مقالات

 

میدان غدیر ؛ مرکز اتحاد

سید غافر حسن رضوی

ہرمسلمان کا یہی دعویٰ ہے کہ اگر اس دنیا میں مسلمانوں کی جان بچانی ہے تو اتحاد جیسی دولت سے مالامال ہونا نہایت ضروری ہے اور یہ بھی اظہر من الشمس ہے کہ پوری دنیا میں فقط اتحاد ہی ایک ایسی شئے ہے جس کے ذریعہ کوہ مصمم کے ارادوں میں ردّوبدل ممکن ہے، کیونکہ ایک انگلی کو کوئی بھی توڑ سکتا ہے لیکن گھونسے کے سامنے ٹھہرنا ہرکس وناکس کے بس میں نہیں ہوتا کیونکہ گھونسے کے ذریعہ اس کا منھ توڑ جواب دیا سکتا ہے۔ اس پرآشوب ماحول میں اتحاد کا وجود کسی عنقہ سے کم نہیں۔ دورحاضر ایسی پستیوں کی جانب گامزن ہوچکا ہے کہ نہ تو باپ اپنے بیٹے کا خیال کرتا ہے اور نہ ہی بیٹا اپنے باپ کا احترام، نہ تو بیٹی حجاب عفت و حیا میں نہاں ہے نہ ہی نوجوان بیٹا اپنے والدین کے قابو میں، گویا جدھر بھی نظر اٹھتی ہے ادھر حیا کی جگہ بے حیائی، احترام کی جگہ توہین جیسی خبیث چیزوں نے لے لی ہے یعنی اس زمانہ میں باپ بیٹے میں اتحاد کی رمق نظر نہیں آتی تو پھر پورے معاشرہ کو کس طرح ایک پلیٹ فارم پر لا جائے؟ تمام امت مسلمہ کے لئے لمحۂ فکریہ ہے کہ اس گندآلود زمانہ میں امت مسلمہ کیسے متحد رہے!۔ایک جانب سے تو خداوند عالم فرمارہا ہے کہ ''اس کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رہواور متفرق نہ ہوجاؤ'' تو دوسری جانب سے انبیاء الٰہی کا اہم فریضہ اتحاد ویکجہتی کی دعوت دینا ہے۔ ایسی صورت حال میں معاشرہ کا لحاظ کیا جائے یا حکم خداوندی کاپاس رکھا جائے؟ اس کا جواب یہ ہوگا کہ معاشرہ سے چھٹکارا تو صرف مرنے کے بعد ہی مل سکتا ہے لہٰذا اس سے جدا ہونا ممکن نہیں لیکن یہ بھی ضروری نہیں کہ معاشرہ کی ڈگر پر اپنے آپ بھی گامزن ہوجائیں بلکہ ایسی صورت میں ہرمسلمان کا عینی فریضہ ہے کہ خداوندعالم کے احکام و فرامین پر عمل پیرا ہوتے ہوئے معاشرہ کو یہ سمجھائے کہ اس وقت کا معاشرہ کجروی کا شکا رہوچکا ہے کیونکہ معاشرہ کی یہ تمام حرکات و سکنات اسلام مخالف ہیں۔ ہمیں اسلام کا پاس ولحاظ رکھتے ہوئے معاشرہ میں احکام اسلامی کے نفوذ میں کوشاں رہنا چاہئے اور یہ کوشش اسی وقت ثمربخش ثابت ہوسکتی ہے جب تمام امت مسلمہ ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوجائے۔ تمام امت مسلمہ کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کا ایک اہم نسخہ ''میدان غدیر'' ہے کیونکہ میدان غدیر مرکز اتحاد ہے۔ اس واقعہ کے کئی گوشے اس بات کا منھ بولتا شاہکار ہیں کہ اس واقعہ نے تمام امت کو ایک جگہ جمع ہونے کی دعوت دی ہے۔ غدیر خم کے بعض اتحادی نکات کی جانب توجہ مبذول کرنالازم ہے:

اتحاد کا پہلا نمونہ:
١٨ذی الحجہ ١٠ہجری کا واقعہ ہے کہ حضوراکرم حجة الوداع سے واپس آرہے ہیں، ابھی میدان جحفہ سے تھوڑی دور ''کراغ غمیم'' نامی مقام پر ہی پہنچے تھے کہ خداوندعالم کی جانب سے جبرئیل امین یہ پیغام لیکر نازل ہوئے: ''اے رسول! اس پیغام کو پہنچا دیجئے جو آپ پر نازل کیا جاچکاہے، اگر تم نے یہ کام انجام نہیں دیا تو گویا کوئی کار رسالت ہی انجام نہیں دیا!۔ (اگر تم کو منافقین ومشرکین کا خوف لاحق ہے تو یاد رکھو) خدا تمہیں لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا ''۔ اس آیت سے کئی نکات سمجھ میں آتے ہیں جن میں سے چند نکات کا تذکرہ کرنا نہایت ضروری ہے:
الف:پیغام نہایت ہی اہم ہے اسی لئے رسول اسلام کو خداوندعالم کی جانب سے تحذیر کی جارہی ہے۔
ب:یہ کوئی نیا پیغام نہیں ہے بلکہ اس پیغام کو پہنچانے کا حکم ہورہا ہے جو پہلے نازل ہوچکا ہے۔
ج:یہ کام اتنا اہم ہے کا تمام امور رسالت اسی پر موقوف ہیں۔
د:یہ ایساپیغام ہے کہ اگر رسول اسلام بیان کردیں تو آپ کی جان پاک کو خطرہ بھی لاحق ہوسکتا ہے۔
ہ:خدا نے منافقین کے شر سے حضوراکرم کی جان کی ضمانت لی ہے۔جب آیۂ بلّغ نازل ہوئی تو حضوراکرم نے حکم دیا کہ یہیں ٹھہر جائو ، جو لوگ آگے بڑھ گئے ہیں ان کو پیچھے بلائو اور جو لوگ پیچھے رہ گئے ہیں ان کا انتظار کرو۔ حضوراکرم کا یہ جملہ اتحاد کا منھ بولتا شاہکار ہے کہ دیکھو سب لوگ متحد ہوکر رہنا کیونکہ پراکندگی اسلام ومسلمین کے شایان شان نہیں۔ اگر تم طاقتور ہو تو کمزور لوگوں کو بھی اتحاد ویکجہتی کے ساتھ اپنی ہمراہی میں لیکر آگے بڑھو اور اگر ضرورت پڑجائے تو کمزور لوگ طاقتور افراد کو آواز دیں کہ بھائی ذرا ہماری مدد کرو، ہم سے چلا نہیں جارہا ہے، ہمیں بھی اپنے ساتھ لے چلو، پورا قافلہ اتحاد و یکجہتی کی مثال قرار پانا چاہئے۔ عرب کی چلچلاتی دھوپ میں بالکل کھلے ہوئے چٹیل میدان میں تمام لوگوں کو ایک مقام پر جمع کرنا کسی اہم پیغام کی غمازی کرتا ہے۔ ہر صاحب عقل یہ فیصلہ کرسکتا ہے کہ ایسے ماحول میں رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ اپنی دوستی ثابت کرنے کے لئے نہیں ٹھہریں گے!۔جو انسان عقل کو بروئے کار لائے وہ اس مقام کو نہایت اہم شمار کریگا کیونکہ آسمانی حکم اور رسول خداصلی اللہ علیہ و آلہ کا تمام مجمع کو روکنا اپنے چچازاد بھائی سے اپنی محبت کا اظہار کرنے کے لئے نہیں بلکہ انتہائی اہم حکم ہے جس کی خاطر تمام لوگوں کو ایک ساتھ جمع کیا جارہا ہے۔

اتحاد کا دوسرا نمونہ:
جب تمام لوگ متحد ہوکر ایک مقام پر جمع ہوگئے تو حضوراکرم نے حکم دیا :نماز ظہر کا وقت ہوگیا ہے لہٰذا ظہر کی نماز باجماعت ادا ہوگی، یہ میدان غدیر کے اتحادکا دوسرا نمونہ ہے کہ نماز تو فرادا بھی پڑھی جاسکتی ہے لیکن چونکہ ہم اتحاد پسند ہیں اور اتحاد کے پیغمبر ہیں، ہمیں اس دنیا میں اتحاد کی دعوت دینے کے لئے بھیجا گیا ہے لہٰذا جماعت سے نماز ادا ہوگی۔
اتحاد کا تیسرا نمونہ: نماز کے بعدحضوراکرم اونٹوں کے کجاووں سے بنے ہوئے منبر پرتشریف لے گئے اور ایک طویل و عریض خطبہ ارشاد فرمانے کے بعد لوگوں سے سوال کیا: ''ألستُ اولیٰ بکم من انفسکم''کیا میں تمہارے نفسوں پر تم سے زیادہ حق تصرف نہیں رکھتا؟ ''قالوا بلیٰ''سب لوگوں نے ایک زبان ہوکر کہا: کیوں نہیں! بے شک آپ ہم تمام افراد پر خود ہمارے نفسوں سے زیادہ حق تصرف رکھتے ہیں۔ پھر آپ نے سوال کیا: ''کیا میں نے آج تک حکم خداوندی کے پہنچانے میں کوتاہی سے کام لیا؟''سب نے متحد ہوکر جواب دیا: ''نہیں! یارسول اللہ! آپ نے ہر پیغام پہنچایا'' یہ میدان غدیر کے اتحاد کا تیسرا نمونہ تھا کہ حضور ۖنے سب سے ایک ساتھ جواب لیا۔

اتحاد کا چوتھا نمونہ:
جب سب نے ایک ساتھ جواب دے دیا تو آپ نے امام علی کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیکر اتنا بلند کیاکہ سفیدی بغل نمایاں ہوگئی اور اس عالم میں فرمایا: ''من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ'' جس کا میں مولا ہوں اس کا یہ علی بھی مولا ہے۔ یہ میدان غدیر کے اتحاد کا چوتھانمونہ تھا کیونکہ میدان غدیر میں مشرکین و کفار نہیں تھے بلکہ تمام حاجیوں کا مجمع تھا یعنی سب مسلمان تھے اور سب نے اتحا دکے ساتھ یہ اعلان کیا تھا کہ آپ ہمارے نفسوں پر ہم سے زیادہ حق تصرف رکھتے ہیں لہٰذا حضوراکرم نے فرمایا جس طرح میں تم سب کا بالاتفاق مولا و آقا ہوں اسی طرح یہ علی بھی مولا و آقا ہے، اس کو بھی ایسے ہی اتفاق کے ساتھ تسلیم کرنا جس طرح مجھے تسلیم کیا، اس کی بھی ایسے ہی اطاعت کرنا جیسے میری اطاعت کی، جس طرح میں تمہارے لئے اولیٰ بالتصرف ہوں بالکل اسی طرح علی بھی تمہارے نفسوں کی بابت تم سے زیادہ اولیٰ بالتصرف ہے، تمام لوگ اتحاد و اتفاق کے ساتھ اس کی اطاعت میں سر تسلیم خم کرنا اور جس راستے کی یہ رہنمائی کرے اسی راستہ پر چلنا۔ اس کے بعد آنحضرت نے اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی جانب بلند کئے اورفرمایا: ' پروردگار عالم! جو اس(علی )سے محبت کرے اس کو دوست رکھ اور جو اس سے دشمنی کرے اس کو اپنی دشمنی کا نشانہ قرار دے، جو اس کی نصرت کرے اس کی مدد فرما اور جو اس کی توہین کرے اس کو ذلیل و خوار کردے، حق کو اسی جانب موڑدے جس جانب یہ جانا چاہے۔ حضوراکرم کی اس دعا سے بھی اتحاد کی دعوت سمجھ میں آتی ہے کہ تمام امت مسلمہ کو ایک پلیٹ فارم پر آکر صرف راہِ علی کا انتخاب کرنا چاہئے کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جو براہ راست بہشت و کوثر کی سمت جاتا ہے، حضورکے دعائیہ جملے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ علی سے روگردانی کرنے والا شخص خدا کے نزدیک طعن وتشنیع کے لائق ہے اور جو شخص خدا کے نزدیک ذلیل و خوار ہوجائے اس کی دنیا و آخرت بربادی کے گھاٹ اتر جاتی ہے لہٰذا اگر بربادی سے بچنا چاہتے ہیں تو ولایت و خلافت امام علی پراتحاد کرنا پڑے گا(یہ بات میں اپنی جانب سے نہیں کہہ رہا ہوں بلکہ حضوراکرم کی احادیث سے ثابت ہے اور اہل سنت کی معتبرترین کتابوں میں بھی موجودہے)۔اس اتحاد کے نمونے کی مثالیں کتابوں میں بھری پڑی ہیں، معتبر سے معتبر کتابوں میں تفصیل کے ساتھ موجود ہے کہ جب حضوراکرم نے یہ اعلان کیا تو سب سے پہلے حضرت ابوبکر و حضرت عمر آگے بڑھے اور ان الفاظ میں تہنیت پیش کی: ' اے ابوطالب کے لال! مبارک ہو مبارک، آپ آج سے میرے اور تمام مومنین و مومنات کے مولا ہوگئے۔ یہی وہ وقت تھا کہ ابن عباس نے کہا: ''خدا کی قسم! آج سے تمام مومنوں کی گردنوں پر علی کی ولایت واجب ہوگئی ''۔
حضورنے یہ پرچم اتحاد کچھ اس انداز سے بلند کیا کہ کسی کے لئے بہانہ تراشی کا موقع فراہم نہ ہوسکے، اپنی زبان مبارک سے بھی ارشاد فرمایا اور علی کا ہاتھ بلند کرکے بھی دکھایا کہ غور سے دیکھ لو یہی پرچم اتحاد ہے اسی پرچم کے زیرسایہ اتحاد کے گرانبہا موتیوں سے مالا مال ہوسکتے ہو۔ اس کے بعد حضور نے مجمع سے خطاب کیا: ''ألا الشاھد الغائب'' میرا یہ الٰہی پیغام صرف حاضرین سے مخصوص نہیں بلکہ تم تمام حاضرین کا فریضۂ عینی ہے کہ جو لوگ یہاں موجود نہیں ہیں ان تک بھی یہ اتحاد کا پیغام پہنچائواور اس پیغام کو اپنی آنے والی نسلوں تک بھی منتقل کرو۔

اتحاد کا پانچواں نمونہ:
بزم اتحاد میں ایک شیطان صفت فردمنافق(حارث بن نعمان فہری) بھی موجود تھالہٰذا اس نے جب حضوراکرم کی زبانی اتحاد کے نعرے سنے تو فوراً کھڑا ہوگیا اور کہنے لگا: ''اے محمد! آپ نے ہمیں نماز کا حکم دیا ہم نے پڑھی، روزہ کا حکم دیاہم گرمی کے موسم میں بھی بجالائے، حج زکات غرض تمام عبادتیں انجام دیں لیکن اس کے بعد بھی مطمئن نہیں ہوئے؟ اب ہماری گردنوں پر اپنے چچازاد بھائی کی ولایت کو ڈال دیا! یہ آپ نے خدا کی جانب سے انجام دیا ہے یا اپنی طرف سے؟ '' حضوراکرم نے فرمایا: ''قسم اس وحدہ لاشریک کی جس کے قبضۂ قدرت میں محمد کی جان ہے! یہ الٰہی پیغام ہے جو میں نے تم لوگوں تک پہنچایا ہے''۔ لیکن وہ منافق، صادق وامین رسول کی گفتگو سے مطمئن نہیں ہوا اور یہ کہتا ہوا چل دیا: ''خدایا! اگر یہ پیغام محمد نے اپنی طرف سے دیا ہے تو ان کو معتوب قرار دے اور اگر تیری طرف سے ہے تو مجھ پر عذاب نازل فرما'' تاریخ شاہد ہے کہ ابھی یہ منافق اپنی سواری تک بھی نہیں پہنچا تھا کہ آسمان سے ایک پتھر اس کے سرپرگرا اور نامناسب جگہ سے باہر آگیا، وہ منافق وہیں ہلاک ہوکر رہ گیا۔ خداوند عالم نے یہ عذاب نازل کرکے دنیا کو یہ سمجھایا ہے کہ اتحاد بین المسلمین کے درمیان رخنہ ڈالنے والا شخص عذاب الٰہی کے ذریعہ ہلاک ہوجاتا ہے، علی کی ولایت ہی اتحاد کی بنیاد ہے، اس سے روگردانی کرکے اتحادکی فکر پوچ ہے، اس بات کا منھ بولتا شاہکار خود مولا علی کا پچیس سالہ سکوت ہے۔ امام علی علیہ السلام نے ہمیشہ اتحاد بین المسلمین کا پاس و لحاظ رکھا، آپ ہمیشہ یہی چاہتے تھے کہ امت محمد کا شیرازہ نہ بکھرنے پائے ورنہ کیا شیرخدا، فاتح خیبر و خندق کے بازوئوں میں اتنا دم نہیں کہ اپنے حق کی خاطر قیام کریں!۔ یہی وجہ تھی کہ حضوراکرم نے اپنا نائب و جانشین مولاعلی کو قرار دیا کہ فقط یہی ایسی ہستی ہے جو میرے بعد میری امت کو راہِ اتحاد پر گامزن رکھ سکتی ہے۔یوں تو اور بھی بہت سے نکات حاصل ہوسکتے ہیں لیکن طوالت کے پیش نظر اسی پر اکتفا کررہے ہیں اس دعا کے ساتھ''اللھم اجعلنی من المتمسکین بولایة علی ابن ابیطالب علیہما السلام''۔ ''آمین''۔ ''والسلام علیٰ من اتبع الھدیٰ''۔

منابع و ماخذ:
۱۔قرآن کریم۔
۲۔تفسیر:فخررازی
۳۔تفسیر:قرطبی
۴۔سنن: ابن ماجہ
۵۔الغدیر:امینی
۶۔سنن: ترمذی
۷۔شرح نہج البلاغہ: ابن ابی الحدید
۸۔اسد الغابہ: ابن اثیر
۹۔المستفاد: ابن الدمیاطی

مقالات کی طرف جائیے