مقالات

 

کتاب زندگی امام عسکری علیہ السلام

سید شاہد جمال رضوی گوپال پوری

اسم گرامی : حسن بن علی علیہما السلام
کنیت : ابو محمد
پدر بزرگوار : حضرت امام علی نقی علیہ السلام (دسویں امام )
مادر گرامی : سوسن ، حدیثہ ، سلیل ( کنیت ام ولد تھی )
ولادت باسعادت : ١٠ ربیع الثانی ٢٣٢ھ بروز دوشنبہ یا جمعہ
جائے ولادت : مدینہ منورہ
القاب : عسکری ، صامت ، ہادی ، زکی ، رفیق ، خالص ، سراج ، ابن الرضا ، سراج بنی ہاشم ...وغیرہ۔ ان میں مشہور ترین لقب '' عسکری ''ہے ،جس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ آپ کے محلہ کا نام عسکر تھا جہاں سامرا میں آپ کا قیام تھا ۔ اور شاید عسکر اس بنا پر کہاجاتاتھا کہ وہاں بادشاہ وقت نے فوجی چھائونی بنارکھی تھی ، یااس مقام پر متوکل نے اپنی فوجوں کی نمائش کی تھی جس کے ذریعہ امام علی نقی کو مرعوب کرنا چاہاتھا لیکن جب آپ نے آسمانی فوجوں کا مشاہدہ کرادیا تو وہ بیہوش ہوکر گر پڑا ۔

جائے قیام : شہر سامرہ
دربان : عثمان بن سعیدی عمری
نقش انگشتر : سبحان من لہ مقالید السموات والارض یا بعض روایتوں کے مطابق :انا اللہ شہید

خلفائے وقت : ١۔ متوکل (٢٣٢۔٢٤٧)
٢۔ منتصر فرزند متوکل ( ٢٤٧۔٢٤٨)
٣۔ مستعین فرزند متوکل ( ٢٤٨۔٢٥٢)
٤۔ معتز باللہ فرزند متوکل (٢٥٢۔ ٢٥٥)
٥۔ مہتدی ( ٢٥٥۔٢٥٦)
٦۔ معتمد علی اللہ ( ٢٥٦۔٢٧٩)

تلامذہ و اصحاب : ١۔ احمد بن اسحاق اشعری قمی
٢۔ ابو ہاشم دائود بن قاسم جعفری
٣۔ عبداللہ بن جعفر حمیری
٤۔ ابو عمرو بن عثمان بن سعید عمری
٥۔ احمد بن محمد بن مطہر
٦۔ ابو سہل بن نوبخت...۔
زوجہ محترمہ : جناب نرجس خاتون ۔ آپ قیصر روم کی پوتی اور جناب شمعون وصی حضرت عیسی کی نواسی تھیں ، انتہائی پاکباز اور مقدس خاتون تھیں جنہیں رب العالمین نے آخری حجت پروردگار کی مادر گرامی بننے کا شرف عنایت فرمایا تھا۔

اولاد : آپ کے صرف ایک فرزند تھے جن کا نام محمد اور کنیت ابوالقاسم ہے۔
شہادت : ٨ ربیع الاول ٢٦٠ھ ۔٢٥٦ھ کو معتمد علی اللہ تخت خلافت پر براجمان ہوا ، اسی ظالم نے زہر دغا سے امام کو شہید کروایا۔

جائے شہادت : شہر سامرہ میں آپ کی شہادت ہوئی ، امام زمانہ( عج) نے آخری وقت آپ کو پانی پلایا اور پھرشہادت کے بعد تجہیز و تکفین کے امور انجام دئیے اور جعفر کو ہٹا کر باپ کی نماز جنازہ پڑھائی ، اس کے بعدحکم خدا سے پردۂ غیب میں تشریف لے گئے ۔

مدفن : سامرہ ؛ آپ اپنے پدر بزرگوار امام دہم کے پہلو میں مدفون ہیں۔

زریں اقوال : ١۔ احمق کا دل اس کی زبان میں ہوتا ہے اور حکیم کی زبان اس کے دل میں ہوتی ہے ۔
٢۔ کسی غم رسیدہ کے سامنے خوشی کا اظہار کرنا ادب اور تہذیب کے خلاف ہے ۔
٣۔ تمام برائیاں ایک گھر میں بند ہیں اور جھوٹ اس کی کنجی ہے۔
٤۔ جنگ و جدال نہ کرو ورنہ تمہاری آبرو چلی جائے گی ، بہت زیادہ مذاق نہ کرو ورنہ لوگ تم پر جری ہوجائیں گے ۔
٥۔ کسی شخص کا احترام اس بات کے ذریعہ نہ کرو جو اس کے لئے باعث زحمت ہو۔

مقالات کی طرف جائیے