مقالات

 

غدیر اور مسلمانوں کی ذمہ داریاں

حجۃ الاسلام سید محمود علوی


تمہید
خدا وند عالم ہماری زندگی اور موت کو ولائے علی علیہ السلام کے سایہ میں قرار دے، ہمارے دل کو ہمیشہ ان کی محبت سے منور رکھے اور ہماری فکر کو ان کے ارشادات وبیانات کے ذریعہ مفید قرار دے ،انشاء اللہ۔نیز دنیا میں ان کی زیارت اور آخرت میں شفاعت نصیب ہو۔(آمین)
غدیر کا حق یہ ہے کہ عشرۂ ولایت کے نام سے دس دن مخصوص کیا جائے اور غدیر کی عظمت کا پاس ولحاظ رکھتے ہوئے اس کا پرچار کیا جائے تاکہ اس کے انکار کی ذرا بھی گنجائش نہ رہے چہ جائیکہ بعض لوگ بغض وعناد کی وجہ سے اس روز روشن جیسی واقعیت سے چشم پوشی کریں اور اس کا انکار کرنے کی کوشش کریں ،اگر چہ ایسے لوگوں کی تعداد انگلیوں پر گنے جانے کے قابل ہے۔
لہٰذا سال میں کچھ دن جشن غدیر اور محفل ولایت سے مخصوص ہونا چاہئے جس میں غدیر کا فلسفہ بیان ہو، اس لئے کہ ہم شیعوں کی زندگی میں جس قدر غدیر کی جلوہ گری ہو گی ہمارا رابطہ اہل بیت سے اسی قدر مستحکم اور مضبوط ہوگا اور ہم زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اہل بیت کے راستہ پر لانے میں کامیاب ہوں گے۔

غدیر کے سلسلے میں شیعوں کی ذمہ داری
١۔ غدیر کا دفاع قرآنی روش سے:
اس بات کی ہمیشہ سعی و کوشش کرنی چاہئے کہ چراغ غدیر ہمیشہ اسی طرح نور افروزی کرتا رہے جیسے قرآن نے بتایا ہے ،مثلاً عشرہ ٔولایت میں دشمنوں کے ساتھ ہمارا رویہ کیسا ہو اس کو ملحوظ خاطر رکھا جائے۔
قرآن کی روش یہ ہے کہ حکمت اور بہترین نصیحت کے ذریعہ لوگوں کو خدا کی طرف دعوت دی جائے؛ خداوند عالم سورہ نحل میں فرماتا ہے: ''لوگوں کو حکمت اور بہترین نصیحت کے ذریعہ خدا کی طرف دعوت دو اور ان سے بہترین طریقہ سے جدال اور بحث کرو''۔
قرآن کی روش یہ ہے کہ جو لوگ غدیر کے مخالف ہیں اور قرآنی منطق اور بہترین استدلال کو چھوڑ کر کسی دوسری روش کو اختیار کرتے ہیں؛مثلاً نازیبا کلمات کا استعمال کرتے ہیں یا شیعوں پر تہمت لگاتے ہیں...ایسے لوگوں کے سلسلے میں ہمارا وظیفہ یہ ہے کہ ہم قرآنی روش اختیار کرتے ہوئے بدی کا جواب نیکی سے دیں، اس کا اہم فائدہ یہ ہے کہ جو دشمن ہوگا وہ اچھا دوست بن کر سامنے آئے گا ؛قرآن کا ارشاد ہے : برائی کا جواب نیکی سے دو کہ اسکے نتیجہ میں جو تمہارا دشمن ہے وہ بہترین دوست بن جائے گا''۔
ہم لوگ شیعہ اور اہل بیت علیہم السلام کے راستہ پر چلنے والے ہیں ہمیں قرآن کی تاسّی کرتے ہوئے بد رفتاری کا جواب حسن سلوک سے دینا چاہئے ،اس طرح کہ اگر کوئی منطقی گفتگو کر رہا ہے تو اس کا معقول جواب دیںاور اگر وہ احساسات سے گفتگو کر رہا ہے تو ہم عقل کے معیار پر اس کا جواب دیںنیز اگر وہ نازیبا طریقہ سے گفتگو کر رہا ہے تو ہم احترام اور ادب کے دائرہ میں رہ کر اس کا جواب دینے کی کوشش کریں ۔اگر ہم نے ایسا کیا یعنی عقل ومنطق سے اس کا جواب دیا تو قرآن کا دعویٰ ہے کہ شدید ترین دشمن بھی اس طرح مہربان دوست بن جائے گا جیسے ہمیشہ سے اس سے رشتہ رہا ہو۔
غدیر کے سلسلہ میں قرآن کی منطق اور روش کے استعمال کا فائدہ یہ ہے کہ جن دلوں میں غدیر کی رونق نہیں ہے وہ غدیر کے نور سے منور ہوجائیں گے اور جو شیعوں کے بارے میں غلط نظریہ رکھنے کی وجہ سے شیعوں سے دور ہیں وہ شیعوں کی حقیقت کو سمجھ کے ان کے قریب ہو جائیں گے۔

٢۔ وحدت اسلامی کا استحکام:
غدیر کے سلسلے میں ہمارا دوسرا وظیفہ یہ ہے کہ ہم ایسی گفتگو کریں جس سے غدیر کا عقیدہ مزید مستحکم اور مضبوط ہو ۔ یہ گمان کرنا کہ غدیر کا تذکرہ کرنے سے اسلامی وحدت و اتحاد کو نقصان پہونچے گا ،قطعی صحیح نہیں ہے بلکہ اس کے بر عکس قرآن اور اسلام یعنی حکمت و استدلال کے ساتھ گفتگو کی جا ئے تو نہ صرف وحدت کو ضرر نہیں پہنچے گابلکہ وحدت اسلامی کو تقویت ملے گی جو اس وقت اسلام کی سب سے بڑی ضرورت بھی ہے ۔
حضرت آیة اللہ خامنہ ای مدظلہ نے ١٣٨٨شمسی میں حج کی مناسبت سے جو پیغام دیا اس میں آپ نے فرمایا: اسلام کے پلید دشمن مسلمانوں کے درمیان تفرقہ واختلاف ڈالنا چاہتے ہیں۔
اور آج مسلمانوں کے درمیان میں اختلاف سے صرف دشمن کا فائدہ ہے نہ مسلمانوں کا،اور جو شخص بھی جس دلیل اور توجیہ کی بنیاد پر ایسا کام کرے جس سے مسلمانوں کے درمیان اختلاف ہو وہ وحدت اسلامی کو ضرر پہونچا رہا ہے اور دشمنان اسلام کے راستہ پر چل رہا ہے نہ کہ قرآن،اسلام، رسول گرامی اور اہل بیت اطہار( علیہم السلام)کے راستہ پر۔
ہم غدیر کا تذکرہ کریں ، غدیر کے سلسلے میں مقالات لکھیں لیکن اس طرح کہ اس سے اسلامی وحدت و اتحاد متأثر نہ ہو۔

٣۔ ادب کی رعایت:
غدیر کے سلسلے میں ہم شیعوں کی اہم ذمہ داری یہ ہے کہ ادب کی رعایت کریں یعنی تہذیب کے دائرہ میں غدیر کا تذکرہ کریں۔ائمہ طاہرین نے ہمیں درس دیا ہے کہ ہم کسی کے ساتھ بے ادبی اور بد گوئی نہ کریںحتی اگر کوئی شخص بدگوئی کا مستحق ہے اس کے ساتھ بھی بد گوئی اور بے ادبی سے پرہیز کریں۔اہل بیت کے لئے یہ بات اہم ہے کہ نازیبا الفاظ سے ہمارے شیعوں کی زبان آلودہ نہ ہو،چاہے سامنے والاشخص نازیبا الفاظ کا مستحق ہی کیوں نہ ہو۔
اس کی تائید کے لئے امام معصوم کی ایک روایت اور امام کے ایک چاہنے والے کا واقعہ نقل کیاجارہاہے :
عمار یاسر کا واقعہ:
عمار یاسر صحابی رسول ہیں آنحضرت نے آپ کو معیار حق وباطل قررا دیا ہے، آپ جنگ صفین میں مولائے کائنات کے ایک دو اصحاب کے ساتھ کھڑے تھے اور معاویہ کے ساتھیوں کے لئے نازیبا الفاظ استعمال کر رہے تھے۔ اچانک عمار نے محسوس کیا کہ کوئی مہربان ہاتھ ان کے دوش پر ہے ،پلٹے تو دیکھا کہ امیر المومنین ہیں، آپ نے فرمایا: مجھے اچھا نہیں لگتا کہ میرے چاہنے والوں کی ز بان سے گالی نکلے ۔
آپ نے غور کیا کہ منظور ومراد یہ نہیں ہے کہ معاویہ مستحق ناسزا ہے یا نہیں؟ امام کا مقصد یہ ہے کہ شیعوں کو مودب و مہذب ہو نا چاہئے ، میرے چاہنے والوں کو شائستہ گفتگو کرنی چاہئے حتی اگر امام کی حقانیت اور دشمنوں کے باطل پر ہونے کی گفتگو ہو ۔
اس کے بعد امام علیہ السلام عمار سے فرماتے ہیں: ان کے کردار و اعمال کے عیوب کوآشکار اور بیان کرو لیکن اپنی زبان گندی نہ کرو ان کو گالی نہ دو ،تمہاری شان کے خلاف ہے کہ تم دشمنوں کے فعل وعمل پر نقد واشکال کرو تا کہ تمہارا ایمان مستحکم ہو اور تمہارا عذر خدا کی بارگاہ میں قبول ہو اور لوگوں پر تمہاری حجت تمام ہو جائے۔
اگر اسی طرح سے پیغام غدیر پہنچایا جائے تو ائمہ طاہرین کی سر بلندی اور زینت کا باعث ہو گا کیونکہ اعتقادی مسائل میں دوسروں کے برخلاف شیعہ انتہائی مضبوط اور مستحکم ہیں لہذا وہ مجبور ہیں کہ بد گوئی اور سب کریںنہ کہ ہم شیعہ۔

کتاب الغدیر میں علامہ امینی کا بہترین طریقۂ کار:
کسی شخص پر یہ بات پوشید نہیں ہے کہ منطقی گفتگو جس قدر موثر ہوتی ہے کوئی اور چیز موثر نہیں ہوتی اور ہمارے بزرگوں نے اسی روش سے غدیر کا دفاع کیا ہے جیسے علامہ امینی ؛اس عالم دین کا شیعوں پر بلکہ پورے عالم اسلام کی گردن پر حق ہے، کیونکہ غدیر کی راہ میں انہوں نے عمر گزاری ہے اور اس کتاب کولکھنے کے لئے مختلف ملکوں کاسفر کیاہے ، جس ملک کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہاں کتاب خانہ ہے اور اس میں اہل سنت کی کتابیں ہیں وہاں گئے اور کتاب حاصل کی اور اول سے آخر تک مطالعہ کیا ، آپ نے صرف حدیثی کتابوں کا مطالعہ نہیں کیا، بلکہ تاریخ وادب اور ان تمام کتابوں کا مطالعہ کیا جس میں غدیر سے متعلق مواد موجود تھے، چنانچہ اس ہدف کے تحت جن ممالک کا سفر کیا ان میں مصر، ہندوستان، سوریہ، لبنان، عربستان وغیرہ شامل ہیں اور اس پر مشقت سفر کا نتیجہ ١١ جلدوں پر مشتمل کتاب کی صورت میں ہمارے سامنے ہے اور چونکہ یہ کتاب غدیر سے متعلق تھی اس لئے اس کا نام بھی '' الغدیر'' رکھا۔
آپ نے غدیر کو اسلامی معاشرے تک پہنچانے کیلئے جن وسائل کا انتخاب کیا وہ حکمت، موعظہ حسنہ اور جدال احسن ہے تا کہ دوسرو ں کے نا زیبا الفاظ اور احساسات کا جواب عقل ومنطق سے دیا جا سکے۔
چنانچہ اس بہترین ادب اور سلیقہ کی وجہ سے اہل سنت اور جامعہ الازھر مصر کے اساتذہ نے آپ کو خط لکھا اور اس علمی جہاداور اثبات حقانیت غدیر کے لئے شکریہ ادا کیا اور آپ کو اسلامی دنیا کا سب سے بڑا مصلح(اصلاح کرنے والا ) قرار دیا ، چونکہ آپ نے تألیف غدیر کے ذریعہ شیعہ اور سنی فکروں کو نزدیک کرنے کی کوشش کی ۔
لہٰذا ہمیں بھی علامہ امینی کی طرح ایسی گفتگو کرنی چاہئے جو امت پیغمبر کے درمیان اتحاد کا سبب ہو۔ در حقیقت علامہ امینی کی کامیابی کا راز یہ ہے کہ انہوں نے امیر المومنین کے قول پر عمل کیا جس میں آپ نے فرمایا:''مجھے پسند نہیں ہے کہ میرے پیروکار سبّ و شتم کرنے والے ہوں''۔
علامہ امینی کا ایک واقعہ:
یہ واقعہ علامہ کے ذوق منطق وادب کو بیان کرتا ہے: علامہ امینی تحقیق کی غرض سے سوریہ تشریف لے گئے اور وہاں دمشق کے کتابخانہ میں جو اہل سنت سے متعلق تھا ایک مدت تک مشغول مطالعہ تھے، ایک دن حضرت زینب کے حرم میں دمشق کے ایک مشہور تاجر نے علامہ کو دیکھا اورپہچان لیا کیونکہ اس نے اخبار میںعلامہ کی تصویر دیکھی تھی اور علامہ سوریہ میں ایک محقق کے عنوان سے مشہور تھے (کیونکہ اس وقت سوریہ ، مصر ،لبنان میں محققین کو خاص اہمیت دی جاتی تھی ،وہ محقق مسلمان ہوں یا عیسائی، شیعہ ہوں یا سنی، صرف اس کی تحقیق کی وجہ سے اس کی اہمیت تھی ) ۔
علامہ کا نام بھی اس وقت ان تمام ممالک میں مشہور تھا ، لہذا اس تاجر نے آپ کو پہچان لیا اور اس نے نزدیک آکر پوچھا : آپ علامہ امینی ہیں؟ آپ نے فرمایا: ہاں! میں امینی ہوں۔ اس سنی تاجر نے آپ سے اظہار ہمدردی کیا اور کہا کہ میں نے آپ کا نام بہت سنا ہے، گرچہ اس سے قبل آپ کی زیارت کا شرف حاصل نہیں ہوا، آپ کو سوریہ میں دیکھ کر بہت خوشحال ہوں،اجازت دیجئے کہ ایک شب آپ کی خدمت کر سکوں، سوریہ کے لوگ آپ کو بہت چاہتے اور پسند کرتے ہیں۔
علامہ امینی نے فرمایا: آپ جانتے ہیں کہ میرا کام تحقیق وتالیف ہے ، آپ کی دعوت پر جانے کی صورت میں لوگ متوجہ ہوجائیں گے کہ میں سوریہ میں ہوں اور اس طرح سے دعوتوں کا سلسلہ شروع ہوجائے گا اور میری تحقیق ناقص رہ جائے گی ، لہذا میں نہیں چاہتا کہ میرے سوریہ میں رہنے کی اطلاع کسی کو ہو تاکہ میں مطالعہ کر سکوںاور اپنا وظیفہ انجام دوں۔
اس تاجر نے کہا: بہتر ہے جب آپ یہاں سے جانے والے ہوں تو مجھے اطلاع دیجئے تاکہ اس وقت میں آپ کی خدمت کر سکوں۔ علامہ نے جب محسوس کیا کہ وہ آپ سے خاص لگائو رکھتا ہے تو آپ نے فرمایا : ٹھیک ہے میں کام کے اختتام پر آپ کو اطلاع دے دوں گا ۔ چنانچہ جب آپ تحقیقی کام سے فارغ ہوئے اور اسے اطلاع دی تو اس نے دعوت کا اہتمام کیا ۔ علامہ کے اعزاز میں اس نے دوسرے علماء اور اہل سنت کے مفتیوں کو بھی دعوت دی تھی ، اس دعوت میں اہل سنت کے ایک بزرگ مفتی نے علامہ سے سوال کیا کہ مشرق ومغرب میں آپ کی تحقیق کی شہرت ہے اور مختلف ملکوں میں آپ کا نام لوگوں کی زبانوں پر ہے، آپ بتائیں کہ آپ نے کس زمین پر تحقیق کی ہے کہ اس قدر آپ کی شہرت ہوئی؟ علامہ نے فرمایا: میں نے صرف غدیر کے سلسلے میں تحقیق کی ہے۔ اس جواب سے مفتی کے چہرہ کا رنگ اڑ گیا ، علامہ کو غور سے دیکھا اور کہا: کیا موضوع کا قحط پڑا تھا کہ آپ نے غدیر پر تحقیق کی ، کیوں مسلمانوں کے درمیان تفرقہ ڈالنا چاہتے ہیں؟ کیوں اس مسئلہ کے پیچھے پڑے ہیں، کیا تحقیق کے لئے کوئی دوسرا موضوع نہیں ہے... ؟
علامہ نے جواب دیا: پہلی بات تو یہ کہ میں مسلمانوں کے اتحاد کو ختم کرنے کے فراق میں نہیں ہوں، میں خود مسلمانوں کے درمیان اتحاد چاہتا ہوں اور اس سلسلے میں کوشاں بھی ہوں، میری کتابوں کو دیکھ لیجئے اس میں ایک بات بھی اتحاد کے خلاف نہیں پائیے گا۔
اور دوسری بات یہ کہ میرے ذہن میں ایک سوال ہے اگر مجھے اس کا جواب مل گیا تو مجھے غدیر کے بارے میں تحقیق کی ضرورت نہ ہوگی، مفتی نے کہا : آپ اپنا سوال بتائیے شاید میں اس کا جواب دے سکوں تا کہ آپ کو مزید تحقیق کی ضرورت نہ ہو۔
علامہ امینیؒ نے فرمایا: بہت خوب! میں اس سوال سے پہلے دوسرے دوسوال کرنا چاتا ہوں۔
پہلا سوال یہ کہ جب رسول خدا اس دنیا سے تشریف لے گئے تو کیا کوئی اولاد یادگار کے طور پر چھوڑی؟
مفتی نے کہا: ہاں فاطمہ زہرا! جو آپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک تھیں۔ اس کے بعد اس نے حضرت زہرا کے سلسلہ میں روایات اور احادیث بیان کرنا شروع کیا اور اور آپ کی تعریف کی، آخر میں کہا کہ فقط آپ شیعہ حضرت زہرا کو نہیں مانتے بلکہ ہم بھی مانتے ہیں اور احترام اور محبت کرتے ہیں۔
علامہ نے فرمایا: خدا آپ کو جزائے خیر دے، آپ نے پہلے سوال کا جواب دیا اور اب دوسرا سوال یہ ہے کہ ہم شیعوں کی کتابوں میں ایک حدیث نقل ہوئی ہے: من مات ولم یعرف امام زمانہ مات میتة جاھلیة '' جو اپنے زمانے کے امام کی معرفت کے بغیر مر جائے اس کی موت جاہلیت کی موت ہے''۔ تھوڑے سے تفاوت کے ساتھ یہ حدیث اہل سنت کی کتابوں میں بھی نقل ہوئی ہے:''اگر کوئی مر جائے اور کسی امام کی بیعت اس کی گردن پر نہ ہو تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہے''۔
مفتی نے کہا: جی ہاں! یہ حدیث فلاں کتاب حدیث میں ہے اور متواتر بھی ہے ۔ علامہ نے فرمایا: خدا آپ کو جزائے خیر دے۔
اب جو سوال میرے ذہن میں ہے جس کی وجہ سے میں یہ تحقیق کر رہا ہوں وہ یہ ہے کہ فاطمہ زہرا جن کی مدح میں آپ نے اتنی حدیثیں پڑھیں پیغمبر کے بعد چند روز زندہ رہیں، روایت کے اختلاف کی بناء پر٤٠ روز یا٧٥ روز یا ٩٥ روز.... اس کے بعد آپ اس دنیا سے رخصت ہو گئیں ،اس درمیان ہم شیعوں کے اعتبار سے اپنے زمانے کے امام کی معرفت حاصل کی ، یا ان کی گردن پر کسی امام کی بیعت تھی جس کی وجہ سے وہ حالت اسلام میں دنیا سے رخصت ہوئی ہوں؟ یاپھر کسی امام کی بیعت آپ کی گردن پر نہ تھی اور آپ کی موت(العیاذ باللہ)جاہلیت کی موت تھی...؟
متانت سے بھرپور علامہ کے اس سوال پر مفتی صاحب کا منھ کھلا رہ گیا ، ان سے کوئی جواب نہ بن پڑا تو کہا: امام کی بیعت آپ کی گردن پر تھی اور اسی حالت میں اس دنیا سے گئیں کیونکہ جس بنت رسول کی مدح میں اتنی روایات ہوں ان کی موت جاہلیت کی موت نہیں ہو سکتی۔
علامہ امینی نے فرمایا: بہت خوب! یعنی جب آپ اس دنیا سے گئیں تو آپ کی گردن پر کسی امام کی بیعت تھی لہذا حالت اسلام میں اس دنیا سے رخصت ہوئیں، پس سوال یہ ہے وہ امام کون تھا جس کی بیعت حضرت زہرا نے کی؟ اگر آپ کہتے ہیں کہ خلیفہ اول، تو صحیح نہیں ہے ، کیونکہ آپ خود جانتے ہیں اور اہل سنت کے بزرگ علماء نے اپنی تاریخی کتابوں میں لکھا ہے کہ جب آپ مریض تھیں اور شیخین آپ کی عیادت کو آنا چاہتے تھے تو بی بی نے قبول نہیں کیا ۔کیا یہ ہوسکتا ہے کہ حضرت زہرا کسی کو اپنا امام مانتی ہوں اور اسے اپنی عیادت کی اجازت نہ دیں؟ اور آپ کی کتابوں میں یہ بھی بیان ہوا کہ جب حضرت فاطمہ نے اجازت نہیںدی تو وہ دونو ںحضرت علی کے پاس آئے تاکہ وہ بی بی سے اجازت لیں اور ایسا ہی ہوا لیکن آپ کی کتابوں میں یہ بھی نقل ہوا ہے کہ جب وہ لوگ آئے اور گھر میں بیٹھے تو جب وہ اپنا رخ داہنے سمت کرتے بی بی دو عالم بائیں سمت ہو کر بیٹھ جاتیں اور جب وہ بائیں سمت متوجہ ہوتے تو آپ اپنا رخ داہنے سمت کر لیتی تھیں۔
کیا یہ ممکن ہے کہ حضرت زہرا کسی کو اپنا امام مانتی ہوں اور اس سے اپنا منھ موڑ لیں، یہ اس بات کی علامت ہے کہ آپ خلیفہ اول کے علاوہ کسی اور کو اپنا امام مانتی تھیں ، میں جاننا چاہتا ہوں کہ وہ کون ہے؟ میں اپنی تحقیق کے نتیجہ میں یہ کہہ سکتا ہوں وہ امام غدیر کے میدان میں مل سکتاہے اور کہیں نہیں۔
محفل میں حاضر تمام لوگوں نے علامہ امینی کی منطقی گفتگو کو قبول کیا اور اسے بہت زیادہ سراہا۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ علامہ امینی کا یہ واقعہ ان کے زمانے سے لے کر آج تک کتنا اثر انداز ہے اور کتنے اہل سنت کے شیعہ ہونے کا سبب بنا؟۔
جی ہاں ! جب بھی سوڈان وغیرہ جیسی جگہوں پر ادیان و مذاہب کی تحقیق وبر رسی کے لئے جلسہ منعقد ہوتا ہے توشیعہ آگے آگے دکھائی دیتے ہیں ،اس کی وجہ یہ ہے کہ شیعوں کے سامنے علی ، فاطمہ ، حسن اور حسین علیہم السلام جیسی شخصیتیں اور عاشورا جیسا عبرت انگیز واقعہ ہے جو دوسرے مذاہب بلکہ دوسرے الٰہی ادیان کے ماننے والوں کو اپنی سمت جذب کرلیتے ہیں ۔
سبھی جانتے ہیں کہ جو شخص معاشرہ میں مشہورا ور برجستہ نہیں ہے اسے منظر عام پر لانا بہت مشکل کام ہے لیکن اسے منظر عام سے غائب کردینا بہت آسان ہے ۔ یہ مسئلہ حضرت علی کے سلسلہ میں جن کا نام شہرۂ آفاق تھا بالکل الٹا ہے یعنی آپ کے نام کو تاریخ سے نکال دینا بہت سخت ہے اور تاریخ کے صفحات پر آپ کو نمایاں کرنا بہت آسان ہے ۔
یہ جملہ مبالغہ نہیں ہے کہ جس نے آپ کو پہچان لیا چاہے وہ شیعہ ہو یا غیر شیعہ، آپ کا مرید اور شیفتہ ہو کر رہ جاتاہے، جس کا بہترین نمونہ کتاب نویسی کا مقابلہ ہے جو ٥٠ سال سے لبنان میں ہو رہا ہے اور اس مقابلہ کی ممتاز شخصیت ''سلیمان کتانی'' ہے جو عیسائی مذہب سے تعلق رکھتے ہیں ، انہوں نے مولا علی کے سلسلے میں '' الامام علی متراس ونبراس '' نامی کتاب لکھی ہے ،اس کتاب کو جناب جلال الدین فارسی نے فارسی زبان میں ترجمہ کیا ہے۔
ایک دوسرے عیسائی '' جرج جرادق'' نے حضرت علی کے بارے میں ٥ جلدوں پر مشتمل کتاب لکھی جس کا نام''الامام علی صوت العدالة الانسانیة'' رکھا یعنی امام علی انسانی عدالت کی آواز۔اس عیسائی عالم دین نے حضرت علی کے بارے میں کہا: کسی ماں نے علی جیسابچہ پیدا ہی نہیں کیا ۔
اہل سنت میں بھی ایسے افراد ہیں جنہوں نے حضرت علی کی مدح وتمجید کی ہے ، جیسے ڈاکٹر طہ حسین، جو مصر کے مشہور عالم دین ہیں ، یہ نابینا تھے ، انہوں نے اپنی کتاب کا نام '' علی و نبوہ '' (علی اور ان کی اولاد'' رکھا جس کا فارسی میں بھی ترجمہ ہوا ہے۔
عباس محمود العقاد، یہ بھی مصر کے مشہورمؤلف ہیں ، انہوں نے بھی مولائے کائنات کے سلسلے میں کتاب لکھی جس کا نام ہے :''الامام علی العبقری الخالد''۔
ایک دوسرے عالم عبدالفتاح عبدالمقصود ہیں جنہوں نے '' الامام علی بن ابی طالب '' نامی کتاب لکھی ہے ،اس کتاب کی پہلی جلدکا ترجمہ آیة اللہ طالقانی نے کیا اور بقیہ جلدوں کا ترجمہ محمد مہدی جعفر نے کیا ہے۔یہ بات قابل غورہے کہ ان لوگوں نے دوسرے خلفاء کے بارے میں پانچ صفحہ بھی نہیں لکھے !۔

واقعہ غدیر کا اثبات:
علامہ امینی نے الغدیر میں ان علماء کے اسماء قلمبند کئے ہیں جنہوں نے غدیر کے سلسلے میں کتاب لکھی ہے یا اپنی کتاب میں غدیر سے متعلق مطالب جمع کئے ہیں ؛ اس کی تفصیل اس طرح ہے :
١۔۔٢٤چوبیس اہل سنت کے مورخ ؛
٢۔٢٧ ستائس محدثین(حدیث بیان کرنے والے)؛جیسے حاکم نیشاپوری، امام حنابلہ احمد بن حنبل، شافعیوں کے امام محمد بن ادریس شافعی ...۔
٣۔٢٤ مفسرین ؛ جنہوں نے اپنی تفسیروں میں واقعہ غدیر کو نقل کیاہے۔
٤۔٧ متکلمین (جو علم کلام اور اعتقادات کے سلسلہ میں بحث کرتے ہیں)؛انہوں نے علم کلام کے سلسلے میں لکھی گئی کتابوں میں واقعہ غدیر کاتذکرہ کیا ہے ، جیسے قوشجی ، ابو بکر باقلانی....۔
٥۔بعض صاحبان لغت ؛جیسے صاحب تاج العروس، صاحب کتاب النہایة...ان لوگوں نے لفظ ولی کے معنی بیان کرتے ہوئے واقعہ غدیر کی طرف اشارہ کیاہے اور حدیث غدیر کو نقل کرکے لکھاہے کہ پیغمبر نے ١٨ ذی الحجہ کو غدیر خم کے میدان میں یہ حدیث ارشاد فرمائی۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حجة الوداع سے واپس ہوتے ہوئے ١٨ ذی الحجہ کو رونما ہونے والے واقعہ غدیر کا تذکرہ اہل سنت کے بزرگ محدثین و مورخین نے کیا ہے۔

خلاصہ کلام :
غدیر وہ حقیقت ہے جو نہ صرف یہ کہ امت اسلامی کے اتحاد کیلئے مضر نہیں ہے بلکہ اتحاد بین المسلمین کی تقویت اور استحکام کا سبب ہے۔
پیغام غدیر: غدیر کا پیغام عقل ومنطق کے پیرایہ میں ہے اور قرآن نے بھی اس کی طرف اشارہ کیاہے ؛ چنانچہ خداوندعالم کا ارشاد ہے:(یَاَیُّہَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا ُنزِلَ ِلَیْکَ مِنْ رَبِّکَ ...)۔
یہ آیت مرسل اعظم کے اضطراب کو بیان کر رہی ہے اور خدا پیغمبر کو تسلی دے رہا ہے کہ آپ حکم الٰہی کو پہنچا دیجئے خدا پ کی حفاظت کرے گا۔
سوال :کیا صرف حضرت علی سے محبت کے لئے فرمان الٰہی کی ضرورت ہے؟ کیا یہ پیغام رسانی اس قدر پر خطر تھی کہ خدا فرما رہا ہے کہ آپ اس حکم الٰہی کو پہنچائیں ہم آپ کو ہر طرح کے خطرے سے محفوظ رکھیں گے ؟کیاصرف علی سے محبت کرنا دین کے کامل ہونے کا باعث ہے؟
جواب: اس سے معلوم ہوتاہے کہ حضرت علی کی دوستی اور محبت سے ہٹ کر ایک الگ مسئلہ کی تاکید مقصود تھی اور وہ حضرت علی کا خلیفہ اور جانشین ہونا ہے کہ جس کے ابلاغ سے پیغمبر کو خطرہ لاحق تھا۔ مسئلہ پیغمبر کی ٢٣ سال کی زحمتوں اور مشقتوں کا ہے کہ اگر امام علی کی خلافت کا اعلان نہ کیا تو یہ زحمتیں برباد اور ضائع ہوجائیں گی ۔
دوسرا سوال: جس رسول نے تئیس سال تک بے لوث خدمت کی اور جسے مومنین کی ہدایت کے سلسلے میں حریص کہا گیا ہے، کیا اسے امت کے مستقبل کی فکر نہیں ہوگی ؟ کیا آپ نے لوگوں کی ہدایت کے لئے جو مشقتیں برداشت کیں اور اس راہ میں اپنی عمر صرف کی وہ سب بیکار ہیں؟ یا نہیں بلکہ آپ کو لوگوں کی فکر تھی ان کے مستقبل کی فکر تھی ، لہذا اگر یہ قبول کر لیاجائے کہ آپ اپنی زحمتوں کو ضائع نہیں ہونے دینا چاہتے تو اس کا صرف ایک راستہ ہے اور وہ یہ کہ اپنے بعد کے لئے جانشین اور خلیفہ معین کریں ، ورنہ آپ کی رسالت پر حرف آئے گا ۔
مرحوم شیخ عبد الحسین ترک کا دلچسپ واقعہ:
مرحوم شیخ عبد الحسین ترک آذربائیجان کے رہنے والے تھے ، مشہد مقدس میں ان کا قیام تھا، آپ ایک جلسہ میں تشریف فرما تھے، اہل سنت کے ایک متعصب عالم دین جو اتحاد بین المسلمین کے قائل نہ تھے وہ بھی اس جلسہ میں موجود تھے، انہوں نے ان کتابوں کو جمع کیا تھاجس میں شیعوں کے سلسلے میں نازیبا کلمات استعمال کئے گئے تھے اور خود بھی ایسی ہی کتاب تالیف کر رہے تھے، اس جلسہ میں اتحاد بین المسلمین کے بارے میں گفتگو شروع ہوئی تو اہل سنت کے اس عالم دین نے کہا: شیعہ اور سنی کے درمیان اتحاد کی بات کا کوئی فائدہ نہیں ہے،یہ اتحاد کسی صورت ممکن نہیں کیونکہ شیخین کے بارے میں شیعوں کا نظریہ صحیح نہیں ہے۔
جناب عبد الحسین نے پوچھا :کیوں؟۔
عالم سنی نے کہا: اس لئے کہ آپ لوگ شیخین کے بارے میں جو نظریہ رکھتے ہیں وہ اتحاد کے ساتھ سازگار نہیں ہے، کیونکہ آپ حضرات شیخین کو گالی دیتے ہیں اور ان کی بے ادبی کرتے ہیں۔
جناب عبد الحسین نے فرمایا: ایسا نہیں ہے، کیونکہ ہم لوگ شیخین کو آپ سے زیادہ مانتے ہیں اور ان کو رسول اسلام ۖسے بھی زیادہ عاقل سمجھتے ہیں، آپ نے ہم سے اس کے علاوہ کچھ اور سنا ہے؟
عالم اہل سنت: کس طرح آپ لوگ شیخین کو ہم سے زیادہ مانتے ہیں، اور انہیں پیغمبر سے زیادہ عاقل سمجھتے ہیں؟
جناب عبد الحسین: کیونکہ دوسال حکومت کے بعد جب خلیفہ اول کا وقت آخر قریب آیا توآپ کی سمجھ میں یہ بات آئی کہ وہ اپنے بعد کسی کو اپنا خلیفہ اور جانشین بنائیں ، لہٰذا انہوں نے خلیفہ دوم کا انتخاب کیا۔
خلیفہ دوم بھی جب اس دنیا سے جانے لگے توانہوں نے چند لوگوں کی ایک کمیٹی بنائی اورحضرت عائشہ نے بھی خلیفہ دوم سے کہا: آپ اس دنیا سے جارہے ہیں ،امت پیغمبر کو یوں ہی سرگردان چھوڑ کر نہ جائیے گا، بلکہ ان کے لئے ایک رہبر منتخب کیجئے ۔خود خلیفہ دوم کے بیٹے عبد اللہ بن عمرنے بھی اپنے باپ سے کہا: اصحاب اور بزرگوں نے پیغام بھیجا ہے کہ اپنے بعد کسی کو بعنوان خلیفہ معین کریں ۔
اب آپ خود جواب دیجئے کہ کیا یہ ممکن ہے کہ پیغمبرجو تمام حالات سے واقف اور با خبر تھے، خلافت جیسے حساس اور اہم مسئلہ سے غافل ہوں گے...؟۔
دوسری قابل غور بات یہ ہے کہ کیامیدان غدیر میں موجود اصحاب نے آنحضرت کے جملہ ''من کنت مولاہ... '' سے دوستی اور محبت کا مفہوم سمجھا تھا ...؟گر ایسا ہے تو انہوں نے خطبہ غدیر کے بعد حضرت علی علیہ السلام کو مبارکباد کیوں پیش کی ...؟!۔
قابل غو ر نکتہ:
آخر کلام میں اس بات پر توجہ کرنی چاہئے کہ حضرت علی سے خلافت کا غصب کرنا اگر چہ حضرت علی کے حق میں ظلم تھا لیکن اس سے بھی بڑا ظلم خود بشریت پر ہوا کہ وہ علی جیسے رہبر اور امام سے محروم ہو گئی۔
ترجمہ: مہدی عباس الٰہ بادی

مقالات کی طرف جائیے