مقالات

 

امام موسیٰ کاظم علیہ السلام اور قرآن سے انسیت

سید غافر حسن رضوی

یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ ائمہ طاہرین علیہم السلام ہمیشہ ہمراہ قرآن اور قرآن کریم سدا ہمراہ اہلبیت علیہم السلام رہا اور ان دونوں کی ہمراہی، صادق و امین رسول صلیٰ اللہ علیہ و آلہ کی صداقت پر ایک آشکار دلیل ہے جس کا ثبوت آج سے چودہ سو سال قبل، نوک نیزہ سے حاصل ہوچکا ہے چونکہ فرستادہ و نمائندۂ ربّ الارباب ''حضرت ختمی مرتبت صلیٰ اللہ علیہ وآلہ'' کا ارشاد ہے کہ یہ دونوں ''قرآن وعترت'' ہرگز ایک دوسرے سے جدا نہیں ہونگے حتیٰ کہ مجھ سے حوض کوثر پر ملاقات کریں اور اس کا آشکار نمونہ اس وقت سامنے آیا جب سربریدہ نے نوک نیزہ پر سورۂ کہف کی تلاوت فرمائی اوریہ ثبوت دیا کہ اگر ہمارا تن بھی سر سے جدا کر دیا جائے تب بھی قرآن سے رشتہ نہیں ٹوٹ سکتا۔
آئیئے اسی اٹوٹ بندھن کو امام حسین علیہ السلام کے فرزند ارجمند''حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام'' کی حیات طیبہ میں تلاش کرتے ہیں کہ آپؑ کابھی قرآن سے وہی محکم ومستحکم رشتہ تھا جو آپؑ کے جدنامدار''امام حسین علیہ السلام''نے سمجھایا ہے یا کچھ فرق ہے؟۔
اسی عنوان کے مدنظر امام ہفتم علیہ السلام کی حیات پُر برکت پر ایک طائرانہ نظرڈالتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ آپؑ کے اقوال میں قرآن کریم کس حد تک نافذ ہے؟۔
ہارون رشید کے ساتھ آپؑ کا ایک مناظرہ جو کہ علامہ مجلسیؒ نے(بحارالانوار:ج١٢میں)بالتفصیل ذکر کیا ہے، اختصار کے پیش نظر ایک طائرانہ نگاہ کے تحت اس کا خلاصہ،قارئین کرام کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔
ہارون الرشید: آپ،علی علیہ السلام کوعباس پرکیوں ترجیح دیتے ہیں، میراث رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ کامستحق،عباس سے زیادہ علی علیہ السلام کوکیوں سمجھتے ہیں؟ حالانکہ عباس ،رسول اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ کے چچاتھے۔ [۱]
امام کاظم علیہ السلام:مجھے اس موضوع سے معاف رکھو۔
آخر امام علیہ السلام نے اس طرح کیوں فرمایا، جواب کیوں نہیں دیا؟ کیونکہ امام علیہ السلام اس آیۂ مبارکہ کوجامۂ عمل پہنانا چاہتے تھے(واذا خاطبھم الجاھلون قالواسلاما)۔[٢]
جب ان سے جاہل لوگ مخاطب ہوتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ تم سلامت رہو ''تم پرسلام ہو'' آخرایساکیوں؟ کیا امام علیہ السلام، ہارون رشید کو جاہل سمجھتے تھے؟ نہیں، امام علیہ السلام کومعلوم تھا کہ یہ ''ہارون'' سب کچھ جانتا ہے لیکن پھربھی جان کر انجان بن رہا ہے، یہ آیت جاہلوں کے خطاب سے متعلق ہے، تو ظاہر سی بات ہے کہ جان بوجھ کر انجان بننے والا بدرجۂ اولیٰ اس آیت میں شامل ہوجاتا ہے۔
ہارون الرشید: قسم بخدا میں آپ کو اس وقت تک نہیں چھوڑوں گا، جب تک آپ مجھے جواب نہیں دیتے، ''جب جہالت،جان کاجنجال بن جاتی ہے تو امام وقت کی خاموشی دین کے لئے جنجال ثابت ہوتی ہے ''لہٰذا جب ہارون نے قسم شرعی کھاکر جواب حاصل کرنے کی ٹھان ہی لی تو امام علیہ السلام نے بھی اپنے سکوت کو توڑ ڈالا...
امام کاظم علیہ السلام: رسول اسلام صلیٰ اللہ علیہ وآلہ نے میراث،مہاجرین کے لئے معین کی تھی اورتمہارے ابّاجان ''عباس'' ایمان تو لائے لیکن انھوں نے ہجرت نہیں کی اورعلی علیہ السلام نے ایمان لانے کے ساتھ ساتھ ہجرت بھی اختیار کی اور خداوندعالم فرماتا ہے:
الذین آمنواولم یھاجروامالکم من ولایتھم من شیٔ حتیٰ یھاجروا۔ [3]
وہ لوگ جوایمان لائے لیکن انھوں نے ہجرت نہیں کی ان کے ساتھ تمہاری کوئی ولایت اوردوستی نہیں ہے یہاں تک کہ وہ بھی ہجرت کریں''تودوستی ممکن ہے''۔
امام علیہ السلام کے یہ سخن سن کر ہارون رشید کے چہرہ کا رنگ لال پیلا ہونے لگا اور تلملا کر بولا...
ہارون الرشید: آپ، اپنے آپ کوعلی علیہ السلام کی طرف نسبت کیوں نہیں دیتے،رسول اسلام صلیٰ اللہ علیہ وآلہ کی طرف نسبت کیوں دیتے ہیں حالانکہ علی علیہ السلام، آپ کے والد ہیں اورپیغمبراسلام صلیٰ اللہ علیہ وآلہ، آپ کے ناناہیں؟۔
امام کاظم علیہ السلام:خداوندمنان نے جناب عیسیٰ علیہ السلام کوجناب مریم سلام اللہ علیہا کے ذریعہ، اپنے خلیل جناب ابراہیم علیہ السلام کی طرف منسوب کیاہے ...
ومن ذریتہ داؤد وسلیمان وایوب ویوسف وموسیٰ وھارون وکذالک نجزی المحسنین، وزکریاویحییٰ وعیسیٰ والیاس کل من الصالحین۔[4]
اور ہم نے فرزندان نوح میں سے داؤد و سلیمان و ایوب اور یوسف و موسیٰ کی ''ہدایت کی'' (ہم) اس طرح کے نیک لوگوں کو جزا دیں گے، اور (اسی طرح) زکریا و یحیٰ اورعیسیٰ و الیاس کی (ہدایت کی ) یہ سب لوگ صالحین میں سے تھے۔
جب خداوندعالم جناب عیسیٰ علیہ السلام کو جناب مریم سلام اللہ علیہا کے ذریعہ، ابراہیم علیہ السلام کی جانب منسوب کر رہا ہے تو اگر ہم حسن وحسین علیہماالسلام اورسیدة نساء العالمین حضرت فاطمہ زہراصلوٰة اللہ علیہا کے وسیلہ سے اپنی نسبت، رسول اسلام صلیٰ اللہ علیہ و آلہ کی جانب دیں توکیاحرج ہے؟۔
ہارون الرشید: اسلام میں زندیق بہت زیادہ ہیں، آپ اہلبیت علیہم السلام کے نزدیک زندیق کی کیا حیثیت ہے؟۔
امام کاظم علیہ السلام: زندیق وہ لوگ ہیں جنھوں نے خداوندعالم اور اسکے رسول کی تردیدکی، وہ لوگ کافر ہیں چونکہ وہ لوگ توحیدپرستی سے وادی کفر کی جانب گامزن ہوگئے اورخداوندعالم فرماتاہے(لاتجد قوما یومنون باللہ والیوم الآخر یوادون من حاداللہ ورسولہ ولوکان آبائھم اوابنائھم اوعشیرتھم...)۔ [5]
''اے رسول! تم کسی بھی باایمان قوم کو '' خدا و رسول کے دشمنوں کا دوست نہیں پاسکتے چاہے'' وہ دشمنان خدا ''ان کے باپ، بیٹے، بھائی یا رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں۔
ہارون الرشید: ہمیں اس کانام بتائیں جس نے سب سے پہلے کفراختیارکیااورزندیق ہوگیا؟۔
امام کاظم علیہ السلام: سب سے پہلا کافر، شیطان ہے جس نے حکم خداوندی پر عمل نہ کرتے ہوئے حکم خدا کوٹھکرایا اور آدم علیہ السلام کے سامنے سجدہ نہیں کیا اور شیطان کے جواب کی عکاسی یہ آیت کر رہی ہے۔[6]
اناخیرمنہ خلقتنی من ناروخلقتہ من طین۔[7]
میں اس ''پتلہ''سے افضل ہوں چونکہ تونے مجھے آگ سے خلق کیاہے اوراس کومٹی سے،شیطان نے اس متکبرانہ جملہ کے ذریعہ حکم خداوندعالم کی مخالفت کی اورروز قیامت تک لئے اپنی نسل کو کافر بنا گیا۔
ہارون الرشید: کیا ابلیس کے بھی نسل ہے، کیا وہ بھی صاحب اولاد ہے؟۔
امام کاظم علیہ السلام: ہاں! کیوں نہیں، وہ بھی صاحب اولاد ہے، کیا تم نے خداوند عالم کا یہ قول نہیں سنا؟ (الّا ابلیس کان من الجن ففسق عن امر ربہ أفتتخذونہ و ذریتہ اولیاء من دونی وھم لکم عدومبین بئس للظالمین بدلا)۔ [8]
سوائے ابلیس کے(سب نے سجدہ کیا)کہ وہ جنات میں سے تھا اور فرمان الٰہی کے تحت نکال دیا گیا آیا (اس حالت میں) اس کو اور اس کی نسل کو میری جگہ، اپنا اولیاء قرار دیتے ہو؟ حالانکہ وہ تمہارے دشمن ہیں (ایسا کام کرنے والے ستمگار ہیں)ستمگروں نے کتنا برا جاگزین اختیارکیاہے۔
نسل شیطان، ذریت آدم علیہ السلام کو مزخرفات اور کذب و تہمت کے ذریعہ گمراہ کرتی ہے۔[9]
مناظرہ طولانی ہے جس کا خلاصہ قارئین کرام کی خدمت میں پیش کیا گیا، آخرمیں ہارون الرشید،لاجواب ہوگیا اور امام علیہ السلام نے قرآن کے ذریعہ ایسے ایسے استدلال قائم کئے کہ کوئی گوشہ باقی نہیں چھوڑا اور ہارون جیسا بادشاہ وقت اورسرسخت دشمن اہلبیت علیہم السلام، منھ کی کھاکررہ گیا۔
مناظرہ کے خلاصہ کے بعدامام علیہ السلام کی حیات طیبہ کے دیگر پہلوؤں پربھی ایک طائرانہ نظر ہو جائے، آپؑ، مدرسہ اہلبیت علیہم السلام کے شاگرد ''ہشام بن حکم'' کوعقل کی تعریف وتمجید کے عنوان سے ایک طویل وعریض نامہ تحریر فرماتے ہیں جس میں سے کچھ نکات کی جانب اشارہ کرنا بہتر ہوگا۔
١۔اے ہشام! جان لوکہ خداوندعالم، صاحبان عقل وفہم کو بشارت دیتا ہے اور ان کی توصیف اس طرح فرماتا ہے(ألذین یستمعون القول فیتبعون أحسنہ أولئک الذین ھداھم اللّہ وأولئک ہم أولوالالباب)۔[10]
(اے رسول! بشارت دیجئے) ان لوگوں کو کہ جوباتوں کوسنتے ہیں اوران میں سے اچھی باتوں کو اختیارکرکے ان پرعمل پیرا ہوتے ہیں وہی وہ لوگ ہیں جن کی خدا نے ہدایت کی ہے اوروہی صاحبان عقل ہیں۔
٢۔اے ہشام! آگاہ ہوجاؤ کہ خداوندعالم عقل کے ذریعہ، انسانوں پر اتمام حجت کرچکا ہے اور اپنی ربوبیت کوتسلیم کرانا بھی عقل کے سپرد کردیا ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ کس انسان کی عقل اس کو کامیابی کے مراحل طے کراتی ہے اورکس کی عقل اسے گمراہی کے دلدل میں ڈھکیلتی ہے، خداوندعالم نے عقل عطاکرکے اپنی ربوبیت کا اعلان کردیا(والٰھکم الٰہ واحدلاالہٰ الاھو الرحمن الرحیم)۔[11]
تمہارا پروردگار یک وتنہا ہے اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، وہ رحمن بھی ہے اور رحیم بھی، لہٰذا انسان کو چاہیئے کہ اس کی رحمٰنیت و رحیمیت سے سوء استفادہ نہ کرے ورنہ وہ... رحمٰن ہونے کے ساتھ ساتھ ''قہّار''بھی ہے،اس کی عبادت و اطاعت کرنے میں خود انسان کا ہی فائدہ ہے اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے، انسان جتنی زیادہ اس کی عبادت کرے گا اتنی ہی اس کی رحمت، انسان کے شامل حال ہوگی۔
٣۔اے ہشام! خداوندمنان،اہل عقل کو وعظ فرماتے ہوئے آخرت کی جانب رغبت دلاتاہے(وما الحیٰوة الدنیاالالعب ولھووللدارالآخرة خیرللذین یتقون افلا تعقلون)۔ [12]
زندگانی دنیا،لھوولعب(کھیل تماشہ)کے سوا کچھ بھی نہیں ہے اورپرہیزگاروں کے لئے دار آخرت بہترہے،کیا تم عاقل نہیں ہو؟۔
اس سے یہ بات بالکل صاف سمجھ میں آتی ہے کہ صاحبان عقل، دنیا کو ترجیح نہیں دیتے بلکہ ان کے ذہنوںمیں ہمہ وقت تصور آخرت رہتا ہے۔
یا ایک اشارہ ''مہدی عباسی'' کے دورکی جانب کیا جائے کہ جو امام کاظم علیہ السلام کے دور میں بادشاہ وقت تھا،اس کے اور امام علیہ السلام کے درمیان بحث ہوئی، مہدی عباسی،ایک سال مدینہ گیااورزیارت قبرختمی مرتبت صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فراغت کے بعد امام کاظم علیہ السلام کی خدمت میں پہونچا اور شراب کی بحث چھیڑ دی اس بحث سے اس کا مقصد یہ تھا کہ علم امام علیہ السلام کا امتحان لے۔
مہدی عباسی:کیاشراب،قرآن کریم میں حرام قراردی گئی ہے؟۔
امام کاظم علیہ السلام: ہاں! قرآن کریم نے شراب کوحرام قراردیاہے اوراس کاواضح طورپربیان ہے۔
مہدی عباسی: قرآن میں کس جگہ شراب کوحرام قراردیاگیاہے؟۔
امام کاظم علیہ السلام: خداوندمنان،پیغمبراسلام صلیٰ اللہ علیہ وآلہ کو مخاطب قرار دیتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:(قل انماحرم ربی الفواحش ماظھر منھا ومابطن والاثم والبغی بغیر الحق...)۔ [13]
اے میرے رسولؐ! ان سے کہہ دیجئے کہ میرے پروردگار نے برے کاموں کو حرام قرار دیا ہے ''اب وہ کام آشکارانہ طور پر انجام دیئے جائیں یا مخفیانہ طریقہ سے'' اور اسی طرح گناہ و ناحق ستم کو حرام قرار دیا ہے...
''اے مہدی عباسی!'' اس آیت میں خداوندعالم نے لفظ ''اثم'' کا استعمال کیا ہے اور یہاں ''اثم'' سے مراد ''شراب'' ہے چونکہ خداوندعالم دوسری آیت میں ارشاد فرماتا ہے:(یسئلونک عن الخمروالمیسرقل فیھما أثم کبیر ومنافع للناس وأثمھماأکبرمن نفعھما)[14]
''اے میرے رسول! '' آپ سے شراب اور جوے کے بارے میں سوال کرتے ہیں تو ان سے کہدیجئے کہ یہ دونوں کام گناہ کبیرہ ہیں اور ان میں لوگوں کے لئے فائدہ ہے''لیکن''...ان کاموں کا گناہ، ان کے فوائد سے ''کہیں'' زیادہ ہے۔
''اے مہدی عباسی! ''اگرسورۂ اعراف کی آیت میں تمہیں یہ اعتراض ہو کہ اس آیت میں صراحتاََ شراب کا تذکرہ نہیں ہوا ہے تو سورۂ بقرہ کی یہ مذکورہ آیت دیکھ لو کہ اس میں بالکل صاف و شفاف اور آشکارطریقہ سے شراب کو حرام قرار دیا گیا ہے۔[15]
مہدی عباسی،امام کاظم علیہ السلام کے استدلال سے بہت زیادہ متأثر ہوا اور بے اختیار،علی بن یقطین کی طرف رخ کرکے کہا:''خداکی قسم یہ فتویٰ،خاندان ہاشمی کا فتویٰ ہے''۔[16]
علی بن یقطین نے کہا: ''خداوندعالم کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے علم و دانش کو تم ''خاندان پیمبر''میں قرار دیا ہے''(گویاعلی بن یقطین کا ہدف یہ تھا کہ بنی عباس و بنی ہاشم کے درمیان قرابت و نزدیکی کے تحت امام کاظم علیہ السلام کا علم، مہدی عباسی کے لئے بھی باعث افتخار و سربلندی ہے۔
مہدی عباسی،علی بن یقطین کے جواب سے بہت ناراض ہوا اور ابھی تک جس غصہ کو پئے ہوئے بیٹھا تھا، ابن یقطین کی بات برداشت نہ کرسکا، پیمانۂ صبر لبریز ہوگیا اور غضب آلودلہجہ میں بولا: ''اے رافضی! توسچ کہہ رہاہے''۔[17]
گویا تیر بالکل نشانہ پر لگا تو پانی جھیل میں جانا ہی تھا، علی بن یقطین کے مفہوم نے اپنا مصداق تلاش کرلیا تھا اور جب شیعیان علی علیہ السلام کے مفاہیم،مصادیق کی جانب رجوع کرتے ہیں تو تاریخ گواہ ہے کہ ان کو رافضی کے لقب سے ہی نوازا جاتا ہے۔
اسی طرح امام علیہ السلام کی حیات مبارک کے کسی بھی گوشہ پر نظر کیجئے، آپؑ کا ہر قول اور ہرفعل قرآن سے انسیت اور لگاؤ سے سرشارنظر آتا ہے، اس مختصر سی گفتگو سے یہ اندازہ تو بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ ائمہ علیہم السلام کی یہ سنت رہی ہے کہ وہ حضرات ''کسی بھی میدان میں''قرآن سے جدا نہیں ہوئے چاہے وہ مناظرہ کا میدان ہو یا تبلیغی میدان، اپنی حیات کا میدان ہو یا میدانِ زندگانیِ عوام، مقالہ کی ظرفیت اوربحث کے طولانی ہونے کے سبب اسی پر اکتفا کی جاتی ہے کیونکہ ہم کوزہ میں سمندرکو نہیں سما سکتے۔
آخرکلام میں کاظم الغیظ علیہ السلام کے پروردگارسے دست بہ دعاہوں کہ پروردگار! ہمیں بھی اپنے ائمہ کے نقش قدم پر گامزن ہونے کی توفیق مرحمت فرما اورہمیں بھی کسی میدان میں قرآن کریم سے جدا نہ کرنا۔ الٰہی آمین
حوالہ جات:
(١)ملامح من سیرة الامام موسیٰ بن جعفرالکاظم:ص١٣٥۔
(٢)سورة الفرقان٦٣۔
(٣)سورةالانفال٧٢۔
(٤)سورة الانعام٨٤و٨٥۔
(٥)سورة المجادلة٢٢۔
(٦)ملامح من سیرة الامام موسیٰ بن جعفرالکاظم:ص١٣٦۔
(٧)سورة الاعراف١١۔
(٨)سورةالکہف٥٠۔
(٩)ملامح من سیرة الامام موسیٰ بن جعفر الکاظم:ص١٣٧۔
(١٠)سورة الزمر١٨۔
(١١)سورة البقرة١٦٢۔
(١٢)سورة الانعام٣٢۔
(١٣)سورة الاعراف٣٣۔
(١٤)سورة البقرة ٢١٩۔
(١٥)سیرۂ پیشوایان:ص٤٢٠و٤٢١۔
(١٦)سیرۂ پیشوایان:ص٤٢٢۔
(١٧)فروع الکافی:ج٦،ص٤٠٦۔

مقالات کی طرف جائیے