مقالات

 

خطبۂ شعبانیہ، رمضان المبارک کا مقدمہ

سید شاہد جمال رضوی گوپال پوری

خطبۂ شعبانیہ، رمضان المبارک کا مقدمہ

سید شاہد جمال رضوی گوپال پوری
خدا کا لاکھ لاکھ شکر کہ ہمیں سال گزشتہ کی طرح ایک مرتبہ پھر رمضان المبارک کے پر برکت مہینہ کو درک کرنے کی سعادت نصیب ہورہی ہے ، اس عظیم مہینہ کی فضیلت و برکت کے لئے یہی کافی ہے کہ خداوندعالم نے اس مہینہ کو اپنے آپ سے منسوب فرمایاہے ۔ اس مہینے میں بندہ سعادت و کامرانی کی راہوں کو بڑی تیزرفتاری کے ساتھ طے کرتاہے اس لئے کہ اس مبارک مہینہ میں نیک اعمال کی جزا کئی برابر حاصل ہوتی ہے ۔یہ رحمت و مغفرت کا مہینہ ہے اور دوسرے مہینوں کے مقابلے میں غیر معمولی فضیلت و شرافت سے بہرمند ہے ۔
ائمہ معصومین علیہم السلام رمضان المبارک کی آمد آمد پر ڈھیروں اہتمام فرماتے تھے ، لوگوں کو ماہ مبارک کے لئے پوری طرح آمادہ کرتے تھے، ان کے سامنے اس مبارک مہینہ کی بے پناہ فضیلتوں کو بیان کرکے اس سے بہتر طور پر استفادہ کرنے کی تشویق و ترغیب دلاتے تھے،اپنے اقوال و ارشادات کے ذریعہ لوگوں کو ذہنی و جسمانی دونوں طریقہ سے ماہ مبارک کے لئے تیار کرتے تھے ۔
رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ نے بھی شعبان المعظم کے آخری ایام میں رمضان المبارک کی اہمیت و قداست پر ایک عظیم الشان خطبہ ارشاد فرمایاتاکہ لوگ ہر اعتبار سے ماہ مبارک کے لئے تیار ہوجائیں ، اس خطبہ میں سرور کائنات نے صرف رمضان کی عظمت و شرافت کو واضح نہیں کیا بلکہ اعمال و عبادات کی اہمیت پر روشنی ڈالی ، انسانی حقوق اور معاشرتی ذمہ داریاں نبھانے کی جانب توجہ دلائی اور رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی نصیحت فرمائی ۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ خطبہ اہم ترین مطالب اور اخلاقیات پر مشتمل ہے جس میں ماہ مبارک سے متعلق انتہائی گرانقدر معارف نبوی مذکور ہیں ، جس پر عمل پیرا ہوکر ہر شخص بلند ترین مرتبہ پر فائز ہوسکتاہے ؛ آئیے اس عظیم الشان خطبہ کا موضوعات کے اعتبار سے ایک سرسری جائزہ لیاجائے :

رمضان ؛ بہترین مہینہ
''ایھا الناس !...اے لوگو!بے شک ماہ رمضان برکت و رحمت اور مغفرت کے ساتھ آرہاہے ، یہ وہ مہینہ ہے جو خدا کی نظر میں بہترین مہینہ ہے ، اس کے دن بہترین دن ، اس کی راتیں بہترین راتیں اور اس کی ساعتیں بہترین ساعتیں ہیں"۔

دعوت الٰہی
یہ وہ مہینہ ہے جس میں تمہیں خداوندعالم کا مہمان بننے کی دعوت دی گئی ہے اور جس میں خدا کے جود و سخاوت کا سزاوار ٹھہرایا گیا ہے ، اس مہینہ میں تمہاری سانسیں تسبیح کا ثواب رکھتی ہیں ، تمہاری نیند عبادت ہے اور تمہارے اعمال مقبول ہیں ، تمہاری دعائیں اس مہینہ میں مستجاب ہیں ، لہذا پروردگار سے اچھی نیت اور پاکیزہ دل کے ذریعہ دعا کرو تاکہ تمہیں اس مہینہ میں روزہ رکھنے اور تلاوت قرآن کرنے کی توفیق عنایت فرمائے ، شقی و بدبخت وہ شخص ہے جو اس مہینہ میں بخشش سے محروم رہ جائے ۔

یا د قیامت
واذکروا بجوعکم و عطشکم فیہ جوع یوم القیامة و عطشہ ''اے لوگو!اس مہینہ میں اپنی بھوک اور پیاس کے ذریعہ سے قیامت کے دن کی بھوک اور پیاس کو یاد کرو ''۔

اخلاقی و سماجی ذمہ داریاں
١۔ اپنے درمیان موجود فقیروں ، مسکینوں اور نادار افراد کو صدقہ دو ۔
٢۔ اپنے بڑوں کا احترام کرو اور چھوٹوں سے شفقت کے ساتھ پیش آئو۔
٣۔ اپنے خونی رشتہ داروں اور قرابتداروں سے اچھے تعلقات برقرار رکھو۔
٤۔ اپنی زبانوں کی حفاظت کرو ، اپنی نظروں کو ان چیزوں سے بچا کر رکھو جن کی طرف دیکھنا جائز نہیں اور اپنے کانوں کو ان باتوں یا آوازوں سے دور رکھو جن کا سننا روا نہیں ۔
٥۔ دوسرے لوگوں کے یتیموں سے شفقت و مہربانی سے پیش آئو تاکہ لوگ تمہارے ( خاندان وقبیلہ میں موجود ) یتیموں سے نرمی کا سلوک کریں۔

توبہ و استغفار
و توبوا الی اللہ من ذنوبکم....
"پروردگار عالم سے اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کرو اور اوقات نماز میں ہاتھوں کو دعا کے لئے اٹھائے رکھو اس لئے کہ یہ بہترین اوقات ہیں جن میں وہ ذات اقدس اپنے بندوں پر رحمت کی نظر کرتاہے جب بندے اس سے خلوت میں راز و نیاز کرتے ہیں تو ان کی سنتا ہے جب اسے پکارتے ہیںتو ان کی فریاد کو پہنچتا ہے اور جب اس سے مانگتے ہیں تو انہیں عطا کرتاہے ۔
اے لوگو!تمہاری جانیں ، تمہارے اعمال و کردار سے بندھی ہوئی ہیں ،لہذا اللہ تعالیٰ سے معانی مانگ کر اور اس کی مغفرت طلب کرکے انہیں آزاد کرا لو اور تمہاری کمریں تمہاری بد اعمالیوں اور لغزشوں کے بوجھ سے سنگین ہوگئی ہیں تو طول سجدہ سے انہیں ہلکا بنائو اور یہ یاد رکھو کہ پروردگار عالم نے اپنی عزت و جلالت کی قسم کھائی ہے کہ نماز گزار اور سجدہ گزار بندوں پر اس مہینہ میں عذاب نہیں کرے گا اور انہیں آتش جہنم سے نہیں جائے گا "۔

افطاری و اطعام کا ثواب
ایھا الناس ....
"اے لوگو!جو شخص اس مہینہ میں کسی مومن روزہ دار بھائی کا روزہ کھلوائے تو اس کا یہ عمل خداوندعالم کے یہاں ایک غلام آزاد کرانے کے برابر ہوگا اور گزشتہ گناہوں سے مغفرت کا باعث بنے گا ۔ بعض اصحاب نے عرض کی : یا رسول اللہ !ہم میں سے ہر کوئی ایسا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا ۔ آنحضرت نے فرمایا: اپنے کو افطار کے ذریعہ آتش جہنم سے بچائو چاہے آدھا دانۂ خرما اور ایک گھونٹ پانی ہی کیوں نہ ہو ، پروردگار اس پر بھی یہی ثواب دے گا اگر انسان اس سے زیادہ پر قادر نہ ہو"۔

تہذیب نفس
ایھا الناس!...
١۔ اے لوگو!تم میں سے جو بھی اس مہینہ میں اپنے اخلاق و کردار کو نیک بنائے رکھے گا وہ اس دن پل صراط سے بآسانی گزر جائے گا جس دن سارے قدم پھسل رہے ہوں گے ۔
٢۔ جو شخص بھی اس مہینہ میں اپنے غلاموں اور کنیزوں سے کم کام لے گا خدا روز قیامت اس کے حساب کو آسان کردے گا یعنی اپنے ماتحت افراد سے نرمی و عطوفت سے پیش آنا چاہئے تاکہ خداوندعالم بھی روز قیامت حساب و کتاب میں نرمی کا مظاہرہ فرمائے۔
٣۔ جو اس مہینہ میں ( دوسروں سے ) اپنے شر اور اپنی برائی کو بچائے رکھے گا تو خداوندعالم اس دن اسے اپنے غضب سے محفوظ رکھے گا جس دن اسے خداوندعالم کے حضور پیش کیاجائے گا ۔
٤۔ جو شخص اس مہینہ میں کسی یتیم کی عزت و تکریم کرے گا توپروردگار عالم قیامت کے دن اس کی عزت افزائی کرے گا ۔
٥۔ جوشخص اس مہینہ میں اپنے قریبی عزیزوں اور خونی رشتہ داروں سے اچھے تعلقات برقرار رکھے گا ( صلۂ رحم کا مظاہرہ کرے گا)تو خدائے لاشریک قیامت کے دن اس سے اپنا تعلق برقرار رکھے اور جو ان قرابتداروں سے تعلق توڑ بیٹھے گا تو خدا قیامت کے دن اس سے اپنی رحمت منقطع رکھے گا ۔

اعمال و عبادات
'' من تطوّع فیہ صلاة....اگر کوئی اس مہینہ میں ایک نافلہ نماز پڑھے گا تو پروردگار عالم اس کے لئے دوزخ کی آگ سے رہائی لکھ دے گا اور جو اس مہینہ میں ایک فریضہ کو ادا کرے گا تو اسے ستر فرائض کی ادائیگی کا ثواب دیاجائے گا جنہیں دوسرے مہینوں میں دا کیاگیاہو۔جو اس مہینہ میں مجھ پر کثرت سے درود بھیجے گا تو خداوندعالم اس دن اس کے نامۂ اعمال کو سنگین اور وزنی بنادے گا جس دن یہ ہلکے ہوجائیں گے"۔

قرآن کریم کی تلاوت
'' من تلا فیہ آیتہ من القرآن...جو شخص اس مہینہ میں قرآن کریم کی ایک آیت پڑھے گا تو اسے کسی دوسرے مہینہ میں قرآن کریم ختم کرنے کے برابر معاوضہ دیاجائے گا" ۔

جنت و جہنم کے ابواب
'' ایھا الناس ان ابواب الجنان...اے لوگو!یاد رکھو کہ اس مہینہ میں جنت کے دروازے پوری طرح کھل جاتے ہیں لہذا تم اپنے پروردگار سے دعا کرو کہ وہ انہیں تمہارے لئے بند نہ کرے ،اسی طرح جہنم کے دروازے بند ہوجاتے ہیں لہذا دعا کرو کہ وہ تم پر نہ کھل جائیں ، شیاطین کو اس مہینہ میں قید کردیا جاتاہے لہذا اپنے پروردگار سے راز و نیاز اور مناجات کرو کہ وہ شیاطین تم پر مسلط نہ ہوجائیں"۔

حسن ختام
رسول خداصلی اللہ علیہ و آلہ جب حقائق و معارف سے بھر پور اپنا بصیرت افروز خطبہ دے کر خاموش ہوئے تو حضرت علی علیہ السلام نے مجمع میں کھڑے ہوکر آنحضرت سے سوال کیا : ما افضل الاعمال فی ھذا الشھر ''اس مہینہ میں بافضیلت ترین عمل کون سا ہے ؟''۔
آنحضرت نے فرمایا :خداوندعالم نے جن چیزوں کو حرام اور ناجائز قرار دیاہے ان سے پرہیز کرو اور دوری اختیار کرو ۔یعنی آنحضرت نے اس مہینہ میں'' تقویٰ'' کو افضل ترین عمل قرار دیاہے ،خداوندعالم نے بھی رمضان المبارک کے روزہ کا ایک اہم ترین فائدہ تقویٰ قرار دیاہے ؛ارشاد رب العزب ہے:''اے ایمان والو!تمہارے اوپر روزے اسی طرح لکھ دئیے گئے ہیں جس طرح تمہارے پہلے والوں پر لکھے گئے تھے شاید تم اس طرح تقویٰ شعار بن جاؤ''۔(بقرہ١٨٣)
ظاہر ہے انسان کے لئے پرہیزگاری اور تقویٰ شعاری کافی اہمیت کی حامل ہے اس لئے کہ انسانیت کا معیار ہی تقویٰ ہے ، یہی وجہ ہے کہ گناہوں سے پرہیز ماہ رمضان میں بہترین عمل بتایاگیاہے ۔
آئیے آخر میں ہم سب مل کر خالق کائنات کی بارگاہ میں عاجزی سے دعا کریں : خدایا!ہمیں اس خطبہ میں سرورکائنات کے بیان کردہ جامع اصول پر پابند رہنے ، اسلامی اور انسانی اقدار کو اختیار کرنے ، ماہ مبارک کے فیوض و برکات سے بہرہ مند ہونے اور تقویٰ شعاری کو اپنی طبیعت کا اہم ترین حصہ بنانے کی توفیق عطا فرما؛آمین یا رب العالمین۔
نوٹ :اس خطبہ کو شیخ صدوق کی عیون اخبار رضا و امالی صدوق ، علامہ باقر مجلسی کی گرانقدر کتاب بحار الانوار، سید بن طاؤوس کی اقبال الاعمال اور وسائل الشیعہ وغیرہ میں ملاحظہ کیاجاسکتاہے ۔

مقالات کی طرف جائیے