مقالات

 

انوکھا سفر

ابن شعور گوپال پوری

سعید پہلی مرتبہ خدا کی گھر کی زیارت کے لئے مکہ مکرمہ گیاہواتھا ، رسول خدا(ص) سے قریب رہنے کا احساس اس کے لئے انتہائی لذت بخش تھا ، حج کے لذت بخش اور لطافتوں سے بھرپور ایام اب ختم ہوچکے تھے ، سعید اپنے والد کے ہمراہ مدینہ کی طرف واپس جارہاتھا ۔
مدینہ ابھی بہت دور تھا، رسو ل اکرم (ص) نے حکم دیا کہ سبھی لوگ غدیر میں جمع ہوجائیں ، سعید نے اپنے والد سے کہا : بابا !خدا کے نبی کو ہم سے کیا کام ہے ، کیا ابھی زیارت مکمل نہیں ہوئی ؟ سعید کے والد نے کہا : بیٹا ! میں نہیں جانتا ، ضرور کوئی ہم کام ہوگا ، تبھی اللہ کے رسول(ص) نے ٹھہرنے کاحکم دیاہے ۔ کچھ لوگوں نے پتھروں اور اونٹوں کے پالان کو جمع کرکے منبر کی شکل میں ایک جگہ آمادہ کی ۔
پاس ہی میں ایک تالاب تھا ، جس کا نام غدیر تھا ۔غدیر نامی تالاب بڑا خوبصورت تھا ، سعید جو بہت پیاسا تھا ، صاف و شفاف پانی دیکھ کر بہت خوش ہوا ، وہ دوڑتا ہوا تالاب کے کنارے پہونچا اور باقی لوگوں کی طرح اپنے چہرے کو صاف کیا اور اپنی پیاس بجھائی ، ظہر کی اذان کا وقت ہوچکا تھا ، سبھی آنحضرت کی اقتدا میں نماز پڑھنے کے لئے بیتاب تھے ۔
سعید یہ جاننے کے لئے بے چین تھا کہ رسول نے اس جگہ ٹھہرنے کا حکم کیوں دیاہے ۔
نماز کے بعد اللہ کے رسول منبر پر تشریف لے گئے اور ایک اہم حکم کو پہونچانے کی خبر دی ۔ وہ ایک شخص کا ہاتھ پکڑ کر سب کو دکھا رہے تھے ، سعید اس شخص سے بہت محبت کرتاتھا اور بہت اچھی طرح پہچانتا تھا ، وہ حسن و حسین (علیہما السلام)کے بابا تھے ، آنحضرت نے فرمایا : خدا کا فرشتہ تین مرتبہ میرے پاس آیا اور اس نے خدا کا پیغام پہونچایا کہ میں اسی مقام پر تم لوگوں کو بتادوں کہ علی ، میرے بھائی اور جانشین ہین اور وہ میرے بعد تم لوگوں کے امام ہیں ۔
اس اعلان کے بعداللہ کے رسول نے سب کو حکم دیا کہ وہ حضرت علی ؑ کی بیعت کریں ۔
لوگ ایک ایک کر کے امام علی علیہ السلام کی خدمت میں آتے تھے اور ان کو مبارک باد پیش کرتے تھے اور ان کے ساتھ رہنے کا عہد و پیمان کرتے تھے ، سعید بھی امام کی خدمت میں جاکر ان کو تبریک و تہنیت اور مبارک باد پیش کرنا چاہتا تھا ، اسی لئےاس نے اپنے دوستوں کو جمع کیا ، وہ سب امام کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ سعید امام کے پاس جانے میں ہچکچا رہاتھا ، لیکن اچانک اس نے دل میں محسوس کیا کہ جیسے امام کی نگاہیں اسے بلا رہی ہیں ، وہ دوڑتا ہوا امام کی خدمت میں پہونچا اور امام کو اس عہدے پر فائز ہونے کی مبارک باد پیش کی ۔

مقالات کی طرف جائیے