مقالات

 

حضرت موسیٰ مبرقع کی حیات و خدمات پر ایک نظر

سید شاہد جمال رضوی گوپال پوری

تمہید
حقیقی اسلام کا طرۂ امتیاز یہ ہے کہ اس میں جہاں قولی ہدایت کا انتظام کیاگیاہے وہیں معصوم سیرت و کردار کے ذریعہ عملی ہدایت و رہبری کا بھی اہتمام کیاگیاہے ،خداوندعالم نے قرآن مجید جیسی آفاقی کتاب کے ہمراہ اہل بیت اطہارعلیہم السلام کی معصوم سیرت بھی بندوں کے اختیار میں دی ہے تاکہ تشنگان علم و ہدایت ان دونوں سے وابستہ ہوکر اپنی دنیا اور آخرت سنوار سکیں ۔معصومین علیہم السلام نے ہر موقع پر لوگوں کی ہدایت کا خیال رکھا اور جب جہاں ضرورت ہوئی ، اپنی قیمتی جان داؤ پر لگا کر بھی لوگوں کو سیدھے راستے کی ہدایت فرمائی ۔
لوگوں کی ہدایت و رہبری کے سلسلے میں یہ حساسیت صرف معصومین علیہم السلام سے مخصوص نہیں ہے بلکہ آپ کے واقعی اصحاب و انصار اور اس خانوادۂ عصمت و طہارت کے چشم و چراغ بھی لوگوں کی ہدایت کے سلسلے میں بہت زیادہ حساس تھے ، انہوں نے بھی اپنی ہر ممکنہ کوشش کرکے دنیا کے گوشہ و کنار میں حقیقی اسلام کی تبلیغ کی اور اس سلسلے میں دور دراز علاقوں کے سفر سے بھی دریغ نہیں کیا ۔
جن امامزادوں نے اسلام کی خاطر دور دراز علاقوں کا سفر کیا ان میں حضرت موسیٰ مبرقع کا نام نامی بھی آتا ہے ، لہذا ضروری ہے کہ ان کی حیات و خدمات سے قدرے آشنائی حاصل کی جائے ۔

عکس حیات
نام : موسی
والد کا نام : حضرت امام محمد تقی علیہ السلام
والدہ کا نام : سمانہ مغربیہ
جائے ولادت : مدینہ منورہ
تاریخ ولادت : ۲۱۴ ھ؁
کنیت : ابو جعفر ، ابو احمد
لقب : مبرقع
محل زندگی : مدینہ ، کوفہ ، کاشان اور قم
وفات : ۲۲/ ربیع الثانی ۲۹۶ھ؁
مدفن : قم المقدسہ (ایران )

ولادت اور ابتدائی حالات
حضرت موسیٰ مبرقع نویں تاجدار ولایت و امامت حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کے فرزند ارجمند اور امام علی نقی علیہ السلام کے چھوٹے بھائی ہیں ، آپ کی والدہ حضرت سمانہ مغربیہ ہیں جو امام ہادی علیہ السلام کی بھی والدۂ گرامی ہیں ، آپ کی ولادت ۲۱۴ھ؁ کو مدینہ منورہ میں اپنے بھائی امام علی نقی(ع) کی ولادت کے دو سال بعد ہوئی ۔ (۱)
بعض تاریخوں میں ملتاہے کہ آپ اخلاق و کردار کے اعتبار سے اپنی والدہ جناب سمانہ مغربیہ سے بہت زیادہ مشابہ تھے۔(۲) آپ کی والدہ کا زہد و تقویٰ اور اخلاق و کردار مشہور تھا ، ان کے زہد و تقویٰ اور عظمت و کردار کے سلسلے میں امام ہادی علیہ السلام کا یہ جملہ ہی کافی ہے ؛ آپ فرماتے ہیں : "میری والدہ میرے حق سے واقف اور اہل بہشت میں سے تھیں ، سرکش شیطان ان کے قریب بھی نہیں بھٹک سکتا ، کسی معاند ظالم کا حیلہ ان پر کارگر نہیں ہوسکتا ، خدا ان کا محافظ و نگہبان ہے ، صدیقین و صالحین کی ماؤں سے پیچھے نہیں ہیں " ۔ (۳) اس عنوان سے حضرت موسیٰ مبرقع کی شخصیت اور اخلاق و کردارکی عظمت کا اندازہ لگانا کوئی آسان کام نہیں ۔
حضرت موسیٰ مبرقع اپنے والد گرامی کی شہادت تک مدینہ منورہ میں قیام پذیر رہے پھر شہادت کے بعد کوفہ چلے گئے ، وہاں کچھ دن قیام کرنے کے بعد قم المقدسہ کی جانب روانہ ہوگئے ۔ (۴) قم المقدسہ میں اس وقت جدید الورود افراد کے لئے بہت سخت ہوتا تھا ، قم والے ہر ایک کو قبول نہیں کرتے تھے چنانچہ آپ کی عظمت و جلالت سے عدم واقفیت کی بنا پر جب لوگوں نے قم سے آپ کو نکال دیا تو آپ کاشان چلے گئے ، وہاں کے حاکم عبد العزیز بن ابی دلف نے آپ کا بہت احترام و اکرام کیا ، اس نے آپ کو اچھے اچھے لباس اور سواری وغیرہ سے نوازا اور سرکاری تنخواہ بھی مقرر کردی ۔(۵) جب ان کی عظمت و جلالت آس پاس کے علاقوں میں مشہور ہوئی تو قم والوں کو اپنے کئے کی غلطی کا احساس ہوا اور ان سے قم واپس آنے کی گزارش کی ۔ (۶)
ایک دوسری روایت یہ ہے کہ جب جناب موسی ٰ کو قم سے نکال دیا گیا تو کچھ دنوں بعد وہاں حسین بن علی بن آدم اور عرب کے کچھ رؤسا تشریف لائے اور جب انہیں اس واقعہ کی تفصیل معلوم ہوئی تو قم والوں کو بہت سرزنش کی اور قم کے بعض بزرگوں کو کاشان روانہ کیا تاکہ انہیں احترام و اکرام کے ساتھ قم واپس لائیں ، چنانچہ انہوں نے ان کا بہت سے زیادہ اکرام کیا ، ان کے لئے سواری کا انتظام کیا ، قم واپس آنے کے بعد ان کے لئے مکان مہیا کیا اور ان کے لئے بہت ساری زمینیں خریدیں ۔ قم کی اقامت کے دوران لوگ ان کا بہت زیادہ احترام کرتے تھے۔ (۷)

آپ کی حدیثی اعتبار سے عظمت
حضرت موسیٰ مبرقع علم حدیث کے ساتھ ساتھ علم درایہ میں برجستہ اور معروف تھے ، آپ کا شمار عظیم راویوں میں ہوتاہے ؛ چنانچہ شیخ طوسی نے اپنی کتاب تہذیب الاحکام میں ، شیخ مفید نے اپنی کتاب الاختصاص میں ، ابن شعبہ حرانی نے اپنی کتاب تحف العقول میں آپ سے حدیثیں نقل کی ہیں ۔(۸) آپ کی علمی عظمت و جلالت کا اندازہ اس جہت سے لگایا جاسکتاہے کہ جب قاضی القضات یحیی بن اکثم کو چند مسائل درپیش ہوئے اور ان کے جواب سے وہ عاجز رہے تو انہوں نے ان سوالات و مسائل کے جواب کے لئے حضرت موسیٰ مبرقع کو خط لکھا اور آپ نے ان کا جواب ارسال کیا ۔ (۹)
زرکلی نے اپنی کتاب "الاعلام " میں لکھا ہے کہ امام محمد تقی کے فرزند موسیٰ مبرقع کا شیعوں کے بزرگ علماء میں شمار ہوتاہے ۔ (۱۰)

لقب مبرقع
آپ کے القاب میں سے سب سے زیادہ مشہور لقب "مبرقع " ہے ، اس کی وجہ ایک یہ بتائی گئی ہے کہ آپ ہمیشہ نقاب پوش رہتے تھے اور آپ کا چہرہ ہمیشہ نقاب سے ڈھکا رہتاتھا ۔ مبرقع کہنے کی ایک دوسری وجہ یہ تھی کہ آپ کو جب قم سے نکالا گیا تو آپ نے قم سے نکلنے کے لئے نقاب کا سہارا لیا اور چہرے پر نقاب ڈال کر قم سے باہر نکل گئے ۔ (۱۱)

رضوی سادات کے جد امجد
حضرت موسیٰ مبرقع کو رضوی سادات کا جد امجد سمجھا جاتا ہے ، آج ایران ، ہندوستان ، پاکستان ، افغانستان اور عراق و شام میں مقیم بہت سے رضوی سادات انہیں سے منسوب ہیں ۔ (۱۲)

آپ کی اولاد
تاریخ کے مطابق آپ کے دو بیٹے تھے ، ایک کا نام احمد تھا اور دوسرے کا محمد ، یہ دونوں اپنے والد کے پہلو میں مدفون ہیں ۔

وفات
آپ کی وفات ۲۲/ربیع الثانی ۲۹۶ ھ؁ کو شب چہار شنبہ میں ہوئی ، آپ کی تدفین چہل اختران میں ہوئی ہے ۔ (۱۳)
بعض علماء نے آپ کی تاریخ وفات ۸ / ربیع الثانی اور بعض دوسرے علماء نے ۱۴/ ربیع الثانی بھی قلمبند کی ہے ۔ (۱۴) لیکن ۲۲/ ربیع الثانی کی تاریخ زیادہ مشہور ہے۔
چہل اختران
قم میں آذر نامی روڈ پر ایک مزار واقع ہے جسے چہل اختران کہتے ہیں ۔ جناب موسیٰ مبرقع نے قم میں سکونت اختیار کی تو آپ کی تین بہنیں " زینب ، ام محمد اور میمونہ " بھی آپ کے ہمراہ رہنے لگیں اور ان کی وفات بھی قم ہی کی سرزمین پر ہوئی اور یہیں پر ان کی تدفین عمل میں آئی ، جہاں پر حضرت موسیٰ کا مزاج ہے اسے چہل اختران کہاجاتاہے اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں ۴۰/ سیدانیاں مدفون ہیں ، ان کے ہمراہ کچھ بچے اور مرد حضرات بھی مدفون ہیں ۔
اس مزار کو شاہ تہماس صفوی نے ۹۵۰ ھ؁ میں تعمیر کروایا اور نقش و نگاری کے ذریعہ اسے دیدہ زیب بنایا ، آج دنیا کے گوشہ و کنار سے لوگ اس کی زیارت کے لئے تشریف لاتے ہیں اور معنوی اور دنیاوی فیضان سے بہرہ مند ہوتے ہیں ۔ (۱۵)
خدا رحمت کند این عاشقان پاک طینت را

حوالہ جات
۱ ۔ بحار الانوار ، علامہ مجلسی ج۵۰ ص ۱۲۳
۲ ۔ بحار الانوار ، علامہ مجلسی ج۵۰ ص ۱۲۳
۳۔ سفینۃ البحار ، مادۂ علی کے ذیل میں ؛ منتہی الآمال ، شیخ عباس قمی ، حالات امام علی نقی کے ذیل میں
۴۔تاریخ قم ،ص /۱۰۵
۵۔ تاریخ قم ، ص ۱۰۵
۶۔ تحف العقول ، ابن شعبہ حرانی ، ص ۴۷۶؛ مسند الامام الجواد ، عطاردی ، ص ۸۴
۷۔ بحار الانوار ، علامہ مجلسی ج۵۰ ص ۱۹۳
۸۔تہذٰب الاحکام ،شیخ طوسی ، ج۹ ص ۳۵۵؛ الاخصاص ، شیخ مفید ص ۹۱ ؛ تحف العقول ، حرانی ص ۴۷۶
۹۔ تہذٰیب الاحکام ، شیخ طوسی ، ج۹ ص ۳۵۵
۱۰۔الاعلام ، زرکلی ، ج۷ ص ۳۲۷
۱۱۔تاریخ قم ، علی بن حسین قمی ، ص ۱۰۵
۱۲۔ مستدرک الوسائل کے علاوہ دوسری کتابوں میں بھی یہ بات موجود ہے ۔
۱۳۔ تاریخ قم ، ص ۲۱۶
۱۴۔ بحار الانوار : ج 57، ص 220. مستدرک سفینه البحار : ج 5، ص 230
۱۵۔ تاریخ قم ، ص ۲۱۶

مقالات کی طرف جائیے