مقالات

 

عالمی حقوق انسانی کا اسلامی مقصد

علامہ محمد تقی جعفری قدس سرہ

ترجمہ : سید عابد رضا نوشاد رضوی
انسان کے عالمی حقوق پر ادیان الہی میں کافی توجہ دی گئی ہے۔ دین اسلام نے انتہائی صاف و شفاف انداز میں اس مسئلہ کی جانب توجہ دلائی ہے۔ یہ فہم و ادراک یوروپ کے بیدار مغز دانشوروں کے ذہن میں نشاۃ الثانیہ [renaissence] کے بعد وجود میں آیا اور اس سرزمین کے مختلف علاقوں میں وہاں کے صاحبان قلم کی تحریروں میں ظہور پذیر ہوا۔ منجملہ فرانس کا آئین جو ۱۷۹۵؁میں انسانی حقوق و فرائض کے عنوان سے ۳۱ دفعات اور ۳۷۷/ اصولوں اور بنیادی دفعات کی صورت میں ترتیب دیا گیا۔ یہ آئین اس جملہ سے شروع ہوتا ہے:
"فرانس کی قوم واجب الوجود کے حضور، انسانی حقوق و فرائض پر مشتمل اس منشور کا اعلان کرتی ہے"۔
اس منشور یا آئین کی ایک خاصیت یہ ہے کہ اس میں انسان کے عالمی فرائض کے دو اصولوں سے مدد لی گئی ہے: ۱۔ جو چیز خود کے لئے پسند نہیں کرتے اسے دوسروں کے لئے بھی پسند نہ کرو۔ ۲۔ دوسروں کے ساتھ نیکی کرو تاکہ وہ بھی تمہارے ساتھ نیکی کریں۔(۱)
اگر یہ دوسرا اصول اسی صورت میں بیان ہوا ہو جیسا کہ میرے ماخذ و مصدر میں موجود ہے تو اس میں ایک نقص پایا جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ اس کے ذریعہ انسانوں کے وجود میں اعلیٰ ترین انسانی اصول کے سلسلہ میں معاملہ والی طبیعت کو تقویت ملتی ہے۔ اس لئے کہ مذکورہ جملہ میں دوسروں کے ساتھ نیکی کی نصیحت یا اس کا حکم اس لئے دیا گیا ہے تاکہ دوسرے بھی اس کے ساتھ نیکی کریں لہذا کہا گیا کہ "نیکی کرو تاکہ تمہارے ساتھ نیکی کی جائے" یعنی تمہارے حق میں دوسروں کی نیکی اس نیکی کا صلہ ہے جو تم دوسروں کے حق میں انجام دے کر حاصل کروگے۔ جبکہ دوسروں کے حق میں نیکی کی حقیقی و واقعی قدر کسی جزا و پاداش کی طمع کے بغیر خود اس نیکی کی ذات میں موجود ہوتی ہے۔ جیسا کہ اسلامی تعلیمات میں بیان ہوا ہے:
"ہم صرف اللہ کی مرضی کی خاطر تمہیں کھلاتے ہیں ورنہ تم سے نہ بدلہ چاہتے ہیں نہ شکریہ"۔(۲)
مذکورہ آیت اگرچہ اہل بیت رسول صلواۃ اللہ علیھم کے سلسلہ میں نازل ہوئی ہے لیکن اس کا پیغام تمام انسانوں کے نام ہے اور وہ یہ کہ نیکی کی اصل قدر و قیمت اس وقت ہے جب اسے کسی جزا و پاداش یا شکریہ کی امید و توقع کے بغیر انجام دیا جائے۔ مولانا روم اسی ذاتی قدر و قیمت کو منظوم صورت میں اس طرح بیان کرتے ہیں :
گل خندان که نخندد چه کند
علم از مشک نبندد چه کند
مه تابان بجز از خوبی و ناز
چه نماید چه پسندد چه کند
آفتاب ار ندهد تابش و نور
پس بدین نادره گنبد چه کند
انسان اور اس کے حقوق کی عالمیت کی طرف اسلام کی سنجیدہ توجہ کے پیش نظر ضروری ہے کہ جو اسلامی دانشور مغربی افکار و نظریات کی روشنی میں انسان کے عالمی حقوق کی تبیین و تشریح کے موضوع پر کام کر رہے ہیں ، وہ اسلامی فقہ کی نظر سے اس منشور کی سرگذشت اور سابقہ کے بارے میں بھی اپنی تحقیقات میں کم از کم ایک حصہ مختص کریں جس کا عنوان یہ ہو:"انسان اور اس کے حقوق کی عالمیت کے ابلاغ میں انبیائے الہی کا کردار"۔
وہائٹ ہیڈ مختلف تمدّن و مکاتب فکر کی تاریخ کے سلسلہ میں کافی اہم معلومات رکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنی کتاب"سرگذشت اندیشہ ھا"میں اس بات کو صراحتاً بیان کیا ہے، وہ کہتے ہیں:"آزادی اور مدنیت کے سلسلہ میں عبری پیغمبروں کی بہت عظیم کاوشیں رہی ہیں"۔ جیسا کہ اس منشور کی ترتیب و تنظیم کے اغراض و مقاصد کی بحث میں بیان ہوا ، اس منشورمیں موجود تمام اسلامی مواد، اسلامی قلمرو میں قابل مشاہدہ ہیں۔(۳)
الہی ادیان و مذاہب نے پوری سنجیدگی اور فداکاری کا حکم دے کر، اپنی رسالت کی بنیاد انسانوں کی بارہ قسم کی برابری ،تین قسم کے اتحاد اور "حیات معقول" میں ان سے متصف ہونے کو قرار دیا ہے جس کے بعد ایک ایسے انسانی معاشرے کا وجود ممکن ہوجاتا ہے جوعدل و انصاف اور معقول آزادی کی بنیاد پر قائم ہو اور جہاں خیرات و کمالات کے حصول میں سبقت لینے کا رواج ہو۔
" سب= ایک اور ایک= سب " کے فارمولے میں یہ تینوں اتحاد قابل مشاہدہ ہیں کہ انسان کمیّت کے حصار سے بلند ہوکر اعلیٰ کیفیت کی وادی میں کسطرح قدم رکھتا ہے۔ یہ آیت قابل غور ہے:
"اسی بنا پر ہم نے بنی اسرائیل پر لکھ دیا کہ جو شخص کسی نفس کو کسی نفس کے بدلے یا روئے زمین میں فساد کی سزا کے علاوہ قتل کرڈالے گا اس نے گویا سارے انسانوں کو قتل کردیا اور جس نے ایک نفس کو زندگی دے دی اس نے گویا سارے انسانوں کو زندگی دے دی"۔(۴)
معتبر کتب حدیث میں دو ایسی اہم روایات وارد ہوئی ہیں جن سے انسان کی عالمی حیثیت اور اس کے مشترکہ حقوق کا اثبات ہوتا ہے:
پہلی روایت میں پیغمبر اکرم فرماتے ہیں:
"لوگ اللہ کے عیال "اہل خانہ" کی طرح ہیں اور ان میں سب سے زیادہ اللہ کے نزدیک وہ ہے جو انہیں سب سے زیادہ نفع پہچانے والا ہے"۔(۵)
دوسری روایت میں بھی حضرت ختمی مرتبت ارشاد فرماتے ہیں:
"جو بھی کسی انسان کی فریاد سنے جو مسلمانوں کو مدد کے لئے پکار رہا ہو اور وہ اس کی فریاد رسی نہ کرے ، وہ مسلمان نہیں ہے۔"(۶)
واضح ہے کہ اس حدیث میں "رجل " تمام انسانوں کو شامل ہوتا ہے۔
انتہائی تعجب کی بات ہے کہ جن مسلمان دانشوروں نے حقوق انسانی کے عالمی منشور یا آئین کے بارے میں کام کیا ہے ، انہوں نے اسلامی متون میں موجود اس بنیادی نظریہ کے بیان ہی نہیں کیا ہے! حقوق انسانی کے عالمی منشور کے اغراض و مقاصد کے سلسلہ میں مغربی نظریات پر گفتگو کے دوران ہم یہ بیان کریں گے کہ انبیائے عظام علیھم السلام کا مقصد اسی حقیقت عظمیٰ کی جانب انسانوں کو متوجہ کرانا تھا کہ وہ روح اتحاد و برادری کے ساتھ ایک دوسرے سے متعلق رہیں اور صرف یہی نہیں کہ وہ خود کو ایک ہی پیکر کے اعضاء کے طور پر دیکھیں بلکہ اس بات پر بھی یقین رکھیں کہ اگر وہ"حیات معقول" کی راہ میں قدم رکھتے ہوئے آگے بڑھیں گے تو ان کی ان کی روحوں کا الہی روح سے اتصال ، سورج سے سورج کی کرنوں کے اتصال سے زیادہ شدید ہوگا۔ انسانیت کے لئے اس سے بڑھ کر کون سا اتحاد متصور ہو سکتا ہے؟ اگر انسانیت" بھائی چارے" اور"ایک ہی جسم کے اعضاء" کے اعلیٰ مقام تک نہیں پہنچتی تو اس صورت میں بھی اسلام دنیا کو انسان کی عالمی حیثیت کی جانب متوجہ کر رہا ہے:
" اے پیغمبر آپ کہہ دیں کہ اہلِ کتاب آؤ ایک منصفانہ کلمہ پر اتفاق کرلیں کہ خدا کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کریں کسی کو اس کا شریک نہ بنائیں آپس میں ایک دوسرے کو خدائی کا درجہ نہ دیں اور اس کے بعد بھی یہ لوگ منہ موڑیں تو کہہ دیجئے کہ تم لوگ بھی گواہ رہنا کہ ہم لوگ حقیقی مسلمان اور اطاعت گزار ہیں"۔(۷)
مذکورہ آیت اور اسلام و مغرب کی نظر میں انسانی حقوق کی تقابلی بحث کے پیش نظر یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ انسان کے عالمی حقوق کی بنیاد سب سے پہلے اسلام میں رکھی گئی جس کا منادی اوّل دین ابراہیم علیہ السلام تھا۔ ممکن ہے کسی کے ذہن میں یہ سوال جنم لے کہ اس دعوت کے مخاطب صرف اہل کتاب ہیں اور دوسرے انسان اس میں شامل نہیں ہیں اور دوسرے یہ کہ اللہ نے ان دونوں باتوں یعنی خدا پرستی اور متنوع و متعد بندگیوں سے رہائی و آزادی کو ان تمام انسانوں کے لئے ایک مشترکہ حقیقت کے طور پر قرار دیا ہے جو انبیائے الہی کے پیروکار اور آسمانی کتابوں پر عمل کرنے والے ہیں۔
اس کا جواب یہ ہے کہ : ان دونوں باتوں کے سلسلہ میں اگر تحقیق کی جائے تو تمام انسانوں کے تمام عالمی حقوق حاصل ہوجائیں گے۔ یعنی اگر انسان خدا پرستی اور انکار شرک میں کامیاب ہوجائے، خود کو گونا گوں بندگیوں سے آزاد کر لے تو وہ اپنی ذاتی قدر و حیثیت کے اثبات میں بھی کامیاب ہو جائےگا۔ جب انسان کی ذاتی قدر و حیثیت قابل ادراک و تسلیم ہو جائے گی تو آزادی، صلح و صفا اور انسان کے انفرادی و اجتماعی حقوق بھی بہ نحو عام ثابت ہوجائیں گے۔ انسانی حقوق کی ضرورت و واقعیت کے آشکار ہوتے ہی تمام انسان ان کے حصول کی راہ میں کوشاں ہو جائیں گے۔
اس بنا پر، یہ کہنا کسی صورت درست نہیں کہ مغربی حقوق انسانی میں موجود تیس عدد مواد پوری طرح مغرب کا ہی خاص امتیاز ہیں۔ اپنے ہم نوعوں کے ساتھ تعلقات کے اصلاحی اصول و نظریات ہمیشہ بیدار مغز انسانوں کے ذہن میں رہے ہیں۔ اسلئے کہ ایک بیدار اور رشد یافتہ ذہن ،انسان کی مادی و روحانی حیثیت و خصوصیات سے آگاہ و آشنا ہوتا ہے اور وہ یہ بھی جانتا ہے کہ اپنے ہمنوع پر ظلم و ستم کے کسی عامل و سبب کا خاتمہ اور اس کی آزادی و عدالت کا انتظام، اس سے پہلے کہ اس کے ہمنوع کو خوش کرے یا اسےانفرادی و اجتماعی زندگی کی تلخیوں اورسختیوں سے نجات دے، اس اہم اور سنگین فرض سے سبکدوشی کے نتیجہ میں خود اس کے اندر ایک کیف و سرور کا سبب بنتا ہے۔

حوالہ جات:
۱۔ قانون اساسی فرانسہ، سید مرتضی قاسم زادہ، ۴۴ و ۵۴
۲۔ سورہ انسان / ۹
۳ ۔ ترجمہ و تفسیر نہج البلاغہ، محمد تقی جعفری، ج۲۲،ص۸۱۔
۴۔ سورہ مائدہ/۳۲؛ بلا شبہ آیۀ کریمہ کا یہ ارشاد کہ "ہم نے بنی اسرائیل پر لکھ دیا ہے"، بنی اسرائیل کی نسلی خصوصیت کا عکّاس نہیں ہے بلکہ اس حکم کا سبب ان کا حضرت موسی علیہ السلام کے دین پر ہونا ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بعد پوری انسانیت کے لئے مبعوث بہ رسالت ہوئے تھے۔ پس در حقیقت، یہ حکم یا یہ اصول اسی مستقل و پائیدار دین سے تعلق رکھتا ہے جس کی تبلیغ انبیائے الہی اپنی نبوت کے مکانی و زمانی حدود میں کیا کرتے تھے۔
۵۔ وسائل الشیعۃ ، شیخ حر عاملی، ج۶ ص ۵۱۰
۶ ۔ وہی حوالہ۔
۷ ۔ سورہ آل عمران/۶۴

مقالات کی طرف جائیے