مقالات

 

حسینی شہ سرخیاں

سید عابد رضا نوشاد رضوی

حمد و سپاس لا زوال اس ذات بے ہمتا سے مخصوص ہے جس نے اس کائنات کو خلعت فاخرہ وجود سے مزین فرمایا، شمس و قمر، شجر و حجر، کوہ و بحر، عرش و فرش بلکہ کائنات کے ذرہ ذرہ کو بنی نوع انسان کے لئے مسخر کردیا، پھر بشریت کے تحفظ کی غرض سے از آدم تا خاتم ایک سلسلۂ ہدایت قائم کیا جس کی شعاع بے بدیل اور ضیائے بے نظیر قائم آل محمد( ص )کی صورت میں آفتاب عالم تاب ہے۔
درود و سلام بے پایان ہو حبیب خدا محمد مصطفی( ص ) اور ان کی صلب میں آنے والے ان مقدس انوار الٰہیہ اور جواہر ربانیہ پر جن کے دم پر بود و نبود کائنات استوار اور قافلۂ حیات رواں دواں ہے۔
ایک بار پھر بات کربلا کے متعلق ہے، دل و دماغ، جمال و جلال عاشورا میں کھوئے ہوئے ہیں، فکر کا محور ''حسین '' ہے.... لیکن فکر کے بال و پر تھک گئے، ذہن کی پرواز تھم گئی اور ایک بار پھر انسانی شعور حسینی شعار کی حقیقت کے ادراک سے قاصر رہا۔ ہاں اتنا ضرور طے ہوگیا کہ ''کل ارض کربلا و کل یوم عاشورا'' ... اس لئے کہ کربلا کی جنگ، رحمٰن و شیطان اور عزت و ذلت کی جنگ تھی جس میں دو متضاد کردار روبرو تھے۔ سید الشہداء نے ان دونوں کرداروں کے درمیان حد فاصل کھینچتے ہوئے فرمایا:
'' مثلی لا یبایع مثلہ''
''مجھ جیسا یزید جیسے کی بیعت نہیں کر سکتا۔''
فرعون، طالوت و جالوت، محمد( ص )و ابوجہل اور حسین اور یزید (لعن) کی تاریخ سمٹی ہوئی ہے وہیں اس جملہ نے یہ بھی واضح مذکورہ جملہ روح حسینیت ہے جس میں موجود دونوں ''مثل'' میں جہاں ہابیل و قابیل، ابراہیم و نمرود، موسیٰ و کر دیا کہ حق و باطل قیامت تک نبرد آزما رہیں گے۔
''جہاں جہاں پر یزیدیت ہے وہاں وہاں اک حسین ہوگا۔''
امام حسینؑ نے قیامت تک آنے والی نسلوں کے لئے ہدف حیات معین اور راہ نجات ہموار کردی ہے۔ اگر شعور انسانی، شعار حسینی کے پیکر میں ڈھلے تو انسانی اقدار کو بقا ملتی ہے۔
کس قدر حسین ہیں حسینؑ کی یہ شہ سرخیاں:
۔میں شر انگیزی ،فساد اور ظلم پھیلانے کے لئے نہیں نکلا ہوں بلکہ میں نے اپنے نانا رسول خدا( ص )کی امت کی اصلاح کے لئے قیام کیا ہے۔میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر کرنا چاہتا ہوں اور اپنے نانا اور بابا کی سیرت پر چلنا چاہتا ہوں۔
۔ایک زنا زادہ کے زنا زادہ بیٹے نے مجھے دو راہے پر کھڑا کر دیا ہے،یا تو میںبیعت کا انکار کر کے تلواروں کو گلے لگا لوں یا پھر بیعت کرکے ذلت کو قبول کر لوںتو زمانہ یاد رکھے کہ ذلت ہم سے دور ہے۔
۔میری نظر میں موت ہی سعادت ہے اور ظالموں کے تحت تسلط زندگی گزارنا ذلت کے سوا کچھ نہیں۔
۔موت ذلت سے بہتر ہے اور ذلت جہنم سے۔
۔ذلت کی زندگی سے عزت کی موت بہتر ہے۔
۔میں موت سے ڈرنے والا نہیں ۔راہ عزت اور احیاء حق میں موت کس قدر آسان ہے!راہ عزت میں موت حیات جاوید کے سوا کچھ نہیں اور ذلت کی زندگی ایسی موت ہے جس میں حیات کی کوئی رمق نہیں۔
۔اگر دین محمد( ص )صرف میرے قتل سے ہی قائم رہ سکتا ہے تو اے تلواروں مجھ پر ٹوٹ پڑو۔
۔اگر دنیا میں کوئی پناہگاہ باقی نہ رہے تب بھی میں یزید بن معاویہ کی بیعت نہیں کر سکتا۔
۔اگر امت پر یزید جیسا شخص حاکم ہو جائے تو پھر اسلام کا فاتحہ پڑھ دینا چاہئے۔
یہ حسینی شعار اور انسانی اقدار ایک قوم کی حیات جاوید اور اس کی بقا ء و سلامتی کی ضمانت ہیں۔ جس قوم نے بھی انہیں اپنا سرنامۂ حیات اور سر مشق زندگی قرار دیا وہ یہی کہتی ہوئی نظر آئی:
''ذلت کی زندگی سے عزت کی موت بہتر ''۔
اسی عزت کی موت میں اس کی حیات مضمر ہے، مثال بحرین ،شام ، عراق ،فلسطین، سعودیہ عرب اور پاکستان جہاں وہی دو متضاد کردار ایک بار پھر بر سر پیکار ہیں۔ ایک طرف حق تو دوسری جانب باطل۔ آج فلسطینیوں کے لب پر بھی نام ''حسین'' ہے، انہوں نے مقام عمل میں غزّہ کو کربلا، اسرائیل کو یزید اور خود کو حسینی مان لیا ہے تو پھر ہم بھی انہیں پہ مژدہ سنائے دیتے ہیں:
''الحق یعلو ولا یعلیٰ علیہ''

مقالات کی طرف جائیے