مقالات

 

حضرت علی علیہ السلام ؛ قرآن کی روشنی میں

سید شاہد جمال رضوی گوپال پوری

حضرت علی علیہ السلام ایک کامل انسان تھے ، آپ تمام انسانی فضائل و خصوصیات کے حامل تھے ، علم و حکمت ، رحم و کرم ، فداکاری و انکساری ، تواضع و فروتنی ، ادب و مہربانی ، لطف و حلم ، غرباپروری ، عدل و انصاف ،جود و سخا ، ایثار و قربانی اور شجاعت و قناعت وغیرہ جیسے تمام پسندیدہ فضائل و کمالات آپ کی ذات میں جمع تھے۔محققین نے حضرت علی علیہ السلام کو میدان جنگ میں ایک ماہر شمشیر زن ، شہراور اس کے امور کی دیکھ بھال میں نہایت حساس اور گھریلو زندگی میں انتہائی شفیق و مہربان اور منظم فرد کی حیثیت سے دیکھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ حضرت علی علیہ السلام زندگی کے تمام شعبوں میں ایک بھرپوراور مکمل انسان کا اعلی ترین نمونہ تھے ۔
آپ ایک بے مثال شخصیت کے مالک تھے ، ایک کامل انسان کے لئے جو صفات لازم ہیں ، وہ آپ کی ذات گرامی میں بدرجہ ٔ اتم موجود تھیں ، چنانچہ ایسی کوئی صفت نہیں جو انسان کے لئے لازم ہو اور وہ مولائے کائنات میں نہیں پائی جاتی ہو ۔ اور یہ کہنا بیجا نہ ہوگا کہ ابوالبشر حضرت آدم سے روح اللہ حضرت عیسی تک کے تمام انبیاء و رسل کے اوصاف میں حضرت علی برابر کے شریک ہیں ۔
ایسی ہی بے مثال اور عظیم شخصیت کو خدا وندعالم نے قرآن مجید میں اپنا ممدوح قرار دیا ہے ، خدا وندعالم نے اپنی کتاب''قرآن مجید ''کی جن آیات میں حضرت علی علیہ السلام کی مدح و ستائش کی ہے ، ان کا مکمل احاطہ نہیں کیا جاسکا ، ہاں ! راویوں نے اپنے اپنے اعتبار سے ان کا تذکرہ کیاہے ،اس مختصر سے مقالے میں اہل سنت کی کتابوں کی روشنی میں اس موضوع پر مختصر روشنی ڈالی جارہی ہے ۔
شواہد التنزیل میں ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ نے فرمایا :
'' یقینا قرآن چار حصوں میں ہے ، جس کے چاروں حصے چار چیزوں سے مخصوص ہیں ،(قرآن ) کا ایک حصہ ہم اہل بیت سے مخصوص ہے اور ( دوسرا) چوتھائی حصہ ہمارے دشمنوں کے بارے میں ہے ، اور تیسرے چوتھائی حصے میں حرام و حلال بیان کیاگیاہے اور چوتھا حصہ خدانے اپنے فرائض و احکام سے مخصوص قرار دیاہے ، بے شک خدا نے علی کے بارے میں قرآن کا افضل ترین حصہ نازل کیاہے ''۔(١)
ایک دوسری حدیث میں یزید بن رومان کا بیان ہے:
'' علی علیہ السلام کی فضیلت میں قرآن میں جو نازل کیاگیاہے اس طرح کسی شخص کے بارے میں بھی نازل نہیں کیاگیاہے ''۔(٢)
ان روایتوں سے معلوم ہوتاہے کہ حضرت علی کی شان میں قرآن مجید کی بہت سی آیات نازل ہوئی ہیں اور ان میں ان کی فضیلت و اہمیت بیان کی گئی ہے لیکن صحیح تعداد کا علم کسی کو نہیں ، اس سلسلے میں بھی روایتیں مختلف ہیں :
عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں :
'' کتاب خدا ''قرآن حکیم '' میں علی کے بارے میں اسی ( ٨٠) ایسی آیتیں نازل ہوئی ہیں جس میں امت محمدیہ میں سے آپ کاکوئی شریک نہیں ہے۔(٣)
اسی کے برخلاف ابن عباس سے روایت ہے کہ علی کی مدح میں تین سو سے زیادہ آیات نازل ہوئی ہیں ۔(٤)
جناب ابن عباس نے جو حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں آیات کے نزول کا ذکر کیاہے ، یہ پیغمبر اسلام کی تعلیم کے سبب تھا اور ان کا یہ بیان اصحاب رسول جیسے سلمان و ابوذر اور عمار اور رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ کے نواسوں کے علاوہ ہے ، اس لئے کہ صرف اہل سنت کی کتابوں میں سات سو آیات کی نشاندہی کی گئی ہے ، اگر اس تعداد میں شیعہ کی کتابوں میں موجود تعداد کا بھی اضافہ کرلیں تو ان کی تعداد بہت زیادہ ہوجائے گی نیز کچھ آیات کی تفصیل ہم تک نہیں پہونچی ہیں ۔
یہاں نمونے کے طور پر بعض آیات کی نشاندہی کی جارہی ہے :
١۔أفمن کان مومناً کمن کان فاسقاً لایستوون۔(٥)
ترجمہ :''کیا وہ شخص جو صاحب ایمان ہے اس کے مثل ہو جائے گا جو فاسق ہے ہرگز نہیں دونوں برابر نہیں ہوسکتے'' ۔(٦)
٢۔ہوالذی ایّدک بنصرہ وبالمومنین ۔(٧)
ترجمہ :'' اس نے آپ کی تائید ،اپنی نصرت اور صاحبان ایمان کے ذریعہ کی ہے'' ۔
یہاں تائید سے مراد امیرالمومنین کی ذات ہے۔
ابن عساکر ابوہریرہ سے روایت کرتے ہیں کہ عرش پر لکھا ہوا ہے: ''لا الٰہ الا اللہ وحدی لا شریک لی ومحمد عبدی ورسولی ایّدتہ بعلی ''جو متذکرہ آیت کا مطلب ہے ۔(٨)
٣۔''یا ایہا النبی حسبک اللہ ومن اتبعک من المومنین ''(٩)
''اے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ! آپ کے لئے خدا اور وہ مومنین کافی ہیں جو آپ کا اتباع کرنے والے ہیں''۔
فضائل الصحابہ میں ابونعیم کے بقول یہ بھی حضرت علی کی شان میں اتری ہے ۔
٤۔من المومنین رجال صدقوا ما عاہدوا اللہ علیہ فمنہم من قضیٰ نحبہ ومنہم من ینتظر (١٠)
''مومنین میں سے ایسے بھی مرد میدان ہیں جنہوں نے اللہ سے کئے وعدہ کو سچ کر دکھایا ہے ،ان میں بعض اپنا وقت پورا کر چکے ہیں اور بعض اپنے وقت کا انتظار کر رہے ہیں''۔
مفسرین نے کہا ہے کہ ''من قضیٰ نحبہ ''سے مرادحمزہ ہیںاور ''منھم من ینتظر'' سے مرادحضرت علی ہیں ۔(١١)
٥۔آیۂ ولایت :انما ولیکم اللہ و رسولہ والذین آمنو ا الذین یقیمون الصلوة و یوتون الزکاة و ھم راکعون۔ (١٢)
ترجمہ :''سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ تمہار ا ولی ، حاکم اور سرپرست اللہ ہے اور اس کا رسول ہے اور وہ لوگ جو نماز قائم کرتے ہیں اور حالت رکوع میں زکوة دیتے ہیں'' ۔
تفسیر ثعلبی میں ابوذر سے روایت ہے کہ میں رسول ۖکے ساتھ نماز ظہر پڑھ رہا تھا ۔ایک سائل نے مسجد میں سوال کیا،کسی نے کچھ نہ دیا ،سائل نے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھاکر کہا :خدایا !گواہ رہنا کہ میں نے مسجد رسولۖ میں سوال کیا اور کسی نے کچھ نہ دیا ۔حضرت علی نماز پڑھ رہے تھے، حالت رکوع میں انہوں نے اپنی چھوٹی انگلی کی طرف اشارہ کیا، سائل نے آگے بڑھ کر انگوٹھی لے لی ،رسول صلی اللہ علیہ و آلہ نے آسمان کی طرف دیکھ کر کہا: خدایا! میرے بھائی موسیٰ نے تجھ سے شرح صدر ،کام کی آسانی اور زبان کی گرہ کھولنے کی دعا کی ،اپنے بھائی ہارون کو وزیر بناکر بازو مضبوط کرنے کا سوال کیا تو نے کہا کہ عنقریب تمہارے بھائی کے ذریعہ تمہیںتقویت دی جائے گی ۔میں تیرا نبی محمدۖ تیرا منتخب ہوں مجھے شرح صدر عطاکر ،میرا کام آسان کر اور میرے بھائی علی کو وزیر بنا کر میری کمر مضبوط کر۔ابوذر کہتے ہیں کہ تھوڑی دیر بعد جبرئیل نازل ہوئے اور آیۂ ولایت کی تلاوت کی ۔(١٣)
اس کے علاوہ بھی بہت سی آیات ہیں جو حضرت علی علیہ السلام کی شان میں نازل ہوئی ہیں تفصیل کے لئے آیة اللہ صادق شیرازی کی کتاب ''علی فی القرآن '' ملاحظہ کریں جس میں اہل سنت کی معتبر کتابوں سے سات سو آیات کی نشاندہی کی گئی ہے نیز علامہ امینی کی کتاب الغدیر کی دوسری جلد ملاحظہ کریں ۔

ایک اہم ترین سوال
اس تفصیل کے بعد پڑھنے والوں کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوسکتاہے کہ جب قرآن مجید کی اتنی زیادہ آیات میں حضرت علی کی مدح و ستائش کی گئی ہے ، ان کی شان میں اتنی آیتیں نازل ہوئی ہیں تو پھر قرآن میں ان کا نام کیوں نہیں ، اگر قرآن میں صاف صاف حضرت علی کا نام لیاجاتا تورسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ کے بعد امت میں خلافت کے متعلق اتنا اختلاف نہ ہوتا ...؟یہ سوال اہل سنت حضرات کی طرف سے بہت زیادہ کیا جاتاہے ۔

جواب :
جہاں تک قرآن میں حضرت علی کانام نہ ہونے کی بات ہے تو یہ سوال سمجھنے کے لئے نہیں پوچھا جاتا اور نہ مطمئن ہونے کے لئے پوچھا جاتاہے بلکہ یہ سوال صرف الجھانے اور لوگوں کے دلوں میں شک و شبہ ابھارنے کے لئے پوچھا جاتاہے ۔یہاں مختصر طور پر اس سوال کا جواب پیش کیاجارہاہے :
١۔ایسے لوگوں کے لئے کہاجاسکتاہے کہ شریعت کا دوسرا متن حدیث ہے، رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ کے ارشادات کے بارے میں قرآن نے واضح طور سے کہاہے کہ رسول جو کچھ تمہیں دیں اسے لے لو اور جس چیز سے روکیں اس سے رک جاؤ ''۔اور رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ نے واضح انداز میں حضرت علی کا نام لے کر یہ بات سمجھائی ہے کہ رسول کے بعد وہی شریعت کے ذمہ دار اور قرآن مجید کے شارح ہیں ۔ آنحضرت نے اپنی زندگی میں متعدد موقعوں پر اس بات کی صراحت کی ہے ، غدیر کے میدان میں بھی واضح طور پر اس بات کا اعلان کردیا ہے لیکن افسو س کہ امت نے اپنے رسول ہی کی بات کو مسترد کردیا ، ایسی صورت میں کیا ضمانت ہے کہ قرآن مجید میں حضرت علی کا نام لینے سے یہ اختلاف رونما نہ ہوتا ۔
٢۔ حضرت علی علیہ السلام کا نام لینا قرآن مجید کے مزاج سے ہم آہنگ بھی نہیں ہے ۔ اس لئے کہ قرآن آئین کی کتاب ہے جس میں ابدی صفات سے بحث کی گئی ہے جو قیامت تک کے لئے لوگوں کی ہدایت کا ذریعہ بنیں ، ان صفات کی حیثیت علامتی ہے ۔ اگر قرآن کا مقصود نام نازل کرنا ہوتا تو کتاب نازل نہ ہوتی ، کتب خانے نازل ہوتے ۔
٣۔ قرآن میں حضرت علی کا نام نہ ہونے کی ایک وجہ اس کی ادبی بلاغت ہے ، جس شخص کو علم معانی کی ذرا بھی واقفیت ہے وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ جو لوگ محترم ہوتے ہیں ، ان کی تعظیم و تکریم کا لحاظ رکھتے ہوئے نام کے بجائے ان کے القاب اور صفات کے ذریعہ ان کی نشاندہی کی جاتی ہے ، مکمل اوصاف کا تذکرہ کر کے لوگوں کی نگاہ میں ان کی عزت و توقیر بیان کی جاتی ہے ۔ اسی کے برعکس جو لوگ پست و رذیل ہوتے ہیں ، ان کی پستی کی وجہ سے نام لینے کے بجائے ان کے گھٹیاصفات کا تذکرہ کیاجاتاہے کیونکہ بے وقعت اور پست لوگ اس قابل نہیں ہوتے کہ ان کا نام زبان پر لایا جائے چنانچہ کفار مکہ جو رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ کا مذاق اڑایا کرتے تھے اور طرح طرح سے آنحضرت کو اذیتیں دیاکرتے تھے ، ان کا نام لئے بغیر خدا نے فرمایا:(ان اکفیناک المستھزئین )۔
اسی طرح اخنس بن شریق جیسے بد باطن اور ذلیل شخص کا نام لئے بغیر خدا نے فرمایا :(ویل لکل ھمزة لمزة)۔
چنانچہ خدا وندعالم نے حضرت علی کا بھی تذکرہ کرتے ہوئے ان کے پسندیدہ صفات کو عنوان بنایا ہے ، خد اکا ارشاد ہے :
(انما ولیکم اللہ و رسولہ والذین آمنو ا الذین یقیمون الصلوة و یوتون الزکاة و ھم راکعون)۔
اہل سنت حضرات نے بھی اپنی تفسیروں میں بیان کیاہے کہ یہ آیت حضرت علی علیہ السلام کی شان میں نازل ہوئی ہے اور اس میں( یقیموں الصلاة و یوتوں الزکاة) سے مراد حضرت علی ہیں ، جیسا کہ اوپر روایت کی تفصیل پیش کی گئی ۔
٤۔یہ بات طے ہے کہ خداوندعالم ہی لوگوں کے لئے امام اور رہبر معین کرتاہے ، خدا وند عالم قرآن مجید میں اس مسئلے کے متعلق فرماتا ہے :
ترجمہ :''اورجب خدا وند عالم نے چند کلمات کے ذریعہ حضرت ابراہیم کا امتحان لیااور وہ اس میں کامیابی سے ہمکنار ہوئے تو خدا وند عالم نے ان سے فرمایا:میں نے تمہیں لوگوں کا امام بنایا۔جناب ابراہیم نے عرض کی:معبود!کیا اس منصب سے میری ذریت کو بھی فائدہ پہونچے گا ؟ خدا وند عالم نے جواب میں فرمایا:میرا منصب ظالموں اور ستمگروں تک نہیںپہونچے گا'' ۔(١۴)
اس آیہ ٔ شریفہ کے مطابق خدا ہی لوگوں کے لئے امام و رہبر معین فرماتاہے اور وہ امام ہر گناہ سے پاک اور معصوم ہونا چاہئے ،البتہ خدا وندعالم جسے امام بناتاہے وہ کبھی صاحب شریعت رسول ہوتاہے جیسے حضرت نوح ،ابراہیم ،موسی ،عیسی اور حضرت محمد (صلوات اللہ علیھم)اور کبھی ان صاحبان شریعت انبیاء کا وصی اور جانشین ہوتاہے جیسے حضرت نوح کے فرزند ''سام ''حضرت موسی کے وصی ''یسع''اوران سے پہلے ''ھبة اللہ ''یاحضرت آدم کے وصی ''شیث '' ......جن میں سے بعض کے اسماء قرآن میں موجود ہیں اور بعض کے نہیں ۔لہذا کسی وصی کے نام کا قرآن میں نہ ہونا اس کے وصی نہ ہونے پر دلیل نہیں ہے بلکہ جوضروری ہے وہ یہ کہ ہر پیغمبر اپنے بعداپنے ماننے والوں کے لئے وصی وجانشین کی نشاندہی کرے اور یہ بات کتابوں سے ثابت ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ نے متعدد موقعوں پر حضرت علی کی خلافت و وصایت کو بیان کیا ہے ۔
آخر کلام میں اس تلخ حقیقت کا بیان بھی ضروری ہے کہ اگر قرآن میں حضرت علی علیہ السلام کا نام آتا تو محض آپ کے عناد میں اسے محو کردیاجاتا کیوں کہ آفتاب رسالت کے غروب ہوتے ہی اسلامی معاشرے کو انحراف کی جس روش پر لے جایاگیا اس کا بنیادی نصب العین حضرت علی کے آثار و کمالات کو ختم کرنا تھا بلکہ اقتدار کی بھرپور کوشش یہی رہی کہ حضرت علی کا نام بھی زبانوں پر نہیں آئے ۔لیکن یہ بھی سچ کہاگیاہے کہ جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے ، آج دنیا کے گوشہ و کنار میں حضرت کا بول بالا ہے، آپ کی سیرت کے نمونوں اور علمی خزانوں سے اپنے تو اپنے غیر بھی مستفیض ہورہے ہیں اور آئندہ بھی ہوتے رہیں گے ۔

منابع و مآخذ
١۔شواہد التنزیل ج١ ص ٤٢
٢۔شواہد التنزیل ج١ ص ٤٣
٣۔ شواہد التنزیل ج١ ص ٤٣
٤۔ینابیع المودة ص١٢٦
٥۔سجدہ ١٨
٦۔تفسیر طبری ج٢١ص ٦٢ ؛الآغانی ج٤ ص ١٨٥
٧۔انفال٢
٨۔۔تاریخ ابن عساکر ج١٢ص ٣٠٧نمبر ٩٢٦
٩۔انفال ٦٤
١٠۔احزاب ٢٣
١١۔مناقب خوارزمی ص١٨٨ ؛کفایة الطالب ص١٢٢
١٢۔مائدہ ٥٥
١٣۔تفسیر طبری ج٦ص١٦٥؛اسباب النزول ص١٤٧؛تفسیر کبیرج٣ص٤٣١
١٤۔بقرہ ١٢٤

مقالات کی طرف جائیے