مقالات

 

شہادت ، شہید اور کربلا

سید شاہد جمال رضوی گوپال پوری

شہادت بڑا معرفت انگیز جذبہ ہے ، انتہائی مستحسن اور لذت خیز احساس ہے مگر انہیں کے لئے جن کی جان ان کی ہتھیلیوں پر اور جن کا دل ہر لمحہ ، ہر پل تحفظ دین اور ناموس اسلام کی بقا کے لئے دھڑکتا اور بے چین رہتاہے ۔ اگر دیکھا جائے توشہید راہ خدا ہونا تمام عبادتوں اور ریاضتوں میں سب سے بڑی عبادت اور ابدی سعادت ہے لیکن عام عبادتوں اور اس عبادت میں سب سے بڑا اور واضح ترین فرق یہ ہے کہ دیگر عبادتیں بقید حیات اور زندگی ہی میں ادا ہوتی ہیں ، یہ واحد وہ عبادت ہے جو فداکاری اور جاں نثاری کے ساتھ بشکل عروس مرگ ابدی انجام دی جاتی ہے ۔
ایک شہید،تہذیب و معاشرے کے جسم میں دھڑکتے ہوئے دل کی مانند ہے ، اسے آپ یوں محسوس کرسکتے ہیں کہ جس طرح دل، جسم کی خشک رگوں میں خون پہونچا کر حیات بخشتا ہے اور اپنی دھڑکنوں سے زندگی اور موت کے درمیان فاصلے پیدا کرتاہے ، اسی طرح جب عارضی انعام و اکرام کی خاطرضمیر فروشی کا بازار گرم ہوتاہے ، چند چمکتے سکوں پر زبان کی قدر و قیمت خرید لی جاتی ہے ، انسان اپنی عظمت و شرافت کو اپنے ہی ہاتھوں تباہی و بربادی کے گھاٹ اتار دیتاہے ، ایمان رخصت ہوجاتاہے ، تہذیب مردہ ہوجاتی ہے اور معاشرہ بے جان ہوکر منظر عام پر آتا ہے تو شہید اپنے مقدس خون سے تہذیب و معاشرے کو ایمان ، ایقان ، عظمت و شرافت اور کردار کی بھرپور زندگی عطا کرتاہے ۔ شہید جس مقصد کے لئے اپنی زندگی دائو پر لگاتاہے بعد شہادت وہی مقصد ایک پیغام بن جاتاہے ، گویا شہادت ایک پیغام ہے جس سے پوری انسانیت سنورتی اور نکھرتی ہے۔
لیکن راہ خدا میں شہیدہونا یا درجۂ شہادت پر فائز ہونا ایک دل گردے کا کام ہے ، بظاہر بہت عام سا فعل نظر آتاہے جس سے ایسا محسوس ہوتاہے کہ ہر شخص شہادت کے درجہ پر فائز ہوسکتاہے مگر غائرانہ تجزیہ کیجئے تو حقیقت کھل کر سامنے آئے گی کہ حقیقی معنوں بہت مشکل امر ہے اس لئے کہ شہادت میں صرف جسمانی زور آزمائی کار فرما نہیں ہوتی بلکہ حق و با طل کو احسن طریقے سے تول کر باطل سے مردانہ وار مقابلہ پر مرنا ہی شہادت ہے ، جس میں خدا کی خوشنودی کا جذبۂ حصول اور امام وقت یا نائب امام کی اجازت بھی دخیل ہوتی ہے نیز اپنے دلی جذبات و احساسات معدوم کرکے امام کی اجازت ہی کل کائنات ہوتی ہے ، اسی کو جہاد اور اس میں مرنے والے کو شہید کہتے ہیں۔
جس کی حکایت قرآن مجید نے کی ہے اور اس کے اجر و ثواب کا معمولی نمونہ پیش کیا ہے:"اللہ نے مومنین سے ان کی جان اور حقیقی مال کا پکے معاہدے سے سودا کیاہے کہ اگر انہوں نے راہ خدا میں جان دی ، دشمن کو قتل کیا یا خود شہید ہوگئے تو انہیں جنت ملے گی ، یہ اللہ کا وعدۂ حق ہے ''۔(١)
چونکہ کائنات فنا کا سب سے قیمتی اور افضل ترین سرمایہ انسان کی جان ہے ، دنیا میں انسان جس قدر اپنی جان کو عزیز رکھتاہے ، کسی دوسری چیز کو اتنا عزیز نہیں رکھتا ، اس کے تحفظ میں جتنا مال و اسباب صرف کرے کم ہے ، آخر میں اگر خود کو غلامی میں دینا پڑے پھر بھی دریغ نہیں کرتا ،گویا غام بن جانا گوارا ہے مگر جان دینا کسی صورت میں تسلیم نہیں ۔ ظاہر ہے اس قیمتی سرمایہ کو جس چیز پر قربان کیاجائے تو وہ کتنی قیمتی ہوگی ، ایک معمولی عقل والا بھی یہ خیال کرنے سے دریغ نہیں کرے گا کہ جس چیز پر اس قیمتی سرمایہ کو نچھاور کیا جارہاہے وہ اس سے بھی زیادہ قیمتی اور افضل ہے ۔
خداوندعالم کی عدالت کا یہ بہترین فیصلہ ہے کہ جب انسان اس کے پسندیدہ دین '' اسلام'' پر اپنا قیمتی سرمایہ ، جان کی قربانی کا نذرانہ پیش کرتاہے تو وہ عادل خدا بھی اس کے عوض '' بل احیاء '' کا زریں لبادہ پہنا کر ایک شہید کو زندۂ جاوید بنادیتاہے ۔
خداوندعالم نے شہید راہ خدا کو موت کے بعد کی انوکھی زندگی کا جو تحفہ دیاہے وہ تو بے مثال ہے ہی۔ اس کے علاوہ اس نے شہید کے لئے سات تمغے مخصوص کئے ہیں؛ جس کی تفصیل معالی السبطین میں ملاحظہ کی جاسکتی ہے :
١۔ جب خون شہید کا پہلا قطرہ زمین پر گرتاہے تو اللہ اس کے تمام گناہوں کو معاف کردیتاہے ۔
٢۔ گناہوں کی معافی کے بعد جب زمین پر وہ خود گرتاہے تو جنت کی حوریں شہید کا سر اپنی گود میں رکھ کر اس کے چہرے سے غبار جنگ صاف کرتی ہیں اور خود آمدید کہتی ہیں ۔
٣۔ جنت کے غلمان دوڑ کر آتے ہیں اور جنت کی خوشبو لے کر حاضر ہوتے ہیں ، ہر غلمان کی خواہش ہوتی ہے کہ خوشبوئے جنت سب سے پہلے شہید کی خدمت میں پیش کرے ۔
٤۔ شہید کو جنت کا لباس زیب تن کرنے کے لئے دیاجاتاہے ۔
٥۔ میدان جنگ ہی سے جنت میں اس کا مکان دکھا دیاجاتاہے ۔
٦۔ اس کے علاوہ شہید سے کہہ دیاجاتاہے کہ جنت میں جس جگہ کو پسند کرے وہی اس کا مسکن ہوگا۔
٧۔ شہید اس رحمت خدا کا مشاہدہ کرتاہے جو انبیاء اور اولیاء کے لئے مخصوص ہوتی ہے ۔(٢)
مذکورہ حدیث شریف میں جس انداز سے شہادت کے درجہ و مرتبہ کو آخرت اور جنت کی ابدی زندگی سے متصل کیاگیاہے وہ ایک شہید کے افتخار و انبساط کے لئے کافی ہے ۔
یہ بھی ممکن تھاکہ اتصال کو ایک ہی مرحلے میں بیان کردیاجاتالیکن ایک ہی مرحلے میں بیان نہ کرکے سات سات مقامات اور مرحلوں کے ذریعہ شہید کی افضلیت اور شہادت کی عظمت کو بیان کرکے لفظ شہادت کی جبین پر چار چاند لگایا گیا ،ساتھ ہی ساتھ شہادت پر فائز ہونے کی ترغیب بھی دلائی گئی ۔
ایک دوسرے مقام پر شہید کے امتیازات پر دوسرے زاوئیے سے روشنی ڈالی گئی ؛ چنانچہ مروی ہے : شہید کی جنت میں بھی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اگر اسے ایک مرتبہ پھر دنیا میں جانے کا موقع مل جائے تو وہ راہ خدا میں جان دے کر پھر شہید ہوجائے ۔ جنت میں شہید کو ایک سبز قبا کے سایہ میں رہنے کی جگہ ملتی ہے جہاں صبح و شام انہیں رزق ملتاہے ''۔(٣)اسی لئے ارشاد رب العزت ہے : ( وَلاَتَحْسَبَنَّ الَّذِینَ قُتِلُوا فِی سَبِیلِ اﷲِ َمْوَاتًا بَلْ َاحْیَائ عِنْدَ رَبِّہِمْ یُرْزَقُونَ )'' اور جو لوگ راہ خدا میں مارے گئے ہیں ، انہیں ہرگز مردہ نہ سمجھو بلکہ وہ زندہ ہیں اور اپنے رب کے پاس سے رزق پاتے ہیں ''۔(٤)
خداوندعالم نے اس آیۂ مبارکہ کے ذیل میں نوع بشر کو شہید کی زندگی کی جو جھلک پیش کی ہے وہ پوری انسانیت کے لئے بہرحال باعث حیرت ہے کہ ایک مردہ شخص زندۂ جاوید کیسے ہوسکتاہے ؟ اسی بات کو خدا نے وضاحت کے ساتھ دوسری جگہ بیان فرمایا:''اور جو لوگ راہ خدا میں قتل ہوجاتے ہیں انہیں مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تمہیں ان کی زندگی کا شعور نہیں ہے ''۔(٥)
اگر دیکھاجائے تو مذکورہ دونوں آیتوں کا مفہوم ایک ہی ہے لیکن دوسری آیت میں دائرۂ مفہوم کووسیع کرتے ہوئے انسان کے رگ جستجو کو مطمئن کردیاگیاہے ، یہ سچ ہے کہ ایک شہید زندہ ہے ،یہ اور الگ بات ہے کہ تمہیں ان کی موجودہ زندگی کا واقعی شعور نہیں ہے ۔
فضائل و محاسن کا یہ وہ باب ہے جو ہر شہید سے مخصوص ہے لیکن جس طرح بعض انبیاء کو بعض پر فوقیت و افضلیت حاصل ہے۔(٦) اسی طرح بعض شہداء کو بعض پر فوقیت و افضلیت حاصل ہے ۔ حق و صداقت کی تاریخ گواہ ہے کہ شہادت کے مفاہیم کو جس انداز میں کربلا والوں نے پیش کیا وہ نہ گزرے ہوئے کسی زمانہ میں دیکھنے کو آیا اور نہ آئندہ کوئی اس قدر عظیم شہادت کے نقوش چھوڑ سکتاہے ۔
کربلا کی شہادت اور شہدائے ارض نینوا اس قدر عظیم ہیں کہ اس کا ادراک ممکن نہیں ہے ، حضرت علی نے واضح ترین انداز میں بیان کردیا کہ قیامت کے دن افضل الشہداء میرے فرزند حسین ؑکے اصحاب ہوں گے ۔(٧)
کسی بھی شہادت کا تجزیہ کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ اس کے ماقبل رونما ہونے والے واقعات کو تجزیاتی نگاہ اور تحقیقی نظر سے دیکھا جائے نیز جس نے اپنی جان راہ خدا میں پیش کی ہے اس کا مقصد اولین کیا ہے ؟ مقصد ہی کے اوپر شہادت کے مدارج کا دار و مدار ہوتاہے اس لئے کہ اگر مقصد شہادت اہم ہوگا تو شہید کی اہمیت نصف النہار کے سورج کی طرح واضح و آشکار ہوجائے گی ۔
کربلا کے چٹیل میدان میں امام حسین علیہ السلام اپنے اصحاب و اعزہ کے ہمراہ جس عظیم ترین مقصد کے تحت قربانیاں پیش کررہے تھے وہ بہت زیادہ اہمیت کا حامل تھا ۔ آپ دیکھیں کہ اس وقت فضائے عالم پر کس قدر تاریکی کا راج تھا، باطل کے سیاہ بادل اپنا دامن پھیلائے ہر طرف اندھیرا کئے ہوئے تھے ۔ نیکی ، بدی کا لبادہ اوڑھ کر ترویج پارہی تھی ، شیطان انسان کے بھیس میں سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کررہاتھا ، دین کی حسین تصویر نگاہوں سے اوجھل ہورہی تھی ، حق گہری کھائی میں گررہاتھا اور صداقت کی روشنی ، دروغ گوئی کے اندھیرے میں گم ہوتی ہوئی محسوس ہورہی تھی ، گویا ہر اعتبار سے انسانیت باطل کے دلدل میں دھنستی جارہی تھی ۔
ایسے میں حسین بن علی علیہما السلام انسانیت کے علمبردار بن کر اٹھ کھڑے ہوئے ، ان کی نگاہ بصیرت میں کچھ بھی نہ تھا ، نہ اپنی جان کی پرواہ تھی ، نہ مال و متاع کے لٹنے کا اندیشہ ، نہ بچوں کی محبت تھی اور نہ ہی اپنوں کی الفت...ہاں !وہ دین دیکھ رہے تھے اور شریعت کا مشاہدہ کررہے تھے ، ان کی شہادت کا مقصد یہ تھا کہ دین و شریعت کی حرمت پامال ہونے سے محفوظ رہے ۔
شری گوپال کرشن گوکھلے نے کربلا کی ابدی درسگاہ کو اپنی نگاہ بصیرت سے دیکھتے ہوئے کتنی اچھی بات کہی :'' اگر حسین اپنی شہادت سے اسلام کے اصول از سر نو زندہ نہ کرتے تو اسلام بالکل مٹ جاتا ''۔
اس چھوٹے سے قول میں گوکھلے جی نے ان تمام تر نامساعد حالات و ماحول کو سمو دیا ہے جسے دیکھتے ہوئے حسین بن علی اپنی اور اعزہ کی جانیں قربان گاہ کربلا میں پیش کررہے تھے ، اس وقت جو گھنائونا ماحول ترویج پارہاتھا وہ پوری انسانیت کے منہ پر طمانچہ ہوتا اگر اسے دبانے کے لئے حسین جیسا جری آگے نہ بڑھتا ۔یزید جس نے حسین ابن علی علیہما السلام سے بیعت کا مطالبہ کیا تھا ، در حقیقت یہ بیعت کا مطالبہ نہیں تھا بلکہ یزید اس میراث پر قابض ہونا چاہتاتھا جو انبیاء سے اوصیاء تک نسل در نسل چلی آرہی تھی اور اس سے مکارانہ استفادہ کرتے ہوئے شراب خواری ، دروغ گوئی ، دشنام طرازی ، چغل خوری اور ایسے ہی دیگر قبیح افعال کو پوری طرح فروغ دینا چاہتاتھا نیز اس مطالبۂ بیعت کی پشت پر ایک انتقامی جذبہ بھی کار فرما تھا ، وہ ایک تیر سے دو شکار کرنا چاہتاتھا۔
اسے اپنے دادا ابوسفیان کی بے بسی کا رنج تھا، بدر و احد کے مقتولین کا درد اسے باربار ٹہوکا دے رہاتھا کہ وہ پیغمبر اسلام اور علی مرتضیٰ کی نسل سے انتقام لے ، ایمان کی روشن کرن (حسین علیہ السلام) کفر و ضلالت کی تاریکی کا سینہ چاک کرتی ہوئی اس کا گھناؤنا روپ لوگوں کو دکھا رہی تھی ۔ آخر کار ظلم مجبور ہوگیا ، کفر بے بس ہوگیا اور اس کا چہرہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بے نقاب ہوگیا ، حسین نے اس کا وار اسی کے سرپر دے مارااور صرف اسلام ہی کو نہیں بلکہ پوری انسانیت کواس کے جنجال سے باہر نکال دیا۔
مہاراجہ پور بندر نے کربلا کی شہادت سے درس لیتے ہوئے کیا خوب کہاہے :'' امام حسین علیہ السلام کی قربانی نے صرف اسلامی فکر و عمل کو تابش نہیں بخشی بلکہ انسانیت کو سنوارا ہے ''۔
امام کی شہادت کے یہ وہ اصلاحی نقوش ہیں جن سے آنے والی نسلیں درس لیتی رہیں گی اور شہادت عظمیٰ کے ذیلی مقاصد سے اپنی زندگی کوسنوارتی رہیں گی ۔

حوالہ جات :
١۔توبہ ١١١
٢۔معالی السبطین جلد اول
٣۔بحار الانوار
٤۔آل عمران ١٦٩
٥۔ بقرہ ١٥٤
٦۔ بقرہ٢٥٣
٧۔ معالی السبطین جلد اول

مقالات کی طرف جائیے