مقالات

 

امام حسین علیہ السلام کے خطبات اور مقصد قیام

سید غافر حسن رضوی

کوئی انسان اگر قیام کرتا ہے تو اس کے قیام میں کچھ اہداف و مقاصد پوشیدہ ہوتے ہیں،کوئی بھی قیام ہو،کیسا بھی قیام ہو، رموز و اسرار اور اہداف و مقاصد سے خالی نہیں ہوتا ، یہ اور بات ہے کہ مقصد کس حیثیت کا حامل ہے؟
بہر حال قیام کرنے والے کے نزدیک قیام کا ایک ہدف ہوتا ہے،مثلاً گاندھی جی نے قیام کیا تو آپ کے قیام کا مقصد'' ہندوستان ''کو انگریزوں کے چنگل سے آزادکرانا تھا، چاہے اس راہ میں کتنی ہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔ چونکہ گاندھی جی کے نزدیک مقصد قیام اہم تھا لہٰذامشکلوں کے پہاڑ بھی پانی نظر آرہے تھے۔
اسی طرح امام خمینیؒ نے قیام کیا، آپ کے قیام کا مقصد یہ تھا کہ عیاش اور ظالم شاہ کا تختہ پلٹ دیں اور ایران میں اسلامی پرچم لہرائے، چنانچہ اس ہدف میں کامیاب بھی ہوئے، آخر امام خمینی نے ایسا قیام کیوں کیا؟ امام خمینی نے امام حسینؑ سے یہ درس لیا تھا کہ اگر حلال کو حرام اور حرام کو حلال شمار کیا جانے لگے تو خاموش نہ رہنا بلکہ اس کے خلاف آواز احتجاج بلند کرنا ۔
جب ایک عام انسان کے قیام میں ایک ہدف اور مقصد پوشیدہ ہوتا ہے تو امامِ وقت کا قیام بغیر مقصد، اور ہدف سے خالی کیسے ہوسکتا ہے؟ کیا امام حسین کا قیام ایک انفجار تھا، کیا آپ کا قیام نا آگاہانہ تھا؟ مثلاً ایک دیگ میں پانی بھر کر اسے سیل بند کرکے چولہے پر چڑھا دیا جائے تو ایک وقت ایسا آئے گا کہ ابخارات کو برداشت نہ کرتے ہوئے دیگ منفجر ہو جائے گی، کیا قیام امام حسینؑ اسی دیگ کی مانند تھا؟ کیا امام حسینؑ عام انسانوں کی مانند تھے کہ پیمانۂ صبر لبریز ہو گیا تو جو کلمات زبان پر جاری نہیں ہونے چاہیئیں تھے وہ بھی زبان پر آگئے، جو دل چاہا زبان سے کہہ ڈالا؟ نہیں عزیزو!آپؑ کا قیام کوئی ایسا ویسا قیام نہیں تھا بلکہ آپ کا قیام با مقصد تھا، جس کی طرف آپؑ نے جگہ جگہ اشارہ فرمایا ہے؛ تحف العقول میں ایک مفصل حدیث موجود ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا قیام کمال مقصد کو پہونچا ہوا تھا۔[١]
بعض مفکرین مثلاً مارٹین آلمانی وغیرہ، قیام حسینی کا پہلا مقصد اظہار سیاست حسینؑ کو شمار کرتے ہیں۔[٢]
شاید!ان مفکروں کا مقصد یہ ہو کہ اگر امام حسینؑ اپنی سیاست کا اظہار نہیں فرماتے تھے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپؑ سیاسی حربوں سے آشنا نہیں تھے بلکہ اگر آپ چاہتے تو معاویہ کی سیاست کو خاک چٹا دیتے۔
حق یہ ہے کہ قیام حسینی کا مقصد عوام الناس اور شیعیان علیؑ کو کافرو طاغی بنی امیہ اور یزید نحس کے چنگل سے نجات دلانا ہے اور امر با لمعروف و نہی عن المنکر اور ابطال باطل کرنا ہے، آپؑ فرماتے ہیں:ألا ترون الیٰ الحق لا یعمل بہ و الیٰ الباطل لا یتناھیٰ عنہ لیرغب المومن فی لقاء اللہ فأنی لا أریٰ الموت الا سعادة والحیاة مع الظالمین الا برما۔[٣]
کیا تم نہیں دیکھ رہے ہو کہ حق پر عمل نہیں ہو رہا ہے اور باطل سے دستبرداری نہیں ہو رہی ہے؟ ایسے میں مومن موت کی تمنا کرتا ہے، لہٰذا میں موت کو سعادت اور ظالموں کے ساتھ زندہ رہنے کو ذلت و بد بختی کے علاوہ کچھ نہیں سمجھتا۔
جب خلافت ،تخت خلافت کے غاصب معاویہ بن ابو سفیان سے منتقل ہوکر یزید ملعون تک پہونچی تو سیاسی و اجتماعی حالات اس قدر خطر ناک ہو چکے تھے کہ لوگ حکومت سے بر خورد و معاشرت کرتے ہوئے گھبراتے تھے چونکہ ان کے ہر معمولی سے معمولی اعتراض کے جواب میں شمشیر برہنہ سے سلامی دی جاتی تھی یعنی معمولی سی انگشت نمائی پر گردن کشی ہو جاتی تھی، لہٰذا کسی میں انگشت اعتراض بلند کرنے کی جرأت نہیں ہوتی تھی، بادشاہ وقت ...قمار بازی وشراب نوشی میں مشغول رہتا تھا، بندر سے کھیلتا رہتا تھا ۔لیکن کوئی انسان بھی اس پر کسی طرح کا اعتراض نہیں کرتا تھا کیونکہ سب کو اپنی اپنی جان پیاری تھی، جب علیؑ کے لعل امام حسینؑ نے احکام اسلامی کو پامال ہوتے دیکھا تو فوراََ قیام کیا، زمین و آسمان کا ایک ہو جانا ممکن ہے لیکن حسینؑ یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ فرامین الٰہی کو پس پشت ڈال دیا جائے۔[٤]
محمد حنفیہ کو وصیت تحریر کرتے ہوئے امام حسینؑ اپنے مقصد قیام کو اس طرح بیان فرماتے ہیں :میں تفریح، خود غرضی، فساد اور ستم کی خاطر خارج نہیں ہو رہا ہوں بلکہ میرے قیام کا مقصد اپنے نانا جان کی امت کی اصلاح ہے اور امر بالمعروف و نہی عن المنکرکرنے جا رہا ہوں اور اپنے نانا نبی صلی اللہ علیہ وآلہ اور اپنے بابا علیؑ کی سیرت پر عمل پیرا ہونے جا رہا ہوں۔[٥]
حجة الاسلام جناب محمد محمدی اشتہاردی صاحب اس عبارت کو اس طرح نقل فرماتے ہیں:أنی لم اخرج اشراََولا بطراََ ولا مفسداََ ولا ظالماََ وانما خرجت لطلب الاصلاح فی امة جدی و شیعة ابی علی ابن ابی طالب علیھما السلام۔[٦]میں خود غرضی، دھوکہ دھڑی، فساد اور ستم و بیداد کیلئے قیام نہیں کر رہا ہوں بلکہ اپنے نانا جان کی امت اور اپنے بابا علی ابن ابی طالبؑ کے شیعوں کی اصلاح کے لئے جا رہا ہوں ۔
مکہ سے خارج ہونے سے پہلے اپنے اصحاب کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں :من باذلاََ فینا مھجتہ و موطناََ علیٰ لقاء اللہ نفسہ فلیر حل فأ نی راحل مصبحاََ انشاء اللہ۔ [٧]
جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اپنا خون مجھ پر بہائے وہ ہمارے ساتھ نکلے کہ میں کل صبح''انشاء اللہ'' خدا کی راہ پر گامزن ہوں گا۔
حجة الاسلام سید عبد الزاق مقرّم نے اس جملہ(أنی لم اخرج اشراََ...)کا ترجمہ اس طرح بیان کیا ہے:میں خود خواہی،حق سے سر پیچی، فساد اور ستم گری کیلئے مدینہ سے خارج نہیں ہو رہا ہوں بلکہ اس سفر سے میرا قصد امر بالمعروف و نہی عن المنکر اور اپنے جد محمد صلی اللہ علیہ وآلہ کی امت کے مفاسدات کی اصلاح کرنا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ اپنے جد محمد صلی اللہ علیہ وآلہ کی سنت اور اپنے بابا علیؑ کی سیرت کو زندہ کروں۔ [٨]
امام حسینؑ آزاد تھے، جس وقت بھی، جس جگہ بھی چاہتے سفر کا ارادہ ملتوی کر سکتے تھے! ۔ جیسا کہ عوام الناس ذراسا خطرہ محسوس کرتے ہوئے سفر سے باز آجاتے ہیں، لیکن یہ امت کے پیشوا ہیں، انہیں تو وراثت میں شجاعت ملی ہے،موت ان پر آپڑے یا یہ موت پر جا پڑیں،کوئی پرواہ نہیں ہے۔ [٩]
مکہ میں ایک خطبہ ارشاد فرماتے ہیں، جس میں سفر کا وقت،شہادت، یہی نہیں بلکہ جزئیات شہادت کو بھی واضح طور پر بیان فرما دیا تاکہ جو آپ سے جدا ہونا چاہتا ہے وہ یہیں سے جدا ہو جائے اس دھوکہ میں نہ رہے کہ مال غنیمت حاصل ہوگا اور جن لوگوں نے پختہ ارادہ کر لیا ہے صرف وہی ہمارے ہمراہ رہیں۔[١٠]
امام حسین کا قیام قرآن مجید کے مخالف تھا یا موافق؟
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ نے ارشاد فرمایا :انی تارک فیکم ما ان تمسکتم بہ لن تضلوا بعدی احدھما اعظم من الآخر ،کتاب اللہ حبل ممدود من السماء الیٰ الارض و عترتی اھلبیتی لن یفترقا حتیٰ یرد علیّ الحوض۔[١١]
میں تمہارے درمیان دو چیزیں امانتاً چھوڑے جا رہا ہوں، جب تک تم لوگ ان سے متمسک رہوگے، ہرگز گمراہ نہ ہوگے، ان میں سے ہر ایک دوسری سے بڑی ہے،ایک کتاب خدا کہ جو ریسمان رحمت ہے آسمان سے زمین کی طرف، دوسرے میرے اہلبیت ہیں، یہ دونوں ہر گز جدا نہ ہونگے یہاں تک کہ حوض کوثر پر مجھ سے آملیں (اسی مضمون کی دوسری حدیثیں الفاظ کی تبدیلی کے ساتھ موجود ہیں)۔
پہلی دلیل: یہ قول صادق رسول کا قول ہے، ''ان ھو الا وحی یوحی''کے مصداق کا قول ہے، یہ تو جھوٹ بول ہی نہیں سکتے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ دونوں چیزیں محشر تک ساتھ رہیں گی، اگر حسینؑ نے قرآن کے خلاف قیام کیا تو حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ معاذ اللہ جھوٹی ہو جائے گی اور حدیث جھوٹی ہو نہیں سکتی لہٰذا ثابت ہوا کہ حسینؑ نے قرآن کے مطابق قیام کیا تھا۔
دوسری دلیل: آپؑ کا سر مبارک تن سے جدا کرکے نوک نیزہ پر بلند کیا گیا مگر پھر بھی مسلسل قرآن کی تلاوت ہو رہی ہے جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ امام حسینؑ لحظہ بھر کے لئے بھی قرآن سے جدا نہیں ہو ئے۔
تیسری دلیل: خدا وند عالم ارشاد فرماتا ہے:وہ لوگ جو ایمان لے آئے وہ راہ خدا میں قتال کرتے ہیں اور جو کافر ہو گئے وہ بت اور طاغوت و شیطان کی راہ میں قتال کرتے ہیں لہٰذا اولیائے شیطان سے جنگ کرو، بے شک شیطان کا حربہ اور اس کی چال کمزور ہے۔[١٢]
خالق کائنات پہلے تو مومن اور کافر کی صفت بیان فرما رہا ہے کہ مومن کیا کام کر تا ہے اور کافر کا کیا کام ہے، اس کے بعد حکم دے رہا ہے کہ شیطان کے مریدوں سے جنگ کرو ۔ آیۂ کریمہ میں مومن سے مراد اہلبیت علیہم السلام ہیں، اس پر مفسرین کا اجماع ہے اور جب قرآن کی نظر میں اہلبیت مومن ہیں تو ان کے مقابلہ پر آنے والا لامحالہ کافر ہوگا اور مومن کو خدا حکم دے رہا ہے کہ شیطان کے مریدوں سے جنگ کرو، چنانچہ اہلبیت کی ایک فرد (امام حسینؑ )نے جب یہ دیکھا کہ لوگ خدا کو بھول بیٹھے ہیں اور شیطان کی پرستش کی جارہی ہے تو آپؑ نے اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر شیطان مجسم کے مقابلہ میں قیام کیا...یہ اللہ کے نمائندے ہیں کسی بھی حال میں شیطان کی اطاعت نہیں ہونے دیں گے اور اس کے حربہ کو نا کام کرکے دم لیں گے، چنانچہ ایسا ہی ہوا، سر تن سے جدا ہو گیا، ناموس کی بے حرمتی ہوئی،لیکن یزید کو اس کے نا پاک ارادوں میں کامیاب نہیں ہونے دیا اور اپنے مقصد قیام کو پورا کر کے دین اسلام کو سرخرو کر دیا ۔
پالنے والے ہم شیعیان حسین ؑ کو بھی نقش قدم حسینی پر گامزن فرما۔آمین

حوالہ جات:
١۔مجموعہ آثار شہید مطھری/ج:١٧ ص:١٣٨[حماسہ حسینی]
٢۔مجموعہ آثار شہید مطھری/ ج:١٧،ص:٥١٤[حماسہ حسینی]
٣۔سوگنامہ آل محمد/ص:٢٠٣ بحوالہ مثیر الاحزان/ص:٤٤ و حلیة الاو لیاء/ج:٢ص:٣٩ الحسین/ص:٨٩و٩٠
٤۔وصیتنامہ چھاردہ معصوم/ص:٨٣
٥۔مقتل ابو مخنف(ترجمہ فارسی)ص:٢٤ و سخنان حسین بن علی /ص:٣٦ وصیتنامہ چھاردہ معصوم /ص:٧٨
٦۔سوگنامہ آل محمد/ص:١٩٨
٧۔سوگنامہ کربلا(ترجمہ فارسی لھوف)ص:١١٤ سوگنامہ آل محمد/ص:١٩٩بحوالہ مثیر الاحزان/ص:٤١
٨۔مقتل مقرم(فارسی)ص:٢١٧
٩۔سخنان حسین بن علی/ص:٩٠
١٠۔سخنان حسین بن علی/ص:٦٥
١١۔شیعہ پاسخ می دھد/ص:١٢بحوالہ ترمذی،سنن /ج:٥ ص:٦٦٣ شمارہ٣٧٧٨٨
١٢۔سورہ ٔ نساء/آیت :٧٦

مقالات کی طرف جائیے