مقالات

 

احساس غم

سید شاہد جمال رضوی گوپال پوری

جذبِ دل کی آس ہے اور کچھ نہیں
نغمۂ احساس ہے اور کچھ نہیں

شہ کے غم میں آنسوؤں کا سلسلہ
اک بھڑکتی پیاس ہے اور کچھ نہیں
خونیں کفن شہید،اے امام حسین علیہ السلام !غم گرفتہ ہوا کے جھونکے ،ستم رسیدہ کھجور کی شاخوں کو ایک دوسرے سے گلے ملاتے ہیں تو یہ شاخیں ایک دوسرے سے مل کر آپ کے غم کا احساس دلاتی ہیں اور ان مصائب و آلام کا تذکرہ کرتی ہیں جو آپ کی ذات پر ٹوٹے۔ نہیں ...نہیں تنہا آپ کی ذات نے ظلم و جور اور مصائب و آلام نہیں جھیلے بلکہ آپ کے ہمراہ اکھتر شہداء نے اپنے کو خدا کی بارگاہ میں قربان کردیا ، آپ کے پورے کنبے نے صعوبتیں جھیل کر دین خدا اور بنی نوع آدم کی بقا کا سامان فراہم کیا۔
بہار نے آپ کے غم میں خزاں کا لبادہ اوڑھ لیا ، پھولوں کی کشش آپ کے غم کے احساس سے کم ہوگئی ، پرندوں کے نغمے نوحوں کی صدا بن گئے ، وہ آفتاب کی تمازت ختم ہوگئی جو بنی نوع انسان کو حرارت دیتی تھی ، یہ جو بجلیاں ہیں در اصل یہ وہ آگ ہے جو آپ کے غم میں آسمان پر لگی ہے ، یہ ہونے والی بارش وہ قطرہائے اشک ہیں جو بادلوں کی حساسیت نے آپ کے غم میں بہائیں ہیں ، یہ در یا کی موجیں مارتی ہوئی پر شور لہریں اصل میں ڈھاڑیں مار مارکر آپ کے غم کا احساس دلاتی ہیں...۔
اے امام بزرگ ... اے جگر گوشۂ رسول ...اے دلبند فاطمہ ... اے علی کے لخت جگر ...اے حسن کے عزیز بھائی اور اے حسین شہید !آپ نے دین الٰہی کو ظلمت کی لا محدود وادیوں سے نکال کر نور کے سبزہ زاروں میں پہونچایا ، آپ ہی کی عظیم شخصیت تھی جس نے انبیاء و مرسلین کی محنتوں کو دریائے باطل میں ڈوبنے سے بچا لیا ، وہ آپ کی نازش آفریں ذات تھی جس نے اسلام کا سر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بلند کردیا ...ہاں !آپ نے خدا کے دین کی حفاظت کے لئے نانا کا وطن عزیز چھوڑ دیا ، ماں کی لحد سے جدا ہوئے ، بھائی کی تربت کو الوداع کہا ... آپ کا کردار ساز اور انقلاب آفریں جذبۂ قربانی فضائے عالم کی وسعتوں میں موجود ہے جو ہوا کے دوش پر آج بھی ہمارے ذہنوں تک پہونچ رہاہے ۔
صدیوں کے دبیز پردے، تاریخ کی تاریک وادیاں ، وقت کی سیاہ راتیں آپ کی عظیم قربانی کو چھپا نہیں سکتیں اور آپ کی داستان غم کو بھلا نہیں سکتیں ۔ آپ کا کردار ساز اور وحی کے سانچے میں ڈھلا ہوا پیغام آج بھی فضائے بیکراں میں گونج رہاہے ...ہمارا رونا ، ہمارا گریہ کرنا ، ہمارا سرو سینہ پیٹنا آپ کی جدائی کا ماتم ہے ، ہم آپ کی فرش عزا اس لئے بچھا تے ہیں تاکہ آپ کی زندگی سے عزم و استقلال کا درس حاصل کریں ، آپ کے جذبۂ قربانی سے اپنے وجود میں ہمت پیدا کریں ،ہم آپ کی داستان غم تاریخ کے ہولناک قبرستان سے نکال کر دنیا کے سامنے پیش کریں، آپ کے بیان کردہ بنیادوں پر اپنے کردار کی عمارتیں تعمیر کریں اور آپ کے اخلاق کے صاف و شفاف آئینہ میں اپنے اخلاق کی حقیقی اور واقعی صورت دیکھ سکیں۔
وہ آپ کا اخلاق ہی تھا کہ جب حر اپنے لشکر کے ہمراہ آپ کے قافلے کے قریب پہونچا تاکہ آپ کو گھیر کر ابن زیاد کے پاس لے جائے ،اس وقت لشکر حر کی حالت ابتر تھی بہت ابتر ، وہ سب پیاس سے جاں بلب تھے ،آپ نے اس کا خیال کئے بغیر کہ دشمن جاں ہیں ان کی پیاس بجھائی۔ وہ آپ کا اخلاق ہی تو تھا کہ جب وہی حر مہمان بن کر آیا تو آپ نے عباس جری کو علم کے ہمراہ روانہ کیا کہ جاؤدیکھو میرامہمان آرہاہے ، اسے علم کے سایہ میں لاؤ...۔
ہمار ا لاکھوں سلام ہو ایسی ذات و شخصیت پر جس نے نیزوں، تلواروں اور تیروں کے زخموں سے رستے ہوئے خون کی پروانہ کرکے اپنے شیعوں کو سلام کہلایا ...ہاں ! مولا ، آپ کا سلام ہمارے گوش حق شناس میں آج بھی ویسے ہی گونج رہاہے جیسے کسی نے ابھی ابھی سلام کہا ہو ۔ وہ آپ کا آخری پیغام بھی ہمارے کانوں میں سرگوشیاں کررہاہے جو آپ نے آخری وقت سید الساجدین سے کہلوایا تھا : اے بیٹا سید سجاد !جب مدینہ جانا تو ہمارے شیعوں سے کہہ دینا کہ جب ٹھنڈا پانی کا جام اپنے خشک ہونٹوں سے لگائیں تو ہماری پیاس کو یاد کرلیں ۔
مولا!آپ کی پیاس کی پیاسی داستان ہم نے تاریخوں سے کشف کی ، ''ایک ٹھوکر میں چشمے جاری کرنے والا ، بقائے دین الٰہی کے لئے بھرے کنبے کے ساتھ تین روز تک پیاسہ رہ جائے '' یہ آپ ہی کا جذبہ تھا ، آپ کی پیاس ہماری یاداشت کی سطح پر محفوظ ہے ، ہم جب بھی ٹھنڈا پانی اپنے ہونٹوں سے لگاتے ہیں ، آپ کی پیاس ذہن کی سطح پر ابھرتی ہی چلی جاتی ہے ، ہمارے دل مضمحل و رنجور ضرور ہوئے لیکن جب ہم تصور کی نگاہوں سے یوم عاشور کو دیکھتے ہیں تو سر مژگان آپ کی یادوں کے چراغ جل اٹھتے ہیں۔
عصر کا وقت قریب ہے ، تیروں کی سنسناہٹ فضا میں گونج رہی ہے ، تلواروں اور اسلحوں کی جھنکار اپنی موجودگی کا احساس دلارہی ہے ، جنگ زور و شور سے جاری ہے ، اچانک آپ کے صحابی ابو ثمامہ صیداوی نے عرض کی : آقا!وقت نماز آگیا ...آپ نے ایک نظر آسمان کی طرف دیکھا اور تحسین آمیز نظروں سے اس مرد مجاہد کو دیکھ کر آواز دی : تم نے اتنی افراتفری میں بقائے نماز کا خیال رکھا ، خدا تمہیں نمازگزاروں کے ساتھ محشور فرمائے ۔ لیجئے صفیں لگ گئیں ، نماز شروع ہوگئی ، سعید و زہیر صفوں کے آگے چٹان کی مانند کھڑے ہو گئے اور تیروں کو اپنے بدن پر روکنے میں مصروف ہوگئے ۔ شاید انسانیت گداز دل اپنے اس حقیقی بہی خواہ کا یہ جذبہ دیکھ کر ایک مرتبہ کہہ اٹھے : مولا ! میدان جنگ ہے ، تیروں کی بارش ہورہی ہے ، پر آشوب ماحول ہے ،آپ نماز کو دوسرے وقت کے لئے اٹھا رکھئے ....لیکن فضائوں سے حسین شہید کی آواز آئے گی: نہیں نہیں ! یہ کیسے ہوسکتاہے ، ہم نے اسی نماز کو دوام دینے کے لئے اپنا سب کچھ قربان کردیا اور اس بیابان کو ترجیح دی ۔
واہ رہے جذبہ قربانی ، واہ رہے شیوۂ ایثار ....عصر کے بعد ایک ایک انصار آتے ہیں اور دین الٰہی پر قربان ہونے کی اجازت طلب کرتے ہیں : مولا!مجھے جنگ کی اجازت دیجئے ...کبھی بوڑھے حبیب نے میدان جنگ کی اجازت چاہی تو کبھی حبشی جون نے اجازت چاہی ، لیکن مساوات کا ایسا حامی تو کبھی نہیں دیکھا اسے نہ کالی نسل کا خیال اور نہ ہی سرخ و سفید چہروں کا ، اجازت دیتاہے تو پہلے پیشانی چومتا ہے جون ہوں یا حبیب سبھی ایک ہی صف میں نظر آتے ہیں۔
لیجئے اب اعزہ و اقرباء بھی بضد ہیں کوئی کہتاہے : ماموں جان !مجھے پہلے جنگ کی اجازت دیجئے ۔ کوئی کہتاہے : چچان جان ! میری نظر میں موت شہد سے زیادہ شیریں ہے ،مجھے یہ شیریں جامِ شہادت پینے کی اجازت مرحمت فرمائیے ...ہائے ! وہ شبیہ رسول بھی جام شہادت نوش کرچکا جسے دیکھ کر امام حسین علیہ السلام نانا کو یاد کرتے تھے ، عباس جیسا جری بھی شہید ہوگیا جو لشکر کا علمدار تھا ۔ سب شہید ہوگئے لیکن ایک ننھا مجاہد گہوارے میں ہے ، شہید ہونے کے لئے مضطرب ہے ، بابا رخصت آخر لے کر میدان میں چلے گئے، اب کون میدان جنگ میں لے جائے گا ۔اچانک اس کے ننھے ننھے کانوں میں ایک آواز گونجی :'' ھل من ناصر ینصرنا ھل من مغیث یغیثنا ''۔آواز کچھ مانوس لگی ، معلوم نہیں اس معصوم ذہن نے کیا فیصلہ کیا کہ خود کو گہوارے سے گرادیا ، گویا کہہ رہاہو : بابا!ابھی فہرست شہداء میں اصغر کا نام باقی ہے ، مدینہ سے چلے تھے تو شہادت کی خوشخبری دی تھی ، کیا بھول گئے ۔ ہاں ہاں!!مقاتل میں تو جلی حروف میں تحریر ہے کہ چھ مہینہ کے شیر خوار کے لئے تیر سہ شعبہ استعمال کیاگیا ۔
لیجئے اس شیر خوار نے بھی دین الٰہی کے لئے اپنی جان قربان کردی ، اپنا ننھا گلا بقائے اسلام کے لئے پیش کردیا ، چند لمحوں کے بعد ہی نظام قدرت میں تبدیلی آگئی ،سیاہ آندھیاں چلنے لگیں ، فرات کا پانی نیزوں اچھلنے لگا ، آسمان نے خون کی بارش شروع کردی ، سورج کو گہن لگ گیا ، سارے عالم میں قیامت کا سماں تھا ، ارض نینوا پر زلزلے کی کیفیت طاری ہوگئی ، ''بیٹا !اٹھو کیا قیامت آگئی ''جناب زینب کی مضطرب آوازخیمۂ سجاد میں گونجی ۔'' پھوپھی اماں!ذرا خیمے کا پردہ توہٹائیے ''۔ خیمے کا پردہ ہٹا ، جوان بیٹے نے نوک نیزہ پر کیسا منظر دیکھا تحریر کی تاب نہیں ۔لیکن ہاں !اتنا ضرور ہے کہ خیمہ میں ایک چیخ گونجی : پھوپھی اماں!آپ بن بھائی کی ہوگئیں اور ہم یتیم ہوگئے ...۔
ہائے ، میرے مظلوم آقا!اگر اشقیاء آپ کی داستان غم کو یہیں پر ختم کردیتے ، دفتر غم یہیں پر بند ہوجاتا تو ہماری آنکھیں نم آلود ہوتیں لیکن جب شام غریباں پر ہماری نگاہیں ٹھہرتی ہیں تو یہ نمی اشکوں کی دھار میں بدل جاتی ہے ، وہ شام آگئی جو اپنے سیاہ دامن میں غموں کی پوری دنیا سمیٹے ہوئے ہے ، اشقیاء سیدانیوں کے سروں سے چادریں چھین رہے ہیں ، ننھی سکینہ کے گالوں پر طمانچے لگارہے ہیں ، گوشوارے چھین رہے ہیں اور بچی ''ہائے بابا ، ہائے بابا ، ہائے عمو ، ہائے عمو'' کی صدائیں بلند کررہی ہے :
شرم سے اب بھی نظر آتا ہے دریا پانی
تین دن شاہ کے بچوں نے نہ پایا پانی

روکے کہتی تھی سکینہ کہ جگر بھنتا ہے
مرے عمو ، مرے بھیا ، مرے بابا پانی
شعور گوپال پوری مرحوم
خیموں میں آگ لگا دی گئی ، ثانی زہراء نے اپنی ذمہ داری ادا کرنی شروع کردی ، ان جلتے خیموں میں ایک خیمہ ایسا بھی تھا جس میں عظیم امانت الٰہی تھی ، زینب نے دیکھا کہ اگر ہم ایک لمحہ بھی تاخیر کرتے ہیں تو پھر محافظ دین کی شمع حیات گل ہوجائے گی لہذا اپنی جان کی پرواہ نہ کرکے '' امانت الٰہی '' کی حفاظت کے لئے قدم آگے بڑھادئیے اور یوں زینب بنت علی بقائے نسل امامت کی ذمہ دار بن گئیں ۔
اور ... صبح گیارہ محرم کے بعد رسول کی بیٹیاں بے مقنع و چادر راہ کوفہ و شام میں پھرائی جارہی ہیں ، کوفہ وشام کے تماشہ بین محوحیرت تماشہ دیکھ رہے ہیں ،ایک بلند نیزے پر سر حسین سورۂ کہف کی تلاوت میں مشغول ہے...آقا حسین !نوک نیزہ پر آپ کے تلاوت قرآن کی جو وجہ بھی رہی ہو ، وہ آپ بہتر جانیں یا وہ معبود برحق جس نے قرآن کو قرآن صامت اور آپ کو قرآن ناطق بنایا ہے ...ہم تو بس اتنا ہی سمجھ سکے کہ آپ فطرت انسانی کے نباض تھے ، آپ جانتے تھے کہ انوکھی باتیں آدم کی اولاد کو حیرت میں ڈال دیتی ہیں کہ وہ گرد و بیش سے بھی بے نیاز ہوجاتے ہیں، لہذا آپ نے جسم و سر کی جدائی کے بعد بھی نیزے پر قرآن پڑھنا شروع کردیا تاکہ دنیا اس معجزے کو دیکھنے میں کھو جائے اور ہماری بہنوں کے کھلے سر پر ان کی نظر نہ پڑے۔
مولا !آپ کا یہ آخری جہاد یقینا کامیاب رہا ، زینب و ام کلثوم کے کھلے سروں پر شامیوں اور کوفیوں کی نگاہیں نہ پڑ سکیں لیکن یزیدیوں نے بھی کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی ، ان بے والی و وارث بی بیوں کو دربدر پھرایا، پھر زندان شام میں قید کردیا ، اس زندان میں... جہاں سے آزادی ملنے کے بعد جب زینب مدینہ اپنے گھر پہونچیں تو ان کے شوہر عبداللہ بن جعفر بھی انہیں نہ پہچان سکے ۔
اے خونیں کفن شہید ... اے مخدوم ملائکہ !آپ کی شہادت نے ہماری زندگی کو خوش گوار کردیا ، آپ کے جذبۂ قربانی نے ہمیں عزم و استقلال کا درس دیا ، اہل حرم کی اسیری نے دین خدا کو ہمیشہ کے لئے باطل پرستوں سے آزاد کردیا ...۔آپ کی داستان غم بظاہر تمام ہوگئی اور یہ داستان تمام ہوئے چودہ صدیاں گزر گئیں لیکن آج بھی ایسے ہی زندہ اور تر و تازہ ہے جیسے ابھی ابھی کوئی غم و اندوہ سے پر واقعہ رونما ہوا ہو ، بقول شاعر :
صدیاں ہوئی ہیں واقعۂ کربلا ہوئے
لگتا ہے یوں کہ جیسے ابھی کل کی بات ہے
آپ خود شہید ہوگئے لیکن دین اسلام اور انسانیت کو اس طرح زندگی عطا کی جیسے پانی سوکھے ہوئے درخت کو زندگی عطا کرتاہے۔

مقالات کی طرف جائیے