مقالات

 

حج اور اتحاد بین المسلمین؛قسط دوم

سید عابد رضا نوشاد رضوی

اسلامی ممالک کی اندرونی مشکلات
اسلامی ممالک کی مختلف اندرونی مشکلات کے پیش نظر بھی اس پر آشوب ماحول میں اتحاد بین المسلمین اشد ضروری ہے ۔یہ داخلی مشکلات بھی بظاہر داخلی ہیں ورنہ انکے اصل اسباب کی بازگشت بھی استکباری نظام اور مغربی طاقتوں کی طرف ہوتی ہے ۔وہ مشکلات مندرجہ ذیل ہیں جن سے اکثر و بیشتر اسلامی ممالک روبرو ہیں :
۱۔مسلمانوں کا حقیقی اسلام کے دامن کو چھوڑ کر خرافات و مہملات سے متمسک ہو جانا مسلمانوں کی سب سے بڑی بد بختی رہی ہے ۔مسلمانوں کی تمام مشکلوں کی سب سے بڑی بلکہ واحد وجہ ان کا حقیقی اسلام کو خیرباد کہہ دینا ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی مسلمانوں نے اسلام کو سر مشق حیات قرار دیتے ہوئے قدم بڑھائے ہیں تو فتح و ظفر نے بھی بڑھکر وہ قدم ضرور چومے ہیں اور جب بھی انہوں نے اسلامی تعلیمات سے روگردانی کرتے ہوئے خرافات و بدعات کے کج راہوں پر گامزن ہونے کی غلطی کی ہے ،ذلت و رسوائی میں مبتلا ہوئے ہیں۔
۲۔مسلمانوں کا مغربی تمدن میں ڈھل جانا اور انکی جدید ٹیکنولوجی سے مرعوب ہوجانا۔
۳۔بعض اسلامی ممالک کی حکومتوں کا مستقل نہ ہونا اور استکباری طاقتوں سے ہم پیمانی کو ، اسلامی عزت واقتدار پر ترجیح دینا۔
۴۔فقر و غربت وفقر کا رواج اور اقتصادیات کی بدترین حالت جسکی وجہ سے علمی اور ثقافتی پسماندگی مسلمانوںکاجزء لاینفک بن گئی ہے نیز روحی ،جسمی اور نفسیاتی امراض بھی غربت اور فقر کا نتیجہ ہی ہیں ۔
۵۔اسلامی ممالک کے مابین اختلافات کا وجود اور ایک دوسرے کے لئے ان کی سیاسی قدرت نمائیاںیا ایک اسلامی ملک کا دوسرے اسلامی ملک کے خلاف اپنا کاندھا اسلام دشمن عناصر کے حوالے کر دیناتاکہ وہ دشمن اس پر بندوق رکھ کر گولی چلا سکے ۔یہ اسلامی ممالک بجائے اس کے کہ ایک دوسرے کی امداد کرتے ہوئے ظلم و استکبار کا دنداںشکن جواب دیتے ،اسرائیل ، امریکہ ،فرانس ،بر طانیہ اور روس جیسی اسلام مخالف طاقتوں کے سامنے اسلامی ممالک کے خلاف دوستی کا ہاتھ بڑھا دیتے ہیں۔
۶۔مسلمانوں کے درمیان مذہبی اختلافات کا وجود جو اکثر اوقات علمی بحث و گفتگو سے باہر نکل کر جنگ کے میدان تک پہونچ جاتا ہے اور ہزاروں بے گناہ جانیں چلی جاتی ہیں ، بچے یتیم ،عورتیں بیوہ اور مائیں بے اولاد ہوجاتی ہیں ۔ایک دوسرے پر کفر وفسق کا الزام لگایا جاتا ہے حتی یہ نادان مسلمان اسقدر اندھے ہو جاتے ہیں کہ مسجدوں اور زیارت گاہوں کو خون سے رنگین کرنے میں بھی ذرا ساتأمل نہیں کرتے ۔
بیشک اس طرح کی نادانیاں دشمنان اسلام کی مسرت اور اسلام و مسلمین کی بربادی کا باعث بنتی ہیں۔اگر مذاہب کے بعض نظریات ایک دوسرے سے مختلف ہیں تو انہیں جدال احسن اور علمی مناظروں اور نشستوں سے برطرف کرنا چاہئے ]و جدالھم بالتی ھی احسن [،مسجدوں ،زیارت گاہوں اور امام باڑوں میں خودکش حملوں اور ایک دوسرے پر لعنت وملامت کرنے سے نہ کوئی سنی، شیعہ ہوجائے گا اور نہ کوئی شیعہ سنی بلکہ انتقام کی آگ اور بھی زیادہ شعلہ ور ہوتی جائے گی ۔بعض مسلمانوں کی یہ نادانیاں تو بری ہیں ہی لیکن اس سے زیادہ برا کام وہ دانا مگر غافل مسلمان کر رہے ہیں جو قرآن مجید کی اس آیت پر عمل نہیں کرتے :
''اور اگر مومنین کے دو گروہ آپس میں جھگڑا کریں تو تم سب ان کے درمیان صلح کراؤ اور اس کے بعد اگر ایک گروہ دوسرے پر ظلم کرے تو سب مل کر اس سے جنگ کرو جو زیادتی کرنے والا گروہ ہے یہاں تک کہ وہ بھی حکم خدا کی طرف واپس آجائے پھر اگر پلٹ آئے تو عدل وانصاف کے ساتھ اصلاح کرو اور انصاف سے کام لو کہ خدا انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ ''(١٠)
مذکورہ آیت ہر مسلمان کو حکم دے رہی ہے کہ مسلمانوں کے دو مختلف گروہوںکے درمیان اختلاف کی صورت میں ان کے درمیان صلح برقرار کرو ۔
کیا اسلام اور مسلمین کی ٹھیکہ داری کا دم بھرنے والے لوگ اس آیت پر عمل کر رہے ہیں ؟ کیا دو اسلامی ملکوں کے باہمی اختلافات کو ختم کرنے کی غرض سے کوئی تیسرا سلامی ملک ثالثی کرنے کو تیار ہے ؟یا یہ کہ ہر مسلمان ،ہر اسلامی ملک اور ہر اسلامی گروہ صرف اپنے شخصی و ذاتی مفاد کو مد نظر رکھے ہوئے ہے؟
٦۔اسلام دشمن عناصر کے جانب سے مختلف ذرائع ابلاغ کے ذریعہ مسلمانوں کے درمیان قومیت پرستی کی آگ کو شعلہ ور کرنا ۔اس مرحلے میں بھی مسلمان فریب کا شکار ہو چکا ہے جو اپنے آپ میں ایک زہریلی بیماری ہے جبکہ اسلام نے کسی طرح کی برتری کو فضیلت شمار نہیں کیا ہے بلکہ فضیلت اور برتری کا معیار صرف اورصرف تقویٰ الہی کو جانا ہے۔[ان اکرمکم عنداللہ اتقیٰکم]۔
اے کاش !یہ مسلمان عصر حاضر کے تقاضوں کو درک کرلیتا اور قومیت پرستی اور نسلی و نژادی تعصبات سے کنارہ گیری اختیار کرکے اسلامی غیرت کو اپنا سرمایۂ حیات بنا لیتا !!
٧۔اسلامی معاشروں میں طبقاتی فاصلوں کا وجود اور اسی طرح کی دیگر مشکلات۔

ہماری ذمہ داریاں
تمام مسلمانوں اور خصوصاً علمائے اسلام کے کاندھوںپر تو بہت سی ذمہ داریاں ہیں جنکو اگر نبھایا جائے تو مسلمان ہر درد و غم سے نجات پا سکتا ہے لیکن اس مقام پر صرف چندفرائض کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے :
۱۔مسلمانوں کے امور کی طرف توجہ دینا اور اس سلسلہ میں چارہ اندیشی کرنا :پیغمبر اسلام(ص) فرماتے ہیں : ''من اصبح ولم یھتم بأمور المسلمین فلیس منی''یعنی جو مسلمان اس حالت میں رات گذار دے کہ مسلمانوں کے امور کے سلسلہ میں چارہ اندیشی نہ کرے تو وہ مجھ سے نہیں ہے۔
لہذا ہر مسلمان کا فریضہ ہے کہ دوسرے مسلمان کے ہر طرح کے اقتصادی ، علمی ،ثقافتی اور سیاسی امور میں اپنی توانائی کے مطابق امداد کرے۔ اس سلسلہ میں علماء اور دانشوران اسلام کی ذمہ داری عام مسلمان کے وظائف سے کہیں زیادہ ہے۔
۲۔بیان شدہ اندرونی اور بیرونی مشکلات سے مقابلے کے لئے علمائ، دانشوروں اور بارسوخ شخصیتوں کی اپنے بیانات ،مضامین ، تحریروں اور مختلف تحریکوں کے ذریعہ سعی و کوشش ۔
۳۔مسلمانوں کے مثبت نکات، انکی اسلامی غیرت اور دینی جذبات سے مکمل طور پراستفادہ کرتے ہوئے انہیں اسلام مخالف سیاستوں سے آگاہ کرنا اور قرآن و اسلام کے احکام پر صحیح طریقہ سے عمل کرنے کی دعوت دینا۔
۴۔چوتھی ذمہ داری جو سب سے اہم ہے اور جسکا بیشتر تعلق علماء اور بااثر ورسوخ شخصیتوں سے ہے وہ یہ ہے کہ وہ لوگ مسلمانو ں کو اختلافات پر اکسانے کے بجائے ان کے درمیان محبت و دوستی اور اتحاد کا بیج بونے کی مسلسل کوشش کرتے رہیں اس لئے کہ اتحاد ہی ایسی دوا ہے جس کے ذریعہ مسلمانوں کے ہر طرح کے دردوغم کا مداوا ہو سکتا ہے اور وہ اپنی کھوئی ہوئی عزت اور اقتدار کو دوبارہ حاصل کرسکتے ہیں۔
۵۔اپنے بین المذاہب عقائدی اختلافات کو بحث و گفتگو اور علمی مناظروں کے ذریعہ حل کرنا تاکہ یہ اختلافی مسائل علمی نشستوں سے نکل کر گلی کوچوں میں خون کی ہولی کھیلے جانے کا باعث نہ بنیں ۔
۶۔جدید گمراہ فرقوں کو پنپنے نہ دینا اور ان کا ہر لحاظ سے بائیکاٹ کرنا۔
۷۔ہر طرح کے نسلی و قومی تعصبات سے پرہیز۔
۸۔اسلامی ممالک کے ان سربراہوں کے خلاف علمائے اسلام اور امت مسلمہ کا متحد ہو جانا جو در حقیقت مغربی طاقتوں کی کٹھ پتلی بنے ہوئے ہیں ۔
۹۔اسلام دشمن عناصر کے خلاف تمام علمائے اسلام کا متحدہ منشور اور متفقہ حکمت عملی کواختیار۔
۱۰۔دین اسلام کے مقدس چہرے کو بگاڑنے والے طالبان و القاعدہ جیسے ہر خونخوار اور درندے تکفیری گروہ یا فرد کو اسلام سے لا تعلق قرار دینا۔یہ کام تمام اسلامی فرقوں کے علماء کے متفقہ اعلان پر منحصر ہے۔
۱۱۔حج،نماز جمعہ ،محافل و مجالس اور مختلف اجتماعات کے موقع پر امت مسلمہ کو اسلام دشمن طاقتوں کی سازشوں سے آگاہ کرنا اور باہمی اتحاد و ہمدلی کی مسلسل تلقین کرتے رہنا۔
۱۲۔''بین الاقوامی تقریب مذاہب کانفرنس ''کے تحت تمام اسلامی ممالک میں اتحاد بین المسلمین اور تقریب مذاہب کے عنوان سے مخصوص عظیم الشان نشستوں کا مسلسل انعقاد تاکہ نظریہ اتحاد بین المسلمین ایک اسلامی ثقافت کی شکل اختیار کر لے۔

حج تجلی گاہ اتحاد
ہجرت کا دوسرا سال تھا ،اسلام نو مولود تھا ،پیغمبراسلام(ص) بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز بجا لانے میں مصروف تھے کہ جبریل امین نازل ہوئے اور حضور اکرم(ص) کا رخ بیت المقدس سے کعبہ کی طرف تبدیل کردیا اور آپ(ص) نے اس نماز کی باقی دو رکعتوں کو بیت اللہ الحرام کی طرف رخ کرکے ادا کیا ۔
تاریخ کا یہ عظیم مرحلہ اگر چہ خانۂ کعبہ کی قدر وقیمت اور بزرگی و عظمت کو ثابت کررہا ہے لیکن اس زمانے کے اکثر مسلمانوں کے لئے تبدیلی قبلہ کا فلسفہ اور اسکی حکمت واضح نہیں تھی لیکن آہستہ آہستہ کچھ مدت کے بعد تمام وابستگان ذات احدیت کے لئے یہ امر بخوبی آشکار ہو گیا کہ خدائے منان نے کعبۂ معظمہ کو کو اتحادواستقلال کا محورومرکز بنا دیا ہے اور اس ذات دانا نے اس تجلی گاہ اتحاد پر مسلمانان عالم کے اجتماع کو انکی شان و شوکت ،عظمت و جلالت، عزت واقتدار اور معنوی و مادی رشدوکمال کا سرچشمہ قرار دیا ہے ۔
ہاں! کعبہ خلیل اللہ کے قدرت مند ہاتھوں کے ذریعہ تعمیرہوا تاکہ مرکز توحید اور عنوان اتحاد بنے ۔پیغمبر اسلام(ص) کے زمانے میں جب کعبہ معظمہ کی تعمیر نو کامرحلہ آیا توایک حد تک دیوار کھڑی کرنے کے بعد حجرالاسود کو نصب کرنے کے سلسلہ میں قبائل عرب میں اختلاف پیدا ہو گیا کہ یہ عظیم افتخار کس قبیلہ کو نصیب ہو۔آخر کار سب نے اس بات پر اتفاق کر لیاکہ اس سلسلہ میں رسالت مآب کا جو نظریہ ہوگا وہی نافذ ہوگا ۔آنحضرت (ص) نے حکم فرمایا کہ ایک عبا زمین پر بچھا کر حجرالاسود کو اس عبا میں رکھ دیا جائے اور ہر قبیلہ اس عبا کے ایک گوشہ کو تھام کر خانہ کعبہ تک لائے ،جب سب نے اس حکم پر عمل کیااور حجرالاسودکعبہ کی دیوارکے نزدیک آگیاتو حضور اکرم(ص) نے اپنے دستہائے مبارک سے اسے دیوار کعبہ میں نصب کردیا ۔(١٠)
پیغمبر اسلام(ص) نے اپنے اس خدا پسندانہ عمل سے اپنی امت کو عمومی اتحاد کی طرف دعوت دی ہے ۔آنحضرت(ص) کا یہ عمل اتحاد اور ہمدلی کا ایک ایسا درس ہے جسمیں قیامت تک آنے والے فرزندان توحید کے لئے چند اہم نکات پوشیدہ ہیں:
١۔دو مختلف قبیلوں یا گروہوں میں اختلاف کی صورت میں مسئلہ کو حل وفضل کرنے کی غرض سے فہیم اور سنجیدہ افراد آگے بڑھیں۔
٢۔اختلافی مسائل کو حل کرنے میں عدالت و مساوات کا ضرور خیال رکھا جائے۔
٣۔ فہیم افراد کی سعی و کوشش، تلخیوں کو حلاوت اور اختلافات کو وحدت میں تبدیل کر سکتی ہیں۔
٤۔ مقدس اور الہی مقامات سر چشمہ ٔ وحدت واتحاد ہونے چاہئیں نہ کہ مرکز نفرت و اختلاف۔
حضرت ختمی مرتبت (ص) نے اس درس کے ذریعہ کعبہ معظمہ کو منادی اتحاد کے عنوان سے دنیا کے سامنے پیش کیا ہے ۔یہ خانۂ خدا صرف منادی توحید واتحاد ہی نہیں بلکہ مساوات [سواءً العاکف فیہ والباد](١٢)،آزادی واستقلال پسندی [البیت العتیق](١٣) ،طہارت وپاکیزگی [طہر بیتی](١٤) ،اور قیام اور استواری[قیاماًللناس](١٥)،کا کامل مظہر بھی ہے۔
حضور اکرم (ص)نے اپنی اس خوبصورت روش کے ذریعہ سیئات کو حسنات اور نفرتوں کو محبتوں میں تبدیل کر دیا ۔اسی لئے تو آج تک بیت اللہ الحرام سے اتحاد کا ضمضمہ سنائی دیتا ہے، اسکی دیواریں بظاہر خاموش مگر در حقیقت گویا ہیں اور ایک ایک فرزند توحید سے متحد ہونے کی التجا کر رہی ہیں کہ اے مسلمان! متحد ہو جا!اپنی گرانقدر میراث کولٹنے نہ دے! اپنی کھوئی ہوئی عزت کو دوبارہ حاصل کرنے میں کوشاں ہو جا ! بے حیائی کا لباس اتار پھینک ! استکباری نظام کے زیر سایہ نہ رہ اور الہی رنگ میں رنگ جا !

حج بہترین موقعہ
دین اسلام نے مسلمانوں کے اجتماع کو کافی اہمیت دی ہے ۔یہاں تک کہ اس دین مبین نے امت مسلمہ کو جماعت واجتماع کی طرف رغبت دلانے کی خاطر باجماعت ادا ہونے والے اعمال و فرائض میں بے انتہا ثواب قرار دیا ہے ۔جو ثواب واجب نمازوں کوبا جماعت ادا کرنے میں قرار دیا گیا ہے اتنا ثواب فرادیٰ نماز کو حاصل نہیں ہے جیسا کہ احادیث میں واردہوا ہے کہ اگر نماز جماعت میں نمازیوں کی تعداد دس افراد سے زیادہ ہوگی تو اس کاثواب خداوند عالم کے علاوہ کسی کے علم میں نہیں ہے ۔(١٦)اسی طرح اگر یہ نماز عام مسجد میں قائم ہو تو اس کا ثواب اور بھی زیادہ ہے اور اگر وہ مسجد، جامع مسجدہو تو اس کے ثواب کی انتہا نہیں ہے۔اسی طرح اسلام نے دیگر اعمال و عبادات میں بھی مسلمان کی وحدت اور ان کے اجتماع کو بہت اہمیت دی ہے۔
لیکن کیا اسلام کایہ حسین قانون صرف معنوی حکمت کا حامل ہے؟نہیں ہرگز نہیں !ہم اسے ایک معنوی پہلو کا نام دیکر محدود نہیں بنا سکتے اسلئے کہ اگر خدا کو اس قدر ثواب دینا تھا تو وہ گھر میں پڑھی جانے والی فرادیٰ نماز میں بھی یہ ثواب قرار دے سکتا تھا ۔اس کے خزانے میں کوئی کمی نہیں ہے لیکن اجتماعی اعمال وافعال میں اس قدر ثواب کے موجود ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس میں معنوی پہلو کے علاوہ بھی کوئی اہم پہلو ہے جو براہ راست اس اجتماع سے مربوط ہوتا ہے اور وہ ہے اسلام کا سیاسی پہلو یعنی ایسے اجتماعات کا ہدف یہ ہے کہ امت مسلمہ عالم اسلام کے حالات سے آگاہ ہوتی رہے اور اسلام ومسلمین کی چارہ جوئی میں مصروف رہے۔
اس بات کا کافی حد تک امکان پایا جاتا ہے کہ دین اسلام نے جماعت میں فرادیٰ کی بنسبت زیادہ ثواب رکھا ہے تاکہ اہل خاندان اور پڑوسی ایک جگہ جمع ہوںاور ایک دوسرے کے ا حوال سے آگاہ ہوں۔ مسجد میں پڑھی جانے والی نماز جماعت کا ثواب گھر میں پڑھی جانے والی نماز جماعت کے ثواب سے زیادہ قرار دیا گیا ہے تاکہ ایک محلہ اور ایک گاؤں کے مسلمان ایک دوسرے کے احوال سے با خبر ہوں اور در پیش مشکلات کے بارے میں غور وفکر کرنے پر مجبور ہوں ،اسی طرح نماز جمعہ کا ایک فلسفہ یہ ہے کہ قرب و جوار اور اکناف و اطراف کے مسلمان ایک مقام پر اکٹھا ہوں اور اپنی مشکلات کے بارے میں چارہ اندیشی کریں ،اسی سلسلے کو برقرار رکھتے ہوئے اسلام نے پوری دنیا میں پھیلے ہوئے فرزندان توحید کو ایک مقام پر جمع کرنا چاہا تو حج کو واجب کر دیا *تاکہ مسلمانان عالم پوری دنیائے اسلام کے حالات سے باخبر ہوں ،تبادلہ خیال کریں ،اسلام اور مسلمین کو مشکلات کی دلدل سے نکالیں اور توحید کے زیر سایہ آکر اتحاد کا پرچم بلند کریں۔
لشکر اسلام کا یہ عظیم اجتماع دشمنان اسلام کی تمام کوششوں کو نقش بر آب کرکے پیروان دین مبین کو کائنات ہستی میں دوبارہ سر بلندی عطا کر سکتا ہے مگر ضرورت ہے وحدت و اتحاد، نظم وانسجام ، عزم راسخ اور قلب محکم کی ۔اسی لئے تو اسلام محمدی (ص) ہر موحد کو آواز دے رہا ہے:
بتان رنگ و خو کو توڑ کر ملت میں گم ہو جا
نہ ایرانی رہے باقی نہ تورانی نہ افغانی
(علامہ اقبال)

امام خمینی کی نظر میں حج کا سیاسی پہلو
علامہ اقبال اور جمال الدین اسدآبادی جیسے منادیان اتحاد کی فہرست میں ایک درخشاں نام انقلاب اسلامی کے رہبر کبیر حضرت آیة اللہ العظمیٰ روح اللہ موسوی خمینی رحمة اللہ علیہ کا بھی موجود ہے جنکا تا نفس آخر سارا ہم وغم اسلام ومسلمین کی فلاح و بہبودی تھا ۔اسی مقدس ہم وغم کی آہوں نے ہی آپ کے ان بیانات کی شکل اختیار کر لی جنکو سن کر ہر با ضمیر مسلمان اپنے اندر ایک عجیب انقلابی کیفیت کا مشاہدہ کرتا ہے اور وہ یہ کہتا ہوا نظر آتا ہے کہ یہ تو میرے ہی دل کی آواز ہے ! ہاں ! یہ ایسا منادی اتحاد تھا جو مومنوں کے قلوب میں پوشیدہ مقدس آرزوؤں اور پاک و طاہر آوازوں کوسمیٹ کر ہویدا کر دیا کرتا تھا تاکہ ہر مسلمان خواب غفلت سے بیدار ہو کر اسلام کی صدائے استغاثہ پر لبیک کہے۔
حج کے موقعہ پر امام خمینی زائرین بیت اللہ کو ایک پیغام دیتے ہیں جس کا ایک اقتباس ذیل الذکر ہے :
''حج کی انجام دہی کی غرض سے سر زمین وحی پر جمع ہونے والے آپ تمام فرزندان توحید پر واجب ہے کہ اس موقع سے فائدہ اٹھائیں اور چارہ اندیشی کریں ۔مسلمانوں کے مسائل کو حل کرنے کی غرض سے تبادلۂ خیال کریں ۔اس موقعہ پر آپ سبھی پر واجب ہے کہ اسلام کے مقدس اہداف ،شریعت طاہرہ کے عالی مقاصد، مسلمانوں کی ترقی اور اسلامی معاشرہ کی وحدت و ہم دلی کی راہ میں کوشاں ہو جائیں ۔استقلال کے حصول اور استعماری سرطان کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے پر ہم فکر و ہم پیمان ہو جائیں، مختلف مملکتوں سے آئے ہوئے مسلمانوں کی زبان سے ان کی مشکلات کو سنیں اور اسے حل وہضم کرنے میں ذرہ برابرکوتاہی نہ کریںنیزاسلامی مملکت کے غرباء وفقراء کے سلسلہ میں چارہ اندیشی کریں ۔اسلامی سرزمین فلسطین کو اسلام کے سب سے بڑے دشمن صہیونزم کے پنجوں سے نجات دینے کے بارے میں غوروفکر کریں ۔تمام ممالک سے آئے ہوئے علماء اور دانشوروں پر لازم ہے کہ ملت مسلمہ کو بیدار کرنے کے لئے تبادلۂ نظر کے ساتھ مستدل بیانات مسلمانوں کے درمیان پھیلائیں کریں نیز اپنے ملک کی طرف مراجعت کے بعد ان بیانات کو وہاںبھی منتشر کریں اور اسلامی ممالک کے رؤساء کو اس بات کی تاکید کریںکہ وہ اسلامی اہداف کو اپنا نصب العین قرار دیں ۔(١٧)
امام خمینی انہیں امورووسائل کے تناظر میں حج کے سیاسی پہلو پر زیادہ زور دیتے تھے۔ امت مسلمہ کو خانہ کعبہ کی طرف متوجہ کراتے ہوئے آپ فرماتے ہیں:اے مسلمانان عالم! اپنی عزت اور اپنے اقتدار کو اسلام اور بیت اللہ کے ذریعہ حاصل کرو۔(١٨)
ہاں !یہ صرف خمینی کبیر کی آواز ہی نہیں بلکہ یہ ایک خوشخبری اور مژدہ بھی ہے۔ سرفرازی کا مژدہ !سربلندی کا مژدہ !حیات کا مژدہ!نجات کامژدہ!
لیکن یہ خوشخبری اور مژدہ صرف مژدہ ہی بن کر رہے گا اگر مسلمانان عالم نے اتحاد کی طرف قدم نہ بڑھائے۔اسلامی سماج اسی وقت با حیات نظر آئے گا جب اسکے بے جان جسم میں روح اتحاد پھونکی جائے گی ۔
خدا وند منان تمام مسلمانان عالم کو راہ اتحاد پر گامزن ہونے کی توفیق عطا فرمائے! (آمین)

حوالے
(١٠)سورۂ حجرات٩
(١١)وسائل الشیعہ۔٣٢٩٩۔٣٣٠
(١٢)سورہ ٔحج ٢٥
(١٣) سورۂ حج٢٩و٣٣
(١٤) سورۂ حج ٢٦
(١٥)سورہ ٔمائدہ٩٧
(١٦)مستدرک الوسائل ج١ص٤٨٧
(١٧) حج کنگرۂ عبادی سیاسی ص ١٥۔١٩
(١٨) صحیفہ ٔ نورج١٨ ص٧١

مقالات کی طرف جائیے