مقالات

 

صنف نازک ؛ اسلامی تصور کائنات میں؛ پہلی قسط

سید شاہد جمال رضوی گوپال پوری

تمہید
عورت نصف انسانیت ہے ، مرد انسانیت کے ایک حصہ کی ترجمانی کرتاہے تو عورت انسانیت کے دوسرے حصے کی ترجمان ہوتی ہے ، عورت کو نظر انداز کرکے بنی نوع انسان کے لئے جو بھی پروگرام بنے گا وہ ناقص اور ادھورا ہوگا ،ہم ایسے کسی سماج اور معاشرے کا تصور نہیں کرسکتے جو تنہا مردوں پر مشتمل ہو اور جس میں کسی عورت کی ضرورت نہ ہو ، دونوں ایک دوسرے کے یکساں محتاج ہیں ، نہ عورت مرد سے مستغنی ہوسکتی ہے اور نہ ہی مرد عورت سے بے نیاز ۔
لیکن اتنی واضح حقیقت کے باوجود عورت آج بھی متنازعہ موضوع ہے ، اس کے واقعی مقام و منزلت کا تعین ابھی تک نہ ہوسکا بلکہ اس کو واقعی مقام و منزلت دینے کی کوشش میں کسی نے افراط سے کام لے کر اسے اتنا بلند کردیا کہ وہ انسانوں سے بالاتر کوئی الگ ہی مخلوق محسوس ہونے لگی اور کسی نے تفریط کے ذریعہ انسانیت کا درجہ دینے سے بھی انکارکردیا۔
مغربی ممالک نے آزادیٔ نسواں کا نعرہ لگا کر عورتوں کو میدان ترقی میں آنے اور مردوں کے قدم سے قدم ملاکر چلنے کی دعوت دی اور اس خام خیالی میں مبتلا ہوگئے کہ ہم نے عورتوں کو واقعی مقام سے ہمکنار کردیا ہے ۔ حالانکہ یہ سراسر غلط ہے ، تاریخ کے جھروکے سے معلوم ہوتاہے کہ اس فریبی نعرہ کے ذریعہ اس صنف کی نسوانیت کو جتنا نقصان پہونچاہے اس کی نظیر ڈھونڈھے نہیں ملتی ، عورت اس جال میں گرفتار ہوکر خود اپنا وقار کھوتی ہوئی نظر آرہی ہے ، آج کا مغربی معاشرہ چیخ چیخ کر اس کی گواہی دے رہاہے ۔
کچھ لوگوں نے تفریط کا مظاہرہ کرکے درجۂ انسانیت سے بھی نیچے گرادیا چنانچہ اس سلسلے میں ان کے مضحکہ خیزخیالات ملاحظہ فرمائیے :
یونانی کہتے ہیں: عورت سانپ سے زیادہ خطرناک ہے ۔
سقراط حکیم کہتے ہیں: عورت سب سے زیادہ فتنہ و فساد کی باعث ہے ، وہ ایسا خوشنما درخت ہے جو بہت اچھا لگتاہے لیکن جب کوئی پرندہ اسے کھالیتاہے تو فوراًمرجاتاہے ۔
یوحنا کا قول ہے : عورت شر کی بیٹی ہے ، امن و سلامتی کی دشمن ہے ۔
قدیس جرنا لکھتاہے : عورت شیطان کی آلہ کار ہے ۔
اس کے علاوہ بھی بہت سے اقوال ہیں ، جن کے ذریعہ ہم ان کے یہاں عورت کی واقعی حیثیت کا تعین کرسکتے ہیں ؛بقول علامہ اقبال :
خرد کا نام جنوں رکھ دیا جنوں کا خرد
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے

عورت ایک عمومی نگاہ میں
عورت کی واقعی حیثیت کا تعین کرنے اور اس کے متعلق اسلامی نظریاتک جائزہ لینے کے لئے ضروری ہے کہ پہلے عہد قدیم اور ادیان عالم کے ان قوانین پر ایک نظر ڈالی جائے جن میں عورت کے حقوق اور اس کی حیثیت سے بحث کی گئی ہے اور ان انسانوں کی معاشرتی زندگی کی زبوں حالی کا سرسری جائزہ لیاجائے جو نعمت عقل سے بہرہ مند ہونے کے باوجود ذہنی افلاس کے شکار تھے ۔

عورت ؛ یونان و روم کے آئین میں
قدیم تاریخ کے متعلق کسی قدر مفصل اور مستند معلومات ہمیں یونانیوں اور رومیوں کے عہد سے فراہم ہوتی ہے ۔ انہوںنے تہذیب و تمدن اور علوم و فنون میں اس قدر ترقی کی کہ اس کی بنیاد پر بہت سی تہذیبیں اور بہت سے علوم وجود میں آئے لیکن ان تمام ترقیوں کے باوجود ان کے یہاں عورت کا مقام انتہائی پست تھا اور وہ اسے انسانیت کے لئے بوجھ سمجھتے تھے ، ان کی نظر میں عورت ایک خادمہ اور نوکرانی کی طرح تھی جو چپ چاپ گھر کے کام کاج میں مشغول رہتی ہے ۔ یونانی اپنی معقولیت پسندی کے باوجود عورت کے بارے میں ایسے ایسے تصورات رکھتے تھے جنہیں سن کر ہنسی آتی ہے ۔
ان کا کہنا تھا :'' آگ سے جل جانے اور سانپ کے زہر کا علاج ممکن ہے لیکن عورت کے شر کا علاج ممکن نہیں''۔ایک یونانی ادیب کا کہنا ہے کہ دو موقعوں پر عورت مرد کے لئے باعث مسرت ہوتی ہے ایک شادی کے دن اور دوسرے اس کے انتقال کے دن۔(١)
لیکسی نے اپنی کتاب '' تاریخ اخلاق یورپ '' میں اہل روم کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھاہے :
'' عورت کا مرتبہ رومی قانون نے ایک عرصۂ دراز تک نہایت پست رکھا ، وہاں عورت غلاموں کی طرح بیچی اور خریدی جاتی تھی ، اپنے باپ اور شوہر کے سامنے عورت نہ تو حق مالکیت رکھتی تھی اور نہ ہی آزاد حق معاشرت ۔ پہلے باپ اورپھر شوہر کو اس بات کا حق تھا کہ وہ اپنی لڑکی یا بیوی کو بیچ دے ، قرض دے ، کرایہ پر چلائے یا قتل کردے ،گویا ان کی نظر میں عورت صرف '' ایک چیز'' کی طرح تھی جسے جب چاہا استعمال کیا اور پھر پھینک دیا''۔(٢)

عورت ؛ عرب ماحول میں
جب یونان و روم جیسے تہذیب و تمدن کے مراکز میں صنف نازک کی مظلومیت اور بے چارگی کا یہ حال تھا تو اندازہ لگایاجاسکتا ہے کہ تمدن ناآشنا عرب میں وہ کس درجہ بے بس رہی ہوگی ۔ چنانچہ یہ نیم وحشی عرب عورتوں کو ایک کنیز سے زیادہ وقعت دینے پر تیار نہ تھے ، وہ لڑکی کی پیدائش کو اپنے لئے ننگ و عار سمجھتے تھے کیونکہ وہ جنگ میں شرکت ، حصول غنیمت اور دشوار امور کی انجام دہی سے قاصر تھی ،لڑکی کی پیدائش کی خبر سن کر غم و غصہ سے ان کے چہرے کا رنگ سیاہ ہوجاتاتھا ، معاشرے میں اپنی سبکی کے خوف سے وہ اپنی لخت جگر کو زندہ در گور دیتے تھے ؛ قرآن مجید نے ان کے جذبات و احساسات کی بڑی اچھی تصویر کشی کی ہے:
''اور جب خود ان میں سے کسی کولڑکی کی بشارت دی جاتی تھی تو اس کا چہرہ سیاہ پڑ جاتاتھا اور وہ خون کے گھونٹ پینے لگتا تھا ، گویا بہت بری خبر سنائی گئی ہے ، اب اسے ذلت سمیت زندہ رکھے یا خاک میں ملادے ،یقینا وہ لوگ بہت برافیصلہ کرتے تھے ''۔(٣)
خداوندعالم نے ان کے برے فیصلے پر سوالیہ نشان لگا کر ذہنوں کو جھنجھوڑا ہے ؛ قرآن کا ارشاد ہے :
'' اور جب زندہ درگور لڑکیوں کے بارے میں سوال کیاجائے گاکہ انہیں کس گناہ میں مارا گیاہے ''۔(٤)
صنف نازک کی اس سے زیادہ مظلومیت اور کیا ہوسکتی ہے کہ باپ کا دست شفقت اس کے حق میں بھیڑئیے کا خونخوار پنجہ ثابت ہو ۔ یہی نہیں بلکہ بعض عربوں کے یہاں شوہر کے مرنے کے بعد اس کی بیوی بڑے لڑکے کے ہاتھ آجاتی تھی ۔

یہودیت اور عورت
یہودیت کا شمار دنیا کے ان مذاہب میں ہوتاہے جنہوںنے صرف چند عقائد و نظریات ہی پیش نہیں کئے بلکہ ان کی بنیاد پر زندگی کے عملی مسائل سے بھی تفصیلی بحث کی ہے ۔ ایسے مذہب سے یہ توقع کی جاسکتی تھی کہ عورت کے بارے میں حقیقت پسندانہ خیالات کا اظہار کرے گا لیکن وہ ہمارے سامنے یہ تصور لاتاہے کہ مرد نیک سرشت اور نیک کردار ہے اور عورت بدطینت و مکار ۔نسل انسان کی پہلی فرد '' حضرت آدم '' جنت میں عیش و آرام کی زندگی گزار رہے تھے کیونکہ وہ خدا کے فرمانبردار تھے لیکن ان کی بیوی حوا نے سب سے پہلے خدا کی نافرمانی پر اکسایا اور ان کو ایک ایسا پھل کھانے پر مجبور کیا جس کی خداوندعالم نے سختی سے ممانعت کی تھی ؛ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ جنت کی نعمتوں سے محروم کردئیے گئے۔(٥)

مسیحیت اور عورت
مسیحیوں نے عورت کی روحانی اور معنوی صلاحیتوں کا سرے سے انکار کرتے ہوئے کہاکہ عورت جنت میں نہیں جاسکتی اور خداوندعالم کا معنوی قرب حاصل نہیں کرسکتی ۔مسیحی پادری ،عورت کو شیطنت و خباثت کا مظہر اور فتنہ و فساد کے رواج کا ذریعہ تصور کرتے تھے ، چنانچہ انہوں نے مدتوں اپنے مدرسوں میں اس مسئلہ کی تحقیق پر اپنا وقت صرف کیا کہ کیا مردوں کی طرح عورتیں بھی خدا کی عبادت کرسکتی ہیں...؟(٦)
عورت کے متعلق متذکرہ نظریات و خیالات سے معلوم ہوتاہے کہ جس تمدن کی چمک دمک نہ صرف مغرب بلکہ مغرب پرست آنکھوں کو آج بھی خیرہ کئے ہوئے ہے ، اس میں عورت کی کیا قدر و منزلت رہی ہوگی اور وہ اپنی اور معاشرے کی قسمت سنوارنے میں کون سا کردار نبھاتی ہوگی ؛ شاید عالم یہ تھا :
نہ تڑپنے کی اجازت ہے نہ فریاد کی ہے
گھٹ کے مرجائوں یہ مرضی میرے صیاد کی ہے

حوالے:
١۔عورت اسلامی معاشرہ میں ص ١٣
٢۔شخصیت و حقوق زن دراسلام ج٢ ص ٢١٨؛ خاندان اسلام کی نظر میں ص٧٢
٣۔نحل ٥٨۔٥٩
٤۔تکویر ٨۔٩
٥۔نظام حقوق زن در اسلام ص١١٨
٦۔نظام حقوق زن در اسلام ص١١٨؛ خاندان اسلام کی نظر میں ص٧١

مقالات کی طرف جائیے