مقالات

 

امام ہادی علیہ السلام کے زریں اقوال

سید شاہد جمال رضوی گوپال پوری

ہمارے ائمہ معصومین علیہم السلام کے اقوال اور کلمات بھی ان کی طرح پاک و پاکیزہ اور معصوم ہوتے ہیں ، جن میں انسانوں کی ہدایت و رہبری اور سعادت کے راز پنہاں ہوتے ہیں ، جس طرح آفتاب کی کرنیں لوگوں کو زندگی کی نوید دیتی ہیں اور ان کے لئے مشعل راہ ہوتی ہیں ، یہ اقوال بھی آفتاب علم کی شعاعیں ہیں جو بندگان خدا کے لئے ہدایت اور مشعل راہ ہیں جن پر عمل کرکے انسان دنیا و آخرت کی سعادت و کامرانی سے ہمکنار ہوسکتاہے ؛ اسی مقصد کے پیش نظر یہاں امام ہادی علیہ السلام کے بعض اقوال ہدیۂ قارئین کئے جارہے ہیں :

١۔ مَن رضی عن نفسہ کثر الساخطون علیہ '' جو اپنے آپ سے راضی رہے گا اور خود پسند ہوگا ، اس سے ناراض ہونیو الے زیادہ رہیں گے ''۔(۱)
تشریح :
امام علیہ السلام نے متذکرہ حدیث شریف میں ایک اہم ترین اخلاقی بیماری کی جانب اشارہ فرمایاہے جسے ''خود پسندی '' کہا جاتا ہے ۔اس اخلاقی بیماری کا سب سے خطرناک نقصان یہ ہے کہ اس کے آس پاس رہنے والے اور اس کے ساتھ زندگی گزارنے والے لوگ اس سے ناراض رہتے ہیں اور اس کے خلاف اپنے غم و غصہ کا اظہار کرتے ہیںنیز لوگوں کی نظروں میں اس کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہوتی؛ اس کی وجہ یہ ہے کہ چونکہ اپنے آپ سے راضی رہنے والا شخص خود کو اپنی واقعی اور حقیقی قدر و منزلت سے بالاترخیال کرتاہے جس کے نتیجہ میں اپنی غلطیوں کی جانب متوجہ نہیں ہوپاتا اور اپنے عیوب کو نہیں دیکھ پاتا ۔ اسی لئے بہت سے لوگ اس کی غلطیوں کو بیان کرنے لگتے ہیں اور جب وہ اپنی غلطیوں کی توجیہ کرتاہے اور قبول نہیں کرتا تو اس کے خلاف لوگوں کا غم و غصہ ظاہر ہونے لگتا ہے۔
دوسروں کے غم و غصہ کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جو شخص اپنے آپ سے راضی رہتاہے وہ سوچتا ہے کہ وہ دوسروں کی بہ نسبت زیادہ کامل ہے ، وہ دوسروں کو ناقص سمجھتا ہے اور حقارت کی نگاہ سے دیکھتاہے حالانکہ لوگ اس شخص سے نفرت کرتے ہیں جو لوگوں کو اپنے سے کمتر خیال کرتاہے اور اپنے لئے بلندترین شان و منزلت کا قائل ہوتاہے ؛ اس سلسلے میں فارسی کا مشہور محاورہ ہے :مگر خون او از خون دیگران رنگین تر است '' کیا اس کا خون دوسروں کے خون سے زیادہ رنگین ہے ''۔
ایک دوسری وجہ یہ ہے کہ ایسا شخص خود کو دوسرے سے بہتر اور مکمل سمجھتا ہے اورلوگوں کے حقوق کو ادا کرنے پر تیار نہیں ہوتا اس لئے کہ وہ انہیں حقدار اور صاحب منزلت نہیں سمجھتا ۔ یہ سوچ بھی اس بات کا باعث ہوتی ہے کہ لوگ اس سے نفرت کریں اور اس کے خلاف اپنے غم و غصہ کا اظہار کریں۔
لہذا انسان کو ہمیشہ اپنے اعمال کا محاسبہ کرنا چاہئے اور کسی وقت بھی اپنے اعمال کا غرور نہیں پیدا ہونا چاہئے ؛ اس لئے کہ خود پسندی جہاں انسان کو تباہ و برباد کردیتی ہے وہیں دوسروں سے اس کے رابطہ کو منقطع کردیتی ہے اوروہ بالکل اکیلا ہوکر رہ جاتاہے۔

٢۔ الھزل فکاھة السفھاء و صناعة الجھال ''بیہودہ باتیں بے وقوفوں کی تفریح اور نادانوں کا کام ہے ''۔ (۲)
تشریح :
ہمارے معاشرے کا ایک دستور بن چکا ہے کہ جب دل و دماغ روز مرہ کی سرگرمیوں اور مصروفیتوں سے اکتا جاتے ہیں تو تنوع لانے اور اکتاہٹ کو دور کرنے کے لئے ایسی بزم تشکیل دیتے ہیں جس میں بیہودہ گوئی زیادہ ہوتی ہے ، ممکن ہے بچے اور بزرگ افراد اس بات سے مستثنیٰ ہوں لیکن ہمارے جوانوں کے درمیان یہ چیز کچھ زیادہ ہی رائج ہے ، وہ اپنی بزم میں اتنے منہمک ہوجاتے ہیں کہ یہ بھی نہیں سوچتے کہ ان کی بیہودہ گوئی کس بات پر منتہی ہوتی ہے ،غیبت ، افترا پردازی ، تہمت طرازی ، کینہ توزی وغیرہ ایسی چیزیں ہیں جو بیہودہ گوئی ہی سے عالم وجود میں آتی ہیں ۔ حالانکہ امام علیہ السلام فرماتے ہیں کہ بے وقوف حضرات بیہودہ گوئی کو اپنا ذریعہ قرار دیتے ہیں ، عقلمند نہیں ، لہذا اس خطرناک بیماری سے اجتناب کرنا چاہئے ۔حضرت امیر المومنین نے دل کی اکتاہٹ کو دور کرنے کے لئے بہترین ذریعہ کی نشاندہی فرمائی ہے ؛ آپ فرماتے ہیں :اِنَّ ھٰذِہِ الْقُلُوبَ تَمَلُّ کَمَا تَمَلُّ اِلاَّ بْدَانُ، فَابْتَغُوا لَھَا طَرَائِفَ الْحِکَمِ ''یہ دل اسی طرح اکتا جاتے ہیں جس طرح بدن اکتا جاتے ہیں لہذا ان کے لئے نئی نئی لطیف حکمتیں تلاش کرو''۔(۳)
حضرت علی علیہ السلام نے ایک دوسری جگہ عقلمند اور بے وقوف کے فرق کو واضح کرتے ہوئے گفتگو کا بہترین سلیقہ سکھایا ہے ؛ آپ فرماتے ہیں :"عاقل جب بھی بات کرتاہے تو اپنی باتوں کے دوران ایک حکمت یا محاورہ بیان کرتاہے لیکن جب احمق بات کرتاہے تو اپنی باتوں کے درمیان قسم کھاتاہے ''۔(۴)

٣۔ من جمع لک ودّہ و رایہ فاجمع لہ طاعتک ''جو شخص اپنی دوستی اور خیر خواہی کو تمہارے اختیار میں دے دے تو تم بھی اس کی اطاعت و فرمانبرداری کرو ''۔(۵)
تشریح :
دوستی اور دوسروں سے الفت و محبت ، انسان کی نفسیاتی اور طبیعی ضرورتوں میں سے ایک ہے، ایسے لوگ کم ہیں جن کا کوئی دوست و ہمدم نہیں ، اگر ایسا کوئی شخص نظر آجائے تو سمجھ لیجئے کہ وہ ایک طرح کی نفسیاتی اور روحانی بیماری میں مبتلا ہے۔
جو دوست مادی اور روحانی مشکلات میں انسان کے یاور و غمخوار ہوتے ہیں ، ایسے ہم عقیدہ اور خوش فکر دوستوں سے الگ رہنا ،بہت سے برے عواقب و نتائج کا باعث ہوتا ہے ؛جیسے :شادابی و خوشحالی ختم ہوجاتی ہے ، احساساتی افسردگی سے دوچار ہوتاہے اور آخر میں نفسیاتی اور جذباتی ترقی کے مراحل سے محروم رہ جاتا ہے۔
لیکن یہ بات بھی ملحوظ رہے کہ ایک طرفہ دوستی کبھی کامیاب نہیں ہوتی ، دوستی و محبت کو اسی وقت دوام ملتاہے جب اچھی دوستی کا جواب بہترین دوستی و محبت سے دیاجائے ۔ امام علیہ السلام نے متذکرہ حدیث میں اسی بات کی طرف اشارہ فرمایاہے کہ اگر کوئی اپنی دوستی تمہارے اختیار میں دے رہاہے اور تمہاری محبت کا دم بھرتے ہوئے تمہاری بات پر سر تسلیم خم کررہاہے تو تم بھی اس کی باتوں کو تسلیم کرو اور اپنی اطاعت و فرمانبرداری کا ثبوت دو تاکہ اس دوستی کو دوام نصیب ہو۔
خدایا!ہمارے قلوب کو ائمہ معصومین علیہم السلام کے نورانی کلمات و اقوال سے منور فرما اور ہمیں ان پر عمل کرنے کی توفیق کرامت فرما تاکہ ہماری دنیا کے ساتھ ساتھ ہماری آخرت بھی سنور سکے۔

حوالہ جات
۱۔انوار الٰہیہ
۲۔ انوار الٰہیہ
۳۔نہج البلاغہ ، کلمات قصار /۷۷
۴۔شرح نہج البلاغہ ، ابن ابی الحدید معتزلی
۵۔ تحف العقول ص ۴۰۲

مقالات کی طرف جائیے