مقالات

 

عظمت زہراسلام اللہ علیہا

آیة اللہ استاد شہید مرتضیٰ مطہری رحمہ اللہ

ترجمہ : سید شاہد جمال رضوی گوپال پوری
حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کی عظمت و اہمیت کے بارے میں خداوندعالم قرآن میں فرماتاہے :انا اعطیناک الکوثر ''اے حبیب ! ہم نے آپ کو کوثر عطا کیا ''۔کوثر سے بالاتر کوئی کلمہ نہیں ہے ، جس زمانے میں عورت کو شر مطلق اور فریب و گناہ کا موجب سمجھا جاتا تھا ، اس زمانے میں قرآن نے صنف نسواں کو خیر نہیں بلکہ کوثر یعنی خیر کثیر سے تعبیر کیاہے ۔
جناب زہراء اور حضرت علی اپنے گھریلو کاموں کو آپس میں تقسیم کرنا چاہتے تھے لیکن انہیں یہ بات پسند تھی کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ اس سلسلے میں اظہار نظر فرمائیں ، اسی لئے وہ آنحضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی : یا رسول اللہ !ہمارا دل چاہتا ہے کہ آپ اپنے اعتبار سے بتائیں کہ گھر کے کون سے کام علی انجام دیں اور کن کاموں کو زہراء انجام دیں ؟چنانچہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ نے گھر کے باہر کے کاموں کی ذمہ داری حضرت علی کے حوالے کی اور گھر کے اندر کے کاموں کی انجام دہی زہرا کے سپرد کی۔
حضرت زہراء اس فیصلے سے خوش ہوکر فرماتی ہیں کہ اس وقت میری خوشی کا اندازہ نہیں لگایاجاسکتا جب میرے بابا نے گھر سے باہر کے کاموں سے مجھے سبکدوش کیا ، جی ہاں ! با شعور عورت کو ایسا ہونا چاہئے کہ اس کے دل میں گھر سے باہر نکلنے کی حرص اور خواہش نہ ہو (مگر ضرورت کے وقت )۔
ہمیں دیکھنا چاہئے کہ زہراء کی شخصیت کس پائے کی ہے ؟ ان کے کمالات اور صلاحیتیں کیسی ہیں ؟ ان کا علم کیسا ہے ؟ان کی قوت ارادی کس قدر ہے ؟ ان کی خطابت و بلاغت کیسی ہے ؟
جناب زہراء سلام اللہ علیہاجوانی کے ایام میں اس دنیا سے رخصت ہوئیں ، ان کے دشمن بہت زیادہ تھے اسی لئے ان کے علمی آثار اور کارنامے بہت کم منظر عام پر آسکے لیکن خوش قسمتی سے ان کا مفصل و طولانی خطبہ تاریخ میں ثبت ہوا ہے جسے فریقین کے علماء نے نقل کیاہے ، بغدادی نے تیسری صدی میں اسے نقل کیاہے ، یہی ایک خطبہ اس بات کو ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ مسلمان عورت خود کو شرعی حدود میں رکھتے ہوئے اور غیروں کے سامنے خودنمائی کئے بغیر معاشرے کے مسائل میں کس قدر حصہ لے سکتی ہے۔
''حضرت زہراء (س) کا خطبہ توحید کے بیان میں نہج البلاغہ کی سطح کا ہے یعنی اس قدر بلند مفاہیم کا حامل ہے کہ فلاسفہ کی پہونچ سے بالاتر ہے ، جہاں ذات حق اور صفات باریٔ تعالی کے بارے میں گفتگو ہے وہاں محسوس ہوتاہے کہ جیسے سب سے بڑی فلسفی ہیں ۔ بو علی سینا اس طرح کا خطبہ نہیں دے سکتے۔ پھر فلسفہ احکام بیان کرتی ہیں : خداوندعالم نے نماز کو اس لئے واجب کیا ، روزہ کو اس مقصد کے لئے ، حج ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے وجوب کا فلسفہ یہ ہے ۔ پھر اسلام سے قبل عربوں کی حالت پر گفتگو کرتی ہیں کہ تم لوگ کیسے تھے اور اسلام نے تمہاری زندگیوں میں کیسا انقلاب برپاکیا ۔مادی و معنوی لحاظ سے ان کی زندگی کی طرف اشارہ کرتی ہیں اور رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کے توسط سے انہیں جو مادی و معنوی نعمتیں میسر ہوئی ہیں انہیں یاد دلاتی ہیں اور پھر دلائل کے ساتھ احتجاج کرتی ہیں ''۔

ماخوذ از : مجموعۂ آثار شہید مرتضیٰ مطہری ج١٧ ص ٤٠٣

مقالات کی طرف جائیے