مقالات

 

حضرت ابو طالب(ع)؛ عقیدہ و عمل کی روشنی میں

مولانا سید شمشاد احمد رضوی گوپال پوری

تاریخ اسلام کا ایک بڑا المیہ یہ بھی ہے کہ محسن اسلام کے محسن چچا، اور کُل ایمان کے مومن باپ ،حضرت ابو طالب(ع) کا ایمان چودہ صدیوں سے آج تک معرض بحث میں ہے اور مسلمان ابھی تک یہ طے نہ کر سکاکہ ابو طالب مومن تھے یا معاذ اللہ کافر تھے ،حقیقت امر یہ ہے کہ ہمارے کہنے سے نہ کوئی مومن ہوتا ہے نہ کافر ،بلکہ جسے خدا مومن تسلیم کر لے وہ مومن ہے ،جسے خدا کافر کہہ دے وہ کافر ہے۔حضرت ابو طالب(ع) کو کافر کہنے کا نتیجہ آج سامنے ہے اور وہ یہ کہ آج اسلامی فرقے ایک دوسرے کو کافر کہہ رہے ہیں اوربزعم خودکافر سمجھ کر ایک دوسرے کو قتل بھی کر رہے ہیں۔کسی کو بے دین کہنا ،بد عمل کہنا،لامذہب کہنا اور ہے ،اور سیدھے کفر کا فتویٰ لگا دینا اور ہے۔اس سلسلہ میں قرآن کریم کی ایک آیت اور رسول اسلام (ص) کی ایک حدیث سے استفادہ کرنا چاہتا ہوں۔
خدا وندکریم قرآن مجید میں ارشاد فرما رہا ہے : اگر کوئی تم پر اپنا اسلام ظاہر کرے تو خبر دار یہ نہ کہو کہ تم مومن نہیں ہو۔(۱)
اس آیۂ کریمہ سے صاف ظاہر ہے کہ حکم ظاہر پرلگائو باطن کو اللہ پر چھوڑ دو،اگر کسی بھی طریقہ سے کوئی اپنا اسلام ظاہر کررہا ہے' قول کے ذریعہ ،کلمہ کے ذریعہ یا عمل کے ذریعہ' تو تم اسے مسلمان اور مومن مان لو،اور یہ نہ کہو کہ تم مومن نہیں ہو'ورنہ ممکن ہے کہ نتیجہ برعکس ہو،جس کا ارشاد مندرجہ ذیل حدیث میں ملتا ہے،جس میں سرکار رسالتمآب کا ارشاد گرامی ہے کہ اگر دو گروہ یا دو مسلمان آپس میں ایک دوسرے کو کافر کہنے لگیں تو ان میں سے ایک ضرور کافرہے۔،لہٰذا کسی کو کافر کہنے سے پہلے ایک مسلمان کو ہزار بار سوچنا چاہیے کیونکہ چاند کا تھوکا خود اپنے منھ پر آتا ہے۔
حضرت ابو طالب کا ایمان اظہر من الشمس ہے جو چیز سورج سے زیادہ تابناک ہو اس سے انکار کرنا عداوت و خصومت کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔
کسی کا دین ایمان یا کسی کا اسلام سمجھنے کے لیے کچھ آسان طریقے ہیں،اگر ان طریقوں کی بنیاد پر دیکھا جائے تو یہ پوچھنے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی کہ تمہارا دین کیا ہے۔
مثلاً :
١۔ اس کا نظریہ کیا ہے،یعنی اس کے دل ودماغ میں کیا ہے ۔اس کی سوچ کیسی ہے ۔
٢۔ اس کا عملیہ کیسا ہے ،یعنی اس کے طور طریقے ،رفتار ،گفتار کی کیفیت کیا ہے۔
حضرت ابو طالب کی تاریخ پر اگر ایک طائرانہ نظربھی ڈالی جائے تواس حقیقت کا بخوبی اندازہ ہو جائے گا کہ آپ کا عقیدہ و عمل کیسا ،تھا یہ ایک فطری بات ہے کہ جس کا جیسا عقیدہ ہوتا ہے ویسا ہی اس کا عمل ہوتا ہے۔دنیا میں سر جھکانے والوں کی کمی نہیں،کوئی سورج کے سامنے جھکتا ہے تو کوئی آگ کے سامنے ،کوئی درختوں کو پوجتا ہے تو کوئی بتوںکاسجدہ کرتا ہے یعنی جو جس پر عقیدہ رکھتا ہے اس کے آگے جھکتا ہے۔
خانۂ کعبہ میں عرب کے ہر قبیلہ کا ایک بت ہوا کرتا تھا،لیکن ہمیں آج تک کسی کتاب میں یہ نہ ملا کہ قبیلۂ بنی ہاشم کا بھی کوئی بت کبھی کعبة اللہ میں نصب کیا گیا ہو۔بات واضح ہے کہ خاندان بنی ہاشم میں بت پرستی کا کبھی کوئی سلسلہ رہا ہی نہیں اسی خاندان بنی ہاشم کے چشم وچراغ حضرت ابو طالب ہیں ۔ جنھوں نے ایک لمحہ کے لیے بھی کسی غیر اللہ کے آگے سر نہیں جھکایا۔
ممکن ہے اس جملہ کی کوئی لفظی گرفت کر کے کہے کہ ابو طالب غیر اللہ کے آگے نہیں جھکے تو اللہ کے آگے ہی کہاں جھکے۔اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ جب رسول اسلام کئی سال تک غار حرا میں احتیاطی تدبیر کے تحت چھپ کرعبادت کر سکتے ہیں ،تو کیا تعجب ہے کہ ابو طالب بھی مصلحتاً کفار ومشرکین سے پوشیدہ ہو کر کہیں عبادت کرتے ہوں اور کفار آپ کی توحید پرستی سے بے خبر ہوں۔رہ گئی بات یہ کہ اگر مسلمان تھے تو کلمہ کیوں نہیں پڑھا ؛اس سوال کا اتنا سا جواب کافی ہے کہ اظہار اسلام صرف کلمہ ہی پر منحصر نہیں ہے بلکہ دوسرے ذرائع سے بھی انسان کا مسلمان ہونا ظاہرہوجاتاہے۔اس کے طور طریقہ اس کی تہذیب،اس کا تمدن،اس کا عمل ،اس کا کردار ،اس کا میلان،اس کارجحان وغیرہ،اور اگر یہی ضد ہے کہ حضرت ابو طالب کا کلمہ تاریخ میں دکھائیے تو میں ایسا کلمہ دکھا سکتا ہوں ،جو مسلمانوں کے چھ کلموں سے کہیں زیادہ وزنی ہے۔اگر لوگ تعصب کی عینک آنکھوں سے اتا ر کر ذرا تاریخ ِشعب ِابو طالب پڑھیں تب پتہ چلے گا کہ ابو طالب نے کلمہ پڑھا یا نہیں۔چنانچہ جس وقت مرسل اعظم (ص) نے چچا کو خبر دی کہ مجھے خدا نے خبر دی ہے کہ ہمارے خلاف جو عہد نامہ لکھ کر کفار قریش نے خانۂ کعبہ کے دروازے پر لٹکایا تھا اس کے سارے حروف دیمک چاٹ گئی ،صرف اللہ کا نام باقی ہے ۔یہ سن کر حضرت ابو طالب فوراً شعب سے باہر آئے اور کفار قریش کے سامنے اللہ کے نبی کی بات سب کو سنا دی 'کفار نے کہا کہ اگر یہ بات غلط ثابت ہو گئی تو ؟ حضرت ابو طالب نے کہا کہ ما کذب َ ابن اخی قط یعنی میرا بھتیجا کبھی جھوٹ نہیں بولتا۔حضرت ابو طالب کے دہن مبارک سے نکلا ہو ایہ فقرہ نہیں 'بلکہ مکمل کلمہ ہے جو اپنے طور پر آپ نے پڑھ دیا ،عالم اسلام کے چھ کلمے ایک طرف اور حضرت ابو طالب کا یہ ایک کلمہ' ایک طرف ۔یعنی آپ کا کفار سے یہ کہنا کہ میرا بھتیجا کبھی جھوٹ نہیں بولتا نبی آخر (ص) کی ہر بات کی تصدیق کرتا ہے،اگر نبی کہیں کہ اللہ ایک ہے اس کے علاوہ کوئی لائق پرستش نہیں 'تو ابو طالب کے اس فقرے نے تصدیق کی کہ میرا بھتیجا کبھی جھوٹ نہیں بولتا،اگر نبی اکرم (ص) کہیں کہ میں خدا کا آخری رسول ہوں تو ابو طالب کا یہ کلمہ تصدیق کرے گا کہ میرا بھتیجا کبھی جھوٹ نہیں بولتا۔اگر مصلح اعظم کہیں کہ مجھ سے پہلے ایک لاکھ تیئس ہزار نو سو ننیانوے نبی اس دنیا میں آچکے ہیں تو ابو طالب کا یہ کلمہ فوراً تصدیق کرے گا کہ میرا بھتیجا کبھی جھوٹ نہیں بولتا وغیرہ۔۔آپ کی زبان مقدس سے نکلا ہوا یہ فقرہ بذات خود حضرت ابو طالب(ع) کا کلمہ بھی ہے اور اظہار عقیدہ بھی'کیوں کہ زبان عقیدے کی ترجمان ہو تی ہے۔ممکن ہے یہ سوال ذہن میں پیدا ہوکہ ماکذب ابن اخی قط.حضور پرنور کی ایک صفت حمیدہ کی تعریف ہے'کلمہ کہاں ہے ،کلمہ تو وہ ہے جو آنحضرت کے نام سے پڑھا جائے اور لا الہ اللہ الااللہ کے فوراً بعد محمد رسول اللہ کہا جائے یعنی جب تک آنحضرت کے نام کا کلمہ نہ پڑھا جائے 'کلمہ 'کلمہ' نہیں ہے تو اس کا بھی ہمارے پاس بہترین جواب موجود ہے اور وہ یہ کہ آنحضرت کے دو نام ہیں ایک' محمد'اور ایک' احمد' ،محمد عالمِ اجسام کا نام ہے اور احمد عالم انوار کا نام ہے،حضرت عیسیٰ نے اپنی قوم کو اپنے بعد ایک نبی کی آمد کی خوشخبری دی جس کا ذکر قرآن مجید میں ہے۔ملاحظہ ہو:
(و مبشراً برسول ٍ یاتی من بعدی اسمہ احمد)میرے بعد ایک رسول آئے گا جس کانام احمد ہوگا"۔(۲)
حضرت عیسیٰ (ع)نبی آخر کی بشارت نبی (ص)کی آمد سے پانچ سو سال پہلے دے رہے ہیں اور آنے والے رسول کا تعارف لفظ محمد سے نہیں 'لفظ احمد سے کرارہے ہیں،کیونکہ آنے والا نبی ابھی عالم انوار میں تھالہٰذا بات صاف ہو گئی کہ ضروری نہیں کہ سرکا ر ختمی مرتبت کو ہمیشہ لفظ محمدسے ہی یاد کیا جائے کیونکہ جب حضرت کے دونام ہیں،محمد اور احمد تو کسی بھی نام سے حضرت کا تذکرہ ہوسکتا ۔دنیا کے سارے مسلمان محمد رسول اللہ کہہ کر کلمہ پڑھتے ہیں اگر حضرت ابو طالب بھی صرف لفظ محمد سے کلمہ پڑھتے تو عا م مسلمانوں میں اور محسن بانی ٔ اسلام میں کیا فرق رہ جاتا؟ لہٰذا ابو طالب نے محمد کہہ کر بھی کلمہ پڑھا اور احمد کہہ کر بھی ۔ اور دنیا کو بتا دیا کہ تم نے کلمہ اس وقت سے پڑھا جب نبی نے عالم اجسام میں نبوت کا اعلان کیا،میر اعقیدہ عالم اجسام تک محدود نہیں لہٰذا میں صرف محمد کہہ کر نہیں بلکہ احمد کہہ کر بھی کلمہ پڑھوں گاتاکہ دنیا سمجھ سکے کہ میں ان کو صرف عالم اجسام کا نہیں بلکہ عالم انوار کا بھی نبی مانتا ہوں۔
حضرت ابو طالب کے عرفانی اشعار ،ارباب تاریخ نے اپنی کتابوں میں نقل کیے ہیں ۔علامہ ابن ابی الحدید معتزلی نے شرح نہج البلاغہ میں، ڈاکٹر سید بدرالحسن اعلیٰ اللہ مقامہ نے فیضان ابو طالب میں علامہ علی حیدر قدس سرہ نے تاریخ ائمہ میں اور دوسرے درجنوں صاحبان قلم نے اپنی اپنی کتابوں میں ان اشعار کو نقل کیا ہے جو حضرت ابو طالب کے ایمان و ایقان اور عقیدہ و عرفان پر مکمل دلالت کرتے ہیں۔
حضرت ابو طالب(ع) اپنے عقیدہ اور ایمان کا اظہار مندرجہ ذیل اشعار کے ذریعہ اس طرح فرماتے ہیں:
و خیر بنی ہاشم احمد
ورسول الالٰہ فترةً
ترجمہ :تمام بنی ہاشم میں سب سے افضل احمد ہیں'جو زمانہ فترت کے بعد رسول بنائے گئے۔
یہ وہ شیر تھا جس میں آپ نے لفظ احمد استعمال کیااور رسالت کے ساتھ ساتھ آنحضرت کی افضلیت کا بھی کلمہ پڑھا۔دوسراشعر اس طرح ہے
یا شاہد اللہ علی فاشہد
انی علی دین نبی احمد
ترجمہ:اے وہ جو اللہ کی طرف سے مجھ پر گواہ ہے گواہ رہنا کہ بے شک میں اس نبی کے دین پر ہوں جو احمد ہے ۔یہاں بھی آپ عقیدے کا اظہار لفظ احمد کے ذریعہ کر رہے ہیں۔اس شعر میں اللہ کے ان فرشتوں پر بھی ایمان کا اظہار ہے جو اللہ کی طرف سے بندوں کے اعمال پر گواہ ہیںاور اس نبی کی نبوت کا بھی اقرار کیا جس کا نام احمد ہے۔
ایک تیسرے شعر میں جناب ابو طالب نے حضور کے دونوں ناموں کا تذکرہ کیا ہے۔توجہ فرمائیں!
لقد اکرم اللہ نبی محمداً
فاکرم خلق اللہ فی الناس احمد
ترجمہ:بتحقیق اللہ نے اپنے نبی محمد(ص) کو مکرم کیا،پس لوگوں میں سب سے افضل احمدہیں۔
ان دو مصرعوں میں سے ایک میں لفظ محمد اور دوسرے میں لفظ احمد استعمال کیا۔یہ بات بھی قابل غور ہے کہ پہلے مصرعے میں محمد اور دوسرے میں احمد استعمال کیا جس سے اس عقیدے کا اظہار ہوتا ہے کہ یہ ہر حال میں نبی ہیں،چاہے عالم اجسام میں ہوںیا عالم انوار میں 'محمد اور احمد دونوں نام اللہ کے رکھے ہوئے ہیں اور دونوں ہی کاذکر قرآن مجید میں موجود ہے۔نزول قرآن سے پہلے حضرت ابو طالب کا بھتیجے کے لیے لفظ احمد یا محمد استعمال کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ ابو طالب نبی نہ سہی لیکن وصی ضرور ہیں ورنہ آپ کو کیسے معلوم کہ گود میں پلنے والے نبی کے دونام ہیں،احمد اور محمد۔اگر حضرت عیسیٰ کو معلوم تھا کہ آنے والے آخری رسول کا نام احمد ہوگا تو حضرت ابو طالب کو بھی معلوم تھا کہ آنے والے اور میری گود میں پلنے والے کا نام اللہ نے صرف احمد نہیں بلکہ محمد(ص) بھی رکھا ہے۔
طول کلام کی وجہ سے مضمون یہیں ختم کرتا ہوں ،حضرت ابوطالب کی عملی زندگی پر پھر کبھی روشنی ڈالی جائے گی۔خدا وند عالم جناب ابو طالب کے صدقہ میں ہمیں بھی ایمان وعرفان، فرض شناسی وحق شناسی، ایمان پروری واسلام نوازی اور خدمت خاصان خدا وبندگان خدا کی بہترین توفیق عطا فرمائے ۔

حوالہ جات
۱۔ سورۂ نساء آیت94
۲۔ سورۂ صف آیت 6

مقالات کی طرف جائیے