مقالات

 

غدیر کے اہم گوشے، آیة اللہ خامنہ ای کی زبانی

سید غافر حسن رضوی

متواتر روایات کے پیش نظر،غدیر خم میں نبی اکرم کے ذریعہ ایسی عظیم نہضت اورتحریک وجود میں آئی جو متعدد پہلوؤں کی حامل ہے:
١۔''فضائل امیر المومنین علیہ السلام'':
ان پہلوؤں میں سے ایک عظیم پہلو اور اہم گوشہ''ولایت امیرالمومنین علی ابن ابیطالب علیہ السلام کاببانگ دہل اعلان''ہے جو فضائل علوی کو اجاگر کرتا ہے۔ تمام لوگ فضائل علوی سے آگاہ تھے اورذات علوی میں لحظہ بہ لحظہ ان کا مشاہدہ بھی کرتے رہتے تھے۔رضایت پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ و آلہ بلکہ در حقیقت مشیت الٰہی یہی تھی کہ حج کے عظیم مجمع میں نبی اکرم کی زبانی علی مرتضیٰ کی کہانی بیان ہو۔ خداوندعالم نے فضائل علوی کو اہم شمار کرتے ہوئے ''ولایت کی اساس وبنیاد'' قراردیا اوراس بیان کے ذریعہ علی کی ولایت و حاکمیت کو معین فرمایا جس سے یہ واضح ہوگیا کہ منصب ولایت پر فائز انسان کو ان فضائل کا حامل ہونا چاہئے۔ حالانکہ لازم نہیں تھا کہ پیغمبراکرم غدیرکے روز فضائل امیر المومنین کو بیان کریں لیکن آپ نے اتمام حجت کے مدّنظر فضائل علوی کو بیان کرنامناسب سمجھا۔
ابن ابی الحدید معتزلی رقمطراز ہیں: ''غدیرکے روز فضائل امیر المومنین اس قدر آشکار تھے کہ پیغمبراکرم کی رحلت کے بعد تمام مہاجرین نے بلکہ انصار کی اکثریت نے بھی یہ تسلیم کیا کہ خلافت کے مستحق علی ہیں، یعنی ان تمام صحابہ کی نظر میں خلافت علوی ایک مسلّم امر کی صورت میں جلوہ افروز تھی۔اس کے علاوہ دوسرے مقامات پر بھی پیغمبراکرم نے امیر المومنین کے بہت سے فضائل بیان کئے ہیں''۔
وہ روایات جو فضائل امیرالمومنین کو بیان کرتی ہیں وہ متواتر اور متفق علیہ ہیں یعنی ان روایات پرفریقین میں سے کوئی فرقہ کسی قسم کا اعتراض نہیں کرسکتا یہاں تک کہ مشہورومعروف مورخ ''ابن اسحاق''کا بیان ہے: ''پیغمبراکرۖم نے علی کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا: اے علی ! اگر مجھے اس بات کا خوف نہ ہوتا کہ کہیںتمہارے پیروکاربھی عیسیٰ کے پیروکاروں جیسا رویہ اختیارنہ کرلیں تو میں تمہاری ایسی فضیلت بیان کرتا کہ لوگ تمہاری خاک قدم کو توتیائے چشم قرار دیتے اور اس خاک کومتبرک شمارکرتے ''۔ شاید یہ روایت شیعی سلسلۂ سند کے ذریعہ بھی بیان ہوئی ہو لیکن میری نظروں سے نہیں گزری۔اس روایت کو ابن ابی الحدید نے ابن اسحاق سے نقل کیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ روز غدیر علی کو خلیفہ کے عنوان سے قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں ان کو بھی فضائل علوی سے انکار نہیں ہے۔
فضائل علوی کا بیان اور ان فضائل پرنبی اکرم اور خداوندعالم کی مہرتائیدکا ثبت ہونا غدیرکا ایک اہم پہلو ہے جو بیان کررہا ہے کہ حکومت و خلافت کے استحقاق کے لئے ان فضائل کا وجود جزو لاینفک کی حیثیت رکھتا ہے بلکہ نبی اکرم اور خداوندعالم کی نگاہوں میں ولایت، خلافت اور حکومت کی اصل واساس یہی فضائل ہیںنہ کہ کوئی اورچیز؛ یعنی اسلام کی اصل یہ ہے کہ ولایت وخلافت کے عہدہ کے لئے یہ فضائل و مناقب انتہائی ضروری ہیں۔
٢۔''مسئلۂ ولایت'':
حدیث غدیرکا دوسرا اہم پہلووہ ولایت ہے جو ''من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ'' سے سمجھ میں آتی ہے۔اس حدیث شریف میں پیغمبراکرم نے حاکم کو مولا سے تعبیر کیا ہے اور اس کی و لایت کو ا پنی ولایت سے متصل کیا ہے۔ خود مفہوم ولایت بھی اہمیت کا حامل ہے یعنی دین اسلام اس مفہوم و لایت(حقوق الناس کی رعایت) کے علاوہ لوگوں کی گردنوں پر کسی کا تسلّط نہیں دیکھنا چاہتااور حکومت میں کسی دوسرے عنوان کاقائل نہیں ہے۔
جو شخص ولی وحاکم ہوتا ہے وہ ایک سلطان و بادشاہ نہیں ہوتایعنی اس کی حکومت کو اقتدار اورقوت تصرّف کی میزان پر نہیں پرکھا جائے گا کہ وہ جو عمل انجام دے لوگوں کی توجہ کو مبذول کرلے بلکہ اس سلسلے میںاس کی ولایت و سرپرستی کو پیش نظررکھا جائے گا، اسلام میں یہ چیز اہم ہے اور اسی پر توجہ دی جاتی ہے کہ مسلمانوں کا ولی و سرپرست اسلام میں کس قسم کی حکومت نافذکررہا ہے!۔

مآخذ: قلمروی غدیر در آئینۂ کلام امام و رہبری: ص٤٤۔٤٥؛ مؤسسہ فرھنگی ولایت

مقالات کی طرف جائیے