صحابی کی بھرپور معرفت حاصل کریں اور ان کی سوانح حیات کے نورانی تذکرہ سے اپنے قلوب کو منور کریں ۔
مولانا سید شاہد جمال رضوی گوپال پوری نے اسی ضرورت کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ کتاب تالیف و تحقیق کی ہے ، اس کتاب میں جناب حجر بن عدی کے حالات زندگی تفصیل سے مرقوم ہیں ، مولف محترم نے معتبر کتابوں سے ان کی سوانح حیات استخراج کی ہے اور کتاب کے آخری باب میں حالیہ ہونے والی جنایت ( یعنی جناب حجر کے قبر پر بمباری اور ان کی نبش قبر ) پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے ۔ قرآن و عترت فائونڈیشن نے اس کتاب کو شائع کرکے اپنی عظیم خدمتوں میں ایک اور اضافہ کردیا ہے ۔یہ گرانقدر کتاب حوزۂ علمیہ آیة اللہ خامنہ ای بھیک پور سیوان بہار کے علاوہ شعور ولایت فاؤنڈیشن کے مرکزی دفتر بستان شعور (لکھنؤ)سے حاصل کی جاسکتی ہے ۔ نیز اس کتاب کو (WWW. SHAOOREWILAYAT.COM) سے بھی ڈاؤنلوڈ کی جاسکتی ہے ۔

مقالات کی طرف جائیے